مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ


wajahatسال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں، اسی میں کچھ مہینے بہار کے ہوتے ہیں جب بقول فیض سینوں میں پھول کھلنے لگتے ہیں، اسی میں جولائی اور اگست بھی شامل ہیں جب آم میں جھولا پڑتا ہے۔ زندگی معمول پر ہو تو سال کے ہر مہینے میں خوشگوار معاملات موجود ہوتے ہیں۔ اندر کا موسم درہم ہو جائے اور زندگی کا معمول برہم ہوجائے تو دن کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ دیکھئے سال میں کل بارہ مہینے اور چار موسم ہی تو ہیں۔ جو کچھ ہونا ہے، 365 دن کی اس تقویم سے باہر کیسے جائے گا۔ اب اکتوبر کے مہینے ہی کو لیجئے، اس میں 58 کا آٹھ اکتوبر بھی پڑتا ہے اور 99 کا 12 اکتوبر بھی۔ خاکستری آسمان پر کہرے میں آویزاں کاتک کا چاند کان کی بالی ہوسکتا تھا، ہم نے اسے بیوہ کی ٹوٹی ہوئی چوڑی بنا ڈالا۔ مئی کے مہینے کو لیجئے، 29 مئی 1988 کی شام تھی، محمد خان جونیجو چین کے دورے سے واپس آئے تھے۔ ایوان وزیراعظم پہنچے تو معلوم ہوا کہ انہیں جنرل ضیا الحق نے برطرف کر دیا ہے۔ اس سے کچھ پہلے اوجڑی کیمپ ہوا تھا اور پھر چوہڑپال، راولپنڈی کے ایک بظاہر معمولی واقعے کو بھی شہرت ملی۔ دسمبر 1985 میں جو بساط لپیٹ دی گئی تھی، تیس مہینے بعد دوبارہ بچھا لی گئی۔ اس کے بعد بارہ برس ہم نے آئین کی دفعہ اٹھاون ٹو (بی) کے سائے میں گزارے۔ اب سے پانچ برس قبل 2011 میں مئی کا مہینہ ایبٹ آباد سے شروع ہوا تھا۔ دو مئی کو اطلاع آئی کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں مارے گئے۔ کچھ روز تو ایسے گزرے کہ ہمیں خبر ہی نہ تھی کہ یہ خبر اچھی ہے یا بری؟ چھ مئی کی صبح منتخب صحافیوں کے ایک گروپ کو معلوم ہوا کہ ہماری قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اور پھر تئیس مئی کو کراچی میں مہران بیس پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا۔ 29 مئی کو منڈی بہاو¿لدین کے قریب ایک نہر سے سلیم شہزاد کی لاش برآمد ہوئی۔ لاش پر تشدد کے نشان تھے۔ اکتوبر ہو یا مئی، مشکل یہ ہے کہ تاریخ تیس دن کی پابند نہیں ہے۔ مئی دو ہزار گیارہ کے بعد ہمیں شیخ السلام طاہر القادری ملے، ہم نے منصور اعجاز کو دریافت کیا، میمو گیٹ اسکینڈل چھ مہینے تک ہمارے گلے میں لٹکتا رہا اور سب سے اہم بات یہ کہ ہمیں تبدیلی کا نعرہ اور نئے پاکستان کا خواب مل گیا۔ دسمبر کی فصل آتے آتے اصحاب باصفا جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ 2013 کے انتخابات کی تصویر میں نئے رنگ بھرے گئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مئی میں جو ہنگامہ ہو، اس سے اڑنے والی دھول پر نظر رکھنی چاہئے۔ قافلہ تو گزر جاتا ہے، قافلے کے غبار سے برآمد ہونے والے سوار پر آنکھ رکھنی چاہئے۔

اس برس مئی کا اہم ترین واقعہ ڈرون حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی موت ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ حملہ پاکستان کے علاقے نوشکی میں ہوا۔ امریکی صدر نے اس حملے کی تصدیق کی۔ ہماری ریاست بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ بھونچکی رہ گئی ہے۔ دفتر خارجہ نے دو ٹوک مو¿قف اختیار کیا اور نہ وزارت دفاع سے کوئی خبر آئی۔ یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ امریکی وزیر خارجہ کے ٹیلی فون کے بارے میں وزیراعظم کا دو ٹوک مو¿قف کیا ہے۔ اور وہ ٹویٹ بھی نظر نواز نہ ہوئی جو قبل ازیں کئی مواقع پر قوم کا امتحان لے چکی ہے۔ نوشکی میں سولہ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتے میزائل نے صرف ایک گاڑی بھسم نہیں کی جس میں ایک پاسپورٹ صحیح سلامت مل گیا ہے بالکل ایسے ہی جیسے اگست 2006 میں اکبر بگٹی کی عینک اور گھڑی تباہ شدہ غار سے صحیح سلامت برآمد ہوئی تھیں۔ اس واقعہ سے کچھ نسبتاً غیر مرئی نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔ افغانستان میں امن مذاکرات کی بساط کچھ عرصے کے لئے لپٹ گئی ہے۔ انگور اڈہ کی فوجی چوکی کے ضمن میں خیر سگالی کا جو مظاہرہ کیا گیا تھا وہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اچانک ہمیں یاد آگیا ہے کہ پاکستان میں بیس لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں جو اتفاق سے پاکستان کے شہری نہیں ہیں۔ اسے حافظے کی بھول چوک ہی کہنا چاہئے کہ آپریشن راہ نجات، راہ راست اور ضرب عضب وغیرہ کے دوران ہمیں بیس لاکھ مہاجرین سے درپیش خدشات کا چنداں احساس نہیں ہوا۔ چودھری نثار علی خان صاحب بہت زیرک رہنما ہیں۔ ایم کیو ایم کے خلاف 1992 میں آپریشن ہو یا حکیم اللہ محسود کی ناگہانی شہادت، حافظ آباد کا مخبوط الحواس سکندر بندوق اٹھا کر اسلام آباد میں گھس آئے یا اختر منصور نوشکی میں مارا جائے، چودہری صاحب قوم کی ٹھیک ٹھیک رہنمائی کرتے ہیں۔ چودھری نثار علی خان نے ایک نہایت نپی تلی پریس کانفرنس کے ذریعہ دنیا کو بتا دیا ہے کہ ملا اختر منصور پر حملہ کر کے امریکہ نے کیسی پہاڑ جیسی غلطی کی ہے۔ قوم پر چودھری صاحب کا شکریہ ادا کرنا تو واجب ہے لیکن خیال رہے کہ طویل دورانیہ کے اس کھیل میں تصادم کے ایک سے زیادہ  نکات موجود ہیں۔ بھارت افغانستان اور ایران چاہ بہار کی بندرگاہ پر مل بیٹھے ہیں۔ ہم نے وقت کے گھونگے میں امید کی ریت کے کچھ ذرے ڈال کر انہیں گوادر کی ڈیپ سی بندرگاہ میں لٹکا رکھا ہے۔ اور چاہ بہار کی بندرگاہ گوادر سے صرف 170 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تیرہ ہزار کلومیٹر کے روٹ کا متبادل تلاش کرنا ہو تو ایک سو ستر کلومیٹر کو محض ایک نقش پا سمجھنا چاہئے۔ بھارت نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں جوہری اضافے کا اعلان کر کے ایک اور سرخ کپڑا دکھایا ہے۔ ہم پاکستان میں کومبنگ آپریشن کرنا چاہتے ہیں کیوںکہ دہشت گردی کا سوال ابھی منت پذیر شانہ ہے۔ افغانستان میں اب کچھ مدت کے لئے طاقت کا کھلا مظاہرہ ہو گا۔ گلبدین حکمت یار کبھی جماعت اسلامی کے محترم دوستوں اور صاحبان با وقار کے پسندیدہ مجاہد تھے۔ نہایت نیک دل انسان ہیں۔ کابل کی خانہ جنگی میں ان کی رحم دلی اور وضع داری کے قصے رومیل اور منٹگمری کو شرماتے ہیں۔ ادھر پاناما لیکس کا طوفان بظاہر گزر چکا ہے۔ لیکن مئی کے مہینے میں آنے والی آندھی کے جھکڑ بعض اوقات زیادہ خوفناک ہوتے ہیں۔

آئیے آپ کو 1944 میں فرانس کے شمالی ساحل میں لئے چلتے ہیں۔ جون کا مہینہ تھا، اتحادی افواج نے نارمنڈی کے ساحلوں پر حملہ کر دیا تھا۔ ہٹلر کی فسطائی فوج کو پہلی دفعہ یورپ کے قلب میں براہ راست حملے کا سامنا تھا۔ اٹلی میں جنرل پیٹن منزلیں مار رہا تھا، ماسکو سے شروع ہونے والی پسپائی مشرقی یورپ تک پہنچ چکی تھی۔ صاف نظر آرہا تھا کہ تین اطراف سے ہونے والی یہ یورش اب برلن پہنچ کر ہی دم لے گی۔ جرنل گڈیرین ٹینکوں کی لڑائی کا نظریہ ساز جنرل تھا۔ مگر لڑائی محض جنرل کے دماغ میں نہیں لڑی جاتی، لڑائی محض بندوق کے بل بھی نہیں لڑی جاتی۔ لڑائی میں دو بظاہر معمولی اور غیر اہم عوامل بھی فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ ایک کو معیشت کہتے ہیں اور دوسرے کو سیاست دان کی بصیرت۔ نارمنڈی کی لڑائی میں ایک ساتھی جنرل نے جنرل گڈیرین سے سوال کیا،”جنرل صاحب اب ہمارا منصوبہ کیا ہوگا؟” ایک بوڑھے اور تجربہ کار جنرل کی طرح گڈیرین کا جواب مختصر تھا، “احمق! لڑائی بند کرو اور اپنے گھر جاو¿”۔ جنرل گڈیرین نے دراصل یہ کہا تھا کہ زندگی بحران سے نہیں، معمول سے صورت پذیر ہوتی ہے۔ گھر کی رونق ایک ہنگامے پر موقوف ہوسکتی ہے لیکن گھر کی حقیقی خوشحالی بچوں کی ہنسی، گھر والوں کے تحفظ اور پکوان کی اشتہا انگیز خوشبو میں ہے۔ کیا وہ وقت نہیں آگیا کہ مئی کے اس مہینے میں معمول کی طرف لوٹنے کے امکان پر غور کیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ

  • 28-05-2016 at 4:31 pm
    Permalink

    دانشور قوم کو منٹگمری سے لیکر فسطائی یورپ تک تو یاد رہے مئی کی ساری مئی آشامیاں یاد رہیں مگر 28 مئی کا دن کسی نئی نویلی دلین کی طرح شرماتے ہوئے بھول گئے ۔۔۔
    کیا عارفانہ تجاہل ہے ہم تو کب سے مہورت بنے سوچ رہے ہیں کہ یا خدا اتنی نفرت ۔۔۔
    لیکن ہاں پاکستان خے جملہ حقوق ان ہی کے نام ہیں 1857 سے 1971 تک پاکستان کے نام کو جب بھی کدی نے گھرنا چاہا تو ہمارے محترم دانشور کے ہمنوائوں نے اسکی زبان گدی سے کھینچ ڈالی آنکھ پھوڑ ڈالی اور ہاتھ توڑ ڈالے۔۔۔
    دانشور کی پاکستان سے محبت اور ہمدردی کو ہزاروں سلام

    • 28-05-2016 at 5:56 pm
      Permalink

      Good point raised dear ayan kan sb. U dont have enough knowedlge like me some ære pai d some ære not paid. 28 May day is for not paid and day of genuine pakistanis. Who love There country and own There country and this is said to be sick mentality

Comments are closed.