مجازی ہتھیار اور تشدد کا تعین


naveedگزشتہ روز اسلامی نظریاتی کونسل نے مجوزہ تحفظ نسواں بل منظور کیا۔ جس کے ایک نکتے کے مطابق “ضرورت پڑنے پر شوہر کو اپنی بیوی پر ‘ہلکا تشدد’ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے”۔

اس نکتے کے سامنے آنے پر سوشل میڈیا سمیت الیکٹرونک میڈیا پر بھی بحث شروع ہوگئی کہ خاوند کو تشدد کرنے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے اور ہلکے تشدد کا تعین کون کرے گا؟

بہتر ہوتا کہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل عزت ماب جناب مولانا محمد خان شیرانی صاحب خاوندی ہتھیاروں کا چناؤ کردیتے تاکہ بیوی کو بھی پتا ہوکہ خاوند کو کتنا ستاؤں گی تو اُس کا شوہر کونسا مجازی ہتھیار استعمال کرسکتا ہے۔ خاوند کو بھی اپنے گھریلو ایٹمی اعضا کا پتا ہو تاکہ وہ بھی اُن کی حفاظت پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی طرح کرسکتا۔

اس کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل کو چاہیے تھا کہ پارلیمنٹ کو تجویز دے کہ نکاح نامے میں ایک شِق کا اضافہ کیا جائے۔ جس میں دولہا بوقتِ ضرورت اپنے متوقع جسمانی اعضا کے استعمال کی نشاندہی پہلے سے کردے اور دلہن کے گھر والے، دولہے کی طرف سے ہلکے تشدد کے لئے ظاہر کردہ جسمانی ایٹمی اعضا سے ہونے والی ممکنہ تباہی کی تفصیلات دیکھ کر اپنی بیٹی کا نکاح کریں۔ بلکہ سب سے بہتر یہ ہو کہ حق مہر کی طرح دونوں فریقین کے مابین یہ طے ہوجائے کہ کن حالات و واقعات اور احساسات کی صورت میں خاوند ہلکا تشدد کرنے کا اہل ہوگا اور بیوی اُس ہلکے تشدد کو برداشت کرنے کی پابند ہوگی۔

علاوہ ازیں اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے کچھ ایسی سفارشات بھی پیش کی جانی چاہیے۔ جن کے مطابق شادی سے پہلے ہی خاوند اور بیوی کے درمیان یہ طے پاجائے کہ بیوی کن کن کاموں اور اوقات میں خاوند کو تنگ نہیں کرسکتی۔ تاکہ خاوند ہلکے یا شدید تشدد کی طرف راغب ہی نا ہو۔

پچھلے کچھ عرصے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے سامنے آنے والی سفارشات سے لگتا ہے کہ یہ کونسل سماجی و دنیاوی مسائل پر دینی مشاورت اور رہنمائی کے لئے نہیں ہے بلکہ کونسل کا اصل مقصد مردانہ حقوق کا تحفظ اور مذہب کی ذاتی تشریحات کی مدد سے عورتوں پر مردوں کی اجارہ داری قائم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل عورتوں کو اس قابل سمجھتی ہی نہیں کہ آج کی عورت مردوں کے شانہ بشانہ چل سکے۔

دوسری شادی کے لئے خاوند کو پہلی بیوی سے اجازت کی شرط کو بھی اسی اثنا میں کونسل کی طرف سے ختم کیا گیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل شاید عورتوں کو اس قدر نچلی حیثیت کا حامل سمجھتی ہے کہ اگر کونسل کا بس چلے تو کونسل سفارش کرے کہ چونکہ عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ اس لئے وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کے ساتھ شادی بھی کی جاسکے۔ لہٰذا مردوں کو اپنے برابری حیثیت والے مردوں سے ہی شادی کرنی چاہیے۔ مگر چونکہ مرد (ابھی تک) بچہ پیدا نہیں کرسکتے۔ شاید اسی وجہ سے کونسل ایسی سفارش نہیں کرتی۔

پتا نہیں اسلامی نظریاتی کونسل یہ کیسے برداشت کررہی ہے کہ عورتوں اور مردوں کو ایک ہی قبرستان میں دفنایا جاتا ہے۔ کونسل کا بس چلے تو عورتوں کے قبرستان مریخ پر ہونے چاہیئے۔ تاکہ مرد، مردہ عورتوں کی پہنچ سے بھی دور رہیں۔


Comments

FB Login Required - comments