بلھے شاہ کے دیس میں اچُھوت خاندان


yousaf Benjamin“امی کہتی ہیں لڑنا جھگڑنا نہیں چاہیے مگر اسکول میں تو لڑکیاں مجھے مارتی ہیں۔ امی کہتی ہیں کالے گورے سب انسان برابر ہوتے ہیں مگر مجھے تو لڑکیاں کالی کہہ کر مذاق اُڑاتی ہیں۔ امی کہتی ہیں سب کے عقیدے معتبر اور قابلِ احترام ہوتے ہیں مگر مجھ پر تو لڑکیاں سوال اُٹھاتی، عیسائی پکارتی، طنز کرتی اور تھو تھو کر کے بھاگ جاتی ہیں۔” جھولا نما چارپائی جسے ایک طرف سے اینٹیں رکھ کر سہارا دیا گیا تھا، اُس کے ایک کنارے پر سر جھُکائے بیٹھی 12 سالہ الیشع ایسی دانشورانہ باتیں کر رہی تھی کہ میرا خود کا سر ندامت سے جھُکے جارہا تھا۔ اُس لمحے یوں محسوس ہورہا تھا گویا سارا معاشرہ اُس کے سامنے کٹہرے میں کھڑا ہے اور اُس کے کسی سچ کو جھُٹلا نہیں سکتا۔

’’ہم بہنوں کو تو اسکول کی ٹنکی سے پانی بھی نہیں۔۔۔‘‘ الیشع ابھی جملہ مکمل بھی نہ کر پائی تھی کہ اُس کی ماں نے یک دم غالباً کسی ڈر کے مارے اُسے چپ کروا دیا وگرنہ الیشع تو آج انسانوں کے مساوی حقوق کے داعی اِس معاشرے کے سارے پول کھولنے کا اِرادہ رکھتی تھی کہ جس نے خود کو نجانے کتنی پوتر تہوں میں چُھپا رکھا ہے اور سفیدی پھری قبر کی ماندسجا پڑا ہے۔

یہ بلھے شاہ کے فلسفہ رواداری اور مذہبی ہم آہنگی پر مبنی دھرتی قصور کا علاقہ چھانگا مانگا ہے جہاں خلیل مسیح کو نہ صرف جبراً مسیحی عقیدہ چھن جانے کا ڈر لگا ہے بلکہ وہ علاقہ بھر میں اچھوت قرار دیا جا چُکا ہے اور اُس کی بیوی نازیہ کو خاندان کی زندگی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

گلی میں دھول مٹی اور جانوروں کا فضلہ فراخ دلی سے ہماری قدم بوسی کر رہا تھا۔ کھلے گٹر انتظامیہ کی کارکردگی کی گواہی دے رہے تھے اور ہمارے سروں پر جھولتی بجلی کی تاریں ہمیں چھونے کو بے تاب تھیں۔ برائے نام نصب دروازہ کھول کر ہم اصطبل یا باڑہ نما چاردیواری میں داخل ہوئے تو خلیل مسیح نے اِسے اپنا گھر قرار دیا۔ خلیل کی پانچ معصوم مگر سہمی سہمی بیٹیاں اور ایک بیٹا پسینے میں شرابور ہماری راہ تک رہے تھے۔ نازیہ کو کوشش کے باوجود وقتی استعمال کے لئے کسی ہمسائے نے شیشے کے گلاس پلید ہو جانے کے ڈر سے نہ دئیے۔ اِس خستہ حال ایک کمرے میں سات افراد رہائش پذیر ہیں۔ گھریلو اشیا برائے نام، پتہ نہیں گھر تھا یا کھنڈر مگر محلے بھر کی غلاظت بھری نالی صحن سے ہو کر گزر رہی تھی۔ چادریں تان کر نہانے دھونے کا انتظام، محلے میں نہ عزت نہ قبولیت، بس جی رہا ہے یہ اچھوت خاندان صوفیوں کی اس دھرتی پر۔

خلیل مسیح سائیکل پر گھوم پھر کر جانی پہچانی کمپنیوں کی تیار کردہ آئس کریم بیچ کر بچوں کی نگہداشت کر رہا ہے۔ اُس کے حالات کھٹن تو ہیں مگر وہ محنت مزدوری میں ڈٹا رہتا ہے۔ خلیل کے ساتھ روز و شب کی مصروفیات کا تذکرہ جاری تھا اور خلیل ہم سے آنکھ چُرا کر اپنی آنکھوں کو بھی دھوکا دینا چاہ رہا تھا مگر آنکھیں تو سب کہہ دیتی ہیں نا! لہٰذا چھلک ہی پڑیں تو خلیل نے لمبی سانس بھری، خشک ہونٹوں کو تر کیا، الفاط تلاش کئے اور لحظہ بھر کی خاموشی کے بعد گویا ہوا، ’’بس بچوں کی خاطر جی رہے ہیں ورنہ یہ زندگی تھوڑی ہے؟‘‘

گذشتہ دنوں خلیل معمول کے مطابق آئس کریم بیچنے قریبی گاؤں گیا، اُس دن سورج بھی اپنے جوبن پر تھا اور ہر شے تپ رہی تھی، نجانے آج نیر اکبر کو بھی کیوں خلیل پر ترس نہیں آ رہا تھا؟ کچھ بچوں اور عورتوں نے آئس کریم خریدی ہی تھی کہ کسی صاحب نے اُسے یہ کہہ کر پہچان لیا کہ یہ تو ’سائی‘ (مسیحی) ہے اور مسلمان بچوں کو آئس کریم دے رہا ہے؟ لہٰذا خلیل کا عقیدہ اُس کا جرم ٹھہرا۔ ایک، دو، تین ،چار ،پانچ اور پھر جلد ہی 18 ایماندار آن اِکٹھے ہوئے اور انہوں نے اِس گستاخی کی پاداش میں خلیل کی وہ دُھلائی کہ آئندہ صدیوں تک بلھے شاہ کی صوفیانہ تعلیمات سے لبریز قصور کی اِس دھرتی پر کوئی مسیحی یا غیر مسلم شخص ایسی جرات اور گستاخی نہیں کرے گا کہ اپنے پلید ہاتھوں سے مسلمانوں کو آئس کریم بیچتا پھرے۔ خلیل اپنا ایک دانت تڑوا کر، پسلیاں سجوا کر، 2,500 روپے گنوا کر، 5,000 روپے کی آئس کریم پگھلوا کر اور اپنی خستہ حال سائیکل کندھوں پر اُٹھا کر پہلے اپنے گھر اور پھر مقامی تھانے جا پہنچا مگر حاصل حصول صفر ہی رہا۔

اچھوت پن کا یہ پہلا واقعہ ہوتا تو صرفِ نظر ہو جاتا مگر خلیل کے روزمرہ معمولاتِ زندگی میں یہ تیسرا بڑا واقعہ تھا جس نے اب خلیل کو انسانیت سے ہی بدظن کر ڈالا ہے۔ اس سے قبل خلیل کو گلی گلی بیر بیچنے پر گلیوں میں دھتکارا گیا تو اُس نے غبارے اور رنگین چوزے بیچنا شروع کر دئیے مگر یہاں بھی وہ ’’شودر‘‘ کہلایا اور ایمان والوں نے اُسے چُوڑا، منحوس اور عیسائی قرار دے کر گاؤں کی گلیوں میں اُس کا داخلہ بند کر دیا۔

با اثر افراد نے خلیل کو ڈرا دھمکا کر نہ صرف منہ بند رکھنے کا فرمان جاری کیا ہے بلکہ اپنی آخرت سنوارنے کی دعوت بھی دے دی، بصورتِ دیگر سنگین نتائج اُس کا مقدر ہوں گے۔ اِس دعوتِ خاص کے دیگر لوازمات میں اُس کے بچوں کی تعلیم و تربیت، خاندان کے لئے مناسب رہائش اور خلیل کے لئے باعزت ورزگار سب شامل ہے مگر خلیل مسیح’’جان دینے تک وفاداری‘‘ کی تعلیم پر عمل پیرا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments