وزیر اعظم کی علالت اور امور مملکت


 editپاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف اس وقت لندن میں ہیں جہاں منگل کو ان کی اوپن ہارٹ سرجری کی اطلاع دی گئی ہے۔ وزیر اعظم ایک ماہ میں دوسری بار طبی معائینے کے لئے لندن گئے تھے۔ اب تک خاندانی ذرائع نے جو اطلاعات فراہم کی ہیں ، ان کے مطابق پہلے ڈاکٹر وں کا خیال تھا کہ دل کی شریانوں میں بلاکیج کو رفع کرنے کے لئے اینجیو پلاسٹی کی جائے گی تاہم گزشتہ روز یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بعض پیچدگیوں کی وجہ سے اوپن ہارٹ سرجری ہو گی۔ سرکاری طور پر اگرچہ وزیر اعظم کے علاج کی تصدیق کردی گئی ہے لیکن وزیر اعظم کو لاحق بیماری اور ان کے دل کی حالت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اس دوران یہ بات بھی غیر واضح ہے کہ وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں امور مملکت کا کون ذمہ دار ہوگا۔ تاہم بعض وزرا نے بتایا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار، نواز شریف کی غیر موجودگی میں معاملات کو دیکھیں گے لیکن اہم مشاورت اور فیصلوں کے لئے وزیر اعظم سے ویڈیو کانفرنس بھی کی جا سکے گی۔ پاکستانی آئین میں وزیر اعظم کے نائب کی گنجائیش نہیں ہے لیکن پارلیمانی سسٹم میں حکومتی معاملات چونکہ پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی پارٹی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اس لئے سیاسی پارٹی اپنے نامزد کردہ وزیر اعظم کی بیماری یا طویل غیر موجودگی میں متبادل شخص کو امور حکومت کا نگران مقرر کر سکتی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کا کلچر خاندانوں اور افراد کے گرد گھومتا ہے ، اس لئے نواز شریف کی علالت اور غیر موجودگی میں حکومت ہی نہیں بلکہ ان کی پارٹی مسلم لیگ(ن) بھی غیر مؤثر اور بے آسرا ہو جائے گی۔ مستقبل میں اس قسم کی مشکل اور غیر یقینی صورت حال سے بچنے کے لئے پارلیمانی جماعتوں کو مناسب قانون سازی کرنے پر غور کرنا چاہئے۔

نواز شریف ایک ایسے موقع پر سنگین علالت کا شکار ہوئے ہیں جب ملک کئی حوالوں سے نہایت سنگین صورت حال سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف ملا اختر منصور کی پاکستانی علاقے میں ہلاکت کے بعد امریکہ اور افغانستان کے ساتھ بد اعتمادی کا رشتہ راسخ ہؤا ہے۔ دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دورہ ایران کے دوران چا بہار معاہدہ پر دستخط کرکے اور افغانستان کو اس کا حصہ بنا کر پاک چین اقتصادی راہداری کے لئے نیا چیلنج کھڑا کیا ہے۔ بھارت کے بعد اب افغانستان سے دہشت گرد جاسوس بھی ملک میں داخل ہوتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ایف16 طیاروں کی خریداری کا معاملہ بھی تنازعہ کا سبب بنا ہؤا ہے۔ داخلی طور پر اپوزیشن پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد کرپشن کے خلاف مہم جوئی کررہی ہے اور تحقیقات کے سوال پر لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے قائم ہونے والی پارلیمانی کمیٹی میں مفاہمت کی بجائے اختلافات کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف کے زیر انتظام کابینہ بھی انتشار اور باہمی اختلافات کا شکار رہتی ہے۔ اس وقت ملک کو خارجی اور دفاعی اور سیکورٹی کے معاملات پر اہم فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہیں ہے۔ یہ قلمدان وزیر اعظم کے پاس ہے اور ان کی غیر موجودگی میں کوئی شخص واضح اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز اور خارجہ امور پر معاون خصوصی طارق فاطمی کے درمیان شدید اختلافات ہیں ۔ اس طرح وزارت خارجہ عضو معطل بن کر رہ گئی ہے۔ اسی طرح ملک کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان آپس میں بات کرنے کے بھی روادار نہیں ہیں لیکن یہ دونوں ہی ملک کے دفاعی اور سیکورٹی امور کے نگران ہیں۔ اگرچہ اسحاق ڈار کو وزیر اعظم کے ساتھ قربت اور قرابت کی وجہ سے احترام حاصل ہے لیکن وہ بھی کابینہ کے مد مقابل وزیروں کو مل کر کام کرنے پر آمادہ نہیں کرسکیں گے۔ کیوں کہ وزیر اعظم خود بھی ان مسائل کا کوئی حل تلاش نہیں کرسکے تھے۔ تاہم ان کے ہوتے کسی تنازعہ کی صورت میں وہ خود رہنمائی کر سکتے تھے جو شاید اسحاق ڈار کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔

اس دوران وزیر اعظم کو شاید دو ہفتے تک آرام کرنا پڑے اور وہ ملک سے باہر بھی رہیں۔ واپسی پر بھی اپنی صحت کی وجہ سے شاید وہ پہلے جیسے فعال اور متحرک نہ رہ سکیں۔ پوری قوم کی دعائیں وزیر اعظم کے ہمراہ ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیر اعظم کی صحت پر یشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کے لئے دعا کی ہے۔ امید کرنی چاہئے کہ نواز شریف کی غیر موجودگی میں ملکی سیاسی منظر نامے پر کوئی نیا طوفان کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ تاہم وزیر اعظم کو اس ناگہانی بیماری کے بعد صحت یاب ہو کر وطن واپس آنے پر امورمملکت چلانے کا ذیادہ مبسوط نظام استوار کرنا ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 452 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali