وزیراعظم ہاؤس کی سوچنے والی بھینسیں اور فیصل جاوید


تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے بتایا ہے کہ ”بھینسیں سوچ رہی ہیں کہ عوام کے پیسے سے انہیں خریدا گیا۔ پہلے کبھی بھینسیں نہیں رکھیں۔ اب سوچ رہا ہوں۔ بھینسیں بھی خوش ہیں اب انہیں بھی آزادی ملے گی“۔ تحریک انصاف والے بتاتے تھے کہ عمران خان نے قوم کو شعور دیا ہے تو ہمیں یقین نہیں آتا تھا۔ لیکن اب اگر ملک کی بھینسوں میں بھی سیاسی شعور آ گیا ہے تو ہمارے پاس یہ اعتراف کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم غلط تھے۔

پرانے وقتوں میں بزرگ کہہ گزرے ہیں کہ بھینس کے آگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قاضی کے گھر کے چوہے بھی سیانے ہوتے ہیں۔ اس صورت میں وزیر اعظم کے گھر کی بھینسیں بھی سیانی نکل آئیں تو حیرت کس بات کی؟

بچت مہم کے تحت گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر وغیرہ بیچنے کی تو ہمیں سمجھ آتی ہے۔ ناکارہ مشینیں پڑے پڑے جگہ گھیر رہی تھیں۔ لیکن ذی شعور بھینسیں تو نہایت مفید ہیں۔ ذی شعور بھینسوں کو جلد بازی میں بیچنے کی بجائے اگر ہیلی کاپٹر کی جگہ انہیں روزانہ بنی گالہ آمد و رفت کے لیے استعمال کیا جاتا تو بہتر تھا۔

عام سڑکوں پر پروٹوکول لگا کر عوام کو تنگ کرنے کی بجائے وزیراعظم کے کاروان کو بھینس راول ڈیم میں تیر کر سیدھی بنی گالہ پہنچا دیتی۔ پیسے خرچ ہونے کی بجائے الٹا ادھر اس کا دودھ فروخت کر کے چار پیسے کمال لیے جاتے۔ اگر عام بھینس بھی ہوتی تو روز کی ہزاروں کی آمدنی تھی۔ لیکن یہ تو عام بھینسیں نہیں ہیں۔ یہ تو سوچنے سمجھنے والی بھینسیں ہیں۔

برصغیر کے مشہور لیڈر مہاتما گاندھی اور اخفش نامی گرائمر کے ماہر بزرگ کی وجہ شہرت بھی ان کی بکری تھی۔ ممتاز مورخ ابن انشا فرماتے ہیں کہ
”جن بکریوں کو شہرتِ عام اور بقائے دوام میں جگہ ملی ہے، ان میں ایک گاندھی جی کی بکری تھی اور ایک اخفش نامی بزرگ کی۔ روایت ہے کہ وہ بکری نہیں بکرا تھا، معقول صورت۔ یہ جو شاعری میں اوزان اور بحروں کی بدعت ہے۔ یہ اخفش صاحب سے ہی منسوب کی جاتی ہے۔ بیٹھے فاعلاتن فاعلات کیا کرتے تھے، جہاں شک ہو تصدیق کے لئے بکرے سے پوچھتے تھے کہ کیوں حضرت ٹھیک ہے نہ؟ وہ بکرا، اللہ اُسے جنت میں یعنی جنت والوں کے پیٹ میں جگہ دے، سر ہلا کر ان کی بات پر صاد کر دیتا تھا۔ اس بکرے کی نسل بہت پھیلی، پاکستان میں بھی پائی جاتے ہے۔ سوتے جاگتے اس کے منہ سے یس سر، یس سر، جی حضور، بجا فرمایا وغیرہ نکلتا رہتا ہے۔ اسے بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔“

اگر مہاتما گاندھی اور اخفش جیسے سیانے بھی اپنے بکروں کے مشوروں کو اتنی اہمیت دیا کرتے تھے تو اس میں سوچنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ اگر ایک چھوٹا سا بکرا اتنا اچھا مشیر ہو سکتا ہے تو وزیر اعظم ہاؤس کی سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والی بھینس کتنی اچھی مشیر ثابت ہو سکتی ہے؟ وزیراعظم مناسب سمجھیں تو ان بھینسوں کو اقتصادی مشاورتی کونسل یا ڈیم کمیٹی میں شامل کر لیں۔ آپ خود سوچیں کہ اگر ایک کمیٹی میں سینیٹر فیصل جاوید خان اور آٹھ بھینسیں مل کر سوچ رہی ہوں تو اس کی کارکردگی مثالی ٹھہرے گی اور وہ کمیٹی اجتماعی کوشش سے ہر قسم کے مسائل کا حل نکال لے گی۔

یہ خیال آتا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس میں بھینسیں رکھی جاتی ہیں تو ضرور مرغیاں بھی پالی جاتی ہوں گی۔ وزیراعظم کو میری صلاح ہے کہ وہ بھینسوں کے علاوہ مرغیوں کو بھی نہ بیچیں بلکہ ان کے انڈے فروخت کیا کریں۔ اس طرح مستقل قومی آمدنی کا ایک وسیلہ پیدا ہو جائے گا۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی سونے کے انڈے دینے والی مرغی بھی نکل آئے۔

وزیر اعظم کے پروٹوکول میں شامل ایک محافظ

مرغیوں کا خرچہ بھی نہیں ہوتا۔ یوسفی فرما گئے ہیں کہ ”مرغ اور ملا کے رزق کی فکر تو اللہ میاں کو بھی نہیں ہوتی۔ اس کی خوبی یہی ہے کہ اپنا رزق آپ تلاش کرتا ہے۔ آپ پال کر تو دیکھیے، دانہ دنکا، کیڑے مکوڑے، کنکر پتھر چن کر اپنا پیٹ بھر لیں گے“۔ بس اللہ کا نام لے کر پال لیں، وہ خود ہی وزیر اعظم ہاؤس سے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ بھر لیں گے۔ لیکن احتیاط یہ کرنی ہو گی کہ ان کو مرغ کے شوقین چٹورے وزرا سے بچا کر رکھا جائے۔

ہم نے ایک قصہ بھی پڑھ رکھا ہے کہ ایک سیدھے سادھے لڑکے کو ایک گوالے نے دودھ کا ایک مٹکا بازار تک اجرت پر لے جانے کا کہا۔ اس نے مٹکا سر پر رکھا اور سوچنے لگا “میں کتنا خوش قسمت ہوں۔ یہ گوالا مجھے پورے پچاس روپے دے گا۔ میں اتنی بڑی رقم کیسے استعمال کروں گا؟ میں ایسا کروں گا کہ بازار سے ایک مرغی خرید لوں گا۔ وہ بہت سے انڈے دے گی۔ ان میں سے چوزے نکلیں گے۔ میں یہ ساری مرغیاں بیچ کر ایک بھیڑ خرید لوں گا۔ کچھ دن بعد بھیڑ بچے دے دی تو میں ان سب کو فروخت کر کے گائے خرید لوں گا۔

جب گائے بچے دے گی تو میں ان سب کو بیچ کر بھینس خریدوں گا۔ بھینس بہت سے بچے دے گی اور میرے پاس بہت سی بھینسیں ہو جائیں گی۔ پھر میری ماں مجھے کہے گی کہ تم کہو تو گاؤں کی سب سے خوبصورت لڑکی سے تمہاری شادی کی بات کروں۔ میں یہ سن کر شرما کر سر جھکا دوں گا”۔ یہ سوچتے سوچتے اس لڑکے نے سر جھکا دیا۔ مٹکا گر گیا۔ دودھ اس کے ارمانوں سمیت مٹی میں مل گیا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس لڑکے کا پلان بہت اچھا تھا۔ وہ تو خیر شادی کے چکر میں شرما کر ناکام ہو گیا لیکن ہمارے وزیراعظم تو پہلے ہی شادی شدہ ہیں اور ان کی ناکامی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کی مرغیوں کے ذریعے بے شمار قومی دولت اکٹھی کرنے کے بے انتہا امکانات موجود ہیں۔

مرغیوں کے علاوہ بطخیں بھی پالی جائیں تو اچھا ہو گا۔ ان کے انڈے بھی بکیں گے اور ان بطخوں کو ڈیم بننے کے بعد اس کی حفاظت کا فریضہ بھی سونپا جا سکتا ہے۔ بطخ کتے کی طرح ایک چوکس قسم کی چوکیدار ہوتی ہے۔

یہ ایک بہترین منصوبہ ہے جس سے خاطر خواہ پیسے قومی خزانے میں جمع ہونے لگیں گے۔ وزیر اعظم اپنی ذی شعور بھینسوں سے چھٹکارا مت پائیں بلکہ سینیٹر فیصل جاوید خان کی سربراہی میں ان کی کمیٹی بنا کر ان کو پارلیمانی سیاست اور عوامی پیسے کے متعلق منصوبے سوچنے دیں۔

اقتصادی مشاورتی کمیشن
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1037 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar