معصوم بچوں سے زیادتی: بچوں میں شعور بیدار کریں


shazia anwarگزشتہ دنوں ڈرامہ سیریل اُڈاری کے حوالے سے پیمرا کی جانب سے اظہار وجوہ کے نوٹس کا اجراءکیا گیا جو کم از کم میرے لئے انتہائی حیران کن ہے۔ اس سیریل کے انفرادی اور حساس موضوع کے پیش نظر اُڈاری کے ون لائنر کے آنے سے لے کر اس کی پریس کانفرنس تک ہر قدم میری نگاہ میں رہا۔ پریس کانفرنس میں ڈرامے کی جھلکیاں دیکھ کر کم از کم میرے تو رونگھٹے کھڑے ہو گئے کیوں کہ میں بھی ایسی کچھ بچیوں کو جانتی ہوں جو اس صورتحال سے گزریں۔ پریس کانفرنس میں احسن خان نے حاضرین کو بتایا کہ ان کے اس سیریل میں کام کرنے کا سبب بنی اس کے گھر کی نوکرانی جس کی بیٹی اس عذاب کا شکار تھی۔

سب سے پہلے تو کچھ اُڈاری کے بارے میں جو پروڈیوسر مومنہ دُرید (ایم ڈی پروڈکشنز)اور کشف فاؤنڈیشن کی مشترکہ کاوش ہے اور کینڈین حکومت کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اُڈاری ایک انتہائی سنجیدہ ، تکلیف دہ اور حساس موضوع پر بنائی جانے والی ڈرامہ سیریل ہے جس کی بنیاد معصوم بچوں سے زیادتی ہے اور اسے گانے بجانے والوں کی مشکلات کے ساتھ بھی منسلک کیا گیا ہے۔ اُڈاری معروف ناول نگار فرحت اشتیاق کی تحریر ہے جس کے ہدایت کار احتشام الدین ہیں۔ ”اڈاری “ کے نمایاں ستاروں میں بشریٰ انصاری، سمیہ ممتاز، لیلیٰ زبیری، احسن خان، فرحان سعید اور عروہ حسین شامل ہیں۔ یعنی اس سیریل سے متعلق تمام افراد انتہائی ذمہ دار اور معاشرے میں اہم مقام رکھنے والے افراد ہیں جو یقینا عام لوگوں سے زیادہ باشعور بھی ہیں۔

اُڈاری کے حوالے سے کسی نے لکھا کہ اس ڈرامے کے ذریعے بے حیائی عام کی جا رہی ہے توکسی نے تحریر کیا کہ ریپ سین کو کھلے بندوں دکھایا جا رہا ہے۔ بعض نے اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز جملے تحریر کئے جو تنقید برائے تنقید سے زیادہ کچھ اور نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اُڈاری میں معاشرے کے اُس مکروہ ترین چہرے کی عکاسی کی گئی ہے جو ہر دوسرے گھر میں موجود اپنے ہی لوگوں کی عزتوں کو مجروح کررہے ہیں۔ پڑھنے والے تھوڑا سا ذہن پر زور ڈالیں تو انہیں بھی کوئی نہ کوئی ایسا نام یاد آہی جائے گا جو اڈاری کے ”امتیاز“کی یاد دلا جائے گا۔

اولاً تو یہ کہ “ہم ٹی وی” کو شہرت کے حصول کے لئے  کسی بھی قسم کے منفی کام انجام دینے کی ضرورت ہی نہیں ہے، اس کے ڈراموں کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت ازطشت از بام ہے۔ دوئم یہ ہے کہ جو مسئلہ اُڈاری کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس وقت اس کی حساسیت کو محسوس کرنا نہایت ضروری ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات سے اخبارات بھرے پڑے ہیں، ہم انہیں پڑھتے ہیں، افسوس کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ اس کے بعد جب کوئی دوسرا واقعہ سامنے آتا ہے تو پھر افسوس کے کلمات کی ادائیگی ہو کر ہوا کے ساتھ اُڑ جاتی ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی پلیٹ فارم سے کوئی بھی عملی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آتا۔ معاشرے کی اسی بے حسی کی وجہ سے جاوید اقبال جیسے لوگ  100 بچوں کے قاتل بن جاتے ہیں۔ تیسری اور اہم ترین بات یہ کہ اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنے والے پیمرا نے کیا کبھی کیبل پر چلنے والی فلمیں نہیں دیکھیں؟ حقیقی زندگی پر عکس بند کئے جانے والے بے شمار اور انتہائی ڈراموں پر کبھی غور کیا ہے جس میں ایسے ایسے مناظر پیش کئے جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر آپ یقینا چینل بدلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ سینما پر لگائی جانے والے بے شمار فلمیں ایسی ہیں جن کا موضوع اور آزادانہ عکس بندی گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے قابل نہیں ان میں ”دوستانہ “جیسی انتہائی آزاد موضوع کی فلم بھی شامل ہے۔ اور جہاں تک بات آزاد موضوع کی ہے جسے لوگ فحاشی سے تعبیر کررہے ہیں تو پھر بچوں کے لئے  مخصوص چینلوں کو دیکھ لیجئے جہاں سے بچوں کو قبل از وقت باشعور بنانے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کارٹونز اور دیگر پروگرامز نشر کئے جارہے ہیں۔

بچوں میں غلط اور صحیح کی تمیز پیدا کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ ڈرامے اورفلمیں معاشرے مسائل کی عکاسی کرسکتی ہیں، ایسی چیزوں کو سامنے لانا جو جو وقوع پذیر تو ہوتی ہیں لیکن معاشرہ کسی بھی وجہ سے ان سے چشم کشائی کر رہا ہے، بہت حوصلے کی بات ہے اور یہ حوصلہ دکھاتا ہے ”ہم نیٹ ورک “ بالخصوص مومنہ دُرید۔ اب خواہ اس پر کسی بھی قسم کے الزامات عائد کئے جائیں لیکن میری نظر میں اس سیریل سے جڑے تمام لوگ قابل ستائش ہیں جو مسئلے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔

زخم چھپانے سے بھر نہیں جاتا بلکہ خراب ہوجاتا ہے۔ ہم نے دیکھا کچھ عرصے قبل بھارتی اداکار عامر خان نے اس حوالے سے باقاعدہ ایک مہم چلائی۔ انہوں نے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اپنے سامنے بٹھا کر انہیں چھوٹی چھوٹی باتوں اور مثالوں سے بچوں کو سمجھایا کہ اگر کوئی ان کے جسم کے نازک حصوں کو چھوتا ہے تو وہ انہیں سختی سے منع کریں اور فوری طور پر اپنے والدین کو مطلع کریں۔ یہ انتہائی ضروری عمل ہے، ہمیں اپنے بچوں کو سمجھانا ہے کیوں کہ یہ معصوم اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ اُن کے ساتھ آخر ہو کیا رہا ہے، جب وہ ٹی وی پر وہی کچھ ہوتا دیکھیں گے تو یقینا سمجھ جائیں گے کہ ایسے کسی بھی عمل کے جواب میں ان کا کیا ردعمل ہونا چاہئے۔

بچے ہم سب کے ہیں، ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کے لئے  حساس ہونا چاہئے۔ ہمارے بچے ہم سے زیادہ سمجھ دار ہیں کہ ہر آنے والی نسل جانے والی نسل سے زیادہ ہوشیار ہوتی ہے۔ معاشرے کو صحیح اور غلط زاویوں سے روشناس کرانا میڈیا کی ذمہ داری ہے۔ ”ہو ہو ہا ہا “ پر مشتمل ڈرامے اپنی جگہ لیکن ایسے ڈرامے بھی معاشرے کی اہم ضرورت ہیں جو مسائل کی عکاسی کریں اور لوگوں کو مسائل کے حل کی جانب راغب کریں۔


Comments

FB Login Required - comments