بھوری کو نہیں چھوڑتے تو گوری کو کون چھوڑے گا


نانکے پنڈ سویا ہوا تھا، آدھی رات کو ہا للا لا ہو گئی۔ پھر گاوں کی طرف سے کوکوں کی آوازیں آنے لگ گئیں. کوکوں کی آواز ابھی دور تھی کہ لعن طعن شروع ہو گئی۔ اب اٹھنا مجبوری تھا، سو اٹھ گیا۔ نانا کا گھر بھی اس علاقے کے رواج مطابق اپنے زرعی رقبے ہی پر تھا۔ ارد گرد رشتے داروں کی زمینیں بھی تھیں، جو گاوں لگتا تھا؛ اس میں بلوچوں کی اکثریت تھی۔ جانگلی تعداد میں دوسرے نمبر پر تھے۔ زرعی اراضی ارائیوں کے پاس زیادہ تھی۔

اٹھ تو گیا تھا۔ اب اندھیرے میں اندازے لگا رہا تھا کہ شور کدھر ہو رہا ہے؛ وجہ کیا ہے، ہوا کیا ہے۔ کزن کی آواز آئی بھاگو؛ اس کے ساتھ بھاگ پڑا؛ اپنی پسندیدہ چھوٹی کلہاڑی بھی ہاتھ میں پکڑ لی۔ کزن نے بھاگنے کے دوران بتایا کہ مامے ملنگ کے ڈیرے پر کچھ ہوا ہے؛ لگتا ہے اس کے ڈنگروں کو چور پڑ گئے ہیں۔

ہم جب تک ملنگوں کے ڈیرے پر پہنچے، تب تک سارا پنڈ وہاں پہنچ چکا تھا۔ پتا یہ لگا کہ چور آئے تھے، اک بھوری بھینس کو کھول کر لے جانے کی کوشش کی؛ گھر والے اٹھ گئے، تو اسے کھلا چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ خیر سے چوری چکاری میں گاوں والوں کے اپنے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ چوروں کے پنڈ چوری بزتی (بے عزتی) والی بات تھی۔

اب چور کا پیچھا کرنا لازم تھا۔ کھوجی بھی پہنچ گیا تھا۔ کھرا تلاش کر کے اس نے سمت متعین کر لی تھی۔ کھوجی کے پیچھے پیچھے سبھی روانہ ہو گئے۔ وہ کھرا دیکھتے چل رہا تھا؛ ساتھ ساتھ اونچی آواز میں اعلان بھی ہو رہا تھا کہ چور لگتا اس طرف کو گئے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کھرا تو مذاق ہے۔ میں نے کھوجی سے پوچھا کہ کھرا مجھے بھی دکھاو، تو اس نے کہا ہو تو دکھائیں۔
’’تو ہم جا کدھر رہے ہیں‘‘؟
اس نے کہا، ’’بس دریا تک جانا ہے‘‘۔
مرحوم دریا بیاس وہیں قریب ہی لیٹا رہتا تھا، دو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر۔

میں نے کہا، ’’کھرا نہیں ہے تو تم ڈھونڈ کیا رہے ہو‘‘؟
کھوجی بولا، ’’ڈھونڈ رہے ہیں‘‘۔
اس کا جواب سن کر مجھ سے پہلے کزن تپ گیا کہ ’’تیری ۔۔۔۔ ٹھیک سے بتا‘‘۔

کھوجی بولا کہ ملنگوں کی بھوری بھینس کے ساتھ تمھارا اک کزن ’جذباتی‘ ہو گیا تھا۔
’’ملنگ خود اُٹھ گیا؛ اس نے آواز دی تو تمھارا کزن ڈر کر بھاگ گیا۔ شور پڑنے کی وجہ سے سارا پنڈ پہنچ گیا۔ اب عزت بچانے کی کوشش ہو رہی ہے‘‘۔

کزن بولا، ’’پنڈ نے تو پہنچنا ہی تھا کہ چوروں کے اپنے پنڈ چوری ہو جائے تو بزتی والی بات ہے‘‘۔
کھوجی نے کہا، ’’دریا تک جائیں گے ۔واپس پہنچ کر بتائیں گے، کہ کھرا دریا کے پاس گم گیا ہے‘‘۔

ہم لوگ واپس پہنچے تو رش ختم ہو چکا تھا۔ اب سارے مامے بیٹھے لڑ رہے تھے۔ نانکا پنڈ ہو تو سارے ہی مامے ہوتے ہیں۔ اصل بات کا پتا لگ چکا تھا؛ ملزم مفرور تھا۔

اب نمانی بھینس کی قسمت کا فیصلہ ہو رہا تھا۔ کزن نے حساب کتاب لگا کر بتایا کہ تمھیں پتا ہے، کہ یہ بھینس تمھاری ہے۔ ملنگ مامے سے اس بھینس کا سودا ہو چکا تھا۔ ابھی ہم لوگ اپنے ڈیرے پر لے کر نہیں گئے تھے۔ لڑائی اس بات پر ہو رہی تھی کہ اب بھینس کا کیا کریں۔ داغی کیرکٹر کے ساتھ اسے خریدنے سے انکار کر دیا تھا، ہمارے مامے نے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ بھینس کو بیچ دیا جائے۔ بھینس کو بیچنے کے لیے بیوپاری لائے گئے۔ انھوں نے اچھا ریٹ لگایا۔ وہ بیانہ کر کے واپس جا رہے تھے، تب انھیں روک کر اک شرپسند نے بھینس کے کیرکٹر کا بتا دیا۔ وہ بھی سودا کرنے سے انکاری ہو گئے۔

اب بھینس کا کوئی گاہک ہی نہ ملے۔ بڑی کوشش کے بعد یہ بھینس دور پار سے ایک قصائی بلوا کر اسے بیچی گئی۔ اپنی اصل قیمت سے خاصے کم دام لگے۔ اس پر بھی بیچ دیا گیا، کہ اس بھینس کو دودھ کے لیے تو کوئی اب خریدنے کو تیار نہیں تھا۔

پھر نانکے پنڈ، ماما لوگ سے جب کوئی مطالبہ منوانا ہوتا، انھیں تنگ کرنا ہوتا، کسی فنکشن میں ان کی دھول اڑانی ہو، انھیں بھوری یاد کراتا ۔ انھیں حساب کتاب آفریدیوں والا لگا کر بتاتا؛ یہی کہ ’’ماما سن! بھوری سے ہمیں کروڑوں آمدن ہونی تھی؛ اس نے آگے کتنی بھوریوں کو جنم دینا تھا؛ ان سب کو بیچ کر ان کا دودھ بیچ کر ہم نے کتنی کمائی کرنی تھی‘‘۔

جب یہ سب باتیں ہوتیں، وہ بھی کہیں آس پاس ہی پھر رہا ہوتا؛ سن رہا ہوتا؛ وہی جو بھوری کے ساتھ نہیں پکڑا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے بھوری قصائی کے حوالے ہو گئی۔ وہ اب یہ ذکر سنتا ہے تو اپنی مونچھ کے نیچے ہنستا ہے۔ یہ آدھی سی ہنسی زہر لگتی ہے۔ یہ منحوس ہنسی ہی تھی، جس کی وجہ سے بھوری کا حساب کتاب سنانا چھوڑ دیا، میں نے۔ اور طرح سوچنے لگ گیا کہ بھوری کی جان گئی؛ جو مجرم تھا وہ بد قماشوں کی طرح ہنستا ہے، کیوں؟ اس کیوں کا جواب نہیں ملا۔ تو چھوڑیں، ایسے ہی چلے گا۔ ڈنگر ہو یا انسان؛ بھوری ہو یا گوری ہو؛ جان اسی کو دینی ہے۔ مجرم زندہ رہے گا، ہنسے گا بھی۔ جو متاثر ہو گا وہ نفع نقصان کا حساب ہی کرے گا؛ بیوقوفوں کی طرح۔ اور آپ بس کہانیاں ہی پڑھیں گے۔

اس بھینس کی کہانی یوں یاد آئی کہ آج کل وزیراعظم ہاؤس کی بھینسیں بھی بیچنے کی جلدی ہو رہی ہے۔ چلو اچھا ہوا کہ وزیراعظم ہاؤس کی بھینسوں کو بیچنے میں ویسی مشکل نہیں ہو رہی ہے جیسی ہمارے پنڈ والوں کو ہوئی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 330 posts and counting.See all posts by wisi