برطانیہ میں مسیحی اقلیت ہو گئے


khurram niaziبرطانیہ میں چاہے بچوں کو اسکول میں داخلہ کرانے جائیں، نوکری کے لئے درخواست لکھنی ہو یا ڈاکٹر کے پاس خود اور اہلِ خانہ کو رجسٹر کروانا ہو آپ کو ایک فارم پر اپنی نسل (ایتھنیسٹی)، ازدواجی حیثیت، جنسی میلان کے ساتھ ساتھ اپنا مذہب بھی ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ عمومی نوعیت کے ان سوالناموں کے نیچے واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ ان سوالات کی غرض صرف یہ ہے کہ ملکی آبادی سے متعلق اعداد وشمار اکھٹے ہوتے رہیں اور ہاں آپ کی مرضی ہے آپ جواب دینا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔ شعبۂ طب سے منسلک ہونے کے باعث ہر روز ایسے کتنے ہی فارم سامنے سے گزرتے ہیں اور یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ کتنی بڑی تعداد ہے جواپنے مذہب کے باب میں کچھ بھی نہیں، کوئی بھی نہیں اور ناقابلِ اطلاق تحریر کرنا پسند کرتے ہیں۔

دو دن قبل برطانیہ کے تمام اخبارات نے ایک رپورٹ شایع کی ہے جسے گارجین جیسے سنجیدہ اور نسبتاً غیر جانبدار اخبار نے صفحۂ اول پر اس شہ سرخی کے ساتھ چھاپا ہے: “ملک کم مذہبی ہوگیا۔ برطانیہ میں عیسائی اب اقلیت میں” یہ دراصل لندن کی سینٹ میری یونیورسٹی کے پروفیسر بولیونٹ کے سروے کی رپورٹ ہے جس کا عنوان ہے ‘انگلستان اور ویلز میں معاصر کیتھولک رحجان’ اسے انٹرنیٹ پر پڑھا جاسکتا ہے۔ اس سروے کی رو سے انگلستان اور ویلز میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی شرح کچھ یوں ہے:

غیر مسیحی مذاہب     سات اعشاریہ سات فیصد

رومن کیتھولک      آٹھ اعشاریہ نو فیصد

اینگلیکن(پروٹسٹنٹ)        19 اعشاریہ 8 فیصد

بے مذہب        48 اعشاریہ 5 فیصد

2011ء کی مردم شماری میں بے مذہب 25٪ تھے چنانچہ محض تین سال کے عرصے میں ان کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے۔

گرجا گھر باقاعدگی سے جانے کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ 59 فیصد کیتھولک افراد کبھی بھی گرجا میں حاضری لگانے سے انکاری تھے۔ جبکہ ان میں بھی غیر سفید فام، خواتین اور عمر رسیدہ افراد نمایاں اکثریت میں پائے گئے۔

eng2ہم برطانیہ میں مذہب کی مختصر سی تاریخ بیان کرتے چلیں قرونِ وسطیٰ تک یہاں پادریوں کا بہت اثر و رسوخ تھا جو عام آبادی کے اخلاقیات پر نظر رکھنے اور عبادات کروانے کے ذمہ دار سمجھے جاتے تھے. معاشرہ میں ان کا خاص مقام تها. ان کے بغیر شادی بیاہ کی رسومات پوری نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی بچوں کے نام رکهے جا سکتے تهے. کچھ جو قانون بنانے اور منسوخ کرنے پر قادر تهے جیسے ہمارے مفتی ہوتے ہیں، کی منشا و مرضی کے بغیر طلاق بهی ناممکن تهی اور رشتوں کی الجهی ہوئی ڈور سلجھانے کے لئے بهی ان ہی کی رائے حتمی سمجهی جاتی ویسے ان کے سامنے پیش کئے جانے والے مقدمات کی اکثریت کا تعلق بهی اسی مسئلے سے ہوتا جس سے ان کو خود سب سے زیادہ دلچسپی ہوتی یعنی ہر طرح کے جنسی معاملات! یہی لوگوں کو بتاتے کہ کون سا گناہ بڑا اور کون سا چهوٹا ہے اور کفارہ میں کتنی رقم ادا کرنی ہوگی. تمام لوگوں پر لازم تها کہ اپنی آمدنی کا دس فیصد (عشر) ان کے حوالے کردیں. ان کی اپنی دولت ہر طرح کے ٹیکس سے مستثنیٰ تهی حالانکہ اس زمانے میں پورے ملک کی زیر کاشت زمین میں سے ایک تہائی انہی کی ملکیت تهی. ابتدا میں ان کے اور عام لوگوں کے لباس ایک جیسے تهے لیکن پهر رفتہ رفتہ انہوں نے سر پر ڈھانپنے کے لیے مخصوص اور متاثر کن ٹوپیاں اور لباس پر دلکش کڑھائی والے لمبے چوغے زیب تن کرنے شروع کردیئے خاص طور پر ان کے پیشوا اپنے ملبوسات پر سونے چاندی کا کام کرواتے اور قیمتی جواہرات ٹنکواتے. ان پیشواؤں کو یہ استحقاق بهی حاصل تها کہ جس کو چاہے دائرہء مذہب سے خارج کر دیں. عام لوگ ان کی طاقت، اعلیٰ مرتبہ اور جاه و حشمت سے اتنے مرعوب ہوئے کہ اکثر لوگوں نے انہی جیسا لباس اور وضع و قطع اختیار کرلی ان کے عروج کے زمانے میں ہر پچاس میں سے ایک شخص اسی پیشے سے وابستہ تها یعنی کل آبادی کا دو فیصد. انگلستان میں کئی سو سال تک یہی نظام چلتا رہا حتیٰ کہ 1535ء میں ہنری ہشتم کا سب سے بڑے پیشوا یعنی پاپائے اعظم سے اختلافِ رائے ہوگیا۔ بظاہر اس کی وجہ ملکہ کیتھرائن کی طلاق تھی جس پر پوپ نے ہنری ہشتم پر تکفیر کا فتویٰ لگا کر دیگر یورپی اقوام کو مل کر انگلستان پر حملہ آور ہونے کے لئے زور دیا۔ لیکن دراصل یہ ان اہلِ مذہب کی بے پایاں طاقت کو کم کرنے کی ایک کوشش تھی ہنری نے اپنا چرچ، رومن کیتھولک چرچ سے الگ کرکے اس کی سربراہی خود اختیار کرلی۔ اسے چرچ آف انگلینڈ کہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس کے ماننے والوں کو انگلیکن کہا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر پروٹسٹنٹ فرقہ سے ملتے جلتے ہیں۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے عقائد ہمارا موضوعِ بحث نہیں۔ ایک مسیحی ملک ہونے کے باوجود عوام پر مذہب کی گرفت غیر محسوس انداز میں اور بتدریج کم ہوتی گئی ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔

eng1دوسری جنگِ عظیم میں جہاں ایک طرف برطانیہ نے نعرہ لگایا کہ وہ عیسائیت کو بچانے کے لئے نازی جرمنی کا مقابلہ کر رہا ہے وہیں ہٹلر کا کہنا تھا کہ اصل میں اس کی افواج کو تائیدِ ایزدی حاصل ہے۔ اس کے بعد بھی ہرعالمی معرکے میں مذہب، اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کی دہائی دی جاتی رہی ہے۔ اکیسویں صدی کی نسل جس سے مراد 1980ء کے بعد پیدا ہونے والے بچے ہیں جنہوں نے نئی صدی میں عالمِ شعور اور عہدِ بلوغت میں قدم رکھا، پچھلی نسل کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ باشعور اور تجزیاتی ہے۔ وہ ہر بات کو شواہد کی کسوٹی پر پرکھنے کی عادی ہے۔ برطانوی معاشرے میں بچوں پر تشدد کی ریاستی مزاحمت اور مسلسل قانون سازی کے نتیجے میں ایسے نونہالانِ وطن پروان چڑھے ہیں جنہیں ان کے اساتذہ اور والدین نے مار پیٹ کے ذریعے فرمانبردار بنانے کی کوشش نہیں کی۔ ایک غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ اخلاقی اقدار کا تعلق مذاہب سے ہے۔ کسی بھی مذہبی معاشرہ پر طائرانہ نظر ڈال لیجئے آپ کو اندازہ ہو جائے گا وہاں کیا اخلاقیات پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ پاکستان، ہندوستان، پولینڈ، فلپائن ، سعودی عرب اور ایران کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اخلاقیات دراصل انسانی سماج کے ارتقاء سے پھوٹتی ہیں۔ جبھی آپ دیکھتے ہیں کہ قبائلی، جاگیردارانہ اور سرمایہ دار معاشروں میں یکساں مذاہب ہونے کے باوجود اخلاقی اقدار سراسر مختلف ملتی ہیں۔ اسی طرح امیر، مڈل کلاس اور غریب طبقات کے اخلاقی تقاضے مختلف اور کبھی متصادم بھی ہوسکتے ہیں

عصرِحاضر میں آنکھیں کھول کر جینے والا جہاں برما میں بدھ مذہب کے ماننے والوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم سے انکاری نہیں ہو سکتا وہیں طالبان، بوکو حرام، داعش اور القائدہ جیسی تنظیموں کے انسانوں کو ذبح کرنے، بچیوں کو یرغمال بنانے اور لونڈیوں کے بازار قائم کرنے والے واقعات سے بے خبر رہنا بھی اس کے اختیار سے باہر ہے۔ وہ سربیا میں عیسائیوں کے ہاتھ بوسنیائی مسلمانوں کا قتلِ عام ابھی نہیں بھولا جبکہ سینٹرل افریقی جمہوریہ میں عیسائی گروہوں کے ہاتھ چڑھ جانے والے مسلمانوں کی درگت سے بھی وہ واقف ہے۔ اسرائیل کی نہتے فلسطینیوں کے محاصرہ اور یکطرفہ گولا باری کے مناظر تو اس نے اپنے 60 انچ کے ہائی ڈیفینیشن ٹی وی پر اسی طرح دیکھے ہیں کیسے فٹ بال کا ورلڈ کپ کا فائنل میچ ہو۔ اس نے بحیرۂ روم میں انسانوں کو غرقاب ہوتے دیکھا ہے۔ وہ سمجھ چکا ہے کہ یہ جنگیں ادیان کی نہیں اگر ہوتیں تو عیسائیت کو اپنی جنم بھومی یعنی مشرقِ وسطیٰ سے دیس نکالا نہ ملتا۔

مذاہب کو جنگوں، قومی تشخص اور خارجہ پالیسی کے ستون کے طور پر استعمال کرنا سب سے خطرناک عمل ہے۔ اوپر ہم ہنری ہشتم کے پوپ سے جھگڑے کا ذکر کرچکے ہیں۔ اس کی صاحبزادی ملکہ الزبتھ اول نے اس وقت کی سب سے بڑی طاقت اسپین کو شکست اسی لئے دی کہ انگلستان پوپ کے تابع نہیں تھا۔

غیر مذہبیت کے جس رحجان کا حوالہ دیا گیا ہے وہ تنگ نظر اور جارحانہ لادینیت نہیں جس کے پیروکار مذاہب اور مذہبی اقدار کا مذاق اڑانے میں ایک ایذا پسندانہ لطف حاصل کرتے ہیں اور ہر محفل میں ردِ مذہب کی بحثیں ایک مذہبی جوش و جذبے سے کرتے نظر آتے ہیں بلکہ وہ ایک لا تعلقی، عدم توجہ اور لاپروائی (ان ڈفرنس) کا رویہ ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments