(چوہدری) نثار میں تیری گلیوں پہ کہ اے وطن ….


ammar masoodچوہدری نثار کی پریس کانفرنس کے بعد خارجہ پالیسی شدید دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ چوہدری نثار نے جس بے باکی اور بے جگری سے امریکہ کو للکارا ہے اور اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی ہے اس سے گمان یہ ہوتا تھا کہ پریس کانفرنس کے اختتام کے ساتھ ہی چوہدری صاحب بگٹٹ دوڑتے ہوئے امریکہ پر چڑھ دوڑیں گے اور اس حقیر سپر پاور کا اپنے جذبہ ایمانی کی مدد سے بھرکس نکال دیں گے۔ وہ تو بھلا ہو چند عاقبت اندیشوں کا کہ جنہوں چوہدری صاحب کی مثالی دلیری کو یہ کہہ کر لگام دی کہ حضور جن اداروں کی نااہلی کا آپ نوحہ پڑھ کر طعنہ زن ہیں وہ آپ کی وزارت کے زیر نگران ہیں۔شناختی کارڈ کا اجراءبھی حضور والا کے حکم سے ہوتا ہے ۔ پاسپورٹ بھی جناب کی وزارت کے زیر نگران ایک ذیلی ادارہ ہے۔ چوہدری صاحب رہے ضدی آدمی انہوں نے اس پر بڑے مدلل انداز میں دلیل دی ہو گی۔ یہ مشرف دور کی کارستانی ہے۔ پیپلز پارٹی کا جرم ہے۔ وہ تو تھے ہی کرپٹ ۔ اس پرمغز گفتگو کے بعد ہمارے ممدوح کی وزارت اور شخصیت ایسی دکھائی دینے لگی کہ فرشتوں کی سی پارسائی کا گمان ہونے لگا۔

اس پریس کانفرس کے نتیجے میں ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ ملا منصور حیات ہیں یا جان سے گزر گئے؟ ہمیں ماتم کرنا ہے یا خوشیاں منانی ہیں؟ پرسہ دینا ہے یا مٹھائیاں تقسیم کرنی ہیں؟فاتحہ پڑھنی ہے یا لاحول پڑھنا ہے؟ آنسو بہانے ہیں یا دانت نکالنے ہیں؟ملا منصور کو مرحوم کہنا ہے یا مفرور کہہ کر پکارنا ہے؟صورت حال ابھی کچھ واضح نہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق سے بھی چوہدری صاحب کی تشفی نہیں ہوئی۔ امریکی صدر بارک اوبامہ کی پریس کانفرس بھی چودھری نثار کو مطمئن نہ کر سکی۔ ملا منصور کے گھر والوں کے بیان کو بھی وزیر موصوف نے درخو اعتناءنہ جانا ۔ طالبان کی جانب سے نئے کمانڈر ملا ہیبت اللہ کی تقرری بھی ہماری وزارت خارجہ کو اطمینان نہ دلا سکی ۔ دنیا بھر کے میڈیا کو بھی پریس کانفرنس میں جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا۔بات دراصل یہ ہے کہ چودھری صاحب ہر آئے گئے کی بات پر کان نہیں دھرتے۔ تحقیق کے آدمی ہیں۔ پوری طرح تفتیش کر کے ہی ملامنصور کی ہلاکت کی تصدیق کریں گے۔ہما شما کے بیان پر وزارت کے امور چلانے لگیں تو ہو گیا پاکستان میں امن۔ ہو گئی ختم دہشت گردی۔ ہو گیا وزارت داخلہ کا پرچم بلند۔

اب مرحلہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے تفتیشی اور تحقیقی ادارے چوہدری نثار کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ حضور انور ۔ ملا منصور اب مرحوم ہو گئے ہیں۔ یقین مانئیے اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ کوہ مری کے سبزہ زاروں میں ہونے والے امن مذاکرات بھول جائیے ۔ دہشت گردوں کے سربراہ سے امن کی گفتگو کو اب قصہ پارینہ جانیئے۔پاکستانی اور افغان طالبان کا فرق مٹا دیجئے۔ نئے عہدیدارن سے الفت کی پینگیں بڑھایئے۔خدارا مان جائیے۔ مگر چوہدری صاحب اپنی ہٹ پر قائم ہیں کہ جب تک ہلاکت کی تصدیق نہیں ہو جاتی وزارت داخلہ کوئی بیان جاری کرنے سے قاصر ہے۔ شاید وہ اس انتظار میں ہیں کہ جب تک ملا منصور خود ہی عالم ارواح سے چوہدری نثار کو ہاٹ لائین پر فون کر کے یقین نہیں دلائیں گے ہمارے وزیر نہیں مانیں گے۔ وزارت داخلہ کے افسران سر جوڑ کر بیٹھے ہوںگے کہ آخر کون سا حیلہ اختیار کیا جائے کہ چوہدری نثار کو یقین آئے۔ کسی نے تجویز دی ہو گی کہ عالم بالا سے ملا مرحوم کی سیلفی منگوا لی جائے؟ انکا فیس بک کا سٹیٹس چیک کیا جائے؟انکے ٹوئیٹر اکاونٹ کو ہیک کر کے آخری ٹوئیٹ ہی دیکھ لیا جائے۔کوئی ملا منصورکی ا نسٹا گرام پر آخری تصویر ہی ثبوت کے لیئے لائے یاپھر ایک طنطنے سے حوروں کے جھرمٹ میں بیٹھے ملا منصور کی تازہ تصویر ہی دکھلائے کہ چو ہدری صاحب کو یقین آئے اور وزارت کا عملہ سکھ چین کی نیند لینے اپنے گھر جائے۔

چوہدری صاحب کی پریس کانفرس میں اختصار صرف حق گوئی کے مسئلے میں اختیار کیا گیا۔ ورنہ تو ہر بات کا جواب زلف یار کی طرح طول پکڑتا گیا۔ شنید یہ ہے وہ صحافی بھائی جو چوہدری نثار کی پریس کانفرنس میں شریک ہوتے ہیں وہ مقرر محترم کی شعلہ بیانی کی وجہ سے گھڑی پر نظر ڈالنے سے قاصر رہتے ہیں ہاں البتہ طوالت کے پیش نظر کبھی کبھی کیلنڈر پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ دنیا کے حالات، سرحدوں کے واقعات، ملکوں کے معاملات اس دوران بدل جاتے مگر ہمارے ممدوح کا بیان جاری رہتا ہے اور بیان بھی ایسا کہ بقول شہنشاہ ضرافت سید ضمیر جعفری

بزرگوں کی طرح کچھ کھانس کر خاموش ہو جانا
مسلمانوں کی صورت دفعتا پرجوش ہو جانا

چوہدری صاحب دوران پریس کانفرنس بڑھتی ہوئی کرپشن اور اداروں کی بے حسی پر آزردہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں کئی نازک مواقع اس ڈھنگ سے بھی آئے کہ چوہدری صاحب نے پیپلز پارٹی پر اس تمام شورش کے الزام لگائے اور انہی کو کرپشن کا موجب قرار دے دیا۔
اب قصہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی پر کرپشن کے الزام لگانا درحقیقت سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کا پر نور چہرہ ذہن میں آتا ہے تو کرپشن کا معنی وسیع تر ہوتا جاتا ہے۔ حضرت رحمان ملک اسی مقام پر ایسی ہی ولولہ انگیز پریس کانفرنسز کیا کرتے تھے۔ نیلے سوٹ کے ساتھ پیلی ٹائی لگا کر کچھ ایسی رنگیلی انگریزی میں نت نئے انکشافات کیا کرتے تھے۔ دہشت گردوں کے خلاف حتمی جنگ کا نعرہ انہوں نے بھی متعدد بار بلند کا،ہر ے پاسپورٹ کی حرمت کا ذکر بھی اکثر سنا گیا،شناختی کارڈ کی تصدیق کے نعرے بھی لگائے گئے لیکن شنید یہ ہے کہ یہ گفتنی تیغ و تفنگ ڈالروں کے سیلاب میں بہہ گیا۔ اب جب ملک صاحب اپنے آبائی گاوں یعنی کہ لندن سے بڑھتی ہوئی کرپشن کے بارے میں بیان داغتے ہیں تو ہم جیسے ناہنجار ہنسی کو روکنے کی خاطر اپنے ہی دامن میں منہ چھپا لیتے ہیں۔دل ہی دل میں مسکرا لیتے ہیں۔

خیر پیپلز پارٹی کا قصہ تو ایسے ہی جملہ معترضہ کے طور پر مضمون میں آگیا۔ بات ہو رہی تھی وزارت داخلہ میں کرپشن اور ملا منصور کی۔ اس ضمن میں چیف جسٹس کا بیان نہایت قابل قدر ہے۔ انہوں نے اپنی ادارے کی کارستانیوں سے نظر ہٹاکر ملک کو عمومی طور ہر کرپشن کا گڑھ اور نااہلی کا منبع قرار دے دیا ہے۔ جس کا نتیجہ مجھ سے بدخواہ یہ بھی نکال سکتے ہیںکہ کرپشن ایک لعنت، بدعت او ربرائی نہیں ہے ۔ یہ ایک مقبول نعرہ ہے۔ جس کو موقع محل دیکھ کر فریق مخالف کے خلاف بڑی سہولت سے لگایا جا سکتا ہے۔یہ وہ بوتل کا جن ہے جسے کبھی بھی حسب ضرورت نکالا جا سکتا ہے۔

بات ملا منصور سے شروع ہوئی اور کرپشن کے خار زاروں تک پہنچ گئی۔ ادھر وزارت داخلہ کے افسران اس سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ اس ملا منصور کا کیا کریں۔ مار دیں یا چھوڑ دیں؟تصدیق کریں یا تردید؟ ایسے میں جہلم میں ناقص تعمیر کی وجہ سے ایک پل کرنے کی آواز سنائی دی۔ وزارت خارجہ کے ایک افسر نے وزیر موصوف کو بشاش کرنے کے لیئے ایسی لاجواب تجویز دی کہ قلم ہی توڑ دیا۔ فرمانے لگے جہلم کا یہ پل ناقص تعمیرکی وجہ سے نہیں گرا۔ یہ ایک دہشت گردی کے خلاف بہت بڑا اور نایاب منصوبہ تھا۔ ملا منصور دراصل اس پل کے نیچے آ کر ہلاک ہوا ہے۔ملبے میں ابھی بھی اس کی لاش کہیں دفن ہو گی۔تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس پل کا گرنا دراصل حکومت کی دہشت گردی کے خلاف لازوال منصوبہ بندی کی دلیل ہے۔ جانے کب سے یہ منصف پل اس ملا کے انتظار میں لرزہ براندام تھا۔جیسے ہی اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا پل دھڑام سے اس پر گرا اور دہشت گردی ختم کرنے کا منصوبہ کامران و کامیاب ہوا۔ اس سے نہ صرف وزارت داخلہ کی دانش کا ڈنکہ پٹے گا بلکہ پنجاب حکومت کی حکمت پر بھی لوگ عش عش کریں گے۔ ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کر دیا جائے گاکہ آئندہ پل سیمنٹ، ریت، بجری اور سریے کے بجائے شناختی کارڈ کے میٹریل سے بنیںگے ۔ کیونکہ بم چل جاتے ہیں، ڈرون پھٹ جاتے ہیں مگر یہ شناختی کارڈ نہیں پھٹتا ۔دہشت گردی کے حملوں کے بعد نعشوں اور ملبے کے ڈھیر سے بالکل نیا نکور اصلی حالت میں برآمد ہوجاتا ہے۔ جانے چوہدری صاحب نے اس لازوال تجویز کو پذیرائی دی کہ نہیں لیکن مجھ حقیر کا بھی ایک ناقص مشورہ امریکی ڈرون کی در اندازی کے بارے میں لیتے جائیں۔ وزارت داخلہ اگر سمجھ داری سے کام لے تو ڈرون حملوں کی نگرانی کا کام اپنے فیصل آباد والے راجہ ریاض کو سونپ دے۔میں وثوق سے کہتا ہوں کہ پھرکوئی اس ملک میں ڈرون بھاڑ کے دخائے….


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 42 posts and counting.See all posts by ammar