مذہب کی معصومیت کیسے واپس لائیں


akhter hafeezمیں جب اپنے بچپن کو یاد کرتا ہوں تو مجھے اپنے گاؤں کی وہ کچی مسجد یاد آتی ہے، جس کی دیواروں پہ ہلکا سا چونا کیا ہوا تھا اور اسے کے فرش میں گڑی اینٹیں بھی پوری نہیں تھیں، جو کہ کہیں سے ٹوٹی پھوٹی اور کہیں سے اکھڑی ہوئی تھیں۔ جہاں وضو کرنے کے لیے مٹی کے لوٹے رکھے ہوتے تھے۔ اور وہ مسجد ان چڑیوں کا گھر بھی تھی جہاں انہوں نے گھونسلے بنا رکھے تھے۔ وہ ایک ایسی پرسکون مسجد تھی جہاں میرے نانا پیش امام تھے اور لاؤڈ اسپیکر کے بنا آذان کی آواز جب گونجتی تھی تو کانوں کے پردے پھٹنے کی بجائے راحت محسوس ہوتی تھی۔

آج مجھے اپنے گاؤں کی مسجد اس لیے یاد آ رہی ہے کہ اب ایسی مساجد ناپید ہو چکی ہیں۔ اور ان کی جگہ بڑے بڑے مدرسے بن گئے ہیں۔ جن میں لوگ اپنے بچوں اور بچیوں کو مذہبی تعلیم دینے کے لیے بھیجتے ہیں مگر وہاں ہوس سے بھرپور کسی ملا کی جنسی شہوت انہیں سبق پڑھانے کی بجائے بچیوں کے جسم کو ٹٹولنے کی کوشش کرتی ہے۔

چند روز قبل سندھ کے شہر بھریا میں ایک مولوی نے ایک بچی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس بچی کی عمر دس برس ہے، جسے اس کے والدین نے صرف اس لیے مدرسے بھیجا تھا کہ وہ دینی تعلیم حاصل کر سکے مگر اس کے حصے میں مولوی کی زیادتی کرنے والی حرکت آئی۔

سندھ میں ایسی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی بہت سے ایسے واقعات ہو چکے ہیں اور ان کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ مگر یہ تو چند واقعات ہیں جو میڈیا میں آنے کے بعد لوگوں کو سننے اور پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ ان واقعات کے بارے میں کیا کہا جائے جو آج تک کسی اخبار کی سرخی نہیں بنے ہیں۔ ہمارا ملک جس دہشت گردی سے نمٹنے کی بات کرتا ہے اور دہشت گردوں کی کمر توڑنے کی بات کرتا ہے کیا کبھی اس کی اسٹیبلشمینٹ نے ان مدارس میں اصلاحات لانے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔

پتہ نہیں کیوں اس ملک کے ارباب اختیار کو ان بچیوں کی چیخ و پکار سنائی نہیں دیتی جو مدرسے یا مسجد میں ہوس کا نشانہ بن جاتی ہیں جہاں کلام مقدس کے اوراق پلٹ کر انسانیت کا سبق سکھایا جاتا ہے۔ ہم مدرسوں کو جدید سے جدید تر عمارتیں دینے میں لگے ہوئے ہیں، مگر ذہنی طور پہ خود کو جدت سے دور رکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سرکاری مدرسوں کو دیکھیں اور پھر سرکاری اسکولوں کی حالت کو دیکھیں تو پتہ چل جاتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی کیسی ذہنی آبیاری کر رہے ہیں۔

مذہبی ٹھیکیداروں کی زیادتیوں کے بارے میں کوئی سزا نہیں ہے۔ آج بھی وہ مولوی فرار ہے جس نے ہوس مٹانے کے لیے ایک ننھی سی بچی کو بھی نہیں بخشا۔ یہ وہی مولوی حضرات ہیں جو پیار کرنے کو تو گناہ سمجھتے ہیں مگر مدرسے میں کسی بچی کے ساتھ زیادتی کرنے کو نہ تو کوئی گناہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی غیر اخلاقی عمل تصور کرتے ہیں۔

ہمارے حکمران اور اسٹیبلشمینٹ ملک میں بڑھتی ہوئے انتہاپسندی پر بیان دینے میں تو دیر نہیں کرتے مگر اس کی موجودہ صورت سے پیچھا چھڑانے کے لیے اب تک کیا کیا گیا ہے؟ میں آج بھی اس بچی کے بارے میں سوچ رہا ہوں جو اب تک ہسپتال میں نازک حالت میں داخل ہے۔ جس کا قصور شاید اتنا ہے کہ اسے والدیں نے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

ہم اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ کسی بھی انسان کے جنسی مسائل اسے سماج میں کوئی نہ کوئی برائی کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اگر سماج میں اس کے واقعات پہ آواز بھی اٹھائی جاتی ہے تو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مذہب خطرے میں ہے اور فتوے دینے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ جس سے نہ تو لوگوں میں سچ کہنے کی ہمت باقی رہتی ہے اور نہ ہی ایسے واقعات کا سلسلہ رکنے لگتا ہے۔

اس قسم کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب ہمارے بچے مسجدوں اور مدرسوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

حالیہ انتہاپسندی کی لہر نے سندھ کے پرامن مزاج کو تہس نہس کر دیا ہے۔ کسی زمانے میں جہاں ہمیں میدان نظر آتے تھے آج وہاں بہت ہی شاندار مدرسے نظر آتے ہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جس مولوی صاحب نے یہ کارنامہ کیا ہے وہ اس معاملے میں خود کو بے قصور ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے گا مگر مسئلہ آج بھی ان تمام بچوں کا ہے جو دینی تعلیم کے لیے مدرسے کا رخ کرتے ہیں۔ کیا ہم اس وحشت اور بربریت سے اپنے سماج کے تمام بچوں کے بچانے لیے تیار ہیں؟

 


Comments

FB Login Required - comments

اختر حفیظ

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر رہے ہیں۔

akhter-hafeez has 12 posts and counting.See all posts by akhter-hafeez