زنیرہ ثاقب کی کم علمی


Afshan-Huma-403x400 میں نے کل یاسر پیرزادہ صاحب کا کالم پڑھا “یونیورسٹیوں کا المیہ” اور شدید شرمندگی محسوس کی۔ اس کے بعد آج زنیرہ ثاقب کا جوابی کالم پڑھا تو مزید شرمندگی ہوئی۔ میں بھی پاکستان ہی کی ایک یونیورسٹی سے منسلک ہوں۔ آج مجھے یہاں بارہ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ میں نے بہت سے نامی گرامی پروفیسر حضرات سے پڑھا اور ان کے ساتھ کام کیا۔ جب تک میں ان کی شاگرد تھی تو میں نے اپنے دماغ میں ان کے بت بنا رکھے تھے جو ان کے ساتھ کام کے دوران ٹوٹتے چلے گئے۔ پھر ہوا یوں کہ میں امریکہ چلی گئی اور وہاں پر پی ایچ ڈی کے دوران پتہ چلا کہ ہم نے اپنے ہاں یونیورسٹیوں کے نام پر کیا دوکانداری شروع کر رکھی ہے۔ یاسر پیرزادہ کے کالم کی سب سے سچی بات یہ ہے کہ یہ یونیورسٹیاں ڈگریاں بانٹنے کے ادارے توہیں لیکن یہاں یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ ایک یونیورسٹی کی اصل قدرورقیمت اس کے اساتذہ اور طلبہ کی تحقیق اور ایجادات سے ہوتی ہے۔

محترمہ زنیرہ ثاقب کی صرف تین باتوں کا جواب دینا میں یہاں ضروری سمجھتی ہوں۔۔۔ جہاں تک انٹرنیشنل امپیکٹ “فیکٹر” جرنلز کا تعلق ہے تو یہ صحیح ہے کہ پاکستان کے صرف گیارہ یا بارہ جرنلز ہی ان میں شامل ہیں۔ لیکن حال ہی میں پشاور سے ایک بچی کا فون آیا اور اس نے پوچھا کہ میڈم یہ جو ہمارے ہاں پروفیسرز نے اپنے ناموں کے ساتھ “امپیکٹ” کا تعین کر رکھا ہے یہ کیا ہے۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ امپیکٹ فیکٹر کیا ہوتا ہے مگرایک دو روز ہی میں اس نے مجھ پر واضح کیا کہ پاکستانی پروفیسرز نے ایسا کوئی کائونٹ استعمال نہیں کر رکھا البتہ وہ پاکستان اور پاکستان سے باہر شائع ہونے والے اپنے مقالوں کے امپیکٹ کو جمع کرتے اور اعداد و شمار شائع کر دیتے ہیں۔ تو اطلاعا’ عرض ہے کہ جب یہ پروفیسرز اپنی پروفائل لکھتے ہیں تو جسے امپیکٹ گردانتے ہیں ایسے امپیکٹ گوجرانوالہ ہی نہیں بہت سے اور مقامی جرنلز کے ذریعے کائونٹ کیے جاتے ہیں لہذا ان کا “امپیکٹ” زیرو جمع زیرو برابر ہے زیرو آتا ہے-

دوسری اہم بات یہ کہ انڈیا کی پنجاب یونیورسٹی جو کہ چندی گڑھ میں واقع ہے اس کی رینکینگ ٹئمز ہائر ایجوکیشن کے مطابق 38 نمبر پر ہے۔ زنیرہ ثاقب نے انتہائی وثوق سے اسے بھی غلط قرار دیا، محترمہ آپ کی معلومات میں اضافہ کے لیے نیچے لنک حاضر ہے ، اسے کلک کریں اور دیکھیں کہ چندی گڑھ کی پنجاب یونیورسٹی کی ریٹنگ کیا ہے ، آپ کی ناقص معلومات سے یونیورسٹیز کے فارغ التحصیل سٹوڈنٹس کے معیار کا بھی اچھی طرح اندازہ ہورہا ہے-

https://www.timeshighereducation.com/world-university-rankings/panjab-university?ranking-dataset=128783

اب آتے ہیں تیسری بات کی طرف اور وہ ہے پروفیسرز کی تنخواہیں۔ محترمہ زنیرہ نے صرف ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی تنخواہ کا زکر کیا ہے اسے آگے نہیں بڑھیں۔ یاسر پیرزادہ صاحب نے آج سے پندرہ سال قبل اور آج کی تنخواہوں کا موازنہ کیا اور یہ بات طے ہے کہ پروفیسر حضرات آج کسی بھی طرح یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی تنخواہیں کم ہیں۔ اگر میڈیا کے لوگ بھی کماتے ہیں اور صحیح کام نہیں کر پاتے تو یہ دلیل ہر گز نہیں دی جا سکتی کیونکہtwo wrongs don’t make a right- محترمہ نے مزید فرمایا کہ یاسر پیرزادہ اپنے اخبار سے لاکھوں روپے لے رہے ہیں اور کسی بھی وقت زیادہ پیسے ملنے پر دوسرے اخبار میں چلے جائیں گے، یہاں زنیرہ ثاقب سے ضرور پوچھنا پڑے گا کہ کیا آپ ابھی تک ایک ہی ادارے سے وابستہ ہیں؟ اخبار تبدیل کرنے کا مطلب نظریات کی تبدیلی تو نہیں ہوتا، اگر ایک کالم نگار کو اخبار اچھے پیسے دے رہا ہے تو کیا یہ غلط بات ہے؟ کالم نگار ڈنڈے کے زور پر پیسے نہیں لیتا، اخبار اسے اس قابل سمجھتا ہے تو پیسے دیتا ہے- خود آپ کی تنخواہ کے متعلق اگر آپ سے کم تنخواہ لینے والے اعتراض اٹھائیں تو آپ انہیں کیا جواب دیں گی؟اصل میں یہ ہے وہ عامیانہ سوچ جس کا آپ شکا رہیں اور اس عامیانہ پن میں کردار آپ کے تعلیمی ادارے کا بھی ہے، دلیل کی بجائے جذباتی ہوجانا بڑا پرانا نسخہ ہے لیکن اب یہ نسخہ کارآمد نہیں رہا-

 اب آتے ہیں اصل مدعا کی طرف کہ بہت سے اور پروفیشنز کی طرح تعلیم اور خاص کر اعلٰی تعلیم کی سطح پر جن اعداد و شمار کو پیش کر کے ہم ترقی کا ثبوت دیتے ہیں وہ صرف اور صرف سرکاری رپورٹس میں پیش کرنے کے لئے تو اچھے لگتے ہیں لیکن میری طرح کوالٹی پر غور کرنے والوں کو ہضم نہیں ہوتے۔ اگر ہمارے پاس 3500 سے بڑھ کر 8500 پی ایچ ڈیز ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان کے ہونے سے ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں کیا تبدیلی آئی ؟ حال ہی میں میں نے ایک دو ایسے انگریزی کے لفظ ستعمال کیے جو میرے ایک سینئر پروفیسر کو نہیں آتے تھے تو انہوں نے جب تک مجھ سے وہ الفاظ حذف نہیں کروا لئے انہیں چین نہیں آیا۔ میرا ان سے سوال یہ تھا کہ سراگر آپ کو میری لفاظی تک قبول نہیں تو آپ نے مجھے باہر کیوں بھیجا تھا۔ پاکستان واپس آنے والے پی ایچ ڈی کو سب سے پہلے اس کا خاندان اور پھر اس کا اپنا ادرہ ہی باور کروا دیتا ہے کہ اس نے واپس آ کر غلطی کی ہے۔ ان تمام حالات کے بعد پاکستان واپس آنے والے کتنے پی ایچ ڈی ہیں جو دو سے پانچ سال کے عرصہ سے زیادہ یہاں رہتے ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران یا اپنے طلبہ کے ساتھ مل کر کوئی نئی تھیوری دی ہے یا کوئی نئی ایجاد کی ہے۔ کتنے اساتذہ ہیں جو پاکستانی یونیورسٹیوں میں حقیقی تبدیلی کا موجب بنے ہیں۔ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جو ہر کام کو سر سے اتار پھینکنا چاہتی ہے؛ ہم تعلیم اور تحقیق کو بھی اسی سطحی طریق سے کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے ہاں مستری اور مکینک اپنا کام کرتے ہیں۔ ان کے جاتے ہی ان کی ٹھیک کی ہوئی چیز میں ایک نئی خرابی جنم لے لیتی ہے۔ ہمارا تعلق تدریس سے ہے۔ ہم ہر تحقیق سے پہلے طلبہ کو بتاتے ہیں کہ تنقیدی جائزہ کیسے لیا جاتا ہے مگر ہمیں خود پر تنقید برداشت کرنا بھی سیکھ لینا چاہئے اور اس پر عذر دینے کی بجائے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش میں لگ جانا چاہئے تا کہ ہم پر انگلی اٹھانے والے کل خود ہماری تعریف کرتے سنائی دیں۔ ورنہ ہم بھی کسی !!!سیاست دان سے کم نہیں ۔۔۔ہماری کرپشن ٹھیک،دوسروں کی غلط۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “زنیرہ ثاقب کی کم علمی

  • 29-05-2016 at 12:21 am
    Permalink

    آپ نے جو بھی لکھا ہے بالکل صحیح لکھا ہے۔ میں‌ نے بھی یہ دونوں‌ آرٹیکل پڑھ کر یہی محسوس کیا لیکن اس کے بارے میں‌ کچھ نہیں‌ کہا۔
    امپیکٹ فیکٹر والے جرنل نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن، جرنل آف امریکن میڈیکل اسوسی ایشن یا جے سی ای ایم وغیرہ ہیں۔ معزرت لیکن اس وقت ایک بھی پاکستانی جرنل اس لیول پر نہیں‌ ہے۔
    جرنل آرٹیکلز میں‌ کافی فرق ہے۔ میں‌ لکھنے والوں‌ کی حوصلہ شکنی نہیں‌ کرنا چاہتی لیکن آج کل کی اعلیٰ‌ تعلیم کا اسٹینڈرڈ بہت آگے نکل گیا ہے اور پاکستانی پیپر بچکانہ سی کاوش لگتے ہیں۔
    یہاں‌ بس اتنا کہنا چاہوں‌ گی کہ تنقید تعمیری بھی ہوسکتی ہے اور تخریبی بھی۔ جنوب ایشیائی ایک شیم کلچر میں‌ کسی کو اس طرح‌ عوامی انداز میں‌ پکارنا اور کم علم کہنا شائد ان کو اتنی تکلیف دے کہ وہ ہمت ہاردیں۔

Comments are closed.