سرکشی اگر مرد کرے تو…


farhan khalid(1)مسلہ عورت کی صرف ذاتی خود مختاری کا نہیں بلکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں اس کی بھرپور نمائندگی اور فعالیت کا ہے۔

دنیا بدل گئی ہے۔ انسان کے کام کرنے کے طریقے بھی بدل گۓ ہیں۔ انسان ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اسے تصوراتی دور (conceptual age) کہا جا رہا ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب انسان غاروں میں رہتا تھا۔ جسمانی مضبوطی ہی بقا کا یقینی ذریعہ تھی۔ پھر انسان نے کھیتی باڑی شروع کی۔ دھرتی اسے پالنے لگی۔ مگر بڑائی کا معیارزیادہ تر عضویاتی طاقت ہی رہا جو مرد کے پاس زیادہ تھی۔ اس نے اپنی بالا دستی پر مبنی ایک نظام بنا لیا۔ یوں محکوم طبقوں کا استحصال آسان ہو گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان فطرت کی قوتوں کو بروے کار لانے لگا: بھاپ کی قوت سے انجن چلنے لگے، برقی رو سے گھر روشن ہوئے، ریڈیائی لہروں سے انسان دوسروں سے جڑنے لگا۔ اس کا اپنے زور بازو پر بھروسہ کم سے کم ہونے لگا اور یوں اسے زیادہ سے زیادہ سوچنے کے مواقع ملنے لگے۔ وہ سوچتا رہا اور نیچر کی قوتوں کو قبضے میں لاتا رہا۔ اب بڑے کام کا معیار زور بازو نہیں بلکہ دماغی و تخلیقی استعداد ہے۔ مرد ہو یا عورت دماغ تو سب کے پاس ایک ہی جیسا ہے۔ ماہرین نے دماغ کو بھی دو حصوں میں بانٹ لیا ہے: ایک تجزیاتی طور پر سوچتا ہے اور تخمینہ و تعمیر کرتا ہے، دوسرا کلی طور پر سوچتا ہے اور حکمت و تخلیق کرتا ہے۔ نئے تصوراتی دور میں انسان اپنے دماغ کو بھرپور انداز میں استعمال کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔ انسان سمیت اب زمین پر ہر شے کی فراوانی ہے گو کہ ہر قوم خوشحالی کی دوڑ میں یکساں مقام پر نہیں ہے۔

بحیثیت قوم ہم کہاں جا رہے ہیں؟ یا ہم کہیں بھی نہیں جا رہے۔ ہمارا وقت رکا ہوا ہے۔ نہ ہم خود آگے بڑھ رہے ہیں نہ کسی کو بڑھنے دے رہے ہیں۔

11111

یہ مذھب کی کون سی تعبیر ہے جو عددی بڑھوتری کی بات تو کرے مگر ذہنی استعداد اور پیداواری صلاحیت میں اضافے سے روکے، طبقاتی ناانصافی کو آپ کا مقدر بنا دے، فرد کی آزادی اور شعور کو سلب کر کے مطلق اختیار کچھ لوگوں کے ہاتھ میں دے دے۔ یقینا یہ تعبیر ہوش مند افراد کی نہیں ہو سکتی۔ آپ کو ایسی تعبیر ڈھونڈنی پڑے گی جو قوم کی اصلاح و تقلیب کرے۔ ایسے میں آپ کو دنیا کے ساتھ چلنا ہوگا۔ آپ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے۔ آپ کو خود کو دنیا کے مطابق تبدیل کرنا پڑے گا۔ اب انسان، دوسروں سے منقطع، دور بستیوں، گھاٹیوں میں نہیں رہتا بلکہ ایک آفاقی گلی کا مکین ہے؛ سو یہاں ہمیں ایک اچھے ہمسائے کی حیثیت سے رہنا پڑے گا۔ قومیں سیکھ رہی ہیں اور آگے بڑھ رہی ہیں۔ بقا کے لئے آپ کو بھی سیکھنا ہوگا۔ افسوس کن امر یہ ہے کہ یہاں جب کوئی ہوش مند کسی مثبت تبدیلی کی بات کرتا ہے تو نظریات کے ٹھیکیدار آگے آجاتے ہیں۔ یہ ہے ہمارا المیہ کہ ہمیں مفلوج کر دیا گیا ہے۔ آگے پیچھے دائیں بائیں نہ کچھ سوچ سکتے ہیں نہ کچھ  کر سکتے ہیں۔ اور پھر پیچھے رہ جانے کا الزام بھی غیروں کے سر۔ ہم سراسر انکار کی حالت میں جی رہے ہیں۔

نظریاتی کونسل کی سفارشات بھی اسی حالت انکار کی غماز ہیں۔

1111112مانا کہ مرد جسمانی طور پر عورت سے زیادہ طاقت ور ہے۔ لیکن اگر صرف طاقت کے بل بوتے پر دوسرے کو نشانہ مشق بنایا جا سکتا ہے تو پھر نہ صرف مرد عورت کو پیٹ سکتا ہے، بلکہ پھر عورت بچوں کو پیٹ سکتی ہے، بچے جانوروں کو پیٹ سکتے ہیں۔ یہی نہیں اکثریت اقلیت کو پیٹ سکتی ہے، بڑا صوبہ چھوٹے صوبے کو پیٹ سکتا ہے، طاقتور ملک کمزور ملک کو پیٹ سکتا ہے۔ اس سب مار کٹائی کا جواز کیا ہے؟ ہم اپنے معملات شائستگی اور احسن طریقوں سے حل کیوں نہیں کر سکتے؟ اگر نہیں کر سکتے تو کم از کم فریقین کو برابری اور انصاف کا ہی حق دے دیں کہ وہ مزید ظلم اور استحصال سے بچ سکے۔

اور سرکشی اگر مرد کرے تو؟

ہمارے ملک میں عورت، بچوں، جانوروں، اقلیتوں، چھوٹے صوبوں پر ظلم ہوتا رہا ہے۔ یہ ہے اس مار پٹائی کی سوچ کا جھول۔ کیونکہ بات صرف عورت کی نہیں، بات انصاف اور تہذیب کی ہے۔ تہذیب وہیں ہوتی ہے جہاں ہوش ہوتا ہے، جہاں عقل ہوتی ہے، جہاں مکالمہ ہوتا ہے، جہاں میانہ روی ہوتی ہے۔ اس تہذیب سے سب متاثر ہوتے ہیں۔ اور جہاں جوش ہوتا ہے، جہاں نقل ہوتی ہے، جہاں سوال نہیں کر سکتے، جہاں بنیاد پرستی ہے وہاں سے کلچر جنم نہیں لے سکتا۔ جو معاشرت وہاں پکتی ہے اسے کوئی پسند نہیں کرتا۔

111111113

کیا نظریاتی کونسل کے علما انسانی نفسیات سے نا بلد ہیں۔ یا شاید علم نفسیات ہی کے مخالف ہیں۔ جہاں مرد جسمانی طور پر مضبوط ہے وہاں عورت بھی منفرد خوبیوں کی مالک ہے۔ عورت صرف بچے کو زمین پر لانے ہی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی ممتا ہی بچے کو انسان بناتی ہے، چاہے وہ اس کی خود کی ماں ہو، ہسپتال کی نرس یا دائی۔ عورتوں میں سفید خلیوں کی زیادہ مقدار انہیں بہت سی بیماریوں سے مزاحمت کرنے میں مدد کرتی ہے اور ان کی زندگی کا دورانیہ بھی عموما مرد سے زیادہ ہوتا ہے۔ اور پھر تصوراتی دور میں، جس کا اوپر ذکر کیا گیا، زندگی کے ہر شعبے میں ان کی نمائدگی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ایسے میں آپ عورت کو گھر میں بند نہیں کر سکتے، جیسے پرندہ پنجرے میں قید ہو۔ اس کے انسان ہونے کا حق بحال کرنا پڑے گا۔ پہلے اس کو خود مختار کرنا پڑے گا، پھر وہ فعال بھی ہوگی۔ دنیا اس بات کو ثابت کر چکی ہے کہ عورت ایک مرد کی طرح ہر شعبہ زندگی میں چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ تو پھر ہم الٹی گنگا کیوں بہا رہے ہیں؟

ہو سکتا ہے عورت کو آج بھی ہل چلانے میں مشکل در پیش ہو۔ مگر وہ ایک فیکٹری چلا سکتی ہے۔ وہ کسی ادارے حتی کہ ایک ملک کی سربراہ بھی بن سکتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل یا تو بنیادی حقائق سے نا واقف ہے یا جان بوجھ کر ان سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔ سنا ہے کونسل کے علما کو بڑی بڑی مراعات حاصل ہیں۔ معلوم نہیں ان کے بڑے گھروں کی کس کس چیز کی تزئین کسی نا محرم نے کی ہو، ان کی قیمتی گاڑیوں کے کون کون سے پرزوں کو صنف نازک کے ہاتھ لگے ہیں۔ ان کے موبائل فون کا ڈیزائن کس ناقص العقل نے بنایا ہو۔ کیا ان کو معلوم ہے کہ یہ چیزیں جن معاشروں سے آئی ہیں وہ عورتوں کو مساوی حقوق دے چکے ہیں۔ وہاں معاشرے کا ہر فرد کندھے سے کندھے ملا کر کام کر رہا ہے، اور عبادت سمجھ کر کر رہا ہے۔ ایسے معاشرے تخلیقی اور پیداواری صلاحیتوں میں دوسروں سے بہت آگے ہیں۔ اور دنیا پر انہی کا سکہ بحق چلتا ہے۔

11111111114

ہمارے سماجی مسائل کیا ہیں کسی کو ان کی فکر نہیں ہے۔ یہ نفع کا سودا ہی نہیں ہے۔ قومی انتظامیہ پر تو جیسے جمود کی کیفیت طاری ہے؛ پانامہ سیاست کا اونٹ نہ جانے کس کروٹ بیٹھے گا۔ کرپشن اور نا اہلی کا ناسور معیشیت کو چاٹ رہا ہے۔ قرضوں کا بوجھ اور دفاعی اخراجات ہم کڑوے گھونٹ کی مانند پیےجا رہے ہیں۔ آبادی کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے، اور قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ نظام تعلیم بحرانوں سے نبٹنے کی استعداد پیدا نہیں کر رہا۔ شہری اپنے حقوق سے واقف ہیں نا فرائض سے۔ ریاست کے اہلکار ہی اسے کمزور کر رہے ہیں، جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

یقینا دنیا میں ہر مسلے کا حل موجود ہے مگر اس کے لئے مسلے کی اصل نوعیت کی سمجھ اور تخلیقی حل کی طرف پیش رفت ضروری ہے۔ اپنے اپنے شعبے کے اہل لوگوں کو اپنا اپنا کام کرنے دیا جاۓ۔ جہاں تک علماء کا تعلق ہے وہ بھی وقت کے دھارے کو سمجھیں اور معاشرے کو جدید خطوط پر استوار ہونے دیں۔ ہمیں وہ ذہنیت نہیں چاہیے جو پہلے ہر نئی چیز کی مخالفت کرے پھر اسی کے ثمرات لوٹے۔ ہمارے معاشرے کی عورت اور دوسرے محکوم طبقے اور اقلیتیں اگر خود مختار اور فعال ہو جایئں تو اس سے معاشرے میں جو خوشالی اور انصاف ائے گا اس سے سب مستفیض ہوں گے۔

111111115ہم نظریاتی کونسل سے یہ نہیں کہتے کہ دنیا کے مسائل حل کرنے میں ہماری مدد کرے۔ ہم اس سے بس یہ اپیل کرتے ہیں کہ مثبت کاموں کے راستے میں روڑے نہ اٹکائے۔ منظر عام پر آنے والی ہر سفارش کونسل کی بے حسی اور لا علمی کا خوب پول کھولتی ہے۔ بہتر ہے یہ خاموش ہی رہے۔ سچا عقیدہ اپنا تحفظ کرنا جانتا ہے۔ کونسل اس کی ٹھیکیدار نہ بنے۔

آخر میں ایک گزارش ہے اگر مجھ سے کوئی سرکشی سر زد ہوئی ہو تو مجھے درستی کے لئے مارا پیٹا نہ جائے کیوںکہ میرا تعلق بھی ملک کی اس بہت ہی قلیل اقلیت سے ہے جسے سوچنے کی بیماری لاحق ہے۔


Comments

FB Login Required - comments