کیا دہشت گرد کامیاب ہیں؟


mujahid aliدل چاہتا ہے کہ صدر ممنون حسین ، وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اس بات پر یقین کر لیا جائے کہ ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور آخری دہشت گرد تک آپریشن ضرب عضب جاری رکھا جائے گا۔ ملک کے سارے لیڈر ملک کے لوگوں کی حفاظت کے بارے میں سنجیدہ اور مخلص ہیں، اس لئے ان کے کسی بیان پر شبہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن یہ سوال بہرطور ضرور سامنے آتا ہے کہ اگر حکمران اور اپوزیشن ، فوج اور سول قیادت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہیں اور کسی قیمت پر اس عفریت کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو تمام جدوجہد اور کوششوں کے باوجود ملک اور اس کے عوام محفوظ کیوں نہیں ہو پاتے۔ ہر وقت یہ دھڑکا کیوں لگا رہتا ہے کہ کہیں نہ کہیں سے کوئی بری خبر سننے کو نہ ملے۔ اگر ان آوازوں میں اس ملک کے وہ سارے مذہبی لیڈر بھی شامل ہیں جو پوری قوت سے مذمت کرنے اور مرنے والوں کے لئے دعائے مغفرت کے اعلان کرنے میں مصروف ہیں تو اس ملک و قوم کو اندیشہ کس طرف سے ہے۔ بھارت یا بیرونی سازش کو مورد الزام ٹھہرا کر آسانی سے آگے بڑھا جا سکتا ہے لیکن کیا اس طرح درپیش مسئلہ کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

یہ کہنا بھی غلط ہو گا کہ جون 2014 میں شروع ہونے والا آپریشن ضرب عضب اور کچھ عرصہ بعد شروع کئے گئے آپریشن خیبر ون اور خیبر ٹو اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ 2015 کے دوران ملک میں دہشت گرد حملوں میں ستر فیصد کمی نوٹ کی گئی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ 2010 سے 2014 کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ اسی لئے 2014 میں کراچی ائر پورٹ پر حملہ کے بعد آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کا اعلان ہوا اور اس سال دسمبر میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کی خوں ریزی کے بعد قومی ایکشن پلان پر اتفاق رائے کیا گیا تھا۔ اے پی سی پر حملہ میں 130 افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں اکثریت اسکول کے طالب علموں پر مشتمل تھی۔ آج صبح چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ میں 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ چاروں خود کش جیکٹس بھی پہنے ہوئے تھے لیکن انہیں دھماکہ کرنے سے پہلے ہی گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔ اس دوران یہ چاروں دہشت گردی یونیورسٹی کے ایک استاد ، طالب علموں اور دیگر عملہ سمیت 20 افراد کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ دہشت گردوں کی سفاکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے زیادہ تر لوگوں کو سر میں گولی مار کر ہلاک کیا ہے حالانکہ وہ سب نہتے تھے جو تعلیم حاصل کرنے کے لئے درسگاہ میں آئے تھے۔

دہشت گردی کے واقعات پر کنٹرول کرنے اور انتہا پسند گروہوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے باوجود ملک کے شہری محفوظ نہیں ہیں۔ اس لئے اگرچہ یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کارروائی میں کئی سو یا کئی ہزار دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر بے گھر ہوئے اور ملک چھوڑنے پر بھی مجبور ہوئے ہیں۔ ان کی قوت اور صلاحیت میں بھی قابل ذکر کمی آئی ہے۔ لیکن دہشت گردوں کا خوف ہر وقت موجود رہتا ہے۔ اس لئے اس ملک کا کوئی شہری خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔ دہشت گرد بھی درحقیقت اپنے ہتھکنڈوں سے صرف لوگوں کو مارنے کا مشن لے کر نہیں نکلتے۔ اگرچہ ان کے حملوں کا سب سے پہلا نتیجہ چند یا زیادہ ہلاکتیں ہی ہوتا ہے۔ تاہم دہشت گرد گروہوں کا اصل مقصد خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کرنا ہوتا ہے تا کہ وہ لوگوں کو حکومت سے بدظن کر سکیں، معاشرے میں بے چینی اور انتشار پیدا کریں اور حکومت کو مجبور کرکے اپنی کچھ نہ کچھ شرائط منوا سکیں۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو خواہ 2015 میں دہشت گردی کے واقعات اور ہلاکتوں میں کمی ہی آئی ہو لیکن کسی خود کش حملہ ، دھماکہ یا کسی ادارے پر حملے کا اندیشہ اب بھی لوگوں کے دل و دماغ میں راسخ ہے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ منتشر اور کمزور ہونے کے باوجود دہشت گرد خوف کی فضا برقرار رکھنے میں کامیاب ہیں۔

باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کے حوالے سے یہ تنقید بھی سامنے آ رہی ہے کہ یہ اطلاعات ہونے کے باوجود کہ خیبر پختونخوا میں کسی تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا جائے گا، صوبائی یا وفاقی حکومت ان اداروں کی حفاظت کے لئے کوئی معقول انتظام نہیں کر سکی۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے حفاظتی انتظامات سخت کئے گئے تھے۔ اس حوالے سے ہونے والے اقدامات میں تعلیمی اداروں کی دیواریں بلند کرنا، خاردار تار لگانا یا وہاں پر موجود گارڈ میں اضافہ کرنا شامل ہے۔ ان اقدامات پر قومی خزانے سے بھی کثیر وسائل صرف کئے گئے ہیں اور ٹیوشن فیس کی صورت میں والدین سے بھی رقوم بٹوری گئی ہیں۔ لیکن یہ ساری کوششیں اس خطرے اور اندیشے کے مقابلے میں زور دار آندھی کے اندیشے میں تنکوں سے بنی جھونپڑی کا دروازہ بند کرنے کے مترادف ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ دہشت گرد اعلیٰ تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور وہ حملہ کے وقت بھاری اسلحہ سے لیس ہوتے ہیں۔ اداروں کی بلند دیواریں یا خار دار تاریں کسی شریف آدمی کا راستہ تو روک سکتی ہیں لیکن جنگی تربیت یافتہ ایسے گروہ کو کیوں کر روک سکتی ہیں جو صرف مرنے اور مارنے کی نیت سے گھر سے نکلا ہو۔ ملک کے ان حکمرانوں کو جو حفاظت کے نام پر اس قسم کے نیم پختہ اقدام کرتے ہیں، ضرور یہ سوچنا چاہئے کہ کیا یہ وسائل اس جنگ میں کسی بہتر مقصد کے لئے صرف نہیں ہو سکتے۔ مثلاً پولیس یا سکیورٹی فورسز اسلحہ کی نقل و حرکت ، مشکوک افراد کی سرگرمیوں اور ان کی مواصلت پر کنٹرول کے ذریعے کوئی واقعہ رونما ہونے سے پہلے ایسے عناصر کا راستہ روک سکیں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ دہشت گرد یونیورسٹی میں کیسے داخل ہو گئے بلکہ پوچھا یہ جانا چاہئے کہ تمام تر سکیورٹی الرٹ اور انتظامات کے باوجود یہ لوگ اسلحہ اکٹھا کرنے ، اسے اٹھا کر گھومنے اور پھر ٹارگٹ تک پہنچ کر اسے استعمال کرنے میں کیسے کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ کام اسی وقت ہو سکتا ہے جب وسائل کو غیر ضروری سکیورٹی اقدامات پر صرف کرنے کی بجائے جاسوسی، کنٹرول ، رابطہ اور معلومات کی بروقت ترسیل کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ سوچ لینا غلط ہو گا کہ کوئی حکومت پاکستان جیسے بڑے ملک کے تمام اداروں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کر سکتی ہے۔ یہ مقصد گارڈ بڑھانے یا ان کو زیادہ اسلحہ دے کر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقصد کے لئے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نگرانی سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ اگر اپنے ٹھکانے سے فرار ہوتے ہیں تو سکیورٹی فورسز کو علم ہونا چاہئے کہ وہ پناہ کے لئے کہاں جاتے ہیں اور کن لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں۔ اس کنٹرول کے لئے ہمارے قوانین بھی ناقص ہیں اور متعلقہ اداروں کے پاس مناسب وسائل، جدید آلات اور صلاحیت کی بھی شدید کمی ہے۔ حیرت ہے پندرہ برس تک دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والی قوم اب بھی دیواریں اونچی کر کے یا محافظوں کی تعداد میں اضافہ کر کے حفاظت کا مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔

اسی حکمت عملی کا دوسرا پہلو اس ذہنیت اور مزاج کی روک تھام ہے جس کی وجہ سے انتہا پسندی اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اسی لئے آپریشن ضرب عضب کے ساتھ ہی قومی ایکشن پلان بنایا گیا تھا تا کہ انتہا پسندانہ مزاج تیار کرنے والے سب ذرائع کو مسدود کیا جا سکے۔ ملک کی سیاسی حکومت اس مقصد میں بری طرح ناکام ہے۔ اس لئے دہشت گردی سے نمٹنے کی باتیں بیانات اور اعلانات تک محدود رہتی ہیں۔ نہ انٹیلی جنس کا نظام مربوط کیا جا سکا ہے۔ نہ مدارس کو کنٹرول کرنے کا کام شروع ہوا ہے اور نہ ہی مذہبی منافرت سے گریز کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔

وزیر داخلہ سے پوچھیں تو وہ ایسے ہزاروں لوگوں کی فہرست ضرور دکھا سکتے ہیں جنہیں نفرت پھیلانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہوگا لیکن مذہبی نفرت اور انتہا پسندی کے دعویدار پوری قوت سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور حکومت کو چیلنج کرتے رہتے ہیں۔ سرکار کی توجہ مگر اس طرف مبذول نہیں ہوتی۔ کبھی سیاسی مجبوریاں آڑے آتی ہیں ، کبھی اسٹریٹجک مفادات کو ڈھال بنایا جاتا ہے اور کبھی دین کے احکامات کی گمراہ کن تشریح قانون اور قانون دان کو بے بس کر دیتی ہے۔ جب تک اس ملک کے سیاستدان اس قسم کی مجبوریوں سے جان چھڑانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ، دہشت گردوں کے خلاف جنگ جیتنا محال ہے۔ انتہا پسند عناصر اسی غیر یقینی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دو دہائیوں میں جو مزاج راسخ کیا ہے، اب وہ محض دینی مدارس تک محدود نہیں ہے، ملک میں جدید علوم دینے والی یونیورسٹیاں اور دیگر ادارے بھی اس کی دسترس میں ہیں۔ حکومت مدرسوں کا نصاب تو بعد میں ٹھیک کرے، اسے پہلے اسکولوں میں پڑھائی جانے والی ان کتابوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو اس ملک کے نونہالوں کے دل و دماغ میں نفرت ، تعصب اور خود ستائی کا زہر بھر رہی ہیں۔ یہ تدریس اچھا شہری بنانے کی بجائے ایک غیر واضح مقصد کے لئے جنگ پر آمادہ کرتی ہے۔ اس وقت پاکستان کی نوجوان نسل پر ہر طرف سے یلغار ہے۔ اس لئے عجب نہیں ہے کہ ملک کے میڈیا میں بھی وہی آوازیں اور نعرے بلند ہوتے ہیں جن کی گونج دہشت گردوں کے نعرہ اللہ اکبر میں سنی جا سکتی ہے۔

اس مزاج سے نمٹے بغیر ، امت کے غیر واضح تصور کی خاطر مر مٹنے کے جذبہ کو زائل کئے بغیر اور اختلاف کو مہم جوئی کی بنیاد بنانے کا رویہ ترک کئے بغیر نفرت ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا راستہ روکا نہیں جا سکتا۔ دہشت گرد کو اونچی دیوار اور بندوق بردار محافظ نہیں، خود اپنے رویہ ، سوچ اور طرز عمل پر نظر ثانی کے ذریعے ہی روکا جا سکے گا۔ وگرنہ دہشت گرد کامیاب ہیں ۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali