انیس ہاؤس کی شہزادی اور انچولی کی شبِ عاشور



مامی دنیا میں سب سے زیادہ شیعہ رہتے ہیں۔ احمد کی خالہ زاد بہن عنبر نے مجھے اطلاع دی۔
یہ تمہیں کس نے بتایا؟
بتانے کی کیا بات ہے، آپ دیکھیے نا انچولی ہی میں اتنے سارے شیعہ ہیں۔
اب خیر سے عنبر چار بچوں کی ماں ہے اور نارتھ ناظم آباد میں رہتی ہے۔ اب اس کے بچے اس علاقے کی نسبت سے یہ سمجھتے ہوں گے کہ دنیا میں سب سے زیادہ سنی رہتے ہیں۔
بات ہو رہی تھی انچولی کی۔
شادی کے بعد کچھ سال ہم نے انچولی میں گزارے۔ انچولی میں رات کو بھی دن کا سماں رہتا ہے یوں تو اس کی دو نوں امام بارگاہوں، خیر العمل اور چہار دہ معصومین کی وجہ سے سارا سال ہی مجلس ماتم اور محافل کا سلسلہ رہتا ہے۔ مگر محرم میں انچولی بقعہ نور بنا رہتا ہے۔ گھر گھر مجالس کا سلسلہ شروع رہتا ہے۔ خواتین ایک گھر سے دوسرے گھر مجلس کرتی نظرآتی ہیں، تبرک سے ان کے گھر کی کھانے کی میز اور فرج بھرے رہتے ہیں اس لیے کھانے پکانے کی فکر سے بے نیاز مولا مولا کرتی ہیں۔
امی ( ساس ) آٹھ محرم کو مولا عباس کی نذر کرنے سے پہلے کپکپاتی آوازیں سوز پڑھتیں۔ ہم سب ان کے چھوٹے سے اعزا خانے کے سامنے ہاتھ باندھے مو دب کھڑے رہتے، نذر کے بعد ہم سب کی کلائی پر کلاوہ باندھتیں اور ایک ایک فرد کا نام لے کر اسے مولا عباس کے نام گروی کر تی جاتیں۔

امی ( ساس) جب مرض الموت میں گرفتار ہوئیں تب ضعف کے باعث دماغی خلل تھا یا فطری بات، وہ عمر کے آخری سال اپنے لڑکپن کے دور میں چلی گئی تھیں، تب میں نے ان کی آنکھوں سے لکھنو دیکھا، ایسا ہی تھا جیسا انچولی۔ امی بتاتیں کہ عاشور کے دن مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہ پلاتیں۔ عاشور کو سلام کرنا بھی منع تھا۔ امی ہمیں اپنی سہیلی بنو سمجھے ہوئے تھیں۔ اکثر پوچھتیں، غسل کا وہ بڑا سا کمرہ بابو صاحب نے تڑوا دیا کیا؟ اب اس حمام میں تو ہمارے کپڑے نجس ہو جائیں گے۔ ان کی باتوں سے پتہ چلا کہ انیس ہاؤس کے بڑے سے کمرے کے اندر حمام تھا۔ حمام میں نہانے کے بعد اس سے متصل کمرے میں انیس ہاؤس کی شہزادیاں لباس زیب تن کیا کرتیں۔ بڑے سے صحن میں جھولے پڑے تھے جہاں لڑکیاں بالیاں جھولا کرتیں۔ شائد انیس ہاؤس میں غرارہ پہنا کرتی ہوں گی۔ اب ساڑھی باندھتی تھیں لیکن کیوں کہ اب وہ اپنے لڑکپن میں جی رہی تھیں اس لیے ساڑھی باندھنا چھوڑ دی تھی پیٹی کوٹ کو غرارہ سمجھے ہوئے تھیں ایک بڑا سا لچکے کا دوپٹہ اوڑھے رہتیں۔

شب عاشور انچولی میں ہر گھر کی ڈیوڑھی پر بیبیاں شمع جلاتی ہیں، عزا خانے سج جاتے ہیں۔ گھروں کے دروازے منت مانگنے اور حاضری چڑھانے والوں کے لیے کھلے رہتے ہیں۔ لوگ ایک عزا خانے سے دوسرے عزا خانے زیارت کو جا تے ہیں منتیں چڑھاتے یا مانگتے ہیں۔ جگہ جگہ تبرک بانٹا جاتا ہے ور سبیلیں لگی ہوتی ہیں۔ حسین تعزیوں اور ذولجناح کے ساتھ چھوٹے بڑے جلوس اورنوحہ پڑھتے خوش الحان نو حہ خواں۔ انچولی کی نکڑ پر شبِ عاشور زنجیر زنی کی جاتی ہے۔ تقریباً چالیس سال سے یہاں احمد نوید کے نوحے ”کربلا یوں بسائی جاتی ہے” پر بڑے خوب صورت انداز سے زنجیر زنی کی جاتی ہے۔ یوں سمجھیے کہ ”بسائی جاتی ہے” کے الفاظ پر زنجیر ایک ساتھ لگائی جاتی ہے زنجیر کی چھن کی آواز ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے کسی نے ساز کے تاروں کو چھیڑ دیا ہو۔ یہ منظر قابلِ دید ہو تا ہے۔ پھر جلوس سینہ کوبی کرتا ہوا آہستہ آہستہ سمٹنا شروع ہوتا ہے۔ کچھ لوگ گھر چلے جاتے ہیں، مگر زیادہ تعداد صبحِ عاشور کی مجلس اور اذانِ علی اکبر سننے کے بعد گھروں کو روانہ ہوتی ہے۔ آہ اذانِ علی اکبر! آسمان پر تارے مدھم پڑ رہے ہیں۔ بیبیوں، عزداروں کے بین اورسسکیوں میں خوش الحان موزن کی آواز بھی بلند ہوتی جا تی ہے۔ ایسی خوب صورت، پر سوز اذان، میدانِ کربلا کے ہولناک سناٹے میں شہزادہ علی اکبر کی اذان کو ذہنوں میں تازہ کر کے، جگر چھلنی کیے دیتی ہے۔

علی اکبر اذاں دو، صبح کا تارہ چمکتا ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں