اختر منصور، ہیبت اللہ اور پاکستانیوں کے لطیفے


zafar kakar گزشتہ چار دنوں سے پاکستانی کالم نگاروں کے طالبان، ملا منصور اور ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے بارے میں حیرت انگیز معلوماتی کالم پڑھ کر ایک عجیب سرشاری کی کیفیت سے دو چار ہوں۔ یہ وہ کیفیت نہیں جو ایک اچھا شعر یا اچھا نغمہ سننے کے بعد در آتی ہے بلکہ یہ وہ کیفیت ہے جو ایک اچھا لطیفہ سننے بعد ہی نصیب ہوتی ہے۔ اسلام آباد، لاہور میں بیٹھے کالم نگاروں کے افغان امور پر ماہرانہ رائے دیکھ کر کبھی کبھی تو خیال ہوتا تھا کہ یہ حضرات غالباَ گوگل ارتھ کے فٹوں فیتوں سے قندھار اور کابل کا فاصلہ ناپ کر تجزیہ فرماتے ہیں لیکن حالیہ تبصرے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ شاید ان کو گوگل ارتھ پر بھی معلوم نہیں کہ قندھار اور کابل کہاں پائے جاتے ہیں۔ برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ ہمارے ایک مشہور اینکر و کالم نگار جو خود کو بلوچستان امور کے ماہر گردانتے ہیں وہ بلوچستان کے میں رہنے والے پشتونوں کے بارے میں ’ بلوچی پشتون ‘ اور بلوچستان کے بلوچوں کے بارے میں ’ بلوچی قوم ‘کی ااصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اطلاعاَ عرض ہے کہ کسی بھی بلوچ اور پشتون سے دریافت کر لیجیے بلوچی پشتون نامی کوئی قوم نہیں پائی جاتی۔ البتہ بلوچ قوم پائی جاتی ہے جن کی زبان بلوچی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ افغان امور کے ماہرین کو درپیش ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کو یہ اندازہ نہیں کہ اخوندزادہ ایک اصطلاح ہے۔ اگر معلوم ہوتا تو ملا ہیبت اللہ کا ذکر کرتے ہوئے ملا اخوندزادہ نہ لکھتے بلکہ اخوندزادہ کی اصطلاح پر روشنی ڈالتے جس سے ان کو علم ہوتا کہ صرف ہیبت اللہ اخوندزادہ نہیں بلکہ قندھار میں ہر اخوندزادہ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

آمدم برسر مطلب۔ ہمارے ایک مشہور و معروف کالم نگار و اینکر جن کو زمین و آسمان کے قلابے ملانے میں یدطولی حاصل ہے۔ وہ فرماتے ہیں، ’ امریکی فوجی افغان آرمی کی یونیفارم میں پاکستان داخل ہوئے۔ احمد وال میں ملا منصور کی گاڑی روکی۔ ملا منصور کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لیا ۔ تصدیق کی۔ گاڑی کو مسافروں سمیت بم سے اڑایا اور پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جلتی ہوئی گاڑی سے چند گز کے فاصلے پر پھنک کر چلے گئے‘۔ یہ الہامی خبریں صرف یہاں پر بس نہیں ہوئیں بلکہ انہوں نے ایک فارنسک سائنسدان بنتے ہوئے فرمایا، ’ دنیا میں جب بھی کوئی گاڑی میزائل کا نشانہ بنتی ہے تو یہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اور یہ ٹکڑے دور دور جا کر گرتے ہیں۔ جبکہ ملا منصور کی گاڑی تباہ ہونے کے باوجود ون پارٹ رہی۔ آگ نے لاشوں کو ناقابل شناخت بنا دیا لیکن اس نے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کو چھونے کی جسارت تک نہیں کی‘۔

mansoor car 1

چلیں یہاں تک تو شکر کرنا چاہیے کہ کالم نگار صاحب نے ولی محمد کو ملا اختر تسلیم کر لیا وگرنہ کیا بعید کہ دیگر نابغوں کی طرح وہ بھی ڈی این اے کی کوئی کہانی بیان کرتے تو کیا کہا جا سکتا تھا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ امریکہ نے ڈرون حملہ قرار دے کر جھوٹ بولا ہو گا۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ پاکستانی ادارے اس حملے کو ڈرون حملہ کہنے میں امرکا کے ساتھ اس جھوٹ میں شامل ہے۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ ’دجالی میڈیا‘ امریکہ اور اس کے حواریوں کا زرخرید غلام ہے جس میں سے صرف مذکور کالم نگار کو استثنی حاصل ہے۔ اب کیا کیجیے کہ حملے کے پہلے عینی گواہ جو جلتی گاڑی تک پہنچے اس کا بیان آ گیا۔ اس کے بقول اس نے دھماکے کی آواز سنی اور پھر دھواں دیکھا تو اس جانب دوڑ پڑا۔ وہاں پہنچ کر اسے خیال ہوا کہ گاڑی میں سلنڈر پھٹا ہے۔ اس نے جلتی گاڑی سے فورا ایک آدمی کی قمیص تھام کر باہر کھینچنے کی کوشش کی لیکن قمیض پھٹ کر اس کے ہاتھ آگئی۔ اتنے میں ایک لیویز اہلکار بھی پہنچ گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ قمیض جو اس کے ہاتھ آئی اس کا ایک حصہ جلا ہوتا تھا اور ایک ابھی ثابت تھا۔ جلے ہوئے حصے سے کرنسی نوٹ نکلے جو آدھ جلے تھے جبکہ ثابت حصے سے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نکلے۔ مان لیتے ہیں کہ یہ بھی جھوٹ بولتا ہو گا اور کہانی گھڑ لیتے ہیں کہ جب یہ وہاں پہنچا تو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ اسے گاڑی کے پاس ملے ہوں گے جو امریکیوں نے آپریشن مکمل کرنے کے بعد وہاں پھینکے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوا گا کہ پانچ یا چھ منٹ میں جب عینی شاہد وہاں پہنچا تو امریکی کیسے غائب ہو گئے تھے۔ اگر تو وہ کسی ہیلی کاپٹر یا جہاز سے آئے تھے تو عینی شاہد کو جب دھواں نظر آ سکتا تھا تو ہیلی کاپٹر اور جہاز بھی نظر آ سکتے تھے لیکن کچھ نظر نہیں آیا۔ اب اس کے علاوہ تو کوئی چارہ نہیں ہے کہ عینی شاہد کو بھی امریکہ ایجنٹ سمجھ کر اس کا بیان جھوٹا قرار دیا جائے مگر معاملہ ایک اور درپیش ہے۔ شاہ نظر بادینی کا کیا کیا جائے۔ شاہ نظر بادینی ایک لوکل صحافی ہیں۔ شاہ نظر بادینی نوشکی میں تھا جب اسے خبر ملی کہ ایک گاڑی کلی سانت کے پاس جل رہی ہے جس کا کوئی پتہ نہیں چل رہا کہ کون ہے اور کیسے جلی ہے۔ شاہ نظر نوشکی سے نکل کر فورا وہاں پہنچتا ہے۔ اپنا کیمرہ نکالتا ہے۔ جلتی گاڑی کی تصاویر لیتا ہے۔ گاڑی سے ملے کاغذات، لاشوں،نوٹوں کی تصاویر بھی لے لیتا ہے۔ بات صرف یہاں تک رہتی تو معروف کالم نگار کی کہانی ماننے میں کوئی حرج نہیں تھا لیکن شاہ نظر نے یہ زیادتی کی کہ میزائل کے ٹکڑوں کی تصاویر بھی لے لیں اور میزائل کے زمین میں دھنسنے کی تصویر بھی اتار لی۔ چلیں کاغذات نوٹوں اور لاشوں کو تو زمینی کاروائی قرار دے دیا جائے گا مگر اس میزائل کے ٹکڑوں کا کیا جائے؟ شاہ نظر بادینی نے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی تصاویر اس لئے اتاری تھیں کہ اس سے مرحوم کے لواحقین ڈھونڈھنے میں مدد ملے گی۔ شاہ نظر کو علم ہوتا کہ مرحوم ولی محمد کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تصاویر اتارنے سے معاملہ ڈی این اے اور قومی کود مختاری تک پہنچ جائے گا تو وہ یقینناََ اس سے باز رہتا۔ بس کیا کہیں کہ علامہ غالب ہی ٹھیک فرما گئے کہ ، آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں۔ ۔

mansoor car 5ہمارے ایک اور موقر کالم نگار جو ہمارے ممدوح بھی ہیں اور خود کو رائٹ ونگ نما کسی خیالی گروہ کا نمائندہ تصور کرتے ہیں اور گاہے افغان امور پر کالم نگاری کا شوق فرماتے ہیں۔ مجموعی طور پر تو ان کا کالم وہی تصور دیتا ہے جو بابا ضیا الحق کا بیانیہ تھا کہ کابل پر ہمارا ہی سکہ چلے گا چاہے اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے۔ کالم کیا ہے ایک پورا حیرت کدہ ہے جس کی ہر سطر پر افغانستان کی تھوڑی بہت شد بد رکھنے والا بھی عش عش کر اٹھے گا۔ وہ پرزور تاثر دیتے ہیں کہ طالبان پاکستان کے خلاف بالکل بھی نہیں ہیں۔ فرماتے ہیں، ’ افغان طالبان پاکستان کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ واضح رہے کہ کوئی طالبان امیر اگر چاہے بھی تو پاکستان کے بنرد آزما ہونا اس کے لئے آسان نہیں، اسے شدید اندورنی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔ اس یقین کی وجہ انہوں نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس پر پاکستان کے ایک عشرے کی محنت ہے۔ ایک عشرہ کہہ کر انہوں نے اس ’محنت‘ کی ناقدری کی ہے جو ساڑھے تین عشروں پر مشتمل تھی۔ چلیں یہ تو ایک تجزیہ ہے صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی ہو سکتا ہے مگر خاکسار ان کی دیگر معلومات پر انگشت بدنداں ہے۔

فرماتے ہیں کہ،’ ملا ہیبت اللہ کی ابتدائی تعلیم تیس پیتیس سال پہلے پاکستان میں ہوئی۔ کراچی میں پڑھے اور کچھ عرصہ شاید حقانیہ میں بھی گزارا‘۔ تعین کے ساتھ اگر کہا جائے تو ہیبت اللہ اخوندزادہ کی عمر پچاس سے نیچے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ زیادہ سے زیادہ اڑتالیس سال کے ہونگے۔ سوچنا چاہیے کہ افغان مہاجرین کا پہلا کیمپ پشین سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سرخاب میں 1982 میں آباد ہوا۔ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے ہیبت اللہ اخوندازدہ پہلے کیمپ میں ہی آباد ہو گئے تھے تب بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کراچی میں پڑھتے۔ اور اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ایسا ہوا تھا تو جاننا چاہیے کہ چودہ سالہ ہیبت اللہ کس کو یاد رہا تھا کہ وہ کراچی میں پڑھا۔ بعد کی داستان تو یوں ہے کہ ہیبت اللہ اخوندازدہ سرخاب میں ہی پڑھے۔ اس کے بعد سترہ یا اٹھارہ سال کی عمر میں واپس افغانسان گئے اور مولوی یونس خالص کے حزب اسلامی خالص میں شامل ہوئے۔ ان کے ساتھ ان کے پیشرو ملا عمر اور اختر منصور بھی بطور مجاہدین مولوی یونس خالص کی سربراہی میں ہی لڑتے رہے۔ روس کے انخلا کے بعد ملا ہیبت اللہ واپس سرخاب آئے اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اس زمانے میں پشین میں مدارس کا کوئی رواج نہیں تھا بلکہ مختلف مساجد میں طالبعلموں کو ایک ایک کتاب کی بنیاد پر پڑھایا جاتا تھا جس کو مدرسے کی بجائے ’ دائرہ‘ کہتے تھے۔ کچھ کتابیں پڑھانے کے بعد جب استاد تصور کر لیتا کہ طالب ابھی اس قابل ہو گیا کہ خود پڑھا سکے تو اس کی دستار بندی بطور ملا کی کر دی جاتی۔ ملا ہیبت اللہ یہیں سے فارغ التحصیل ہوئے اور کچلاک کے ایک مدرسے میں بطور مدرس پڑھانے لگے۔

mansoor car 6ہمارے موقر کالم نگار لکھتے ہیں کہ ،’شیخ الحدیث ملا اخوندزادہ کو ایک ایڈوانٹیج یہ ہے کہ بہت سے طالبان کمانڈر اور اراکین شوری ان کے شاگر ہیں‘۔ فرض کر لیتے ہیں کہ ہیبت اللہ 1988 میں روس کے انخلا کے ساتھ ہی واپس پاکستان آئے جبکہ طالبان کی تحریک 1994 میں شروع ہوئی۔ اس بیچ صرف پانچ سال کا وقفہ ہے جس میں ہیبت اللہ سرخاب میں بھی پڑھے اور کچلاک میں نہ صرف پڑھتے رہے بلکہ پڑھاتے بھی رہے مگر یہ ذہن میں رہے وہ طالبان کے ابتدائی 33 ارکان جنہوں نے تحریک کا آغاز کیا تھا ان میں شامل نہیں تھے۔ معلوم کرنا چاہیے کہ پھر ملا ہیبت اللہ نے شوری کے کن اراکین کو پڑھایا اور کہاں پڑھایا؟ یہ بھی معلوم کر لینا چاہیے کہ کچلاک کے جس مدرسے میں وہ پڑھاتے رہے ہیں اس میں تو آج بھی دورہ حدیث نہیں پڑھایا جاتا تو ملا ہیبت اللہ نے حدیث کہاں پڑھائی اور شیخ الحدیث کیونکر ہوئے؟ ان سوالوں کے ساتھ خاکسار کے ذہن میں یہ بھی آتا ہے کہ موقر کالم نگار نے ہیبت اللہ کے قبیلے نورزئی کو جب قندھار کے علاوہ کوئٹہ اور قریبی شہروں میں آباد کیا ہے۔ تو پوچھ لینا چاہیے کہ نورزئی کوئٹہ میں کہاں پائے جاتے ہیں اور یہ باقی قریبی شہر کون سے ہیں؟ گزارش یہ ہے کہ نورزئی قبیلہ دراصل درانی قبیلے کی شاخ ہے جو قندھار، نیمروز، ہلمند اور ہرات میں پھیلا ہوا ہے۔ جبکہ یہ قبیلہ قندوز، غور، باغلان اور کابل میں اقلیتی قبیلہ ہے۔ نورزئی قبیلہ پاکستان میں چمن اور قلعہ عبد اللہ میں پایا جاتا ہے۔ جبکہ کوئٹہ اور قریبی شہروں میں نورزئی اتنے ہی پائے جاتے ہیں جتنے پتوکی میں پٹھان پائے جاتے ہیں۔

ہمارے موقر کالم نگار خبر دیتے ہیں کہ،’ طالبان شوری کے اجلاس میں سراج الدین حقانی نے اعلان کیا کہ امارت کے لئے میرے نام پر غور نہ کیا جائے۔ اس پر ملا عمر کے نوجوان صاحبزادے ملا یعقوب نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ طالبان امیر کے لئے میرے نام پر بھی غور نہ کیا جائے‘۔ ہمارے موقر کالم نگار لکھتے ہیں کہ سراج الدین حقانی کا تعلق خوست سے ہے۔ جاننا چاہیے کہ سراج الدین حقانی کے والد جلال الدین حقانی صوبہ پکتیا کے اولسوالی(ضلع) زادران میں پیدا ہوئے تھے۔ البتہ ان کے قبیلے زادران کی اکثریت خوست میں پائی جاتی ہے۔ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ سراج الدین حقانی کے حوالے سے تواتر سے شدید خرابی صحت کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔ اگر وہ ٹھیک بھی ہوں تو طالبان کے امیر کے طور پر نہ پہلے ان کا نام زیر غور تھا اور نہ اب تھا۔ اس کی ایک وجہ تو اس کا امریکہ کو مطلوب ہونا تھا۔ طالبان یہ تصور کرتے تھے کہ ان کی سربراہی میں جنگ مشکل سے مشکل تر ہوتی جائے گی۔ اس mansoor car 8کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ افغانستان کے جغرافیے سے واقف ہیں ان کو معلوم ہے کہ افغانستان میں علاقوں کی تقسیم دو طرح سے ہے۔ ایک تقسیم شمالی اور جنوبی افغانستان کی ہے۔ افغانستان کی زیادہ تر لڑائی چاہے وہ روس کے خلاف ہو یا امریکہ کے خلاف ہو جنوبی افغانستان میں لڑی گئی۔ گو روس کے وقت شمالی افغانستان میں بھی کچھ مزاحمت ہوئی لیکن زیادہ تر لڑائی جنوب میں لڑئی گئی۔ ایک تقسیم جنوب کے اندر مغربی اور مشرقی ولایتوں(صوبوں) کی ہے۔ مشرقی ولایتوں میں کنڑ، لغمان، ننگرہار، لوگر، پکتیا،خوست وغیرہ آتے ہیں جبکہ مغربی ولایتوں میں ہرات، فراح، نیمروز ہلمند اور قندھار وغیرہ آتے ہیں۔ سراج الدین حقانی بلکہ ان کے والد جلال الدین حقانی کی بھی ساری جنگی سرگرمیاں مشرقی ولایتوں رہیں جبکہ طالبان کی ابتدائی کارروائیاں بھی مغربی ولایتوں سے شروع ہوئی تھیں اور اب بھی ان کی جنگ مغربی ولایتوں میں ہی ہے۔ سراج الدین حقانی کا نام ملا عمر کے بعد بھی اس لئے زیرغور نہیں آیا کہ ان کو مغربی ولایتوں کا کوئی جنگی تجربہ نہیں تھا اور اس بار بھی زیر غور نہیں آیا۔ زیر غور نہ آنے کی ایک اور بڑی وجہ ان کی اپنی الگ تنظیم حقانی نیٹ ورک ہے۔ گو حقانی نیٹ ورک طالبان کے ساتھ اس پوری لڑائی میں شامل تھا لیکن طالبان کے اندرونی صفوں میں اس کی پہچان ایک الگ تنظیم کی تھی ۔ اس لئے یہ کہنا کہ جلال الدین حقانی ازخود امارت سے دستبردار ہو گئے بعید ازقیاس ہے۔ البتہ ملا یعقوب کے بارے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ایسا ہوا ہو گا۔ اور ایسا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید خود ملا یعقوب کو بھی یقین نہیں ہو گا کہ تحریک طالبان افغانستان ایک بیس بائیس سالہ لڑکے کو اپنے امیر کے طور پر چننے کے لئے تیار ہو گی۔

ایسے کئی لطائف ہیں جن پر صفحات کالے کئے جا سکتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ ہمارے یہ ’قومی صحافی‘ دراصل وہ بیانیہ لکھتے ہیں جس سے پاکستانی عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ افغانستان میں ہماری جو پالیسی رہی ہے وہ بالکل ٹھیک ہے۔ مزید یہ کہ ان کو باور کرایا جا سکے کہ افغانی طالبان افغانستان کی آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور پاکستانی جانباز اپنے مسلمان بھائیوں کی اخلاقی مدد (بوجوہ باقی امداد کا ذکر نہیں کیا جاتا) کر رہے ہیں تاکہ افغانستان امریکہ سے نجات پا کر طالبان کے زیرتسلط آ جائے اور وہاں اسلام کا بول بالا ہو۔ افغانی طالبان کے جن کارناموں کو یہاں کے مقتدر صحافتی حلقے شان کے ساتھ بیان کرتے ہیں وہی کارنامے پاکستان میں پاکستانی طالبان جب سرزد کرتے ہیں تو یہ ان کو جرم سمجھتے ہیں۔ یہ جرم سمجھنا بھی ابھی شروع ہوا mansoor car 9ہے وگرنہ آج سے تین سال پیشتر یہی قومی صحافی پاکستانی طالبان کی عذرخواہیوں میں مصروف تھے اور اپنے تئیں جہاد بالقلم کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ اس سے پہلے وہ روس کے خلاف چارلی ولسن کے جہاد کو حق و باطل کا معرکہ لکھتے رہے۔ مجاہدین کے مختلف گرہوں کے مختلف کمانڈروں کی جہاں وطن عزیز کے مقتدر حلقوں میں عشائیے اور ظہرانے ختم ہونے میں نہ آتے وہاں یہ قلمی مجاہدین ان مجاہدین کی جواز آفرینیوں اور تحسین میں مصروف تھے۔ خود فریبی کے اس جنگ نے وطن کا کونہ کونہ خون آلود کر دیا ۔ ان کی تزویراتی گہرائی کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ ایک لاکھ پاکستانی اور تیس لاکھ افغانیوں کی لاشیں اس گہرائی کو پاٹ نہ سکے۔ جنگ کا شیطان اب بھی دونوں ممالک کی زمین پر رقصاں ہے اور اس شیطان کی پیٹ تھپکنے والے قوم کے بچوں کو بتا رہے ہیں کہ تخت کابل پر ’ساڈا بندہ‘ آنے تک مزید قربانی کے لئے تیار رہو۔ مکرر عرض ہے کہ خاکسار نہ افغان امور کا ماہر ہے اور نہ قومی صحافی یا سینئیر صحافی کے منصب پر براجمان ہے۔ مدعا صرف اتنا ہے کہ جب یہ قومی صحافی کہتے ہیں کہ ہمیں بیس پچیس سال دشت صحافت کی سیاہی گزر گئے۔ تو عرض ہے کہ خاکسار کے تیس سال افغان بارڈر کے قریب گزرے ہیں۔ جس کوئٹہ شوری کی یہ عذرخواہی کرتے ہیں ان کے اکابرین کوخاکسار نے چمن، پشین، کچلاک اور کوئٹہ مساجد و مدارس میں تقاریر فرماتے دیکھا ہے۔ افغان امور پر قومی صحافیوں کے شذرات جب بھی نظر سے گزرتے ہیں تو بقول وسی بابا کے ’مزے ہیں اور ہم ہیں دوستو‘


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah

10 thoughts on “اختر منصور، ہیبت اللہ اور پاکستانیوں کے لطیفے

  • 29-05-2016 at 1:09 am
    Permalink

    حقائق پر مبنی بہت خوب لکھا ہے مگر یہ مزید تشریح ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں اسے جوابی بیانیہ کہنا مشکل ہے البتہ افغان پالیسی سے اختلاف اپنی جگہ الگ حیثیت رکھتا ہے

    • 29-05-2016 at 1:25 pm
      Permalink

      اس پر جوابی بیانیہ بہت سادہ ہے کہ ہم دوسروں کے معاملات میں مداخلت چھوڑ دیں.

  • 29-05-2016 at 11:25 am
    Permalink

    جناب والا، اپ لوگوں کے روزگار کے پیچھے ہی پڑ گئے۔ خاکسار آپ کے اور اپنے مشترکہ ممدوحین کے کالموں سے انہی وجوہات کی بنا پر گذشتہ کئی سال سے پرہیز کر رہا ہے
    میرے نظر سے اس جنگ کی سب سے تشویش ناک بات وہ ہے جس کا ذکر آپ نے آخر میں کیا یعنی کتنے لوگ مر چکے مگر ہم انسانی جان پر تذویراتی گہرائی کے تصور میں ڈوبے ہوئے ہیں

  • 29-05-2016 at 11:30 am
    Permalink

    نہایت عجیب صورت حال ہے کہ ہم سب پر آج کل سارے” دانشور اور تجزیہ نگار” دوسروں کے کالموں پر تبصرے کر کرکے اپنا اور قارئین کا “ٹائم پاس” کر رہے ہیں۔ وئی شابشے۔

    • 29-05-2016 at 1:28 pm
      Permalink

      سید امتیاز احمد صاحب.
      اگر آپ کوشش کریں تو اس میں جواب کے علاوہ بہت کچھ مل جائے گا. اور ویسے بھی اگر اس کو جواب سمجھا جائے تو مقصد یہ ہے کہ واقعات کے ایک اور رخ قارئین کے سامنے رکھا جائے.

  • 29-05-2016 at 12:37 pm
    Permalink

    اس قدر عمدہ اور معلوماتی مضمون لکھنے پر آپ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ کاش ہمارے تجزیہ نگار اپنی حس واقعات کی کچھ تربیت کر سکیں تو ان کے ساتھ اوروں کو بھی فائدہ ہو گا۔

    • 29-05-2016 at 1:24 pm
      Permalink

      شکریہ ساجد علی صاحب

  • 29-05-2016 at 8:55 pm
    Permalink

    شہاب نامہ میں قدرت اللہ شہاب صاحب نے کہیں لکھا ہے کہ کوئی ٹامی جب ہندوستان کے مقامی زبان کے تین چارلفظ سیکھتا تو وہ اپنے آپ کو برصغیر کے امور کا ماہر سمجھنے لگتا بس یہی المیہ ہمارے نام نہاد افغان امور کے تجزیہ کاروں کا ہے۔اللہ ہمیں ہدایت دیں

  • 03-06-2016 at 9:13 pm
    Permalink

    “ہمیں بیس پچیس سال دشت صحافت کی سیاہی گزر گئے۔”
    آپ نے تصحیح بھی نہیں کی اورمیرا تبصرہ بھی ہٹا دیا-

  • 03-06-2016 at 9:20 pm
    Permalink

    آپ نے تصحیح بھی نہیں فرمای اورمیرا تبصرہ بھی ہٹا دیا-

Comments are closed.