دہشت گردی کے خلاف ناکام جنگ


editگزشتہ دو برس کے دوران دنیا کے امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھی جانے والی دہشت گرد تنظیم داعش یا دولت اسلامیہ اس وقت دفاعی پوزیشن پر ہے۔ عراق میں سرکاری افواج امریکی ائر فورس کی مدد سے فلوجہ کی طرف مارچ کر رہی ہیں۔ عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا ہے کہ فلوجہ کو آزاد کروانے کے لئے فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف شام میں دولت اسلامیہ کے دارالحکومت رقہ کا بھی محاصرہ کیا جا چکا ہے۔ شام کے کرد مسلح دستے اور امریکہ کے حمایت یافتہ سیرین ڈیمو کریٹک فورسز مل کر رقہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران امریکی فوج کے جنرل جوزف ووٹل نے شام میں داعش کے خلاف لڑنے والے دستوں سے ملاقات کی تھی۔ امریکہ کے 200 فوجی مشیر اس حملہ میں معاونت کر رہے ہیں۔ اس طرح داعش شام اور عراق دونوں ملکوں میں اپنا دفاع کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ اگر فلوجہ یا رقہ میں سے کوئی شہر بھی داعش کے قبضے سے واگزار کروا لیا جاتا ہے تو اس کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور اس کے لئے اپنی حکومت برقرار رکھنا آسان نہیں رہے گا۔

داعش کے خلاف عراق اور شام میں ان کامیابیوں کے باوجود ماہرین کو اندیشہ ہے کہ اس گروہ کی حکومت ختم کرنے کے باوجود اسے مجموعی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی قرار دینا مشکل ہو گا۔ اس وقت داعش عراق میں اپنے 40 فیصد علاقے سے محروم ہو چکی ہے جبکہ شام میں بھی 20 فیصد رقبہ اس کے قبضے سے آزاد کروایا جا چکا ہے۔ داعش بدستور اہم اور خطرناک قوت کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس کی قوت میں بتدریج کمی سے یہ امکانات پیدا ہو رہے ہیں کہ اس گروپ میں شامل دہشت گرد اپنے اقتدار کی مرکزیت ختم ہونے کے بعد دوسرے گروہوں میں ضم ہو جائیں گے یا خود ہی چھوٹے گروپوں کی صورت میں دہشت گردی اور جنگجوئی کی کوشش کرتے رہیں گے۔ مشرق وسطیٰ کی حد تک داعش کے متبادل کے طور پر النصرہ فرنٹ قوت پکڑ سکتا ہے۔ یہ فرنٹ شام میں القاعدہ کی شاخ کے طور پر موجود ہے۔ موجودہ داعش دراصل اسی گروپ کا حصہ تھی۔ لیکن 2013 میں دولت اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے خود کو القاعدہ سے علیحدہ کر لیا تھا۔ القاعدہ کی مرکزی قیادت صرف غیر مسلموں کو نشانہ بنانے کی حمایت کرتی تھی لیکن عراق میں سنی قبائل کی حمایت سے قوت پکڑنے والے البغدادی اور اس کے ساتھی عراق اور شام کی شیعہ آبادی کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے تھے۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں قوت پکڑنے کے بعد داعش نے عیسائیوں اور یزیدیوں کو بھی شدید ظلم و ستم کا نشانہ بنایا تھا۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ داعش کا کنٹرول ختم ہونے کی صورت میں شام کا نصرہ فرنٹ زیادہ طاقت حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ داعش کی قائم کردہ اسلامی خلافت ختم ہونے کے بعد اس کے جنگجو پھر سے النصرہ فرنٹ کا حصہ بن جائیں۔

اس کے علاوہ یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ داعش کی مرکزیت ختم ہونے سے جنگجوئی کا راستہ اختیار کرنے والے عناصر زیادہ بے قابو اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان لوگوں نے یورپ اور امریکہ میں اپنے سلیپنگ سیل بنائے ہوئے ہیں۔ ان کی مدد سے یہ یورپین ملکوں میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیاں کرنے کی کوشش کریں گے جو یورپ کے لئے ایک نئی جنگ کا سامنا کرنے کے مترادف ہو گا۔ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر امریکہ اور دیگر اتحادی افواج شام اور عراق میں دہشت گردوں کے خلاف سرگرم ہیں اور داعش جیسی قوت کو ختم کرنے کی امید رکھتے ہیں تو وہ اس کے مقابلے میں بہت چھوٹے گروہوں النصرہ فرنٹ یا دوسرے گروپوں کو کیوں ختم نہیں کر سکتے۔ اس سوال کے جواب میں دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں:

الف) النصرہ فرنٹ ہمیشہ سے شام اور عراق میں موجود رہا ہے۔ داعش نے اپنے وسائل ملنے اور لوگوں کو محکوم بنانے کے بعد محاصل سے آمدنی حاصل ہونے کے بعد اپنے طاقتور عرب معاونین کو ناراض کر دیا تھا۔ جبکہ النصرہ فرنٹ نے یہ روابط بحال رکھے۔ اب بھی ان کی مالی معاونت امیر عرب ملکوں سے روانہ کئے گئے وسائل سے ہی ہو رہی ہے۔ کیونکہ سعودی عرب سمیت اس کے زیر اثر ممالک النصرہ فرنٹ کو داعش کے مقابلے میں اپنی دفاعی پوزیشن سمجھتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ النصرہ فرنٹ نے مقامی آبادیوں کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کئے۔ براہ راست شیعہ آبادیوں کو دشمن قرار نہیں دیا اور دہشت گردی کے لئے مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص بھی کسی حد تک برقرار رکھی ہے۔ اس لئے اس گروہ کو داعش کے مقابلے میں مقامی آبادیوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ شام میں سیرین ڈیمو کریٹک فورسز یا شام کی سرکاری افواج ان کے اثر و رسوخ کو محدود نہیں کر سکیں۔ اگرچہ اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جا سکتی ہے کہ داعش جیسے بڑے خطرے کے ہوتے ہوئے النصرہ یا دوسرے گروہوں کو ختم کرنے کی طرف زیادہ توجہ مبذول نہیں کی گئی تھی۔ داعش کے ختم ہونے کی صورت میں اس کی باقیات کئی گروہوں میں تقسیم ہو سکتی ہیں لیکن ان میں اکثریت فطری طور پر النصرہ کی طرف رجوع کرے گی۔ اس لئے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ داعش کے کمزور ہوتے ہی القاعدہ زیادہ قوت سے ابھر کر سامنے آئے گی۔ کیونکہ القاعدہ نے فی الوقت کسی علاقے پر قبضہ کر کے اسلامی ریاست بنانے کا مقصد ظاہر نہیں کیا ہے۔ وہ صرف دہشت گردی کے بڑے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا کر امریکہ اور مغربی قوتوں کو عاجز کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ القاعدہ دنیا کے متعدد ملکوں میں موجود ہے اور اس نے باہمی مواصلت کا نظام بھی استوار کر رکھا ہے۔ داعش کے اچانک قوت پکڑنے کے بعد وہ پس منظر میں چلی گئی تھی لیکن القاعدہ نے ابھی تک امریکہ دشمنی یا دہشت گردی سے کنارہ کشی کا اعلان نہیں کیا ہے۔

ب) اس حوالے سے دوسری اہم ترین وجہ شام کی خانہ جنگی ہے۔ ابھی تک بشار الاسد کی حکومت اور ان کے مسلح سیاسی مخالفین کے درمیان مفاہمت کے لئے بنیاد فراہم نہیں ہو سکی ہے۔ عراق کی حد تک تو داعش کے زیر تسلط علاقے واگزار ہونے کی صورت میں عراقی حکومت ان علاقوں پر اپنا قبضہ بحال کر لے گی۔ لیکن شام میں صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔ امریکہ یا مغرب اگر بشار الاسد کی حکومت کو تسلیم کر بھی لیں تو بھی سعودی عرب اور دیگر علاقائی قوتیں مسلسل اس کے خلاف جنگجوئی کا ارادہ رکھتی ہیں۔ دوسری طرف روس کے علاوہ ایران بشار الاسد کی عملی امداد کر رہے ہیں۔ اس طرح داعش کے قبضہ سے نکلنے والے علاقوں پر اسی گروہ یا فوجی دستوں کا قبضہ ہو گا جو اسے داعش سے واپس لے گا۔ البتہ دمشق دشمن عسکری گروہوں نے اگر بعض علاقوں پر قبضہ بحال رکھا تو شام کی فوج ان کے خلاف جنگ جاری رکھے گی۔ یہ خانہ جنگی النصرہ فرنٹ جیسے گروہوں کے لئے خود کو مضبوط کرنے کے لئے مناسب ماحول فراہم کرنے کا سبب بنے گی۔ اس لئے داعش کے خلاف جنگ جیت کر بھی اتحادی ممالک دہشت گردی کے خاتمہ یا مشرق وسطیٰ میں امن بحال کرنے کے مقصد سے بہت دور رہیں گے۔

اس کے ساتھ ہی لیبیا اور یمن کی خانہ جنگی اور سب سے بڑھ کر افغانستان میں طالبان لیڈر ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد اہم گروہ امریکہ کے خلاف جنگ میں زیادہ پرجوش ہیں۔ امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے آج ایک بیان میں طالبان کے نئے امیر مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو مصالحت کرنے اور افغانستان کے امن میں حصہ دار بننے کی دعوت دی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر ملا اختر منصور کو ڈرون حملہ میں مارنے کے اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے یہ امکان برقرار رکھا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ امن دشمن عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دھمکی کے لہجے میں امن کی یہ دعوت رجعت پسند اور انتہا پسند طالبان قیادت کو قبول نہیں ہو گی۔ اس لئے افغانستان میں آنے والے وقت میں تصادم بڑھنے اور طالبان کی سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے۔ ان حالات میں داعش کا مرکز ختم ہونے کی صورت میں شام و عراق سے تربیت یافتہ سخت گیر جنگجوؤں کا ٹولہ بھی افغانستان کا رخ کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں افغانستان میں حالات دگرگوں ہوں گے۔ طالبان کے علاوہ القاعدہ کی مرکزی قیادت اب تک افغانستان میں موجود ہے۔ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ان عناصر کو اپنی جنگجو فورس کا حصہ بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ صدر باراک اوباما نے ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد بیان میں افغانستان میں داعش کے اثر و رسوخ کے امکان کا حوالہ دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گرد گروہ نقل و حرکت اور باہمی اشتراک و تعاون کے لئے امریکہ کے مشوروں یا ارادوں کے محتاج نہیں ہیں۔ انہوں نے گزشتہ پندرہ برس میں ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل سے نکل کر دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

شام اور افغانستان کے علاوہ لیبیا اور یمن بھی داعش کے جنگجوؤں کی اگلی منزلیں ہو سکتی ہیں۔ ان دونوں ملکوں میں القاعدہ پہلے سے مستحکم ہے اور خانہ جنگی بھی جاری ہے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ میں جس جنگ کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ مناسب منصوبہ بندی اور اشتراک نہ ہونے کی وجہ سے کئی ملکوں اور خطوں میں پھیل سکتی ہے۔ 9/11 کے بعد افغانستان اور پھر عراق پر حملہ کر کے امریکہ نے جس جارحیت کا مظاہرہ کیا تھا، اس کی وجہ سے بھی مسلمان ملکوں میں امریکہ کے خلاف رائے عامہ مضبوط ہوئی ہے۔ دہشت گرد ان جذبات کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس پس منظر میں دنیا دہشت گرد اور جنگجو گروہوں کی شروع کی ہوئی جنگ سے صرف اسی صورت میں باہر نکل سکتی ہے جب دنیا کی سپر پاور کہلانے والا امریکہ مختلف خطوں میں تنازعات کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے مفاہمت اور مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لئے دلجمعی سے کارروائی کا آغاز کرے گا۔ سب سے پہلے شام اور افغانستان کی خانہ جنگی ختم کروانا اہم ترین مشن ہونا چاہئے۔ ان ملکوں میں امن ہی مغرب اور امریکہ میں امن کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali