ڈاکٹر علی شریعتی


آج امتِ مسلمہ ایک دورِ پرآشوب سے گزر رہی ہے، تیرگی ایسی ہے کہ سجھا ئی نہیں دیتا۔ سالہا سال سے جہالت، تنگ نظری، فرقہ وارانہ تعصب کی فصل کو اگانے والے ذلتوں اور محرومیوں کی فصل کاٹ رہے ہیں۔ شدید نا امیدی اور یاسیت کے اس عالم میں میرا جی چاہتا ہے کہ ایک ایسے شخص کی سچائی، روشن خیالی، فہم و زکاوت کی روشنی میں اپنا راستہ تلاش کروں کہ جس نے اپنے عہد کے یزیدیوں سے بطریقِ حسینیت جنگ کی اور بالآخر ایک دن اس کی عمر محض 44 برس تھی اور وہ سال تھا 1977 کا۔ ان روشن خیال، جیالے، انقلابی اور عہد ساز شخص کا نام ہے ڈاکٹر علی شریعتی۔ جنہوں نے بحیثیت مفکر جدید علم کی روشنی میں اسلام کے پیغام کو ایران میں انقلاب کی روح پھونکی اور شہنشاہ آریامیر کی تاراجی میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر علی شریعتی 23 نومبر 1933 کو” صوبہ خراسان ‘‘کے ایک گاؤں ”مازنیان ‘‘میں پیدا ہوئے۔ ان کے آبا و اجداد کی علمیت و فلسفہ کا شہرہ تہران، مشہد، اصفہان، بخارا اور نجف تک پھیلا ہوا تھا۔ ان کے والد علی نجفی شریعتی کئی کتابوں کے مصنف تھے اور انہوں نے مشہد کی ایک مشہور تنظیم اسلامِ صداقت کی تشہیری انجمن بھی قائم کی۔ بیٹے پہ اپنے باپ کے علمی افکار، روشن خیالی اور جراتمندی کا گہراثر تھا۔ ان کی شخصیت پر اجداد کے علاوہ فرانس کے ماسینون، جین پال سارتر (Jean Paul Sartre)، البرٹ کامیو (Albert Camus)، فرینز فینون (Franz Fanon)، ایران کے محمد علی فرخی، جیکسن برق، کوریج اور شوائیز(Schwartz) وغیرہ کے علاوہ علامہ اقبال کے افکار کا بھی نمایاں اثر تھا۔ انہیں عربی اور فرانسیسی زبانوں پر مکمل عبور تھا۔ جس کی وجہ سے انہوں نے ان زبانوں کے ترجموں پر خاطر خواہ کام کیا۔

ان کی پہلی کتاب عربی سے ترجمہ، حضرت ابو ذر غفاریؓ کی سوانح عمری تھی کہ جن کے افکار سے ڈاکٹر علی شریعتی کو عشق تھا۔ حضرت ابو ذر غفاریؓ کی نظر میں بھی سماجی تفریق اور سامراجیت برائی کی جڑ تھی۔ حضرت ابوذرؓ اسلام کو غریب نواز سمجھتے تھے اور پیغمبرِ اسلام کو ان کی سچائی اور غریب نوازی سے عشق تھا۔

ڈاکٹر علی شریعتی نے اسکول کا استاد بننے کی تربیت کے لئے مشہد کے ٹیچر ٹریننگ کالج میں تعلیم حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی میں نیشنل مزاحمتی تحریک کے کارکن بنے اور چھ ماہ کی مدت قید میں کاٹی۔ 1959 میں بی اے (اکیڈمی ادبیات) کی ڈگری اول درجے میں حاصل کر کے فرانس میں پی ایچ ڈی کے اہل قرار پائے مگر ترقی پسندی اور حریت پروری ان کی راہ میں آڑے آئی۔ تاہم 1960 میں بالآخر انہیں اس کی اجازت مل گئی جہاں سے انہوں نے سماجیات میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔

زمانہ طالب علمی میں فرانس کی سامراجیت کے خلاف الجزائری عوام کی جدوجہد ِ آزادی میں انصاف پسند انقلابی ڈاکٹر علی شریعتی نے بھرپور حصہ لیا جس کی پاداش میں انہیں فرانس میں بھی جیل کاٹنی پڑی۔ قید میں بھی ان کی آزادیِ فکرو تحریرکاسفر جاری رہا۔ وہ مسلسل قلم سے احتجاج کرتے رہے۔ سامراجیت، ظلم اور نا انصافی کے خلاف، فرانس میں انہیں ماسینون جیسے عالم کے ساتھ تحقیق کرنے کا موقع ملا۔ علی شریعتی اپنی سچی اور انقلابی فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ایران کی آزادی کے بغیر مسلح جدوجہد ممکن نہیں (یہ وہ زمانہ تھا کہ جب شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے خلاف عوامی تنظیمیں صف آراء ہو رہی تھیں۔ )مجاھدینِ خلق اور فدائینِ خلق نامی تنظیموں نے علی شریعتی کے افکار کی سچائی کو تقویت دی۔

ڈاکٹر علی شریعتی کو یقین کامل تھا کہ جہاں مذہب ہی سب سے بڑی سماجی طاقت ہو، وہاں کے روشن خیال افراد کی جدوجہد ہی انقلاب کی نوید لا سکتی ہے۔ ایرانی قوم کو آزادی کی راہیں متعین کرانے میں علی شریعتی نے دوسرے ممالک کے مفکرین عمرازگان(افریقہ)، علامہ اقبال (پاکستان)، لینن (فرانس)جیسے علماء کی سوچوں کو ملک میں متعارف کروایا۔ یورپ میں رہتے ہوئے بھی وہ فکری طور پر اپنی قوم کے ساتھ شاہ کے خلاف ہونے والی تحریک میں پوری طرح شریک تھے۔ وہ آیت اللہ خمینی کی سرکردگی می ں ہونے والی تحریک ِ آزادی کے پورے طور پر حامی تھے اور قلم کے ذریعے شریکِ تحریک بھی۔ انہوں نے اپنے وطن کے لئے انقلابی لائحہ عمل تشکیل دیا جو کہ ایران کے اس وقت کے حالات میں نافذ کیا جا سکے کہ جس کے تحت عوام الناس کو ساتھ لے کر مذہبی اور ترقی پسندی کا عوامی محاذ متحرک کیا جا سکے۔

ڈاکٹر علی شریعتی کی نظر میں مذہب رسوم اور ظاہری عبادات سے بڑھ کر انسان کے اندر کی تبدیلی کا عمل ہے۔ وہ ایسے بے مغز خطیبوں کے خلاف تھے کہ جنہوں نے مذہب کو الفاظ کا گورکھ دھندا بنا دیا ہے۔ ان کی نظر میں ہمارا پہلا جہاد ان داخلی قوتوں کے خلاف ہے جو ہمارے اندر گھس کر بیٹھی ہیں اور جنہوں نے ہماری اصل چیز کو نقلی شکل دے دی ہے۔ جب تک گھر میں موجود چور کو نہیں پکڑا جائے گا، امن و سکون اور کامیابی کاراستہ بند رہے گا۔

فرانس سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کرنے کے بعد جب وہ وطن لوٹے تو ترکی اور ایران کی سرحد بارزگان کے علاقہ میں شاہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں ایک دفعہ پھر گرفتار ہو کر پابندِ سلاسل ہوئے۔ کئی ماہ کی اسیری کے بعد نوکریوں کے دروازے ان پہ بند تھے لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور پرائمری اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ تاہم کچھ ہی عرصہ بعد انہیں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر کی نوکری کی پیش کش ہوئی جہاں ان کے انقلابی لیکچرز کی مقبولیت اپنے بام پہ تھی اور ان کے لیکچر کے وقت کمرے میں تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی تھی۔

دوسری جامعات کے علاوہ اس وقت کے سب سے بڑے علمی اور ادبی ادارے حسینیہ ارشاد میں ان کی تقاریر کو ذوق و شوق سے سنا جانے لگا۔ ان کے شعلہ بیاں لیکچرز کی وجہ سے انہیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ اب وہ روپوش ہو گئے۔ مگر جب ان کے بوڑھے باپ کو گرفتار کیا گیا تو انہوں نے اپنی گرفتاری پیش کر دی۔ اس طرح وہ اٹھارہ ماہ جیل میں قید رہے۔ جس کی نہ انہوں نے شکایت کی اور نہ ہی معافی مانگی، بالآخر شاہِ ایران کو بین الاقوامی دباؤ کے تحت انہیں رہا کرنا پڑا۔

1971 میں جیل سے رہائی کے بعد 13 جون 1977 کو ان کی موت تک ڈاکٹر علی شریعتی کی زندگی کانٹوں کی سیج بنی رہی۔ وطن کی زمین ان پر تنگ ہوئی، محبوبہ بیوی پوران اور بچے نوکری نہ ہونے کے سبب تنگدستی کا شکار تھے، تاہم مفلوک الحالی اور نہتے پن نے ان کے ارادوں اور ہمتوں کو پست نہیں کیا۔ ان کے ہتھیار انقلابی افکار اور طاقت شاہ کی ملوکیت کے ہاتھوں پسی ہوئی عوام تھی۔ وہ جیالے حریت پسند کی طرح خفیہ طور پر لوگوں کے گھروں کے اجتماعات میں انقلابی نظریات کی ترویج کرتے۔ شاہ کے کارندوں سے بچنے کے لئے اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے۔

جب ان کو قدرے یقین و اطمینان ہو گیا کہ جذبہِ حب الوطنی کا شعلہ بھڑک اٹھا ہے تو انہوں نے لندن جلاوطن ہونے کا قصد کیا لیکن سارک (شاہِ ایران کے نمائندے) شکاری کتوں کی سی تاک میں ان کے پاک خون کے پیاسے تھے۔ ابھی ان کو لندن پہنچے ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ وہ پراسرار طور پر اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے، اور وہ تاریخ تھی 13 جون 1977، انہیں ان کی وصیت کے مطابق دمشق میں حضرت علی ؑ کی صاحبزادی بی بی زینب ؑ کے قرب میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ گو ڈاکٹر علی شریعتی نے ڈھائی ہزار سالہ ملوکیت اور شہنشاہِ آریا مہر کو تاراج ہوتے نہیں دیکھا مگر ان کی موت کے دو سال کے اندر ظہور پذیر ہونے والے ایرانی انقلاب کو دنیا نے ششدر اور حیران کن عالم میں دیکھا۔

ڈاکٹر علی شریعتی کی تصانیف کی تعداد سو کے قریب ہیں۔ جس میں ایک بڑی تعداد مختلف اہم موضوعات پر لیکچرز کی ہے۔ ان کے بیان کی سادگی، دھیما پن اور جراتمندیِ ِاظہار ان کی تقاریر کا خاصا تھا۔ وہ عوام الناس کو سہل زبان میں علمی موضوعات اس طرح سمجھاتے تھے کہ سامعین کو ان کی بات اپنے دل کی محسوس ہونے لگتی۔ ان کی نظر میں صحیح اسلام تک رسائی کے لئے تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔ جو ہمیں بتائے گا کہ اسلام میں ملوکیت کی بنیاد کس نے رکھی۔ حضرت ابو ذر غفاریؓ اور عبداللہ ابنِ مسعود ؓپر کیا گزری؟

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں