یاسر پیرزادہ اور زنیرہ ثاقب کی بحث میں ایک درفنطنی


hashir irshadبات یاسر پیر زادہ سے شروع ہوئی اور زنیرہ ثاقب کے ایک مدلل تجزیے سے ہوتی ہوئی اچانک ڈاکٹر افشاں ہما کی ایک عجیب و غریب درفنطنی کا شکار ہو گئی۔ کیا بلندی تھی، کیسی پستی ہے۔

شکر ہے مجھے ڈاکٹر افشاں ہما کا کوئی بت بنانے کی کبھی نوبت پیش نہیں آئی وگرنہ ان کا بت ان ہی کے کالم کی ایک مار نہ سہہ پاتا۔

مکالمہ، تجزیہ اور بحث ایک خاص معیار کا متقاضی ہوتا ہے اور اس سے گر جائے تو طعن و تشنیع بن کر رہ جاتا ہے۔ مجھے افسوس ہوا کہ ڈاکٹر افشاں اس معیار کو ملحوظ خاطر رکھنے میں مکمل ناکام نظر آئیں جس کا دامن یاسر پیر زادہ یا زنیرہ ثاقب نے ایک لمحے کے لئے نہیں چھوڑا۔

مدعا عرض کئے دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے آغاز میں یہ بتانا ضروری سمجھا کہ زنیرہ ثاقب کے چھ سال کے مقابلے میں ان کا تجربہ بارہ سالہ ہے۔ شاید اس سے ان کی مراد تجربے کا وزن دلائل کے پلڑے میں ڈالنے کا تھا۔ اسے مغالطہ فکری کہتے ہیں پر اگر اس سے انہیں کچھ تشفی ہو جاتی ہو تو میں بھی بتاتا چلوں کہ جامعات اور جامعاتی تعلیم سے میرا تعلق اب تیسری دہائی میں ہے۔ اس لئے خاطر جمع رکھئے، کچھ تھوڑا بہت ہم بھی جانتے ہیں۔

کہانی شروع ہوئی امپیکٹ فیکٹر سے۔ تحقیق کی دنیا میں یہ ترکیب بڑی مقدس گردانی جاتی ہے اور اس کی تکذیب اور اس کا غلط استعمال ناممکن۔ مثال کے طور پر ہماری ایک محترم ڈاکٹر صاحبہ ہر سال تین چار مقالے شائع کرتی ہیں لیکن دس سال بعد بھی ان کا امپیکٹ فیکٹر صفر ہے۔ میں نے پچھلے برسوں میں میں لاتعداد اساتذہ کے تعلیمی کوائف دیکھے۔ سینکڑوں کے انٹرویو کئے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ان کوائف میں بہت کچھ غلط ملا پر کسی ایک کیس میں بھی امپیکٹ فیکٹر کا غلط دعوی نظر نہیں آیا کیونکہ اس پر فوری گرفت ہو جاتی ہے۔ دعوی تحقیق ایک بالکل مختلف امر ہے۔ یار لوگ کانفرنس پیپر اور نان امپیکٹ فیکٹر یا ایس ایس آر این پر موجود اپنی ہر کاوش کو تحقیق گردانتے ہیں اور ظاہر ہے اس میں کچھ غلط نہیں ہے پر بات جب ان کی تحقیق کو پرکھنے کی آتی ہے خواہ اس کا مقصد انہیں نوکری دینا ہو یا ترقی دینا تو امپیکٹ فیکٹر کے علاوہ باقی سب نظر انداز ہو جاتا ہے۔ ہر اچھی یونیورسٹی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن اس کا پالن کرتا ہے۔ ایک درجن برسوں میں اگر ڈاکٹر افشاں کو یہ پتہ نہیں چلا تو غالبا اس کی وجہ ان کی کم علمی نہیں بلکہ لاعلمی ہے۔ امید ہے کہ آنے والے وقت میں ان کی جامعہ اس ضمن میں ان کی تربیت کا اہتمام کرے گی۔ اب رہ گیا سوال کہ پاکستان میں امپیکٹ فیکٹر جرنل کتنے ہیں تو یاسر صاحب کا یہ کہنا کہ گوجرانوالہ میں بارہ ایسے پرچے شائع ہوتے ہیں انتہائ غلط تھا۔ یاسر صاحب ایک تعلیم یافتہ اور دلیل سے بات کرنے والے آدمی ہیں پر کبھی کبھی جوش جذبات میں غلطی ممکن ہے۔ زنیرہ بی بی نے اسی غلطی کی طرف اشارہ کیا تھا۔ با علم لوگ غلطی کی تصحیح پر شکر گزار ہوتے ہیں اور کم ظرف بھڑک اٹھتے ہیں۔ یاسر صاحب کا جواب آنا باقی ہے پر ڈاکٹر افشاں کا استدلال کم از کم میری سمجھ سے تو باہر ہے۔

ویسے اطلاع کے لئے عرض کر دوں کہ جے سی آر کے مطابق پاکستان کے کل 11 پرچے امپیکٹ فیکٹر جرنل مانے جاتے ہیں اور ان میں شاید سب سے زیادہ امپیکٹ فیکٹر زرعی شعبے کے ایک جرنل کا ہے جو کہ  1.049 ہے۔ تو گوجرانوالہ چھوڑ پورے پاکستان میں بھی ایک درجن جرنل نہیں ہیں۔ تحقیق کا معیار اب امپیکٹ فیکٹر سے آگے بڑھ کر محققین کو ایچ انڈیکس جیسے پیمانوں پر پرکھتا ہے اور پاکستان میں ہر جامعہ اس سے آگاہ ہے۔ تحقیق کے برے معیار پر یاسر، زنیرہ اور افشاں تینوں متفق ہیں اور میرا بھی یہی خیال ہے۔ جھگڑا اس بات پر تھا ہی نہیں۔ امید ہے اب افشاں بی بی کو سمجھ آ گیا ہو گا۔ بعض اوقات اچھے لطیفے پر اگلے دن بھی ہنسنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوتا۔

چلئے آگے بڑھتے ہیں۔ ہمارے تینوں فاضل دوست پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کس کی رائے ٹھیک ہے۔

یاسر نے چندی گڑھ کو ایشیا میں 38 نمبر پر رکھا اور اس کے بجٹ کو ہونے چار ارب اور خرچے کو ساڑھے آٹھ ارب پاکستانی روپے قرار دیا اور کہا کہ اس سے تو مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کی ساری دلیل یہ تھی کہ جامعہ نے اتنے پیسوں میں اتنی ریٹنگ لے لی ہے۔

زنیرہ بی بی نے سمجھا کہ یاسر چندی گڑھ یونیورسٹی، پنجاب کی بات کر رہے ہیں جبکہ وہ پنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ کا ذکر کر رہے تھے۔ زنیرہ کے الفاظ یہ تھے۔

” چندی گڑھ سے یاد آیا معلوم نہیں آپ کو کس نے کہا کہ چندی گڑھ یونیورسٹی ایشیا میں 38 نمبر پر ہے۔ جامعات کی دو معتبر رینکنگ ہیں اس میں سے ایک ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی رینکنگ ہے اور ایک کیو ایس کی رینکنگ ہے۔ دونوں میں چندی گڑھ یونیورسٹی کا نام و نشان نہیں ہے۔ ہاں انڈیا کی 9 بڑی جامعات اس لسٹ میں ضرور موجود ہیں”

یہ بہرحال نام کی مماثلت سے پیدا ہونے والا مغالطہ تھا۔ ڈاکٹر افشاں نے اس کو درست شناخت کیا پر اس پر تبصرہ کچھ یوں کیا

” دوسری اہم بات یہ کہ انڈیا کی پنجاب یونیورسٹی جو کہ چندی گڑھ میں واقع ہے اس کی رینکینگ ٹئمز ہائر ایجوکیشن کے مطابق 38 نمبر پر ہے۔ زنیرہ ثاقب نے انتہائی وثوق سے اسے بھی غلط قرار دیا، محترمہ آپ کی معلومات میں اضافہ کے لیے نیچے لنک حاضر ہے ، اسے کلک کریں اور دیکھیں کہ چندی گڑھ کی پنجاب یونیورسٹی کی ریٹنگ کیا ہے ، آپ کی ناقص معلومات سے یونیورسٹیز کے فارغ التحصیل سٹوڈنٹس کے معیار کا بھی اچھی طرح اندازہ ہو رہا ہے”

تبصرہ اپنی جگہ پر اس کا اختتامیہ ہر گز شائستہ قرار نہین دیا جا سکتا۔ افشاں بی بی نے فتوی صادر کرتے ہوئے تمام یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طالب علموں کو ناقص معیار کا قرار دے دیا۔ اب اس میں دو باتیں میری سمجھ میں نہیں آئیں۔ محترمہ نے یاسر صاحب کے ایک غلط دعوے پر دنیا جہاں کی تاویلات گھڑ ڈالیں پر زنیرہ بی بی کی اس سے کہیں چھوٹی غلطی کو جو کہ محض نام کی وجہ سے تھی، انہوں نے نہ صرف ان کو بلکہ یونیورسٹیوں کے تمام طالبعلموں کو ناقص العقل گردانا۔ اب اس منصفی پر کیا کہیے۔

ایک ضمنی بات میں یاسر صاحب کے حوالے سے کرتا چلوں۔ میرا گمان ہے کہ وہ مالیات کے شعبے سے تعلق نہیں رکھتے اس لئے یہ غلطی کر گزرے۔ ان کے الفاظ یہ تھے

“بھارتی پنجاب کے شہر چندی گڑھ کی پنجاب یونیورسٹی سے تو مقابلہ کیا جا سکتا ہے جس کا کُل بجٹ تقریبا ً پونے چار ارب پاکستانی روپے ہے جبکہ اس نے اپنے بجٹ سے زیادہ یعنی ٹوٹل ساڑھے آٹھ ارب پاکستانی روپے خرچ کئے، چندی گڑھ کی اس یونیورسٹی کا ایشیا میں 38واں نمبر ہے! تو کیا اب بھی ہم یہ کہیں گے کہ یونیورسٹیوں کی کارکردگی فقط بجٹ کی مرہون منت ہوتی ہے”

یہاں دو چار باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے

1۔ بجٹ خرچے اور آمدن کے میزانیے کا اندازہ ہوتا ہے اور بجٹ سے زیادہ خرچ کر دینا کوئی اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا

2۔ مذکورہ یونیورسٹی کا امسال بجٹ ساڑھے آٹھ ارب پاکستانی روپے سے زائد ہے۔ پونے چار ارب روپے کی رقم میری ناقص معلومات کے حساب سے درست نہیں ہے

3۔ مذکورہ یونیورسٹی کا بجٹ خسارے کا بجٹ ہے اور اس خسارے کو پورا کرنے کے لئے ریاستی حکومت سالانہ بیس کروڑ اور یو جی سی ڈھائی ارب کی گرانٹ دیتی ہے۔ ذرا دیکھئے گا کہ پاکستان میں کس یونیورسٹی کو اس جیسی مدد میسر ہے۔

4۔ یونیورسٹی میں سولہ ہزار سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں لیکن ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خرچے پورے نہیں ہو پاتے اور ہر سال ریاستی اور وفاقی حکومت کے علاوہ یو جی سی اور دیگر مخیر ادارے یونیورسٹی کو مختلف مدات میں مدد مہیا کرتے ہیں۔

5۔ انڈیا میں قریب 750 یونیورسٹیاں ہیں جن میں سے صرف 4 ٹائمز رینکنگ میں اپنی جگہ بنا پائی ہیں۔ ان میں یہ یونیورسٹی دنیا میں 300 ویں نمبر کے آس پاس ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں محض 179 جامعات ہیں اور ان میں سے کوئی اس رینکنگ میں شامل نہیں ہے۔

6۔ پنجاب یونیورسٹی سے مقابلہ کرنے والی یونیورسٹی پاکستان میں کون سی ہونی چاہئے۔ اس کا فیصلہ اب اعداد وشمار کی روشنی میں آپ خود کرلیں اور اس کا تعین بھی کرلیں کہ کیا یہ مالی معاونت کے بغیر ممکن ہے۔ اور اگر ہے تو کیسے۔

اس کے بعد اگلی لڑائی ہے تنخواہوں کے متعلق۔ ذرا دیکھ لیجئے کہ بحث تھی کیا

یاسر پیر زادہ کا تجزیہ کچھ یوں تھا

” ایک پروفیسر اگر کسی کے پی ایچ ڈی مقالے کے نگرانی کرے تو اسے پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے ملتے ہیں اور واضح رہے کہ پروفیسر حضرات ایک وقت میں کئی مقالوں کے نگراں مقرر ہوتے ہیں، آج tenure trackکی بدولت یونیورسٹی اساتذہ کو لاکھوں روپے تنخواہ ملتی ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کے توسط سے طلبا اندرون و بیرون ملک سکالر شپ حاصل کرکے تحقیق کر سکتے ہیں، کیا پیسے کی اس ریل پیل کا تصور آج سے پندرہ برس پہلے تھا؟ “

یاسر صاحب کا یہ تجزیہ انگریزی کی ایک ترکیب کے مطابق کچھ زیادہ ہی سادہ تھا۔ اس پر زنیرہ نے حقائق یوں ان کے سامنے رکھے

” آپ کا فرمانا ہے کہ کارنامہ تو یہی ہے کم پیسوں میں جامعات کو چلا کر دکھایا جائے۔ آپ خیر سے پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔ مجھے پتا تو نہیں لیکن اندازہ ہے۔ (جیسے کہ آپ کو ہے) ہے کہ آپ کی تنخواہ لاکھوں میں ہو گی۔ جس دن آپ کو کوئی اس سے دو گنا دے گا آپ ادھر چلے جائیں گے (بول کا کیس تو سب کو یاد ہو گا) اسی طرح پاکستان میں جامعات کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہے کہ وہ اپنے پی ایچ ڈی اساتذہ کو بہت زیادہ پیسے دے سکیں۔ ان استادوں کو جب دبئی یا سعودیہ سے لاکھوں کی ٹیکس فری تنخواہ کی آفر آتی ہے تو یہ وہاں چلے جاتے ہیں۔ جہاں تک ٹینور ٹریک کی بات ہے تو دوبارہ عرض ہے کہ ٹریک والے استاد کی تنخواہ ایک لاکھ تیس ہزار ہے۔۔ پی ایچ ڈی کے مقالے کے لئے 50 ہزار ہر سال نہیں بلکہ پورے پی ایچ ڈی کے لئے دیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ 50 ہزار مجھے 4-5 سال کے پورے عرصے کے لئے ملیں گے، اگر میں پی ایچ ڈی کے مقالوں کی نگراں بنتی ہوں تو۔ اس سے آپ کو یہ بات تو سمجھ آگئی ہو گی کہ استاد ہرگز لاکھوں میں نہیں کھیل رہے۔ ہمارے بہت سارے طالب علم گریجویٹ کر کے ہم سے زیادہ پیسے کما لیتے ہیں۔ تو اگر آپ کا خیال ہے کہ استاد کم ریسورسز میں پڑھا نہیں رہے تو انتہائی غلط خیال ہے۔”

اس تجزیے میں بات حقائق کی تھی اور جامعات کے نظام سے برسوں منسلک رہنے کے بعد میں ان سب حقائق کی تصدیق کر سکتا ہوں۔ یاسر صاحب کی مجوزہ تنخواہ کا حوالہ یہ سمجھانے کے لئے تھا کہ جامعات کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ایک پر کشش تنخواہ کے مقابل وہ اپنے اچھے محققین اور اساتذہ کو پاکستان میں روک پائیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ افشاں بی بی اس تجزیے کو کس نظر سے دیکھتی ہیں۔ ان کے الفاظ جوں کے توں آپ کی نذر ہیں

” محترمہ زنیرہ نے صرف ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی تنخواہ کا زکر کیا ہے اسے آگے نہیں بڑھیں۔ یاسر پیرزادہ صاحب نے آج سے پندرہ سال قبل اور آج کی تنخواہوں کا موازنہ کیا اور یہ بات طے ہے کہ پروفیسر حضرات آج کسی بھی طرح یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی تنخواہیں کم ہیں۔ محترمہ نے مزید فرمایا کہ یاسر پیرزادہ اپنے اخبار سے لاکھوں روپے لے رہے ہیں اور کسی بھی وقت زیادہ پیسے ملنے پر دوسرے اخبار میں چلے جائیں گے، یہاں زنیرہ ثاقب سے ضرور پوچھنا پڑے گا کہ کیا آپ ابھی تک ایک ہی ادارے سے وابستہ ہیں؟ اخبار تبدیل کرنے کا مطلب نظریات کی تبدیلی تو نہیں ہوتا، اگر ایک کالم نگار کو اخبار اچھے پیسے دے رہا ہے تو کیا یہ غلط بات ہے؟ کالم نگار ڈنڈے کے زور پر پیسے نہیں لیتا، اخبار اسے اس قابل سمجھتا ہے تو پیسے دیتا ہے- خود آپ کی تنخواہ کے متعلق اگر آپ سے کم تنخواہ لینے والے اعتراض اٹھائیں تو آپ انہیں کیا جواب دیں گی؟اصل میں یہ ہے وہ عامیانہ سوچ جس کا آپ شکا رہیں اور اس عامیانہ پن میں کردار آپ کے تعلیمی ادارے کا بھی ہے، دلیل کی بجائے جذباتی ہوجانا بڑا پرانا نسخہ ہے لیکن اب یہ نسخہ کارآمد نہیں”

میں نے بڑا ڈھونڈا پر زنیرہ بی بی کی عامیانہ سوچ اور جذباتیت ان کی تحریر سے برآمد نہیں کر پایا۔ ہاں ڈاکٹر افشاں کی دشنام طرازی جذبات سے بھرپور تھی۔ اور ان اکا تجزیہ “ماروں گھٹنا ، پھوٹے آنکھ” سے کم نہ تھا۔ بات صرف عامیانہ سوچ کا الزام ذات تک رکھنے تک محدود نہیں رہی۔ محترمہ نے تعلیمی ادارے کے کردار کو بھی نہیں بخشا۔ اس میں نجانے کیوں انتہا درجے کا ذاتی بغض جھلکتا نظر آیا۔

میرا ڈاکٹر افشاں کو مشورہ ہے کہ مکالمے کے آداب سیکھنے پر توجہ دیں۔ اپنے آپ کو عقل کل نہ سمجھیں اور دوسروں پر فتوی صادر کرنے سے پہلے اپنے نامہ اعمال کا بھی جائزہ لے لیں۔ لوگوں پر طعنہ زنی کرنا کم ظرفی اور تنگ ذہنی کی نشانی ہوتی ہے۔ دلیل سے بات کیجئے۔ باعلم لوگوں کے ساتھ شائستگی کا برتاو کرنا سیکھئے۔ میں بھی ایک استاد ہوں اور مجھے اس وقت شرمندگی ہوتی ہے جب آپ جیسا ایک استاد گفتگو کے اسلوب سے یکسر لاعلم دکھائی دیتا ہے۔ آپ کی تعلیم اور آپ کی تربیت آپ کی تحریر سے جھلکنی چاہئے اور کبھی بھی اس کو ایک استاد کے معیار سے پست تر نہیں ہونا چاہئے۔ میری اور کیا بساط ہے۔ مشورہ ہی دے سکتا ہوں۔

 


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad