کیا پاکستان میں واقعی جاگیرداری نظام ہے؟


usman ghaziابھی نوشہروفیروز میں ایک وڈیرے نے نوجوان کے منہ میں جوتا دبا کر معافی منگوائی، نوجوان کا جرم یہ تھا کہ اس کی گدھاگاڑی وڈیرے نبی بخش کی لینڈ کروزر سے ٹکرا گئی تھی۔

ایک عام تاثر یہ ہے کہ وڈیرہ علاقے کا بادشاہ ہوتا ہے، وہ جوچاہے کرے، کوئی اس کو ہاتھ نہیں لگاسکتا مگر اس تاثر کے برعکس واقعہ رپورٹ ہوتے ہی سندھ کے وزیراعلیٰ کے حکم پروڈیرہ گرفتار کرلیا گیا۔

کیا وڈیروں کی طاقت ختم ہورہی ہے، کیا ان کو چیلنج کرنے والی یا ان سے بازپرس کرنے والی قوتوں نے معاشرے میں جنم لے لیا ہے۔

یہ سوال اہم بھی ہے اور اس کے جواب کی تلاش دلچسپ بھی۔۔

سب سے پہلے تو یہ بات طے کی جائے کہ وڈیرہ ، جاگیردار، سردار، چوہدری یا خان ہے کون؟

جاگیردار کی ایک عام تعریف یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو بڑے زمینی رقبے کی ملکیت رکھتے ہوئے بہت سارے لوگوں پر اتھارٹی رکھتا ہواور اس کی مرضی کے بغیر زیراثرلوگ اپنی رائے یا مرضی کا اظہار نہ کر سکیں۔

ایک لمحے کے لیے تمام تاثر ایک جانب رکھ دیں اور پاکستان میں کوئی ایک ایسی مثال تلاش کریں جہاں ایک بہت بڑے زمینی رقبے کا مالک اپنے زیراثر لوگوں کی مرضی پر اس حد تک اثرانداز ہو کہ ان کی شادیاں، تعلیم یہاں تک کے زندگی اور موت کے فیصلے کر رہا ہو۔

یہاں آپ نے مثال تلاش کرنا ہے، انٹرنیٹ پر سرچ کریں، کتابوں میں ڈھونڈیں، غیرجانبدار اور مستند لوگوں کی رائے دریافت کریں۔

کچھ دنوں پہلے فوڈ اینڈ سیکیورٹی کے وفاقی وزیر سکندر بوسن کراچی آئے اور مقامی ہوٹل میں آم کی ایکسپورٹ کے حوالے سے بات کے دوران کہا کہ پاکستان میں ساڑھے ستانوے فیصد چھوٹے کاشت کار ہیں جبکہ ڈھائی فیصد بڑے زمیندار ہیں یعنی پاکستان میں اس روایتی جاگیرداری نظام کا کوئی وجود ہی نہیں ہے جس کا تذکرہ شدومد سے کیا جاتا ہے، اس سے پہلے سندھ کے ایک مستعفی وزیر شرجیل میمن بھی کم وبیش یہی دعویٰ کرچکے ہیں کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان سے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کر دیا۔

اگر ہم پاکستان میں زمینوں کی تقسیم کے حوالے سے ورلڈ بینک کی 2007کی رپورٹ پڑھیں تو یہ ان اعداد وشمار کے متضاد ہے، ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں 63.3 فیصد زرعی زمین پر کام کرنے والے کاشت کار مزارعین ہیں یعنی اس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ یہ زمینیں جاگیرداروں کی ہیں جو مزارعین کے ذریعے ان زمینوں پر کاشت کرتے ہیں۔

سکندربوسن نے اس حوالے سے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے، اگر کوئی بارہ ایکڑ زمین بھی رکھتا ہے تو اسے بھی جاگیردارقراردے دیا جاتا ہے تاہم ایسا نہیں ہے، ان کے مطابق ان کی بھی  12ایکڑ زمین ہےاور وہ جاگیردار نہیں ہیں۔

پاکستان میں 1972 اور  1973 میں زرعی وزمینی اصلاحات ہوئیں، 1972 کی اصلاحات کے تحت کوئی بھی زمیندار 300 ایکڑ سے زائد زمین نہیں رکھ سکتا تھا جبکہ  1973 کی اصلاحات کے مطابق یہ حد 100ایکڑ ہوگئی تھی۔

اگر پاکستان میں کسی کے پاس 100ایکڑ زمین ہے تو وہ اس کو پٹے یا ٹھیکے پر دیتا ہے جہاں مزارعین یا ٹھیکدارکام کرتے ہیں تو کیا اس 100ایکڑ زمین کے مالک کو جاگیردار کہنا مناسب ہوگا؟

عمران خان پاکستان کے ایک مقبول سیاست دان ہیں، ان کی 530 کنال کی زرعی زمین ہے جس پر مزارعین یا ٹھیکدار کام کرتے ہیں تو کیا عمران خان کوئی وڈیرہ ہے؟

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے تحت آپ یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ 63.3 فیصد زرعی زمین کے مالکوں نے اپنی زمین پٹے یا ٹھیکے پر دی ہوئی ہے اور خودکاشت نہیں کرتے، اس  63.3 فیصد کو ہٹا کر باقی 37 فیصد زرعی زمین وہ ہے جس کے 61 فیصد مالک پانچ ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے لینڈ لارڈ ز ہیں ۔

پاکستان میں جاگیرداری نظام ایک سوالیہ نشان ہے، بلوچستان میں فوجی آپریشن کا ایک جواز وہاں موجود سرداری نظام ہے، سندھ اور پنجاب میں وڈیرہ شاہی کی وجہ سے سیاسی اصلاحات کی بات کی جاتی ہے ، فرض کریں کہ پاکستان میں یہ مسئلہ سرے سے ہی موجود نہ ہو تو سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہوجائے گا۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک فرضی مسئلے کو حقیقی مسئلہ بنا کر پیش کیا جارہا ہوتاکہ سیاسی عدم استحکام پیدا ہو ، پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں 32برس براہ راست فوجی حکومت رہی ہے اور اس درمیان جو عوامی حکومتیں آتی رہی ہیں، وہ بھی اسٹبلشمنٹ کے زیراثر رہی ہیں۔

عوامی حکومتوں کو جاگیرداروں اور وڈیروں کا نمائندہ قراردے کر بہت آسانی کے ساتھ ان پر اعتماد کو متزلزل کیا جاسکتا ہے اور اس کا سراسر فائدہ اسٹبلشمنٹ کو ہوگا کہ منظور نظر سیاست دانوں یا فوجی حکومتوں کی صورت میں وہ خود اقتدار حاصل کرسکتے ہیں

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ کسی خاندان کی سیاسی مقبولیت کو جاگیرداری نہیں کہا جا سکتا، سندھ کا وزیرخزانہ مراد علی شاہ دادو سے منتخب ہوا، اس کے مقابلے میں علاقے کے وڈیرے اور زمیندار بھی تھے مگر وہ شکست کھا گئے، اب کیا کیلی فورنیا کی اسٹینڈ فورڈ یونی ورسٹی سے ایم ایس سی کرنے والے مراد علی شاہ کو صرف اس لیے جاگیردار کہا جائے گا کہ وہ ایک دیہی علاقے سے منتخب ہوا؟

پاکستان کے دیہی علاقوں میں سیاسی خاندان بہت مقبول ہیں مگر کیا یہ خاندان اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے روایتی جاگیردار ہیں؟ کیا بلوچستان میں سردار اب بھی اتنے بااثر ہیں کہ ان کے بغیر عوام کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے؟

پاکستانی اسٹبلشمنٹ سیاست دانوں پر جاگیردار اور وڈیرہ ہونے کا الزام تو لگاتی ہے مگر درحقیقت سیاست دانوں کے مقابلے میں وڈیروں، سرداروں اور جاگیرداروں کو سپورٹ کیا جاتا ہے، سندھ اور پنجاب کی حلقہ جاتی سیاست کو سمجھنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں۔

پاکستان میں جاگیرداری نظام اپنی اصل شکل میں موجود ہو یا نہ ہو تاہم کسی نہ کسی سطح پر جاگیردارانہ سوچ ضرور موجود ہے ، ہم سب اچھا کہہ کر آنکھیں تو نہیں بند کرسکتے مگرہم سب خراب ہے بھی نہیں کہہ سکتے

پاکستان میں زرعی اصلاحات بہت ضروری ہیں، اگر ذوالفقارعلی بھٹو کی زرعی اصلاحات کو ہی نافذ کردیا جائے تو شاید مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہ ہو۔

یہاں اس بات کا بھی ذکر ضروری ہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو کی زرعی اصلاحات کو کالعدم قراردے دیا گیا تھا اور ایسا پاکستان کی کسی روایتی عدالت نے نہیں بلکہ وفاقی شرعی کورٹ نے اس فیصلے کے ساتھ کیا تھا کہ اسلام کسی بڑے جاگیردار سے زمین چھین کر چھوٹے کاشت کار کو دینے کی حمایت نہیں کرتا۔


Comments

FB Login Required - comments