کچھ بات عبدالسلام انٹرنیشنل تھیورٹیکل فزکس سینٹر کی


NASIR-SHABBIR-PICدنیائے سائنس میں پاکستان کے فخر ڈاکٹر عبدالسلام نے ایک موقع پر انتہائی رنجیدہ ہوکر وصیت کی تھی کہ اگر مجھے پاکستان نہ لے جایا جاسکے تومیر ی قبر کے کتبے پر یہ عبارت کنندہ ہو۔ “اس کی خواہش تھی کہ وہ ماں کے قدموں میں دفن ہو۔ ” نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر محمد عبدالسلام کی شخصیت ہمہ جہت وہمہ گیر تھی۔ الرازی، بوعلی سینا، الفارابی، ابن الہیشم، ابن رشد جیسے نابغہ روزگار سائنسدان ڈاکٹر محمد عبدالسلام ایک اعلیٰ پایہ مفکر، کہنہ مشق محقق، شفیق معلم اور بہترین منتظم کے علاوہ ایک حلیم طبع اور نرم دل انسان تھے۔ دیارِ غیر میں رہتے ہوئے جب کبھی آپ کی کسی ہم وطن پاکستانی سے ملاقات ہوتی تو شدت ِ جذبات سے آپ پر رقت طاری ہو کر پلکوں پر نمی سی تیرنے لگتی پھر تھوڑی دیر میں ہی آنسو دھیرے دھیرے آپ کی داڑھی میں جذب ہونے لگتے۔

دیار ِ غیر میں جلا وطنی کے اذیّت ناک ایام گذارنے والے عظیم پاکستانی سائنس دان اور تامرگ سبز پاکستانی پاسپورٹ سینے سے لگائے ڈاکٹر عبدالسلام محض عقیدے کی بناء پر اپنوں کی بے اعتنائی اور ناقدری سے بے حد رنجیدہ رہتے تھے۔ جبکہ دوسری طرف آپ کے قلب و نظر میں ہمہ وقت تیسری دنیا کی پسماندگی اور ہر محکوم، ہر محروم اور ہرمظلوم بلا لحاظ رنگ و نسل اور مذہب وملت کا درد رہتا تھا۔ آپ نے اپنی ساری
توانائیاں اور صلاحیتیں انسانیت کے لیے وقف کر دی تھیں۔ 1964ء میں ڈاکٹر محمد عبدالسلام نے اپنے وطن کی ترقی و خوشحالی کے لیے حکومت پاکستان کے سامنے ٹھوس سائنسی ترقی کا تابناک منصوبہ پیش کیا لیکن صد افسوس اس شاندار منصوبے کو وقت کو زیاں قرار دیا گیا۔ چنانچہ اپنے ملک میں مسلسل نظر انداز ہونے کے بعد اور منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر 1964ء میں اقوام ِ متحدہ، یونیسکو اور اٹلی کی حکومت کے تعاون سے آپ نے اٹلی کے شہر ٹریسٹ میں International Centre for Theoretical Physics کے نام سے ایک عظیم الشان سائنسی ادارے کی بنیاد رکھی۔ جو بعد ازاں “عبدالسلام انٹرنیشنل سینٹر فار تھیورٹیکل فزکس” کے نام سے دنیائے سائنس میں آپ کی شاندار اور ولولہ انگیز خدمات کو حقیقی معنوں میں خراج ِتحسین پیش کر رہا ہے۔

Dr.-Abdus-Salamدو برس قبل 6 اکتوبر سے 9 اکتوبر 2014ء تک چار روزہ تقریبات 1979ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کا قائم کردہ عالمی ادارہ برائے نظریاتی طبیعات کی 50 ویں سالگرہ کے سلسلے میں انتہائی جوش و خروش سے اٹلی میں منائی گئیں۔ اس 50 سالہ جشن منانے کے لیے 250 سے زائد ممتاز و معروف سائنسدان، محققین، صدور، وزراء، شہزادے، اقوام متحدہ کے سربراہ، مقامی اور بین الاقوامی شخصیات اور دیگر بہت سے لوگ شہرہ آفاق سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے خواب کو شرمندۂ تعبیر ہونے پر زبردست خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جمع تھے۔ اس عظیم الشان سائنسی مرکز کی 50 سالہ جشنِ تقریبات میں بحرین کے شہزادہ الحسن بن طلال اور پاکستان سے انصر پرویز (چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن) بھی شریک ہوئے۔ اس تاریخی اور شاندار 4 روزہ تقریب میں انٹرنیشنل سینٹر آف تھیوریٹیکل فزکس کے بانی اور نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کو نہایت عقیدت کے ساتھ خراج تحسین پیش کر نے میں فزکس کے مایۂناز سائنسدان Steven Weinberg بھی شامل ہوئے جنہوں نے 1979ء میں ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ فزکس میں مشترکہ طور پر نوبل انعام حاصل کیا تھا۔

(International Centre for Theoretical Physics)  ICTP عالمی معیار کا ایک ایسا ادارہ ہے جو تیسری دنیا میں سائنس کی ترویج کے لیے کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کی دلی خواہش تھی کہ تیسری دنیا کے لوگ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں دیگر ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے نہ رہ جائیں اسی مقصد کے لیے اٹلی کے شہر Trieste میں 18 جون 1964ء کو دنیا کے سائنسدانوں نے سائنسدانوں ہی کے لیے انٹرنیشنل سینٹر تھیوریٹکل فزکس کے قیام کو ممکن کر دکھایا۔ تیسری
دنیا کے لیے قائم اس سائنسی مرکز میں چند تاریخی اور نادر تصاویر موجود ہیں۔ یورپ میں فزکس اور ریاضی علوم کا سب سے بڑا ذخیرہ ICTP میں قائم”میری کیوری لائبریری”میں موجود ہے۔ ICTP کے سائنسدان ہر روز جدید تحقیق اور سائنسی مہارت و صلاحیت کے لیے کوشاں ہیں۔ دنیا بھر سے 188ممالک سے 130,000سائنسدان ہر سال ICTP کا معلوماتی اور سائنسی تجزیاتی دورہ کرتے ہیں۔ جو اپنے ملکوں میں جا کر سائنسی ترقی و ترویج کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ICTP جیسا ادارہ عالمی سطح پر تعلیم اور سائنس کی سرپرستی اور ترقی کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر نمایاں حیثیت کر چکا ہے۔

ma&_inaugurationofkanupp

ICTP کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر روانڈا میں پہلے شراکت دار انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ جہاں پر فزکس کے شعبے میں ماسٹر لیول پر کورس تیار کروائے جائیں گے۔ جس کے لیے عمارت کی تعمیر نو شروع کردی گئی ہے۔ شمالی افریقہ کے علاقے روانڈا کے صدر Paul Kagame نے ICTP کی تقریب کے افتتاحی خطاب میں کہا کہ بطور ایک قوم کے طور پر ہمارے لیے روانڈا میں  ICTP کے ایک مرکز کا قیام عظیم الشان عملی اور مثالی اہمیت کا نشان ہے۔ اس موقع پر روانڈا کے وزیر تعلیم  Silas Lwakabambaنے بتایا کہ ICTP جیسا عالمی ادارہ روانڈا میں خلائی سائنس اور جیو فزکس کے سکول اور یونیورسٹی کو چلانے کے لیے اسپانسر کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں وائرلیس سیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اہم کردار ادا کررہا ہے۔

اس پر وقار تقریب میں سائنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں کے ساتھ پالیسی سازوں نے مفید لیکچر دیئے۔ تقریب میں تحقیقی اور تربیتی پروگراموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ترقی پذیر ممالک کے لیے پروگرام تیار کئے گئے تھے۔ جن سے بہت سے معزز مہمانوں نے استفادہ حاصل کیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھی اور سلام سینٹر کی سائنسی جدوجہد کو برقرا ر رکھنے والے اطالوی سائنسدان  Paolo Budinichنے کہا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کے 50 سال قبل دیکھے گئے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے انہوں نے ان تھک محنت کی ہے اور میرے لیے یہ بے حد قابل فخر بات ہے کہ میں اس لازوال جدوجہد کا حصہ رہا ہوں۔ ICTP کے ڈائریکٹر Fernando Quevedoنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج  ICTP کمیونٹی کے لیے ایک بہت ہی خاص دن ہے۔ یہ ہی وہ ادارہ ہے جو گذشتہ 50 سالوں کی محنت سے ایک بے مثال ادارہ بن چکا ہے جو ہمارے سیارے زمین پر رہنے والے باشندوں کی ضروریات سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔ جو سائنس کو بطور ثقافت کے طور پر پیش کر رہا ہے اور جو زندہ رہنے کے لیے ایک بے حد موثر سائنسی ترقی ذریعہ ہے۔

1979, Stockhom, Sweden --- Left to right: Sheldon Lee Glashow, USA, Abdus Salam, Pakistan, and Steven Weinberg, USA, before receiving this years Nobel Prize for physics in Stockholm. --- Image by © Bettmann/CORBISپاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئر مین انصر پرویز نے ICTP اور دوسری بین الاقوامی تنظیموں کا پاکستان میں سائنسی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ بھی باہمی اتحاد کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل Irina Bokova نے  ICTP کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ICTPپہلی عالمی سائنس کی تحقیقاتی تنظیم ہے جس نے ترقی پذیر ممالک میں سائنسدانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک کامیاب ماڈل کا کردار ادا کیا ہے۔ IAEA کے ڈائریکٹر جنرل Tukiya Amanoنے ادارے کی طویل جدوجہد کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر سائنس نے انسانی صحت، محفوظ اور جراثیم سے پاک خوراک اور ماحولیاتی تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ نیو کلیئر سائنس اور ٹیکنالوجی بھی اسی طرح ترقیاتی ترجیحات میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ عالمی موسیمیات تنظیم کے سیکرٹری جنرل Michel Jarraud نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ریفرنس کے طور پر ایک اہم ترین مرکز بن چکا ہے۔ CERN کے ڈائریکٹر جنرل  Rolf-Dieter Heuerنے ICTP کی 50 سالہ سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ ICTP سائنس اور تعلیم کا ایک شاندار ادارہ ہے اور میں اس ادارہ کو تہ دل سے مبارک دیتا ہوں اور اس کی دراز مدت کے لیے دعا گو ہوں۔ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU)کے سیکر ٹری جنرل Hamadoun Toureنے ICTPکی شاندار خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ICTPنے آجکل کی ضرورت موبائل فون تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رسائی اور ان کے لیے فوائد کو ممکن بنایا ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments