گندگی کو دہلی کے مسلمانوں کی پرسنل لائف سمجھا جاتا ہے


آو پھر سیر کریں اس کے شبستانوں کی
تو آیے کچھ ذکر کرتے ہیں ’دہلی‘ کے اس علاقے کا
”جہاں ملک کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ، مہذب، ادب اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد رہتے ہیں”۔
”جہاں دریائے جمنا کے خوب صورت کنارے اور ہرے بھرے باغ، کوئل کی کوک اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے گونجتے ہیں“۔
”جہاں واقع معروف، قدیم، ثقافتی اور مرکزی دانش گاہ’ جامعہ ملیہ اِسلامیہ‘ اک عالم کو اپنے علم سے منور کرتی ہے“۔

”جہاں ہندوستان کی تقریباً تمام ملی تنظیموں کے دفاتر اور مراکز ہیں“۔
”جہاں سے’ ملی گزٹ ‘، ’ہندوستان ایکسپریس‘، ’دعوت‘، ’افکار ملی‘، ’ریڈینس‘، ’پیام تعلیم‘، ’کتاب نما ‘کے علاوہ سیکڑوں اخبارات، رسائل و جرائد اور میگزین چھپتے اور اک جہان کے دلوں پر راج کرتے ہیں“۔

”جہاں عالمی شہرت یافتہ’اسکورٹ‘ (دِل کا اسپتال)، ’ہولی فیملی‘ اور’ مہندرا سنگھ‘ جیسے مستشفی خانے واقع ہیں“۔
جہاں کے کباب شاورما، ذائقے دار پکوان اور ڈشوں کی خوش بووں سے معطر ریستوران کی قطاریں پورے ہندوستان میں معروف ہیں۔“

”جہاں فطرت سے محبت کرنے والے انسانوں کے علاوہ نیلے، پیلے اور ہرے پنکھوں والے ہزاروں پرندوں کی“ اوکھلا برڈ سینکچواری ” میں آمد ہوتی ہے“۔
”جہاں پورے ملک سے آنے والی وسائل حمل و نقل طرح طرح کے پھلوں اورسبزیوں کو ” اوکھلا سبزی منڈی ” میں پہنچاتے ہیں“۔

جب اس جگہ کا ذکر کیا جائے تو ان گنت اہم، پرکشش، معروف اور رنگا رنگ روشنیوں، تہذیبوں اور تاریخوں سے آراستہ مقامات کا نام سن کر ہمارے دل میں ایک عجیب و غریب اور کسی الگ دنیا کا تصور ابھرتا ہے۔ اور یوں لگتا ہے گویا اس جنت نشاں علاقے میں ہر قسم کی سہولیات ہوں گی، یہاں کے لوگ خوش و خرم اور بے فکر ہوں گے، یہاں کے پر سکون ماحول میں بسنے والے چین کی بنسری بجا رہے ہوں گے اور بہترین طریقے پر پر سکون اور معیاری زندگی گزار رہے ہوں گے۔

لیکن اگر زرا آنکھیں کھول کر دیکھا جائے تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میں یہاں پر نیو فرینڈس کالونی، ذاکر باغ، کالندی کنج، جسولہ جیسی پوش کالونیوں اور بستیوں کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ جہاں حکومت کے ہر طرح کی عنایات اکرامات اور نوازشات شامل احوال رہتی ہیں۔ جہاں بڑے بڑے لکھ پتی، کروڑ پتی، ارب پتی، کھرب پتی، بیورو کریٹس، لیڈر اور وی آئی پیز رہتے ہیں۔ بلکہ میں بات کر رہا ہوں ان بستیوں کا جہاں کے لوگوں کا ایک ایک پل اور ایک ایک لمحہ کرب اور بے چینی میں گزرتا ہے۔ جن کی نہ تو حکومت کو فکر ہے اور نہ ہی ان تنظیموں کو جو ہمیشہ اور ہر آن حقوقِ اِنسانی کی بات کرتی ہیں، جب دہلی جیسے شہر میں اَیسی تعصب و تنگ نظری کے جال میں پھنسی ہوئی بستیاں بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں تو باآسانی یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دیہی علاقوں کی کیا صورت احوال ہو گی؟ وہاں کی مسلم بستیوں میں بنیادی وسائل کی کس قدر کمی ہو گی؟ وہاں کے باشندے کس کس مپرسی اور بد حالی میں زندگی گزار رہے ہوں گے؟

کیا آپ دہلی کے اس علاقے کا تصور کر سکتے ہیں، جس میں بعض ایسی بھی بستیاں ہیں، جہاں پوری کی پوری بستی میں محض ایک یا دو دسویں پاس ہیں؟ ہزاروں ایسے ہیں جن کے ووٹر آئی ڈی (شناختی کارڈ) نہیں ہے، نالیاں اور سڑکیں نہیں ہیں۔ نوجوان نوکریوں سے محروم ہیں، پانی بجلی اور اسی طرح کی دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، شاید نہیں!

مگر یہ حقیقت ہے اور ذاکر نگر، غفار منزل، ابو الفضل، شاہین باغ، طوبی کالونی، بٹلہ ہاوس، محبوب نگر اور اس جیسی ایسی کئی بستیوں کا شمار ایسے ہی علاقوں میں ہوتا ہے۔ جہاں کھانے پینے کے ڈھابے اور ریستوران کے سامنے گندگی کا ڈھیر پڑا بد بو پھیلاتا دکھائی دیتا ہے تو کہیں آٹو رکشا اسٹینڈ عوامی بیت الخلا کے ساتھ ہی بنا نظر آتا ہے۔ کہیں پورے کے پورے بس اسٹینڈ میں کیچڑ، گندگی، بدبو اور دلدل کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے تو کہیں صحت کی خدمات فراہم کرنے والے سرکاری اسپتال، میڈیکل کالج، نجی نرسنگ ہوم وغیرہ گندگی اور کوڑے کے ڈھیر اور ٹھہرے ہوئے گندے برساتی پانی سے گھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان علاقوں میں آپ کہیں بھی چلے جائیں؛ بنک، کوئی بھی سرکاری دفتر، مساجد، اسکول، سینما گھر، یہاں تک کہ ذاتی کاروباری مراکز وغیرہ تمام جگہوں پر کوڑے کا ڈھیر، نالوں کے رکے ہوئے پانی، ان پر اُڑتے، بھنبھناتے زہریلے مچھروں کی افزائش کی کالونیاں دکھائی دیں گی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کو انھی مقامات پر دہلی سرکار کے ہورڈنگز اور بڑے بڑے بینر وعدوں وعیدوں اور مبارک بادوں کے ساتھ آویزاں نظر آئیں گے۔ جنھیں دیکھ کر ذہن میں سوال اٹھے گا کہ کیا حکومتِ دہلی کو اس بات کی تھوڑی سی بھی سمجھ نہیں ہے کہ یہاں کے عوام نہ صرف ہوڑدنگ دیکھنے کی بلکہ ان کے اردگرد پھیلی گندگی، اندھیرے اور بھاری ترقی کو دیکھنے کا مادہ بھی رکھتے ہیں۔ ان کی صرف اتنی سی تمنا ہوتی ہے کہ وہ اور ان کے بچے بیمار نہ پڑیں، خوش رہیں، ہر طرح کی نہ سہی کم از کم بنیادی سہولیات تو ہوں۔ مگر یہاں پر حکومت کا کام کاج کس طریقے سے چل رہا ہے۔ ان علاقوں سے گزرتے ہوئے بدرجہ اَتم محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بنا شبہ پھیلی گندگی کے لیے ایک حد تک عوام کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، لیکن دہلی کے کوڑے دانوں میں دھماکے کیا ہو گئے، گویا حکومت کو بہانہ مل گیا علاقوں میں کچرا کنڈی نہ رکھنے کا۔ (راقم الحروف خود کئی بار کیلے کے چھلکے، بریڈ کے خالی پیکٹ ہاتھ میں لیے آدھا آدھا کلومیٹر تک پیدل چلا، لیکن کہیں کوئی کچرا کنڈی دکھائی نہ دیا)

پارٹیوں اور لیڈروں کے بڑے بڑے بینروں کی جیسے باڑھ آئی ہو، کہیں کوئی عید کی مبارک باد دیتا نظر آتا ہے، تو کہیں کوئی چھوٹے سے کرائے گئے کام کی تفصیل، کہیں موٹے موٹے حروف میں خرچ کیے گئے بجٹ لکھے نظر آئیں گے تو کہیں عوام کا بے جا شکریہ ادا کرتے ہوئے اشتہارات۔ کہیں امید بھری نگاہوں کے ساتھ عوام سے ووٹوں کی التجا کرتی تصویر لگی ہوگی اور ٹھیک اس کے نیچے کوڑے کا بدبو دار ڈھیر انھی کا منہ چڑا رہا ہوگا۔ اگر برانڈ، مصنوعات اور کمپنیاں اتنے بڑے سائز کے ہورڈنگز لگاتی ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ گاہکوں کو بہلا پھسلا کر ان کے خواب خرید کر اپنی مصنوعات بیچتے ہیں۔ لیکن سمجھ نہیں آتا کہ حکومت اور لیڈر اس طرح کے جارحانہ مہنگے اشتہارات میں بے شرمی سے اُتر کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ کا تعلق اٹکی رانچی جھارکھنڈ، بھارت سے ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے تواریخ کے مضمون میں گریجوایشن، ماس کمیونیکشن اینڈ جنرنلزم میں ایم اے کیا۔ لکھنے پڑھنے کے شوقین ہیں۔ اسی لیے میدان صحافت کا انتخاب کیا۔ ہندُستان ایکسپریس، صحافت، خبریں، جدید خبر میں نامہ نگاری، فیچر رائٹنگ، کالم نگاری، تراجم کرتے آئے۔ گزشتہ ایک برس سے ای ٹی وی اردو میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے فرائض نبھا رہے ہیں۔ ڈاکیومینٹری فلم بنانے کے علاوہ، سفرنامے لکھے، کبھی کبھار کہانی لکھتے ہیں۔

muhammad-alamullah has 51 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah