گورنر ہاؤس، کچرا اور عوام


نئے پاکستان میں جہاں بہت سے نئے اقدامات ہوئے ان میں گورنر ہاوسزاور بڑی سرکاری عمارات کے کچھ حصے عوام کے لیے کھول دیے گئے تاکہ جن عمارات کو بے چاری عوام دور سے دیکھ دیکھ جر سوچتی تھی ہائے اتنی بڑی بلڈنگ ہے کیسی لش پش ہری ہری گھاس، کتنے بڑے بڑے درخت چاروں طرف لگے ہیں اندر سے کیسی ہوگی۔ دنیا بھر میں بڑی بڑی سرکاری عمارات کے کچھ حصے عوام کے لیے کھولے جاتے ہیں تاکہ عوام قریب سے ان عمارات کو دیکھ کر مطمئن اور مسرور ہوسکیں۔ ملکہ برطانیہ کے بکنگھم پیلس کا کچھ حصہ بھی عوام کے لیے کھولا جاتا ہے کیا ملکی اور کیا غیر ملکی سب اس کی سیر کرتے ہیں اور یادگار کے طور پر سووینئرز خرید کر اپنے پاس نشانی کے طور پر رکھتے ہیں۔ یہ مہزب اور تہزیب یافتہ قوموں کا انداز ہے وہ اپنے قومی ورثے سنبھال کر رکھتیں ہیں۔

ہمارے وزیراعظم نے اس طرح کا ماحول اپنی بیرونِ ملک کی زندگی میں بہت بار دیکھا ہوگا جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس یہاں عام آدمی ان جگہوں پر جانے کجا سوچ بھی نہیں سکتا چونکہ آپ تبدیلی اور سونامی کے نعروں کے ساتھ آئے ہیں تو سب سے پہلی تقریر میں ہی اس بات کا اعلان کیا کہ وہ وزیر اعظم ہاوس میں نہیں رہیں گے، ملک کے تمام گورنر ہاؤسز عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے ان میں میوزیم، یونیورسٹیز اور لائبریریز بنائیں گے اور حسبِ وعدہ ایک مہینہ بھی نہیں مکمل ہوا عوام کے لیے ان عمارات تک رسائی ممکن ہوگئی یہ تو تھی تبدیلی۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں عوام کا سونامی ان عمارتوں پر ٹوٹ پڑا دن بھر پکنک کا سماں رہا۔ لوگ باگ کھانے پینے کا سامان معہ بال بچوں کے گھومنے آگئے۔ عوام کا جوش وخروش دیدنی تھا جیسے میلہ دیکھنے آئے ہوں۔ نئے شادی شدہ، بزرگ، ڈیٹ مارنے والے سب تھے، تصاویر بنائیں گئیں، عمارت کے ستونوں اور درختوں کے ساتھ سیلفیاں بنائی گئیں۔ انتہا توتب ہوئی جب پھل دار درختوں پر چیل کوؤں کی طرح جھپٹ پڑے اور دیکھتے دیکھتے شاپرز، تھیلے، جیبیں بھر لیں عورتوں نے دوپٹوں میں پھل باندھ لیے، درختوں کو گنجا کرنے کے بعد دل نہیں بھرا تو لان میں لگی لوہے کی نشستوں کو اکھاڑ ڈالا، کوئی نہیں یہ تفریح کا انداز ہے پاکستانی قوم ایسی ہی جذباتی ہے اپنے وطن سے محبت کرنے والی۔ میڈیا نے بھی بڑھ چڑھ کر کوریج کی اور خواتین اور بچوں سے انٹرویوز لیے، ان حسرت زدہ لوگوں کی باتوں سے لگ رہا تھا شاید زندگی میں سب سے بڑا مقصد یہاں کی سیر تھی ویسے بھی گھومنے پھرنے کی جگہیں کم ہیں اس پر غضب لوگوں نے گروپ بناکر نعرہ بھی ریکارڈ کروایا ” تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آگئی ہے“۔

اصل کہانی تو اب شروع ہوئی جب تفریح کا وقت ختم ہوا ایسا لگتا تھا ان جگہوں پر پانی پت کی لڑائی ہوئی ہے، یا راجہ پورس کے ہاتھیوں نے اس جگہ کو روند کر گزرے ہیں۔ اجڑا چمن، کھانے کی چیزوں کے ریپرز، خالی بوتلیں، سگریٹ کی خالی ڈبیاں، بچوں کے ڈائپرز غرض کیا کچرا تھا جو نہ پھیلایا۔ کچھ من چلوں نے یہ تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیں اب ایک نئی بحث نے جنم لے لیا۔
تسخیر چمن پہ نازاں ہیں تزئین چمن تو کر نہ سکے
تصنیف فسانہ کرتے ہیں کیوں آپ مجھے بہلانے کو

اگر مثبت سوچ سے دیکھیں تو یہ ایک بھیانک تجربہ تھا جو نئے پاکستان کی ناک ہی کاٹ گیا۔ کاش اس عوام کی کچھ تربیت ہی ہوتی تو اس تفریح کا ایسا بھیانک انجام نہ ہوتا، ویسے تو تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے گھر سے ہی انسان کی شخصیت بنتی ہے لیکن معاشرہ بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خدارا قوم کو ان چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھانے کے بجائے قوم کو جو مہنگائی، جہالت اور بیماری کے پہاڑوں تلے دبی ہے اس سے نجات دلائیں نہ کہ گورنر ہاؤسز کی سیر پر ٹرخایا جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں