یہ انسان تھے یا فرشتے؟


ایرینا سینڈلر کا تعلق (وارسا) پولینڈ سے تھا ۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران اسے اس کیمپ میں پلمبر کا کام مل گیا ،جہاں نازی فوج نے کئی ہزار یہودی خاندانوں کو محصور کر رکھا تھا ۔ ایک خوفناک موت ان یہودی خاندانوں کے آس پاس منڈلا رہی تھی ۔ایرینا سینڈلر روز اس کیمپ میں محصور معصوم بچوں اور ان کی طرف بڑھتی ہوئی موت کو دیکھتی اور انہیں بچانے کا منصوبہ بناتی رہتی بالآخر اس کا منصوبہ مکمل ہوا. اس نے اپنے ٹول بکس میں نیچے جگہ بنائی اور اس میں روزانہ ایک یا دو بچّوں کے اُوپر سامان رکھ کر نکالتی رہی ۔
ایرینا سینڈلر نے اپنے کُتے کو ایسی ٹریننگ دی تھی کہ جوں ہی وہ گیٹ پر تلاشی کے لئے پہنچتی تو کُتا قریب آکر لگا تار بھونکنے لگتا تاکہ نازی فوجی بچّوں کے رونے کی آوازیں نہ سن سکیں یہ مشن وہ خاموشی کے ساتھ طویل عرصے تک سر انجام ریتی رہی ان بچّوں کو وہ پہلے اپنے گھر لاتی اور پھر ضرورت مند خاندانوں کو دے دیتی ایک ریکارڈ کے مطابق اس نے ڈھائی ہزار سے زائد بچّوں کو کیمپ سے نکالا ،کچھ عرصے بعد فوج نے اس کیمپ پر ہلہ بول دیا اور وہاں محصور ان بچّوں کے والدین بے دردی سے مار دئیے گئے ، لیکن ایرینا سینڈلر ہزاروں معصوم بچّوں کو بچا چکی تھی ۔


بلغاریہ کے داروالحکومت صوفیہ کے ایک معروف چوک میں گزشتہ پچاس سال سے ایک بوڑھا فقیر بھیک مانگتا ہے ڈوبری ڈوبریف اور عمر ننانوے سال ،یہ فقیر روزانہ پچیس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے اپنے گاؤں بے بوؤف سے صوفیہ آتا ہے اور شام ڈھلتے ہی اپنے گاؤں واپس چلا جاتا ہے ۔

وہ صوفیہ کے شہریوں کے لئے ایک جانا پہچانا اور نادار بوڑھا فقیر تھا لیکن ایک دن اچانک سارا بھید کھل گیا کہ بوڑھا فقیر پچاس سال تک دن بھر جو کچھ کماتا واپس جاتے ہوئے اسے ایک یتیم خانے کو دیتا جب ریکارڈ چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ 80 یورو سے زائد ہر ماہ یتیم خانے کو دیتا رہا اور اب تک وہ چالیس ہزار یورو جمع کرا چکا ہے یہ بھی پتہ چلا کہ اپنے لئے اس نے ایک پیسہ بھی نہیں لیا ہے۔ اس فقیر کو سینٹ آف بے بوؤف ( بے بوؤف کا فرشتہ ) کہا جاتا ہے ۔

Dobri-Dobrev

آسڑیلیا کے سڈنی ہاربر کے پاس ایک خطرناک پہاڑ اور نیچے ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے ۔یہ جگہ خودکشی کرنے کے لئے مشہور تھی ۔ڈان رچی نے اپنا گھر عین پہاڑ کے اُوپر بنایا اور انسانوں کو موت سے بچانے کامقدس فریضہ راضاکارانہ طور پر اپنایا وہ دن بھر پہاڑی چٹانوں پر نظر رکھتا اور جوں ہی کوئی “خطرناک ارادے ” والا شخص نظر آتا وہ بھاگ کر اسے باتوں میں لگاتا ہوا اپنے گھر لاتا اسے ناشتہ یا لنچ کرواتا ۔ڈان رچی کو اپنے کام میں بہت مہارت ہو چکی تھی ، اسی لئے اپنے مخاطب کا ذھن تبدیل کر کے موت سے زندگی کی طرف موڑ دیتا ایک اندازے کے مطابق ڈان رچی نے ایک سو ساٹھ سے زائد لوگوں کو خودکشی سے بچایا ۔

Don Ritchie

تیون سوگی ہارا دوسری جنگِ عظیم کے دوران لتھونیا میں جاپانی سفارت کار کی حیثیت سے خدمات سرانجام دےرہا تھا کہ اچانک نازی فوجیوں نے شہر پر حملہ کر دیا اور چن چن کر یہودیوں کو مارنے لگے ۔ تیون سوگی ھارا انسانیت کا علمبردار تھا اس لئے اس نے اپنی زندگی اور پیشے دونوں کو خطرے میں ڈالا اور یہودیوں کو غیر قانونی ویزے جاری کرنے لگا ،تاکہ ان کی زندگی بچائی جا سکے بعض اوقات وہ بیس بیس گھنٹے کام کرتا اور ویزے جاری کرتا رہا وہ بھی چوری چھپے ، اس دوران جنگ زدہ ملک میں جاپان نے اپنا قونصلیٹ بند کر دیا تو تیون اس دن بھی کام کرتا ہی رہا وہ جس دن ٹرین پر چڑھا تو بھی کھڑکی کے پاس کھڑا ہوکر چلتی ٹرین سے ٹریول ویزے دستخط کرتا اور باہر پھینکتا رہا ، تیون سوگی ھارا نے چھ ہزار سے زائد لوگوں کی زندگی تن تنہا بچائی ۔

Teen Sugihara

نیرجا بنوت انڈین ائیر لائنز کی ایک انتہائی خوش شکل اور ہنس مکھ ائیر ہوسٹس تھی ۔ایک سفر کے دوران ہائی جیکرز نے جہاز پر قبضہ کیا اور جہاز اغوا ہو گیا۔ نیرجا بنوت نے مشکل گھڑی میں اپنے اعصاب پر قابو رکھا اور جلدی جلدی غیر ملکیوں سے ان کے پاسپورٹ لے کر جہاز سے باہر پھینکے تاکہ ہائی جیکرز انہیں پہچان کر مار نہ دیں ۔جہاز کچھ دیر بعد ایک ائیر پورٹ پر لینڈ کر چکا تھا اور حالات انتہائی غیر معمولی تھے ۔نیرجا بنوت خفیہ اشاروں کے ذریعے بچّوں کو جہاز کے پچھلے حصّے کی طرف بھیجنے لگی۔ یہ منصوبہ مکمل ہوا تو نیرجا بنوت غیر محسوس طریقے سے اُٹھی اور بچوّں کے قریب جا کر ایمرجنسی ایگزٹ اچانک کھول دیا اور بچوّں کو جہاز سے نکالنے لگی ۔ ہائی جیکرز نے دیکھا تو اپنے پستولوں سے اس کے جسم کو نشانے پر لیا ادھر وہ بچّوں کو جہاز سے نکالتی اور اُدھر گولیاں اس کے جسم میں پیوست ہوتی رہیں جوں ہی آخری بچّہ جہاز سے اُترا آخری گولی بھی نیرجا بنوت کے دماغ میں اُتر گئی۔

Neerja Benot

ان لوگوں نے غیر انسانوں کی زندگیاں بچانے کے لئے اپنی زندگیاں ہزاروں بار خطرے میں ڈالیں نہیں معلوم کہ ان لوگوں کا مذھب کونسا تھا لیکن جب میں ان لوگوں کو انسانیت کے پیمانے پر ناپنے کی کوشش کرتا ہوں تو ہر پیمانہ چھوٹا پڑنے لگتا ہے اور وہ فرشتوں سے بھی بلند مقام پر نظر آتے ہیں کیونکہ کردار کے حوالے سے ان لوگوں کی قامتیں اتنی بلند ہیں کہ انہیں دیکھتے ہوئے ٹوپی تو کیا ھم جیسوں کو دماغ تک سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں