موت کی بجائے زندگی کا احترام کریں


husnain jamal (3)زندگی مختصر ہے، کل رات میں نے ایک دوست کی موت دیکھی ہے۔ جاؤ اور ایک رات اس کے ساتھ گزارو جسے تم سب سے زیادہ چاہتی ہو!

نیویارک کے ایک ہوٹل میں ناشتہ کرنے والا 80 ڈالر ٹپ کے ساتھ بل پر یہ الفاظ لکھ کر ویٹریس کے لیے چھوڑ گیا۔ وہ بہت حیران ہوئی، متاثر بھی یقیناً ہوئی اور اس نے تصویر کھینچ کر اس بل کو سوشل میڈیا پر شئیر کر دیا۔ وہاں سے یہ بات خبر بن کر بہت سے آن لائن اخبارات میں نمایاں جگہ پر آ گئی۔

موت انتہائی بے رحم چیز ہے، اس کے لیے جسے نہیں آئی۔ جو مر گیا سمجھیے وہ نجات پا گیا، جو نہیں مرا اس کے لیے موت خوف ناک ہے، اپنی بھی اور اپنے قریبی لوگوں کی بھی۔ جب کوئی انسان کسی قریبی دوست یا عزیز کی موت دیکھتا ہے تو اسے فوراً یاد آجاتا ہے کہ جو کچھ کرنا ہے ابھی کر لو، موجودہ وقت میں بھرپور زندگی گزار لو، کل جو ہو گا اسے کل ہی دیکھا جائے گا۔

فرض کیجیے آپ کو یہ خبر ہو جائے کہ دو مہینے بعد آپ مرنے والے ہیں تو آپ کیا کریں گے؟ اگر اگلے دو ماہ میں پوری کرنے والی خواہشات کی ایک فہرست بنائی جائے تو اس میں سب سے اوپر جو خواہشات ہوں گی وہ انسانوں سے متعلق ہوں گی۔ آپ اپنے بیوی بچوں، بہن بھائیوں، ماں باپ، قریبی دوستوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہیں گے۔ انہیں گھمانے لے کر جائیں گے، ان کی چھوٹی بڑی سب خواہشات پوری کرنا چاہیں گے، اپنا وقت زیادہ سے زیادہ صرف انہی لوگوں کو دینا چاہیں گے جنہیں آپ دل سے چاہتے ہیں۔

01بڑی گاڑی، ذاتی گھر، اچھے کپڑے، کامیاب ملازمت، اچھا کاروبار اور ایسی کئی دوسری خواہشات جن کے پیچھے تمام عمر آپ بھاگے ہوں گے، وہ ان دو مہینوں میں آپ کے دماغ میں غلطی سے بھی نہیں آئیں گی۔ ہاں بہت سے پچھتاوے ضور ہوں گے۔ کاش میں فلاں وقت اس انسان کا حق نہ مارتا جو میرے ماتحت تھا، کاش میں فلاں ٹینڈر میں یہ بے ایمانی نہ کرتا، کاش میں بڑی گاڑی کے بجائے انہیں پیسوں سے کسی غریب انسان کی مدد کر دیتا، اور یہ سب چھوڑئیے، آپ کو بچپن کے واقعات یاد آنا شروع ہو جائیں گے، چھوٹے بہن بھائیوں سے لڑائیاں، والدین کے ساتھ گزارا گیا وقت، محلے دار، سکول کالج کے دوست اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔

ایسا صرف اس لیے ہو گا کہ اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت انسان ہیں۔ انسان کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ مصنوعی ہے یا انسانوں کا خود تراشا ہوا ہے۔ ہلکی سی فلسفے کی بات کیجیے تو کوئی درخت بھی اس لیے ہے کہ اسے آپ دیکھ رہے ہیں اور آپ اسے درخت کا نام دے رہے ہیں۔ اگر اسے کوئی نہیں دیکھتا اور اسے کچھ نام بھی نہیں دیا جاتا تو پھر وہ درخت سمجھیے ہے ہی نہیں، اس کا ہونا، نہ ہونا برابر ہے۔

انسان کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے، خواجہ سرا بھی انسان ہوتے ہیں اور عورتیں بھی انسان ہوتی ہیں،

اب آئیے ان انسانوں سے متعلق اپنے رویوں پر غور کرتے ہیں۔ گذشتہ دنوں خواجہ سرا علیشا ماری گئی۔ ہسپتال والوں نے بجائے علاج کرنے کے اس کا اور اس کے ساتھیوں کا مذاق اڑانا شروع کر دیا، ان سے ان کے ریٹ پوچھے گئے، ہر طرح سے تنگ کیا گیا، علیشا کو عورتوں اور مردوں والے وارڈوں کے بیچ میں ہی گھسیٹتے رہے اور آخر وہ مر گئی پر علاج نہ کروا سکی۔ اب دیکھیے بات موت پر پھر آ گئی۔ علیشا مر گئی، اس کی مشکل ختم ہو گئی، مشکل شروع ہو گئی اس کے ساتھیوں کی اور احساس رکھنے والے چند لوگوں کی۔ علیشا کی موت ضمیر کی موت ہے، ہم سب اس موت پر ضمیر کے قیدی ہیں اور کیوں ہیں، سن لیجیے۔

1آپ اپنے بچوں کے ساتھ جب کہیں گھوم رہے ہوں اور خواجہ سرا قریب نظر آئیں تو باقاعدہ بچوں کو دکھا کر انہیں ہنسنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ وہ سڑک پر مانگ رہے ہوں تو باقاعدہ ان سے فحش مذاق کیے جاتے ہیں۔ وہ شادی والے گھروں میں ائیں تو جوان ان سے بدتمیزی کرتے ہیں اور بزرگ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وہ سڑک پر صرف چل ہی رہے ہوں تو چلتی گاڑیاں روک کر انہیں دیکھا جاتا ہے یا موٹرسائیکل پر گزرتے ہوئے حسب توفیق انہیں تنگ کیا جاتا ہے اور سب ہنسنے لگتے ہیں، بھلے وہ انسان آپ کو گالیاں ہی کیوں نہ دے رہا ہو۔ آپ اسے چھیڑے جاتے ہیں، کیوں، کیوں کہ بچپن سے آپ کو سکھایا جاتا ہے کہ یہ مخلوق انسان نہیں ہے، کچھ اور چیز ہے، بس اس قابل کہ اس کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا کیا جائے، اور نوجوانی میں آپ ازخود اس کے دیگر استعمال دریافت کرنے کے تجسس میں رہتے ہیں، اس سے زیادہ ان کی اوقات نہیں ہے۔

ایک اور رویہ ہمارے علماء حضرات کا ہے جن سے اب تک عورت ذات ہضم ہی نہیں ہو رہی۔ خواجہ سراؤں کو تو اس معاشرے میں رویا جائے جہاں انسان کی کوئی عزت ہو، یہاں تو ابھی تک مذہب کی رو سے یہ فیصلے کیے جاتے ہیں کہ عورت مرد کی نافرمانی کرے تو اسے ہلکا سا مارنا جائز ہے۔ ہلکا سا مارنا کیا ہوتا ہے، اس کی تعریف کوئی نہیں کر سکتا۔ جسمانی تشدد کا نشان ہمیشہ دماغ پر رہتا ہے۔ بچپن میں اگر آپ کو کسی استاد نے کبھی مارا ہے تو یاد کیجیے، آپ کو وہ نشان اپنے دل و دماغ پر اب بھی نقش دکھائی دیں گے۔ اسی طرح ماں باپ سے پڑا ہر تھپڑ یا ہر پھینٹی آپ کو عموماً یاد رہتی ہے اور وجہ وہی ہے کہ جسمانی تشدد اپنا داغ ذہن پر چھوڑ کر جاتا ہے۔ عورت کو مارنے کی اجازت دینا اس سانڈ کو کھول دینے جیسا ہے جس نے کھل کر صرف تباہی مچانی ہے۔ پہلے ہی جو معاشرہ بربریت اور جنگلی پن میں اپنی انتہاؤں پر ہو، جہاں بیٹیاں گاڑیوں میں جلائی جاتی ہوں، بھائی بہنوں کو ذبح کر کے قصائیوں کی طرح ساتھ بیٹھ کر موبائل پر گیم کھیلتے ہوں، جہاں لو افئیر 03کامیاب نہ ہونے پر تیزاب پھینکنے جیسا واہیات اور قابل نفرین جرم کرنا عوام کی سوچ میں داخل ہو وہاں ایسی اجازت مذہب کی رعایت سے دینا نری جہالت اور بے وقوفی ہے، بلکہ اس تمام وحشت و بربریت پر صاد کرنے کے مترادف ہے جو اس خطہ زمین پر چلی آ رہی ہے۔ یاد رکھیے جسمانی تشدد جتنا بھی ہلکا ہو، اور جس پر بھی کیا جائے، قابل مذمت ہے، اور کہاں یہ کہ اپنے ہی گھر میں ثواب کمایا جائے۔ گویا ہلکے سے تشدد کی اجازت دے کر وہ یہ امید کرتے ہیں کہ ایذا و وحشت کا یہ کھیل “ہلکے” پن کے درجے سے آگے نہیں جائے گا، تف ہے۔

یہاں پھر موت کو یاد کر لیجیے۔ کیا ان سب لوگوں نے بھی مرنا ہے جو اس طرح کے فیصلے کرتے ہیں اور جو اس طرح کے مظالم کرتے ہیں؟ یقیناً مرنا ہے! تو کیا وہ مطمئن مریں گے؟ جی ہاں، بالکل مطمئن مریں گے، اگر انہیں بھی دو مہینے پہلے معلوم ہو جائے کہ وہ دو ماہ بعد مرنے والے ہیں، تو بھی وہ مطمئن مریں گے؟ حد یہ ہے کہ وہ تب بھی مطمئن ہوں گے، وجہ کیا ہے؟ وجہ ان کے بند دماغ ہیں جن پر زنگ آلود تالے پڑے ہیں، اور یہ تالے ہمارے معاشرے کی ہی پیداوار ہیں۔

اپنے بچوں کے دماغوں پر سے یہ تالے ہٹانا آپ کے اختیار میں ہے۔ زندگی مختصر ہے، اسے محبتوں کے نام کیجیے، بچوں کو انسانیت کا احترام سکھلا دیجیے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain