کلثوم بنام بائو جی


پاک لین۔عرشِ معلی

میرے بائو جی!

مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں کہ آپ اور گُڑیا جیل میں ہیں، آپ سے بات بھی ہوئی، آپ نے بھی نہیں بتایا۔ جب یہاں پہنچی تو پتا چلا، پہلے تو میں خفا ہوئی، لیکن پھر سوچا یہ آپ ہی کا فیصلہ ہو گا، آپ نے سوچا ہو گا بستر پہ پڑی پریشان ہوتی رہے گی، تو کیا فائدہ، اسے نہ ہی بتایا جائے۔ اب سوچتی ہوں تو لگتا ہے کہ آپ کا فیصلہ ٹھیک تھا، میں کُڑھنے کے سوا کر بھی کیا سکتی تھی۔ لیکن کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ اپنے اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتی تو شاید وہ مجھے کچھ دنوں کی مہلت دے دیتا، ہمت، طاقت دے دیتا، میں پاکستان واپس آتی اور ایک مرتبہ پھر سر پہ کفن باندھ کر نکل پڑتی اور جب تک آپ کو انصاف نہ ملتا ایک گھڑی آرام سے نہ بیٹھتی۔ خیر، جو اللہ کو منظور۔

میں الحمدللہ خیریت سے ہوں، سفر بہت آسان رہا۔ طریقہ کچھ یوں ہے کہ مسافروں کو مختلف رنگوں کی چادروں میں لپیٹ کر لے جایا جاتا ہے، جیسے سُرخ، سیاہ، دھانی۔ مجھے اوڑھنے کے لئے سبز رنگ کی مخملی چادر دی گئی، سبز کا وہ شیڈ جو میرے جہیز کی رضائیوں کا تھا، لیکن آپ کو کہاں یاد ہو گا۔ خیر، جب میں یہاں پہنچی تو سامنے ہی لیاقت علی خان اور بیگم رعنا سُرخ گلابوں کے ہار لئے کھڑے تھے، بہت گرم جوشی سے ملے، انہوں نے بتایا کہ قائدِ اعظم نے انہیں میرے استقبال کے لئے بھیجا ہے، مجھے ایک بار پھر آپ کی بیوی ہونے پہ بے حد فخر ہوا۔ مزاج پُرسی کے بعد بیگم رعنا نے کہا کہ آپ گھر جائیے، کچھ دیر آرام کر لیجیے، پھر آپ کو مادر ملت کی طرف جانا ہے۔ یہ کہہ کر وہ رخصت ہوئے ہی تھے تو کیا دیکھتی ہوں اباّ جی تیز قدموں سے چلتے میری طرف بڑھ رہے ہیں، ساتھ عباّس بھی ہیں اور حسین کی چھوٹی بیٹی زینب بھی۔ سب سے مل کر اتنی خوشی ہوئی کہ بیان نہیں کر سکتی۔ حسین کو یاد سے بتائیے گا کہ زینب بڑی ہو گئی ہے، بہت ہی با ادب اور پیاری بچی ہے، میرا یوں خیال رکھ رہی ہے جیسے وہ میری دادی ہو۔

یہاں اپنا گھر دیکھ کردل سے فبای آلائِ ربکما تکذبان نکلا، آپ یوں سمجھیں جیسے ہمارا رائے ونڈ والا گھر اُٹھا کہ کشمیر پوائنٹ مری پہ رکھ دیا گیا ہے، بلکہ اس سے بھی کہیں خوب صورت۔۔۔وادیاں، آبشاریں، درختوں کے جُھنڈ خوش رنگ پھلوں اور پھولوں سے لدے ہوئے۔ میں نے صرف ایک پھل چکھا، بگو گوشہ جیسا۔ آپ کو یاد ہے مری میں ہم دونوں کتنے شوق سے بگو گوشے اور چھلیاں کھایا کرتے تھے؟

بائو جی،آپ تو جانتے ہیں میرا آپ کے بغیر کہیں بھی دل نہیں لگتا، یہاں بھی نہیں لگ رہا، کبھی کبھی دِل ہی دِل میں بہت شرمندگی بھی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کیا کہیں گے، کیسی نا شکری بندی ہے کہ میں نے اس پہ اپنی نعمتوں کی بارش کر دی ہے اور یہ اب بھی خوش نہیں ہے۔ مگر میں کیا کروں، مجھے اپنے دِل پہ اختیار ہی نہیں ہے۔ مجھے پتا ہی نہیں ہے کہ اکیلے کیسے خوش ہوا جاتا ہے۔ میری تو ہر خوشی آپ کے ساتھ تھی، پلائو کی سب سے اچھی بوٹی آپ کو کھلاتی تھی تو خوش ہوتی تھی، سب سے میٹھا انور رٹول کاٹ کر آپ کو کھلاتی تھی تو خوش ہوتی تھی، آپ پاس ہوتے تھے تو موسم خوب صورت لگتا تھا، ورنہ سب موسم ایک جیسے تھے۔ آپ ہی کے بارے سوچ رہی تھی کہ پیغام ملا ’مادرِ مِلت منتظر ہیں‘۔ اُن کی وقت کی پابندی بارے تو سُن ہی رکھا تھا، سو فوراً اُٹھی، جلدی جلدی تیار ہوئی، اور نکل پڑی۔

راستہ میں ایک گھر کے باہر ’محمد اقبال‘ کے نام کی تختی لگی تھی، پُوچھنے پہ تصدیق ہوئی کہ حضرتِ علّامہ کا مکان ہے۔ اس گلی میں علّامہ کے علاوہ چار گھر اور ہیں، جناح مینشن، بھٹو ہائوس، بے نظیر وِلا، اوراب ایک گھر مجھے الاٹ ہوا ہے۔ شکر ہے وقت پر جناح مینشن پہنچ گئی۔ ابھی میں گھر کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ یک دم دروازہ کھلا اور محترمہ فاطمہ جناح باہر نکلیں اور’ویلکم، ویلکم‘ کہتی ہوئی میری جانب لپکیں۔ بہت شفقت سے ملیں، گھر کے اندر داخل ہوئے تو سامنے نصرت بھٹو اور بے نظیر تشریف فرما تھیں، فوراً اُٹھیں اور مجھے گلے لگا لیا۔ بے نظیر تو بہت ہی محبت سے ملیں، کہنے لگیں ’یہ شال آپ نے اور میاں صاحب نے مجھے تحفہ دی تھی، میں نے آج خاص آپ کے استقبال کے لئے نکالی ہے‘۔

ویسے تینوں خواتین نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا، محترمہ فاطمہ جناح اور نصرت بھٹوصاحبہ نے ساڑھیاں اور بے نظیر نے شلوار قمیص۔ اس سیاہ پوشی کی وجہ سوچ ہی رہی تھی کہ خیال آیا آج محرم کی ساتویں ہے۔ عین اسی لمحے مادرِ ملت یوں گویا ہوئیں’ ’ہم چاروں کا رشتہ بہت مضبوط ہے، درد کا رشتہ، عزم کا رشتہ، We all suffered and suffered but we remained steadfast ۔ ہم جھکی نہیں، ہم ڈٹی رہیں، ہم نے وقت کے خدائوں کا انکار کیا، ہم نے جناح کے پاکستان کی خاطر قربانی دی، ہم نے جناح کے اصولوں کی خاطر قربانی دی۔‘‘ پھر مجھے کہنے لگیں تمھاری مریم بھی ہمارے قبیلے کی عورت ہے، اب ہمارا پرچم وہ اُٹھائے گی۔

مجھے ایک دم خیال آیا کہ قائدِ اعظم کو سلام کر لوں، پوچھنے پہ پتا چلا کہ بھٹو صاحب کے ساتھ واک پہ نکلے ہوئے ہیں، بس آتے ہی ہوں گے۔ اس دوران بے نظیر آپ کا بہت پوچھتی رہیں، مجھے تسلی دیتی رہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ نصرت بھٹو بلاول کے حوالے سے مختلف سوال کرتی رہیں، جب میں نے کہا وہ بہت ہونہار ہے اور ایک دن ضرور اپنی ماں اور نانا کی طرح ملک کا وزیرِ اعظم بنے گا تو پہلے تو بہت خوش ہوئیں لیکن پھر ایک دم خاموش ہو گئیں، کسی گہری سوچ میں ڈوب گئیں۔ ہم سب عورتوں کو معلوم تھا وہ کیا سوچ رہی ہیں۔ ہم چاروں گھنٹوں باتیں کرتی رہیں ، ہم چاروں کی مختلف کہانیاں تھیں، مگر دراصل ایک ہی کہانی تھی۔ جب ہمیں لگا محترمہ کچھ تھکنے لگی ہیں تو ہم نے اجازت لی، اور اُٹھ کھڑے ہوئے۔مادرِ ملت نے اُٹھتے ہوئے کہا کہ انشااللہ جلد دوبارہ اکھٹے ہوں گے اور اگلی دفعہ عاصمہ جہانگیر کو بھی بلائیں گے۔

جیسے ہی ہم باہر نکلے قائدِ اعظم اور قائدِ عوام ہماری ہی طرف آ رہے تھے۔سچی بات ہے میں توقائدِ اعظم کو یوں سامنے دیکھ کر ڈر گئی ۔ لیکن وہ بہت شفقت سے ملے، بھٹو صاحب بھی بہت گرم جوشی سے پیش آئے۔ قائدِ اعظم نے آپ کا ذکر بہت پیار سے کیا، کہنے لگے I am proud of Nawaz ۔اس پہ بھٹو صاحب کے چہرے پر ایک بے نام سا تاثر لرزا، قائد بھانپ گئے اور فوراً بولے :

Both Zulfi and Nawaz are my boys, both have erred when young, and both atoned for their sins later.

قائد نے مجھے آپ کے حوالے سے تسلیّ بھی دی، کہنے لگے کل ہی ڈاکٹر اقبال بتا رہے تھے انہوں نے ’قدسیوں سے سُنا ہے کہ ‘ Nawaz will be fine soon میں واپسی پہ سارا راستہ یہی سوچتی رہی نہ جانے کب ختم ہو گی آپکی مشکل، کب ملے گی آپ کو ان مشکلات سے رہائی۔

بائو جی، ایک بات اور آپ کو بتانا تھی، پہلے سوچا تھا نہ بتاوئں، آپکا دل بُرا ہو گا، لیکن میرے دل پر بھی بوجھ رہے گا، اس لئے بتا رہی ہوں۔ میں نے وہ وڈیو کلپ دیکھا ہے جسمیں آپ مرے سرہانے کھڑے مجھے آواز دے رہے ہیں، اتنے پیار سے، اتنے چائو سے۔ میرا دل ٹوٹ گیا بائو جی، میں سُن ہی نہیں سکی، کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ مجھے آواز دیں اور میں جواب نہ دوں، کاش میں سُن لیتی، ایک دفعہ آپکو دیکھ لیتی، گڑیا کے آنسو پونچھ دیتی، اور اُسے آخری دفعہ تاکید بھی کر دیتی کہ ’’میرے بائو جی کا خیال رکھنا‘‘۔

بائو جی، آپ کو یاد ہے نہ میں ہمیشہ آپ کو دُعا دیا کرتی تھی کہ اللہ میری عمر بھی آپ کو لگائے۔ مجھے انتہائی با وثوق ذرائع سے پتا چلا ہے کہ میری دُعا قبول ہو گئی ہے۔

آپ کی کلثوم

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں