’’کمبل ‘‘ بھی ہمیں چھوڑنے کو تیار ہے یا نہیں؟


جس میڈیا گروپ کا نام ہی ’’وال سٹریٹ‘‘ سے مستعار لیا گیا ہو وہ بین الاقوامی کاروباری اداروں کے علاوہ کسی اور کی ترجمانی کر ہی نہیں سکتا۔ جو قارئین اس سٹریٹ کی اہمیت سے ناآشنا ہیں انہیں محض یہ بتانا کافی ہوگا کہ وال سٹریٹ میں نیویارک کا سٹاک ایکس چینج قائم ہوا تھا اور ابھی تک وہاں موجود ہے۔ میرے اور آپ کے روزمرہّ استعمال میں آنے والی کئی اشیاء کی قیمتوں کا تعین اس گلی سے ہوتا ہے اور ’’جس کو ہو دین و دل عزیز‘‘ اسے اس گلی سے گریز کرنا چاہیے۔

بہرحال اس سٹریٹ کے نام سے جڑا ایک اخبار ہے جسے وال سٹریٹ جرنل کہا جاتا ہے۔ اشاعت کے اعتبار سے یہ کئی برسوں تک دنیا کا سب سے بڑا انگریزی اخبار سمجھاجاتا ہے۔ آج سے دس سال قبل اس کی روزانہ اشاعت ایک کروڑ دس لاکھ کاپیوں سے بڑھ چکی تھی۔ انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز متعارف ہوجانے کے بعد اس اشاعت کا کیا ہوا مجھے علم نہیں۔ اس کی ویب سائٹس پر چھپی خبریں اور مضامین اکثراوقات مفت نہیں پڑھے جاسکتے۔ اپنے صحافتی سودے (Content)کو یہ ادارہ اب ملٹی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فروخت کرنے والے اداروں میں بھی سرفہرست ہے۔

اس ادارے نے چند ہفتے قبل مختصر ترین دورانیے کی ایک دستاویزی وڈیو تیار کی۔ سوشل میڈیا پر یہ وائرل ہوچکی ہے۔اس ویڈیو کے ذریعے سادہ ترین لفظوں میں مجھ جیسے عالمی اور معاشی امور سے نابلد افراد کو بھی سمجھا دیا گیا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہوچکی ہے۔

ایک غریب ملک ہوتے ہوئے پاکستان دو ہاتھیوں کی لڑائی سے خود کو لاتعلق تصور کرسکتا تھا۔ وال سٹریٹ جرنل کی بنائی وڈیو مگر اصرار کرتی ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری اقتصادی جنگ کا پہلا میدان پاکستان ہے جسے چینی صدر نے اپنے One Belt One Roadوالے مشن کی تکمیل کے لئے CPECمنصوبوں کے لئے چنا ہے۔ CPECکو ناکام بنانا لہذا امریکہ کی مجبوری ٹھہری۔

عموماَ کسی منصوبے کو ناکام بنانے سے پہلے اسے ’’متنازع‘‘ بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ جان کی امان پاتے ہوئے میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری اقتصادی جنگ کا انجام جو بھی ہو فی الوقت  CPECکے مخالفین اسے ’’متنازع‘‘ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

25 جولائی 2018 کے بعد آئی عمران حکومت نے وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس میں سی پیک کا  Reviewکرنے کا فیصلہ کیا۔ کسی منصوبے پر ’’نظرثانی‘‘ کا فیصلہ اس کے بارے میں نئے سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ ایسے سوالات اُٹھے اور چند سوالات وزیر اعظم پاکستان کے ایک اہم ترین مشیر رزاق دائود کی جانب سے برطانیہ کے وال سٹریٹ جرنل جیسے سیٹھوں کے چہیتے اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کو دیئے ایک انٹرویو کے ذریعے اٹھائے گئے۔ رزاق صاحب نے یہ انٹرویو چھپنے کے بعد دعویٰ کیا کہ ان کی کہی باتوں کو ’’سیاق وسباق سے ہٹ کر‘‘ پیش کیا گیا۔اس انٹرویو کے ذریعے اٹھائے سوالات کی لیکن دوٹوک تردید نہیں ہوئی۔ اسی باعث پاکستان میں مقیم چینی سفیر نے آرمی چیف سے ملاقات ضروری تصور کی۔ اس ملاقات کے بعد جنرل باجوہ چین تشریف لے گئے اور وہاں مصروفیات کی وجہ سے پیر کے دن ڈاکٹرعارف علوی کی بطور صدر پاکستان نومنتخب پارلیمان کے اجلاس سے پہلی تقریر کی وی آئی پی مہمانوں کی گیلری میں بیٹھ کر سن نہیں پائے۔

صدر علوی کو اگرچہ اپنی تقریر میں CPECکی اہمیت کو اجاگر کرنا پڑا اور پاکستان کی جانب سے اس عہد کا اظہار بھی کہ اس کے تحت سوچے تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش ہوگی۔ امریکہ بھی لیکن پاکستان کا دیرینہ حلیف اور حریف رہاہے۔ اس ملک کا البتہ صدر علوی کی تقریر میں ذکر تک نہ ہوا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے امریکہ کو قطعاَ نظرانداز کرنے کا رویہ اختیار کرلیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک مشہور لطیفے والا ’’کمبل‘‘ بھی ہمیں چھوڑنے کو تیار ہے یا نہیں۔

قیامِ پاکستان کے صرف دو سال بعد 1949 میں اس ’’کمبل‘‘ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے لئے ایک رپورٹ تیار ہوئی تھی۔ آپ میں سے جو لوگ تحقیق کا حوصلہ رکھتے ہیں اس رپورٹ کو تفصیل سے پڑھنے کے لئے انٹرنیٹ کے ذریعے “Memorandum from the joint chiefs of staff” کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہ 24مارچ 1949 کے روز تیار ہوا تھا۔ اس رپورٹ میں صاف الفاظ میں لکھ دیا گیا کہ پاکستان وہ Obvious)غالباَ ہمارے موضوع کے تناظر میں اس کا ترجمہ فطری ہونا چاہیے) مقام ہے جہاں سوویت یونین کے خلاف خفیہ Covert آپریشن بآسانی چلائے جا سکتے ہیں۔ اس امکان کو نگاہ میں رکھتے ہوئے امریکہ کی عسکری قیادت نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کو ’’مضبوط اور توانا‘‘ بنایا جائے۔ ہمارے جنرل ایوب خان کو اس امریکی خواہش کا علم ہوگیا۔ اسی باعث انہوں نے بالآخر 1958میں پہلا مارشل لاء لگا کر اس ملک کو نالائق اور بدعنوان سیاست دانوں سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ اور اس کے حامیوں کو اگرچہ یہ بتایا گیا کہ ان کا انقلاب (درحقیقت) پاکستان کو کمیونزم سے بچانے کے لئے ضروری تھا۔

امریکہ میں جو افراد پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل وغیرہ کے بارے میں پریشان ہوئے انہیں ایوب خان صاحب نے بہت پیار سے یہ سمجھایا کہ پاکستانی عوام کو وہ شعور حاصل کرنے کے لئے ’’چند دہائیاں‘‘ درکار ہیں جو ووٹ کے حق کو اپنے لئے صحیح رہنما چننے کے لئے استعمال کرسکیں۔ ان کی بات پر اعتبار ہوا اور 1960 کے عشرے کے ابتدائی سالوں میں قومی بجٹ کا 65 فیصد حصہ پاکستان کو عسکری اعتبار سے مضبوط وتوانا بنانے پر خرچ کرنا پڑا۔

 2018 تک پہنچ کر ہی ہمارے عوام بالآخر وہ شعور حاصل کر پائے ہیں جو فیلڈ مارشل ایوب خان صاحب نے ووٹ کے حق کو ’’صحیح رہ نما‘‘ کے انتخاب کے لئے ضروری تصور کیا تھا۔عمران خان اور تحریک انصاف کی 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں کامیابی اس شعور کا مظہر ہے۔ شاید اسی باعث اپنی ہر دوسری تقریر میں عمران خان صاحب فیلڈ مارشل ایوب خان کو انتہائی عقیدت واحترام سے یاد کرتے پائے جاتے ہیں۔ ایوب خان سے عمران خان کی محبت کا اظہار فیلڈ مارشل کے پوتے عمر ایوب کو وزارت سونپنے کی صورت بھی ہوا ہے۔

“کمبل‘‘ مگر 2018 میں نظر آنے والے ’’شعور‘‘ کو 1950 سے پاکستان پر ہوئی مختلف النوع سرمایہ کاری کا پھل تصور کرتا ہے۔ ہم سے انہیں جفا کی نہیں وفا کی امید ہے۔ ہم بے نیاز ہو گئے تو وہ تسلیم کی خو ڈال کر بھی اپنا کام کسی نہ کسی صورت نکلوانے کی کوشش کریں گے۔ مجھ جیسے کاہل اور رزق کے محتاج صحافی کو فقط یہ دیکھنا ہوگا کہ کیسے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں