عوامی مسائل اور حکومتی ترجیحات


فیاض احمد

fayyaz2مملکت خداداد پاکستان میں تواتر کے ساتھ قومی سطح پر مختلف موضوعات پر ایسے طوفان امڈ آتے ہیں جو ریٹنگ کے پیاسے نیوز چینلوں کے ذریعے حکمرانوں اور سیاسی طبقے سے ہوتے ہوئے معاشرے کے عام و خواص کو نرغے میں لیتے ہیں لیکن چند ہفتوں یا مہینوں کے بعد یاد ماضی کے زمرے میں چلے جاتے ہیں۔

سیانے دلیل دیتے ہیں کہ ملک میں گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ اطلاعات کی رسائی کے ذرائع کی بہتات سے قومی زندگی کی تھیٹر کو گرم رکھنا ایک فطری عمل ہے اور منفی پہلو کے ساتھ مثبت نتائج کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہم اتفاق کرتے ہیں لیکن سوال اٹھتا ہے کہ عوامی اور بنیادی مسائل ترجیحات میں کیوں شامل نہیں ہو سکتے؟ پچھلے سال غیر سرکاری ادارے پلڈاٹ نے پاکستان کے عوامی نظر میں سب سے بڑے مسائل کی رینکنگ جاری کی تھی۔ سروے کے مطابق جن تین بڑے مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی ان میں توانائی بحران 25 فیصد، بے روزگاری 19 فیصد اور سیکیورٹی 14 فیصد۔ عوام کی نظر میں پہلے تین بڑےمسائل قرار دیئے گئے تھے۔

کی یہ مسائل اسی طرح اقتدار کے ایوانوں میں بھی ترجیحی بنیادوں پر زیر بحث ہیں؟

اب مذکورہ تمہید پر مندرجہ ذیل سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں:

(1)نان ایشوز کے بجائے اصلی یا حقیقی مسائل کو کیوں ترجیحات میں شامل نہیں کیا جا سکتا؟

(2) دوم ہمہ گیر خطرات اور قومی مفادات کا تعین کون کرے گا؟

ان سوالوں کی تفصیل میں عوام کی نظر میں مسائل کی درجہ بندی کو پہلے واضح کیا گیا ہے اور عوام کی رائے میں پاکستان کے 3 بڑے مسائل توانائی بحران، بے روزگاری اور امن وامان ہیں۔ اسی طرح حکومتی سطح پر سب سے اہم مسائل کا تعین اور ایک نظام کے تحت اس کو حل کرنے کے لیے اہداف مقرر کئے جاتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک میں کمزور نظام کی وجہ سے حکومتیں حقیقی اور دیر پا مسائل پر قابو پانے کے بجائے ذاتی یا مفاداتی عنصر کے تابع ہوتی ہیں۔ توانائی بحران کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے جس کی اثرات تقریبا 14 سال پہلے شروع ہوئے تھے اور 7 سال بعد لوڈشیڈنگ کی شکل میں عوام نے بڑی شدت سے محسوس کرنا شروع کیا تھا۔

اس کے ساتھ بین الاقوامی طور پر بھی مختلف ادارے سروے اور ریسرچ کے بعد معاشی اورسیکیورٹی جیسے کئی اہم معاملات پر ملکوں کے رینکنگ جاری کرتے ہیں جس کے تحت پالیسی ساز ادارے ان مسائل کو سنجیدگی سے محسوس کریں۔ ورلڈ اکنامک فورم کے 2015۔ 2016 کی رپورٹ میں پاکستان کو 140ممالک میں 126واں کرپٹ ترین ملک ڈکلیئر کیا گیا ہے۔ اسی طرح 2000 کے بعد دہشت گردی کے اعداد وشمار اور سٹڈی کے بعد پچھلے سال گلوبل ٹیررازم انڈیکس نامی ادارے نے عراق، افغانستان اور نائیجیریا کے بعد پاکستان کو دہشت گردی اور سیکیورٹی کے حوالے سے چوتھے نمبر پر درجہ بندی میں شامل کیا تھا۔ ان حقائق کی روشنی میں چند اور اہم سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔

(1)کیا حکومت، سیاسی جماعتیں، معتبر ادارے، سول ساسوئٹی، میڈیا اور عوام ان مسائل بلکہ خطرات کو محسوس کرتے ہیں ؟

(2)پالیسی ساز اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کے پاس وژن اور جامع نظام موجود ہے؟

(3)اپوزیشن، سول سوسائٹی، ماہرین اور میڈیا اہداف کو حاصل کر نے کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں؟

(4)داخلی سیکیورٹی، خارجہ پالیسی، تازہ واقعات اور عوامل کے بعد اپنے آپ کو چھوٹے اور بڑے سمجھنے والوں کا صفحہ ایک ہے؟

ان سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کے لیے راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ٹی وی آن کرو، سوشل میڈیا پر جاؤ، ایڈیٹوریل پیج کے ساتھ اخبارات سے مستفید ہو۔ آپ خود اطلاعات کی آسان رسائی سے قومی زندگی کی تھیٹر میں ملک کے بنیادی، ہنگامہ خیز اور عوامی مسائل سے محظوظ ہوسکیں گے۔ تو اس ساز گار حالات میں بدقسمت عوام کا خوش قسمت حکمران طبقہ سب سے پہلے پاکستان، پاکستان کھپے، نیا پاکستان، ایشین ٹائگیر پاکستان اور اسلامی پاکستان کی صداؤں میں ہم سب کا پاکستان سے اپنی مفادات کا تحفظ جاری رکھیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments