بابا جان: ہمالیہ کے دامن میں بنتی کہانی


mustafaمیکسم گورکی اپنے عظیم ناول “مدر” جس کا اردو میں ترجمہ ماں کے نام سے ہوا ہے، میں لکھتے ہیں کہ ہمیں زندگی کی غلیظ دلدل کے اوپر سے ایک ایسا پل تعمیر کرنا ہے کہ جو ہمیں اس مستقبل کی طرف لے جائے جہاں انصاف، برابری اور خوشخالی کا راستہ ہو۔ گورکی کا یہ ناول روس کے شہر سوروموو کے فیکٹری مزدوروں، ان کے رہنما پاول اور اس کی ماں پیلیگیا نیلونا کے گرد گھومتا ہے۔ یہ ناول جابروں کے خلاف کھڑے ہونے اور پھر اس کے بعد آنے والی مشکلات میں ڈٹے رہنے کا سبق دیتا ہے۔ناول کے آخر میں اس کے کرداروں کو سائبیریا کی بے رحم سردی میں سخت سزا کاٹنے کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔ اس ناول کا شمار دنیا کے ان چند بڑے ناولوں میں ہوتا ہے جن کو لوگ آج بھی بڑے ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں۔

اسی طرح کی شاعرانہ تخلیقات ترکی کے عظیم اور قومی شاعر ناظم حکمت کی بھی ہیں۔ جنہوں نے اپنی نظموں میں شیخ بدر الدین کی سوشلسٹ تحریک کو آگے بڑھایا۔ شیخ بدرالدین نے 1416ء میں اناطولیہ کے سلطان کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ جس کا مقصد زمینوں کو عوام میں برابر تقسیم کرنا اور حد سے بڑھے ہوئے استحصالی ٹیکسوں کو روکنا تھا۔ شیخ بدر الدین اور ان کے ساتھیوں کو اس بغاوت کی پاداش میں پھانسی دے دی گئی۔ جبکہ ناظم حکمت کو اس واقعے کے گزرنے کے کئی سال بعد شیخ بدر الدین کے نظریات کو فروغ دینے کے جرم میں جیل میں ڈال دیا گیا۔ اور پھر ان کی اسیری نے ایسا طول کھینچا کہ یہ ان کی زندگی کے 28 قیمتی سال چاٹ گئی۔ پکاسو، سارترے Baba Janاور پیبلو نیرودا جیسے عظیم فنکاروں اور دانشوروں کے احتجاج کے بعد بالآخر حکومت کو انہیں رہا کرنا پڑا۔ لیکن ترکی میں ان کی کتابوں پر پابندی برقرار رہی۔ ناظم حکمت نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے روس ہجرت کرلی۔ باقی ماندہ زندگی وہیں پر گزاری اور وفات کے بعد یہ ترکی کے سپوت اور قومی شاعر روس ہی میں دفن ہوئے کیونکہ ان کے لئے اپنے وطن میں دوگز زمین بھی نہ تھی۔

ایک نئی کہانی ہمالیہ کے پربتوں کے بیچ ترتیب پانے جا رہی ہے۔ پاول، بدر الدین اور بھگت سنگھ کے آدرشوں کی خاطر قربانی دینے والے اب بابا جان ہیں۔ بابا جان کی سیاسی جدوجہد کا پس منظر گزشتہ دنوں ‘ہم سب ‘ میں اسرار بھائی کے کالم میں پڑھا جا سکتا ہے۔ میں اس طرف نہیں جاؤں گا کہ تکرار کا اندیشہ ہے۔ میں بابا جان کی تحریک کو ایک ایسی تحریک کے طور پر دیکھتا ہوں جس نے گلگت بلتستان کے اندر عوامی حقوق کی جنگ لڑنے والوں کو اک نئی جہت، نیا شعور اور نیا ولولہ دیا ہے۔ اب ساٹھ سالوں سے محرومی میں پسے لوگوں کی جدوجہد کو بابا جان کا جذبہ ایک نئی روشنی عطا کرے گی۔

دیکھیں بابا جان کے الیکشن کیمپین سے پہلے ہمیں کوئی خاتون الیکشن کیمپین میں نظر نہیں آتی تھی مگر بابا جان کی خاطر ہزاروں خواتین پہلی دفعہ جدوجہد کا حصہ بنی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک چمک ہے۔ وہ چمک اور سکون جو ایک عظیم جدوجہد کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ ہمارے بچے بابا جان کی تصویر اور ان کی پارٹی کے جھنڈے لہرا کر بابا جان سے اپنی وابستگی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ شاعر بابا جان پر گیت لکھ رہے ہیں، گلوکار بابا جان کے گیت گا رہے ہیں۔ نوم چومسکی اور طارق علی سمیت دنیا کے چوٹی کے دانشور بابا جان کی Baba Jan Womenرہائی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ پاکستان، جرمنی، لندن، آسٹریلیا اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں بابا جان کے چاہنے والے مظاہروں کی صورت میں اپنے ضمیر کی آواز بلند کر چکے ہیں۔ بہرحال ان تمام باتوں کی موجودگی میں بھی گلگت اور ہنزہ کے کچھ خود ساختہ تعلیم یافتہ لوگوں کو فقط بابا جان کے ‘اعلی تعلیم یافتہ’ نہ ہونے پر اعتراض ہے۔

ایک ماہ قبل لندن میں بھگت سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پریتم سنگھ نے کہا کہ جدوجہد کے دنوں میں بھگت سنگھ انڈیا کے لوک گیتوں اور کہانیوں کا کردار بن گئے تھے۔ بابا جان بھی ہمالیہ کے بیچ بسنے والے دیہاتوں کے لوک گیتوں کا کردار بنتے جارہے ہیں۔

BABA jAN PROTEST IN kARACHIجون کے دوسرے ہفتے میں گلگت بلتستان کے اس عظیم سپوت کا مقابلہ اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ لوگوں سے ہونے جارہا ہے۔ باباجان جیل سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ انہیں کمپین چلانے کی اجازت نہیں اور نہ ہی انہیں گلگت بلتستان کے مقامی صحافیوں سے ملنے کی اجازت ہے۔ شاید وہ الیکشن جیت جائیں شاید وہ الیکشن ہار جائیں۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں،سوچوں کو جیت چکے ہیں اور ان کے لئے آدرش بن چکے ہیں۔

تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ یہ ہمیشہ خود کو دہراتی رہی ہے۔ تاریخ کے اپنے اصول ہیں۔ یہاں پاول، بدرالدین، ناظم حکمت اور بھگت سنگھ ہار کر بھی جیت جاتے ہیں۔ بابا جان بھی جیت چکے ہیں۔ وہ آزادی اور جبر کے سامنے انکار کا ایک روشن مینارہ ہیں۔ ان کی ہار بے معنی اور ان کی جیت یقینی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “بابا جان: ہمالیہ کے دامن میں بنتی کہانی

  • 30-05-2016 at 1:08 am
    Permalink

    Well written

Comments are closed.