کیا گورداسپور اور کشمیر کا پاکستان میں شامل نہ ہونا جماعت ِ احمدیہ کی سازش تھی؟


روزنامہ پاکستان لاہور 17 ستمبر 2018 میں ڈاکٹر شہزاد صاحب کا ایک مضمون ‘مسئلہ احمدیت: کیا یہ صرف مذہبی مسئلہ ہے؟’ کے نام سے شائع ہوا۔ اس میں جماعت ِ احمدیہ پر بہت سے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس مضمون میں ان میں سے ایک الزام کے بارے میں حقائق پیش کئے جائیں گے۔ لیکن اس سے بھی پہلے اس مضمون کا عنوان قابل ِ توجہ ہے۔ احمدیت کسی مسئلہ کا نام نہیں ہے ایک مسلک کا نام ہے۔ مضمون نگار ، پڑھنے والے اس سے متفق ہیں یا اختلاف رکھتے ہیں اس سے قطع نظر ‘احمدیت’ ایک عقیدہ یا ایک مسلک تو کہلا سکتا ہے لیکن ڈاکٹر شہزاد صاحب نے کس بناء پر اسے ‘مسئلہ احمدیت ‘ کا نام دے دیا ہے۔

اس مسئلہ کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہم اس مضمون میں درج ایک اہم الزام کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں

“ستر سال بعد جب متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ ہونے لگا تو مرزا کے احمدی پیروکاروں نے بطور جماعت انگریز سرکار سے یہ کہہ کر خود کو مسلمانوں سے الگ کر لیا کہ “ہم ایک الگ وجود رکھتے ہیں اور یہ کہ جن لوگوں کو تم مسلمان کے طور پر گن گن کر ضلعی تقسیم کر رہے ہو وہ ‘مسلمان’ اور ہیں اور اصل مسلمان ہم ہیں۔ ہمیں ان لوگوں میں نہ گنا جائے۔” ڈاکٹر شہزاد صاحب نے یہ عبارت inverted commasمیں درج کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جماعت ِ احمدیہ کے موقف کی لفظ بلفظ عبارت پیش کر رہے ہیں۔ڈاکٹر شہزاد صاحب تقسیم ِ برصغیر کے وقت باونڈر ی کمیشن کی کارروائی کا ذکر کر رہے ہیں ۔ جب پنجاب کو تقسیم کیا گیا تھا اور یہ فیصلہ ہو رہا تھا کہ کون سا ضلع پاکستان کے پنجاب کا حصہ بنے گا اور کون سا ضلع بھارت کے پنجاب کو ملے گا۔اس کے بعد مضمون نگار لکھتے ہیں کہ احمدیوں کے اس موقف کی وجہ سے گورداسپور کا ضلع پاکستان کی بجائے بھارت کو دیا گیا اور اس کے نتیجہ میں پاکستان کو صرف یہی نقصان نہیں اُ ٹھانا پڑا بلکہ جب گورداسپور کا ضلع بھارت کو مل گیا تو اس سے بھارت کو کشمیر تک کا راستہ بھی مل گیا اور کشمیر بھی پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیااور اس حرکت کی وجہ سے دونوں ملکوں کے کھربوں روپوں کا نقصان ہوا اور لاکھوں جانیں علیحدہ ضائع گئیں ۔ اس کے بعد ڈاکٹر شہزاد صاحب لکھتے ہیں کہ اگر احمدیوں میں سچ بولنے کی ہمت ہے تو وہ خود مان لیں کہ اس نازک موقع پر وہ خود مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے تھے۔

قادیان کے تاریخی آثار

ڈاکٹر شہزاد صاحب کے اس دعوے کے بارے میں عرض ہے کہ اب تقسیم ِ پنجاب کے کمیشن کی مکمل کارروائی کو شائع ہوئے تیس سال سے بھی زائد عرصہ گذر چکا ہے ۔ اور جنرل ضیاء صاحب کے دور میں حکومت ِ پاکستان کے ایک ادارے نے یہ سب کاغذات اشاعت کے لئے جاری کئے تھے۔اس کمیشن کے روبرو دونوں طرف سے بہت سی تنظیموں اور مسالک کے میمورنڈم پیش کئے گئے تھے۔ ایک میمورنڈم جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے بھی پیش کیا گیا تھا۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ قادیان تحصیل بٹالہ(ضلع گورداسپور)میں ہے۔ ایک میمورنڈم مسلم لیگ بٹالہ نے بھی پیش کیا تھا۔ہم ان کا مختصر ذکر کریں گے جس سے اس الزام کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔یہ ساری کارروائی The Partition of The Punjab 1947کے نام سے چار جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ اس کی پہلی جلد کے صفحہ 428سے 449پر جماعت احمدیہ کا موقف ایک میمورنڈم کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ ہم بڑے افسوس سے عرض کرتے ہیں کہ اس مضمون میں جو جملے جو ڈاکٹر شہزاد صاحب نے جماعت ِ احمدیہ کی طرف منسوب کئے ہیں یا اس سے ملتے جلتے جملے کہیں پر نہیں پائے جاتے ۔ ڈاکٹر شہزاد صاحب نے واضح غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ اس وقت مغربی پنجاب پاکستان میں شامل ہو رہا تھا اور مشرقی پنجاب بھارت کا حصہ بنایا جا رہا تھا ۔ جماعت ِ احمدیہ کا میمورنڈم تو شروع ہی اس بات سے ہوتا ہے

“Being the headquarters of Ahmadiyya community Qadian should be placed in Western Punjab because”

ترجمہ : جماعت ِ احمدیہ کا مرکز ہونے کی وجہ سے ان وجوہات کی بناء پر قادیان کو مغربی پنجاب میں شامل کرنا چاہیے۔

اور پھر لکھا ہے کہ قادیان جس ضلع میں ہے (یعنی ضلع گورداسپور) وہ واضح طور پر مسلم اکثریت کا ضلع ہے اور اس کے بعد لکھا ہے کہ

“The Headquarters of the Ahmadiyya community , an important religious section of the Muslims, having branches all over the world, is situated in the District of Gurdaspur.”

ترجمہ: جماعت ِ احمدیہ جو مسلمانوں کا ایک اہم فرقہ ہے اور اس کی شاخیں دنیا بھر میں ہیں اس کا ہیڈ کوارٹر ضلع گورداسپور میں ہے۔

(The Partition of The Punjab 1947Vol 1, published by Sang-e –Meel 1993, p 428)

وائسرائے نے بیان دیا تھا کہ ضلع گورداسپور میں مسلمانوں کی معمولی اکثریت ہے اور اس لئے یہ سارا ضلع پاکستان میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت ِ احمدیہ کے میمورنڈم میں اس وائسرائے کے بیان کردہ اعداد و شمار کو غلط ثابت کیا گیا تھا ۔ اور یہ اظہار کیا گیا تھا کہ کسی بھی معیار کے تحت یہ غیر قانونی ہوگا اگر بٹالہ ، گورداسپور اور شکر گڑھ کی تحصیلوں کو بھارت میں شامل کیا جائے۔

اس وقت احمدیوں کی تعداد کو مسلمانوں میں شامل کر کے ہی ضلع گورداسپور میں مسلمانوں کی اکثریت بنتی تھی ۔ مسلم لیگ بٹالہ نے جو میمورنڈم اس کمیشن کے روبرو پیش کیا اس میں ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ مسلمانوں میں سے قادیانیوں کے لئے قادیان ایک مقدس مقام ہے ۔ اور قادیانی واضح طور پر پاکستان کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔حوالہ درج کیا جا رہا ہے ۔ ہر کوئی اسے چیک کر سکتا ہے۔

(The Partition of The Punjab 1947Vol 1, published by Sang-e –Meel 1993, p 472)

سوال و جواب کے دوران جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل شیخ بشیر احمد صاحب نے پھر اس موقف کو دہرایا

“Qadian should fall within the area of Pakistan .”

ترجمہ: قادیان کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے۔

اس کمیشن کے لئے کانگرس نے جو دو جج نامزد کئے تھے ان میں سے ایک جسٹس تیجا سنگھ بھی تھے۔ اس موقع پرا نہوں نے پاکستان کے موقف کو کمزور کرنے کے لئے سوال کیا۔

“What is the position of Ahmadiyya community as regards Islam.”

ترجمہ: اسلام میں جماعت ِ احمدیہ کی کیا پوزیشن ہے۔

اس پر جماعت ِ احمدیہ کے وکیل نے جواب دیا

“They claim to be Mussalmans first and Mussalmans last. They are part of Islam.”

ترجمہ: وہ اوّل سے آخر تک مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں ۔ اور وہ اسلام کا حصہ ہیں۔

(The Partition of The Punjab 1947Vol 2, published by Sang-e –Meel 1993, p250)

اس مضمون کا موضوع کوئی مذہبی بحث نہیں ہے۔ ڈاکٹر شہزاد صاحب کے کالم میں غلط بیانی کر کے ایک تاریخی اعتراض جماعت ِ احمدیہ پر کیا گیا تھا اور اس مضمون میں اس کی مکمل تردید کے لئے حوالے درج کر دیئے گئے ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر شہزاد صاحب نے کوئی حوالہ درج کرنے کی زحمت نہیں کی تھی ۔ جب بھی ایسا مضمون شائع ہوتا ہے تو بعض تبصروں میں ‘کافر مرتد زندیق ‘ کے القابات کی تکرار شروع ہوجاتی ہے۔ اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں اور نہ اس مضمون میں یہ بحث کی جا رہی ہے کہ کون کافر ہے اور کون مسلمان۔ ڈاکٹر شہزاد صاحب نے جو دعویٰ کیا ہے ، وہ خود یا ان کے ہمنوا اس کی تائید میں اس کمیشن کی شائع کردہ کارروائی سے حوالہ پیش کر دیں ۔ ہمارے لئے یہی کافی ہوگا۔ یہ مضمون ڈاکٹر شہزاد صاحب کی خدمت میں بھی بھجوایا جائے گا۔ ان کے جواب کے بعد اس مضمون میں درج باقی نکات کے بارے میں کچھ عرض کی جائے گی۔ اگر ڈاکٹر شہزاد صاحب کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے تو پھر یہ حقیقت واضح ہے کہ مسئلہ ‘احمدیت ‘ نہیں ہے ڈاکٹر شہزاد صاحب اور ان جیسے مضمون نگار پاکستان کے لئے ایک مسئلہ بن چکے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں