جا بیٹی اب سسرال سے تیرا جنازہ ہی اٹھے – اٹھ گیا


بانو قدسیہ آپا بھی خوب تھیں، مجھے ذہین عورتوں سے نفرت ہے، کم بخت بلا کی جھوٹی ہوتی ہیں، سندس اقبال بھی ایک ایسی ہی جھوٹی عورت تھی۔ جو شوہر کی مار پیٹ کو بلش آن کی لالی سے چھپا کر ایسے فراٹے سے جھوٹ بولتی تھی کہ بڑے بڑوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجاتی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کسی روز دفتر دیر سے پہنچتی تو بچے کی بیماری کا جھوٹا بہانہ بناتی۔ کھانا نہ کھانے اور اکتاہٹ پر سر درد کا بہانہ، بات بے بات آنکھوں میں آنسو ہوتے تو آنکھ میں تنکہ پڑ جانے کا بہانہ تیار ہوتا۔ یقین نہیں آتا تو اس کی سوشل میڈیا پوسٹ ملاحظہ فرمائیں جس میں وہ لوگوں کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتی نظر آتی ہے۔ ذہنی اذیت جسمانی اذیت سے کم ڈرامائی معلوم ہوتی ہے لیکن یہ جسمانی اذیت سے زیادہ عام ہے بلکہ اس کو سہنا بھی زیادہ مشکل ہے۔ ذہنی اذیت کو چھپانے کی بار بار کوشش انسان کو مزید بوجھل کردیتی ہے، یہ کہنا زیادہ آسان ہے کہ میرے دانت میں درد ہورہا ہے بہ نسبت اس کے کہ میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔

اسی پر بس نہیں۔ یہ بی بی اتنی بڑی جھوٹی تھی کہ، مرتے وقت جب بڑے بڑے طرم خان بھی سیدھے ہوجاتے ہیں، وہ اس وقت بھی جھوٹ بولنے سے باز نہ آئی، اپنی کولیگ کو صبح ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے دفتر پہچنے کی یقین دہانی کرائی، صبح خود تو دفتر نہ پہنچی ہاں ساس اور شوہر کی مہربانی سے سندس کی خودکشی کی خبر ضرور ٹائم سے پہلے پہنچ گئی۔ شوہر کے مطابق، رات گئے گھریلو جھگڑے پر سندس نے گلے میں پھندا ٖڈال کر خودکشی کرلی۔ اب آپ یہ نہ سوچنے لگ جائیے گا کہ، کیا پتا ساس اور شوہر نے ملکر سندس کو قتل کردیا ہو؟

نہ نہ نہ، توبہ کیجیے توبہ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھلے ہی کہتی ہو کہ سندس کی موت گلے میں پھندا لگانے سے نہیں ہوئی، بلکہ طریقہ واردات کچھ اور ہی تھا، لیکن سندس کی ساس تو انتہائی نمازی پرہیز گار خاتون ہیں، زیادہ وقت جائے نماز پر گزرتا ہے، ہاتھ میں تسبیح اور لبوں پر ورد جاری رہتا ہے ایسی شریعت کی پابند خاتون پر قتل کا الزام سوچتے ہوئے بھی آپ لوگوں کو شرم آنی چاہیے۔ بہرحال پولیس نے نہ صرف ایسا سوچ لیا ہے، بلکہ شوہر اور ساس کو قتل کے الزام میں گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔

سندس اقبال کے پروفائل سے ان کی تصویر

سندس مر گئی، اسے مرنا ہی تھا، جس معاشرے میں عورت کا باہر نکلنا ہی جرم سمجھا جاتا ہو، اس معاشرے میں وہ نہ صرف زندہ تھی بلکہ تمام تر مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کی جستجو لگن اور کامیابی کے لیے پرامید بھی تھی۔ ارے بی بی اگر ماں باپ نے یونیورسٹی کی شکل دکھا ہی دی تھی توکافی تھا، ایم اے اکنامکس کی ڈگری تمہارے لیے کافی نہیں تھی کہ، سی اے کا بکھیڑا بھی پال لیا۔ دو چھوٹے چھوٹے بچوں کی ماں ہوتے ہوئے بھی دفتر کا روگ بھی پالا ہوا تھا۔ اسی پر بس نہیں، اپنے حالات بدلنے اور بچوں کو بہتر مستقبل کا خواب دلانے کی کچھ ایسی دھن سوار تھی کہ۔ سی۔ ایس۔ ایس کرنے کی بھی ٹھان رکھی تھی۔

بی بی تم گھر سے باہر بھلے سے کوئی بھی کارنامے انجام دیتی پھرو۔ کامیابی کے جھنڈے گاڑتی رہو، پوری دنیا مل کر بھی تمھاری شرافت، کردار اور اعلیٰ کارکردگی کے گن گاتی ہو تب بھی، رہو گی تو ایک کمزور عورت ہی نہ جس کا پالا ان لوگوں سے پڑتا ہے جو لوگوں کے کس بل نکالنے کا ہنر جانتے ہیں اور عرف عام میں سسرال والے کہلاتے ہیں۔

گزارو گھر سے باہر پورا دن، لیکن بچ کے کہاں جاؤ گی۔ واپس تو گھر میں ہی آنا پڑے گا نہ، جہاں کھانے میں، ساس، نندوں کے زہر آلود طعنے ہوں گے اور پانی کی جگہ صبر کے گھونٹ۔ جو آغاز میں تو صبر شکر سے برداشت کرلیے جاتے ہیں لیکن ایک وقت آتا ہے کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں کوئی کم پڑھی لکھی، یا پڑھی لکھی جاہل عورت ہو تو خوب سرکس جمتا ہے، لیکن تمھاری جیسی پڑھی لکھی مشرقی عورت ٹکرا جائے جسے سسرال والے چپ گھنی ہونے کا طعنہ دیتے نہیں تھکتے تو اسے سوائے آنسوبہانے کے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ لاڈ اٹھانے والے ماں باپ کے پاس بھی بس ایک ہی ہتھیار ہوتا ہے جو وہ اپنی لاڈلی کو تھما دیتے ہیں۔ صبر کا ہتھیار، صبر کرو بیٹی صبر، دیکھنا ایک وقت آئے گا کہ تمھارا اپنے گھر پر راج ہوگا۔

جان سے پیارے، قابل احترام عزیز والدین، آخر ہم اپنی بیٹیوں کو کب تک طفل تسلیاں دیتے رہیں گے۔ یہ وہی بیٹی ہے جسے آپ نے شہزادیوں کی طرح پالا اور عزت سے جینا سکھایا ہے۔ جس نے کبھی معاشرے میں آپ کا سرنیچا نہیں کرایا۔ یہ وہی بیٹی ہے جو جتنی بھی قابل خودمختار ہوجائے اس کے لیے ماں باپ کا کہا حرف آخر ہوتا ہے۔ اپنے ماں باپ کی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ جو شوہر اور سسرال والوں کا ہر ناروا رویہ صرف اس لیے برداشت کرتی ہے کہ کہیں اس کے والدین کی تربیت پر حرف نہ آئے۔

سندس اقبال کے پروفائل سے ان کی تصویر

سندس کے بھائی نیول کمانڈر سعد اقبال کا شکوہ ہے سسرال والوں نے اس کی قابل بہن کی قدر ہی نہیں کی۔ پورا خاندان مل کر سندس کو ذلیل کرتا، لیکن اس کا شوہر اپنے بہن بھائیوں کا منہ بند کروانے کے بجائے، بیوی کو مزید ذلیل کرتا۔ یہ ہنگامے اس وقت زیادہ زور پکڑتے جب سندس کے سی۔ اے کے امتحانات سر پر ہوتے تاکہ وہ ذہنی اذیت کے باعث اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے۔ اس کے باوجود وہ سی۔ اے فائنل تک رسائی حاصل کرچکی تھی۔

پیارے بزرگوں بیٹی کے راج کے خواب دیکھنا اور دکھانا بند کیجیے۔ آپ کی بیٹی زندہ بچے گی تو، راج کرے گی۔ یہ صرف ایک سندس کی کہانی نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی نوے فیصد عورتوں کی کہانی ہے۔ اس میں امیر غریب، پڑھی لکھی یا نا خواندہ کسی کی تخصیص نہیں۔ یہ وہ عورتیں ہیں جنہیں رخصتی کے وقت کہا جاتا ہے کہ جا بیٹی اب سسرال سے تیرا جنازہ ہی اٹھے، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہ دعا ہے یا بد دعا۔ پیارے والدین، آپ کی عزت کی لاج رکھتے رکھتے آپ کی لاڈلی تھک کے نڈھال ہوگئی ہے۔ کیا اس نے گھر سے بھاگ کے شادی کی تھی؟ جو وہ شوہر اور سسرال والوں کے رحم و کرم پر آگئی؟ اور اس کے اپنوں نے، اس کے سگوں نے اپنی زبان بند کرلی، کہ کہیں دو ٹوک بات کرنے پر ساس صاحبہ ناراض نہ ہوجائیں۔

خدارا اس پر رحم کیجیے۔ اور یہ سوچیے کہ اپنی لاڈو رانی کا بھلا سوچتے ہوئے کہیں انجانے میں آپ اس کے سسرالیوں کے ہاتھ مضبوط تو نہیں کررہے۔ کہیں کوئی بیٹی سندس کی طرح قتل ہورہی ہے، تو کہیں بات خودکشی تک جا پہنچتی ہے، کہیں روز روز کے جھگڑوں نے خواتین کو کمزور اعصاب کا مالک بنادیاہے تو کہیں ڈپریشن کا مریض۔ آپ کی بیٹی، اپنے والدین کی محبت اور عزت کی خاطر سولی پر لٹکی ہے، خدارا اسے اپنی محبت کی ایسی کڑا سزا نہ دیجیے۔ بڑھ کے اس کا ہاتھ تھام لیجیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

بینش صدیقہ کی دیگر تحریریں
بینش صدیقہ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں