روٹھی دنیا سے راضی کہانیاں


کہانی ملا نہیں کرتی، اسے بھگا کر لانا پڑتا ہے۔ اس کے گھر کے صحن میں، جو دنیا سے بھی زیادہ وسیع ہے، قدم رکھو تو وہ بالوں میں کنگھی کرتی نظر آئے گی۔ بالوں میں پھولوں کی جگہ ستارے دمکتے دکھائی دیں گے۔ تم کہو گے: ”میرے ساتھ چلو۔ ‘‘ وہ کہے گی: ”چلو۔ ‘‘ کہانی کو بھگا لینے کے شوقین کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہے گا۔ وہ اسے گھر لے آئے گا۔ اس رات اسے اتنی گہری اور میٹھی نیند آئے گی، جو زندگی میں کبھی نصیب نہ ہوئی ہو گی۔ جاگنے پر وہ دیکھے گا کہ پہلو میں کوئی بھی نہیں۔ وہ سوچے گا کہ کیا اسے پھر کہانی کو ڈھونڈنا پڑے گا۔ اتنے میں اسے اپنے آپ میں سے آواز آئے گی، ”لکھ!‘‘ وہ لکھتا رہے گا۔ یہ الگ بات کہ اس کے بعد اسے گہری، میٹھی نیند کبھی نہ آئے گی اور خوشی تو رہی ایک طرف، اس کا اپنا کوئی ٹھکانا بھی نہ رہے گا۔ کہانی ظالم محبوبہ ہے۔

تو آخر اصغر ندیم سید کہانی کو بھگا کے لے آئے۔ کہانی نے شاید سوچا ہو کہ چلو، ایک اور آدمی راہِ راست پر آ گیا۔ کچھ لحاظ اس لیے کر لیا کہ آتے آتے بہت دیر تو کی لیکن آیا تو سہی۔ کہانیاں لکھنا اچھا کام ہے۔ شاید شاعری کرنے اور ٹی وی کے لیے ڈرامے لکھنے سے بھلا۔ شاعری تو ان کہانیوں میں، شکر ہے، اصغر ندیم سید نے نہیں کی لیکن کچھ ایسی کھینچاتانی ضرور ہوئی ہے کہ ڈراموں کی دھجیاں کہانیوں کے ساتھ لپٹ کے آ گئی ہیں۔

اس مجموعے کی ساری کہانیاں بٹوارے، تقسیم، خون خرابے اور نا انصافی سے متعلق ہیں۔ انہیں طنزِ مسلسل بھی کہا جا سکتا ہے یا ایسی نوحہ گری جس پر طنز کا گمان ہو۔ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ طنز کا پلڑا زیادہ بھاری ہو گیا ہے اور جب کبھی بوجھ ایک طرف بڑھ جائے تو کہانی اُلار بھی ہو سکتی ہے۔ سب سے بہتر کہانی ” المعروف۔ بگھیلے شاہ ‘‘ ہے جس میں پاکستان کے بہت سے نیم خواندہ سیاست دانوں کے زوال نما عروج کی عمدہ عکاسی ہے۔ سب سے ڈراؤنی ’سمندر پر کیا گزری‘ ہے، گو اس کے آخر میں آنے والے پُر اسرار آدمی کی خطابت کہانی کے تاثر کو دھندلا دیتی ہے۔

”ہمارے ہیرو واپس کرو‘‘ بیک وقت ہنسانے اور رلانے والی ہے اور حکومتی سوچ کے افلاس کو نمایاں کرتی ہے۔ حملہ آوروں کو کیا قرار دیا جائے، ہیرو یا ولّن؟ اس کا جواب دینا مشکل ہے۔ جنوبی بھارت میں رام چندر کو ولن اور راون کو ہیرو سمجھا جاتا ہے۔ کیا ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہدے داروں اور بعد میں برطانوی حکومت کے نمائندوں کو ہیرو کہا جائے؟ شاید انگریز، جو آج بھی اپنی عظمتِ رفتہ کو یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں، ایسا سمجھتے ہوں۔ ”لندن 2050ء‘‘ خیالی پلاؤ ہے، لیکن مزے دار۔ متحدہ ہندوستان بھی برطانیہ کا بنایا ہوا ڈھکوسلا ہے۔ ہندوستان کبھی متحد نہیں رہا۔ سب سے لجلجا افسانہ ”سنجنا کی کہانی‘‘ ہے۔ اس میں شروع ہی میں پتا چل جاتا ہے کہ انجام کیا ہو گا۔ یہ تسلیم کہ ایسی کہانی اچھی بھی ہو سکتی ہے، لیکن اسے اوّل تا آخر سنبھالے رکھنے کے لیے جس ہنرمندی کی ضرورت ہے، وہ مشکل سے کسی کسی کے حصے میں آتی ہے۔ شاید یہ کہانی ٹی وی کے کسی رومانی ڈرامے کے طور پر مقبول ہو سکے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ اصغر ندیم سید نے فکشن پر توجہ دی ہے۔ امید ہے وہ اور افسانے بھی لکھیں گے۔ اگر ایک دو ناول بھی ہمیں عطا کر دیں، تو لطف رہے۔ یہ سارے کام ان کی بساط سے باہر نہیں۔

علی اکبرناطق کہانی کو صحیح وقت پر بھگا لایا۔ کہانی کو جوان خون پسند ہے۔ اس میں زیادہ توانائی ہوتی ہے۔ کہانی نہ تو پوری طرح جگائے رکھتی ہے، نہ پوری طرح سونے دیتی ہے۔ کبھی کبھی اس پر ویمپائر کا گمان بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہ گمان وزن نہیں رکھتا۔ دن ہو یا رات کہانی کبھی سوتی یا آرام نہیں کرتی۔

سو اس جوان داری یا جان داری کا فائدہ اٹھا کر کہانی نے ناطق کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔ ”شاہ محمد کا ٹانگہ‘‘ اس کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ کہانی کہنے کی حس اس میں اصغر ندیم سید سے زیادہ بیدار ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ افسانوی دنیا میں وہ تازہ دم ہے۔ دوڑ میں ذرا آگے رہنے کے فائدے تو ہوتے ہیں۔ طنز ناطق کے افسانوں میں بھی ہے، مگر اتنا ہی جتنا ہنڈیا میں ہونا چاہیے، تا کہ آب و نمک اور بوباس درست رہے۔

طنز کی دھار سب سے تیز ”زیارت کا کمرہ‘‘ میں ہے، جس میں فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر مذہب کے ملمع شدہ مگر اندر سے کھوٹے علم برداروں پر چوٹ کی گئی ہے۔ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ ذات پات سے وابستہ تعصبات لوگوں کے خمیر میں اس طرح رچے ہوئے ہیں کہ قیامتِ صغریٰ سے کم کوئی حادثہ ان کا قلع قمع نہیں کر سکتا۔

کہانی پن تقریباً ہر افسانے میں موجود ہے، کہیں کم کہیں زیادہ۔ جو افسانے قابلِ ذکر ہیں، ان پر نظر ڈالنی ضروری ہے۔ ”کت‘‘ میں جو دیہی ماحول ہے، وہ اپنی گرفت میں لینے کی قوت رکھتا ہے۔ نکتہ یہاں یہ ہے کہ دہشت ناکی کی امیج برقرار رکھنا بجا لیکن دوستی کی سطح بہرصورت اس امیج سے بالاتر ہے۔ ”سفید موتی‘‘ میں ایک نا سمجھ لڑکے کو آہستہ آہستہ اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے اور عزیز رکھنے کا گُر سکھایا گیا ہے۔ رسمی تعلیم پر اس علم کو فوقیت حاصل ہے۔ ”شاہ محمد کا ٹانگہ‘‘ نئے زمانے کی اندھا دھند تیز رفتاری کے سامنے پرانی اقدار اور اشیا کی بے قدری پر افسوس کا اظہار ہے۔ دنیا الٹ پلٹ ہوتی جا رہی ہے اور بظاہر کسی کو پروا نہیں۔

اس کسمپرسی کے ماحول میں شاہ محمد کی کہانیاں سننے کی کسے فرصت ہے اور وہ خود بھی اپنی بعید از قیاس کہانیاں سنانے کا حوصلہ کھو چکا ہے۔ ”گرد‘‘ میں نظر آتا ہے کہ مزدوری کرنے والے، طاقتور استحصالی افراد سے ٹکر نہیں لے سکتے اور اگر کسی مغالطے میں آکر الجھنے کی کوشش کریں گے، تو ان کا اپنا حلیہ بگڑ جائے گا۔ سب سے عمدہ اور خندہ آور افسانہ ”حاجی ابراہیم‘‘ ہے۔ اس کے خاتمے میں موپساں یا اوہنری کی طرح پیچ ڈالا گیا ہے، لیکن یہ البیٹ بیانیے میں سلجھ گئی ہے۔ ہم اور آپ حاجی ابراہیم کی بیٹیوں کے کمالات سے فیض یاب ہونے سے رہے۔ ہونٹ ہی چاٹ سکتے ہیں۔ خود حاجی ابراہیم بھی ایک قطرہ تک نہیں چکھتا۔ کہتا ہے کہ یہاں پی تو جنت میں نہیں ملے گی۔ حاجی ابراہیم کو یہیں چھوڑتے ہیں۔ اس نے بیٹیوں کی شادی نہیں ہونے دی۔ کیا مضائقہ ہے۔ انہیں ایک اور ذائقے کی تواتر سے چسکی لینے کا موقع تو فراخ دلی سے دیا جا چکا ہے۔

کہانی مجھے ملی از اصغر ندیم سید
ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

شاہ محمد کا ٹانگہ از علی اکبر ناطق
ناشر: سانجھ پبلی کیشنز، لاہور

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں