کارپوریٹ سماج میں عورت بطور پروڈکٹ


shakeelشکیل حسین سید

بیسوی صدی کا آخری حصہ انسانی تاریخ اور خوشحالی کا سب سے شاندار دور ہے۔ سائنسی اعتبار سے مادے، فلکیات اور حیاتیات کی لاتعداد گتھیاں سلجھانے کے ساتھ انسان چاند کے ساتھ دوسرے سیاروں پر نئی دنیا بسانے کے لیے خواب کو پایہ  تکمیل تک پہنچانے میں کامیابی سے ہمکنار ہو رہا ہے۔ ایسی کئی چیزیں جن میں کمرشل فضائی سفر، موبائل، انٹرنیٹ، فری شاپنگ مال، برتھ کنٹرول گولیاں اور مصنوعی اعضا دستیاب ہیں جنہیں اچھی اور خوشحالی زندگی کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ ۔

اس کے ساتھ دنیا بڑی تیزی سے دو طبقوں میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے ایک طبقہ جو خوشحالی اور تعیش بھری زندگی سے لطف اندوز ہو رہا ہے جن کے پاس چمکدار لیمو زین گاڑیاں ہیں جن میں شراب خانوں کے ساتھ ٹیلی ویژن کی سہولتیں موجود ہیں۔ جو خوش باش مسافروں کو مہنگے ہوٹلوں کے سامنے اتارتی ہیں اور دوسری طرف بے گھر وہ گدا گر ہو جو فٹ پاتھ پر زندگی گزار دیتے ہیں۔

بظاہر اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بنک اور مغربی یورپ آپس میں بر سر پیکار ملکوں کے مشتمل متصادم کی بجائے پر امن اور خوشحال براعظم کے طور پر سیاسی اور اقتصادی یونین بن گیا ہے۔

”ایلون ٹو فلر نے اپنی مشہور کتاب تیسری لہر (Third ware) انسانی سماج کی تاریخ کو تین حصوں میں قدیم قبائل دور یا زرعی سماج کا پس منظر، دوسری لہر صنعتی سماج ،تیسری لہر مابعد جدید صنعتی سماج کی ہے جسے ہم مابعد جدید دور بھی کہہ سکتے ہیں۔( ایلون ٹوفلر، موج سوم، مترجم، توحید احمد، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، ۹۹۹۱ئ، ص ۵)

صنعتی سماج اپنے ساتھ اتنی ہمہ گیر تبدیلیاں ساتھ لایا کہ پورا معاشرتی ڈھانچہ تبدیل ہوا مختصر خاندان، تعلیم عامہ اور کارپوریشن وکارپوریٹ کلچر کا تصور اسی کے ساتھ ابھرا اور نو آبادیاتی عزائم کو ایک جدید شکل ملی۔ اب اصل حاکمیت کارپوریشنوں کی تھی جمہوریت نام کی ایک ایسی حقیقت تھی جو عوام کے نام پرووٹوں سے ضرور تھی۔ لیکن اصل حاکم کارپوریشنوں کے حاکم تھے سید عظیم دی نیو بک آف نالج کے حوالے سے ملٹی نیشنل کمپنی کی تعریف میں لکھتے ہیں!

”بہت سی بڑی کارپوریشنیں ایک ملک میں قائم ہوتی ہیں مگر یہ اپنی مصنوعات کی پیداوار اور فروخت اپنے ملک کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی کرتی ہیں اُن کاروباروں کو ملٹی نیشنل کارپوریشنیں کہتے ہیں“۔

                                (سید عظیم، ملتی نیشنل کمپنیاں دارالشعور، لاہور، ۲۰۰۲ئ، ص ۹۲)

کوکا کولا ایک امریکن کمپنی ہے جو ہر ملک میں جو اپنی پیداوار کو تیار اور فروخت کرتی ہے نیسلے کا آبائی ملک سوئیٹزرلینڈ ہے مگر اس کے پیداواری یونٹ ہر جگہ ہیں۔

ان کمپنیوں کا مقصد صرف منافع کمانا ہوتا ہے سرمایہ دار مذہب سیاست ثقافت سے ماورا بلکہ اُن تمام کوٹولز (Tools)کے طور پر استعمال کر کے اپنی اشیاءکو خوبصورت بنا کر صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے نت نئے اشتہارات جو ٹی وی، اخبار کے ذریعے چلائے جاتے ہیں ان ٹولز میں بل بورڈ یا سائن بورڈ اپنی اشیاءکی خریداری میں اضافہ یا متعارف کرانے میں ایک طریقہ کار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس کا فائدہ بطور ٹیکس صوبائی حکومت کو دیا جاتا ہے۔

”بل بورڈ یا سائن بورڈ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے‘ پبلک ٹرانسپورٹ‘ لوگوں کے انتظار کرنے کی جگہ یا جہاں سے ٹریفک گزرنے راستہ، بالخصوص چوک پر لگائے جاتے ہیں شوخ رنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے تا کہ دور سے نظر آئیں بل بورڈ چند سکینڈ کے اندر اپنا امیج پہنچا دیتے ہیں“۔

                (History of Bill board, free encyclopedia, google)۔

اُردو ادب میں منٹو نے اپنے افسانوں میں نہ نظر آنے والی کارپوریٹ ثقافت اور نو آبادیات کے خلاف رد عمل کو اپنے تخلیقی عمل کا حصہ بنایا، بطور مثال دو افسانے جن میں ’بو اور ’سو کینڈل پاور کا بلب‘ ہے۔

”بو بنیادی طور پر ایک جنسی افسانہ ہے لیکن منٹو کے اس متن میں کارپوریٹ ث ±افت کے دباﺅ نے انسان سے جنس کی فطری لذت چھین لی ہے اور گھاٹن سے فطری ملاپ کی لذت سے سر شار کردار جب شہر کی غازے کی دل دادہ ڈپٹی کمشنر کی بیٹی سے خلوت میں ملتا ہے تو اسے پھیکے پن اور بے کیفی کا سامنا کرنا پڑتا ہے“۔

                (قاضی عابد، ڈاکٹر، موجودہ کارپوریٹ کلچر اور منٹو کی تخلیقی دنیا، منٹو اور ہم ،مرتبہ، محمد الطاف، ثقات ملت اسلامیہ، اسلام آباد، ۳۱۰۲ئ)

”سو کینڈل پاور کا بلب“ بظاہر جنس اور بازار کی کہانی ہے اس کا منظر نامہ بھی ”بو“ کی طرح بمبئی کا ہے جو کارپوریٹ شہر ہے۔۔۔۔ بازار کا دباﺅ ہر چیز خواہ وہ انسان ہی کیوں نہ ہو بکاﺅ مال بنا دیتا ہے بازار میں کبھی ذہن بکتا ہے کبھی جسم اور بیچنے والی کی مرضی اس سودے میں شامل نہیں ہوتی۔ جبر اور قدر کے جن تصورات کی بات ہمارا مذہبی طبقہ کرتا ہے اور پھر انسان کی مجبوری کو اس کا گناہ قرار دے کر جس طرح لائق تعزیر گردانتے کی کوشش کرتا ہے اس پر کارپوریٹ کلچر کے تناظر میں ایک بار پھر مکالمے کی اور سوچ بچار کی ضرورت ہے۔(ایضاً،)

عورت کا جسم بطور’شے ‘ کارپوریٹ نظام میں کیسے ٹولز (Tools)کے طور پر استعمال کیا جاتاہے، اسی کے ساتھ مذہبی اور مردانہ سماج اُسے کس طرح استحصال کرتا ہے اور بطور شیئے شناخت بنتے ہوئے اُسے انسانی مرتبے سے گرا کر بکاﺅ، شیئے میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔

انگریزی اخبار ٹریبون کی سروے رپورٹ کے مطابق 64% پاکستانی ان خواتین کی تصاویر سے بنے بل بورڈ کے ہٹانے کے خواہ ہیں۔ ”مرد حضرات میں بیشتر نے اُن تصاویر غیر اخلاقی اور مذہب کے خلاف اور معاشرے میں اسے جنسی تحرک کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اگرچہ اس میں بھی مختلف صوبوں میں مختلف نظریات ہیں۔ بالخصوص کے۔ پی۔ کے میں شباب ملی تحریک نے ان بل بورڈ کو گرانے کی دھمکیوں کے ساتھ اُن تصاویر پر کالی سیاہی پھینکنے کے متعدد واقعات سامنے آئے۔

80% فیصد مرد اُن تصاویر میں خواتین اور بنانے والی دونوں کو گناہ کا مرتکب سمجھتے ہیں۔ انہیں فاحشہ ، جیسے القابات ور اپنی بہو بیٹیوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور گناہ کے مرتکب سمجھتے ہیں۔ اس میں بالخصوص کم آمدنی والے مرد حضرات کم پڑھے لکھے اور مزدور طبقہ کے لوگ ہیں جو جنسی تحرک کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس کے ساتھ جن اشیاءبالخصوص مردانہ استعمال کی چیزیں، موبائل، کپڑے، برگر، پیزا،جو عام طبقہ کے لوگوں کی رسائی تک نہیں اُن میں غیر یقینی اور عدم اعتماد، معاشی و اقتصادی حالت کو بڑھنے کا سبب بھی بنتی ہیں جو انہیں تشدد، چوری، جرائم اور دوسری غیر اخلاقی برائیوں کی طرف راغب بھی کرتے ہیں۔ کیونکہ سرمایہ دار بل بورڈ کی بنی تصویر کا مقصد اپنے اشیاءکو متعارف کرا کر ، اسے زیادہ سے زیادہ سیل آﺅٹ کرنا ہے نا کہ مختلف افراد پر اس کے نقالی کے سماج پر کیا اثرات ہیں اسکا جائزہ نہیں لیا جاتا۔

لیکن خواتین میں بطور تصویر غیر اخلاقی، غیر مذہبی نہیں سمجھتی البتہ اُن اشیاءتک رسائی اقتصادی و معاشی پہنچ سے بہت دور ہیں اور مرد تصویروں کو دیکھ اُن میں کسی قسم کے جذباتی اور جنسی تحرک نہیں پیدا ہوتا۔ اور خواتین کی استعمال اشیاءکے ساتھ خواتین اشتہار کو ٹھیک خیال کرتی ہیں اسمیں کوئی ہرج نہیں۔ ان میں درجہ بندی شامل ہے جو خواتین زیادہ پڑھی لکھی ہیں وہ انہیں معیوب نہیں سمجھتیں۔

تاہم ’عورت‘ کو خواتین کی ان تمام اشیاءکے ساتھ پیش کرنا جو مرد اور خواتین دونوں استعمال کرتے ہیں جن میں چائے، بوتل، موبائل وغیرہ شامل ہیں تاہم خواتین کی تصاویر میں انہیں اُن شوقین اور بھر کیلے شوخ، لباس میں اور اُن کے استعمال کے علاوہ کوئی اہم مرتبہ نہیں پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ مرد کے لیے بھی ان اشیاءکا استعمال اتنا ہی کار آمد ہے جتنا خواتین کے لیے مگر عورت کی پیش کش کو تصاویر میں اس طرح دکھایا جاتا ہے کہ قصور وار عورت ٹھہرتی ہے سرمایہ دار یا کارپوریٹ سماج میں اور عورت بھی اس پیش کش کو قبول کر لیتی ہے اس چھپے استحصال تک نہیں پہنچ پاتی جو اُسے انسان سے بطور ایک شیئے کے ساتھ ”جسم“ شیئے بنا دیتا ہے کہ دیکھنے والے مردانہ معاشرہ اُسے صرف جسمانی سطح پر استعمال کی اشیاءسمجھتا ہے جو اس چیز کے ساتھ بھی سیل آﺅٹ ہے۔

کارپوریٹ سماج اسے مذہبی مردانہ اور معاشرے میں ”حلال پروڈکٹ“ متعارف کراتا ہے یعنی مذہب، خیالات، کو بطور ٹولز استعمال کیا جاتا ہے مولوی کرتا فروش، اسلامی شہد سے لے کر “Lays” کو حلال قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ عورت کو بطور اسلامک انڈسٹری جو خود ایک مذہب سے زیادہ ایک کارپوریٹ کلچر کی صورت اختیار کر چکی ہے، عورت موافقت اور مسابقت کے درمیان آج بھی اپنی انسانی شناخت کی متلاشی ہے۔ دوسری طرف میڈیا اور فلموں میں عورت کو بطور ”ایٹم سانگ“ کے متعارف کرایا ہے۔ آج بھی ہالی ووڈ بالی ووڈ کی فلمیں جو ایک سانگ کی بنا پر ہٹ ہوتی ہیں۔ مرد مرکزی کردار دس گنا زیادہ معاوضہ مرکزی کردار عورت کی نسبت حاصل کرتا ہے اور ایٹم سانگ میں عورت سوائے جسم کے نمائش کے کچھ نہیں ایسے ہی پرائیویٹ چینلز کے مزاحیہ پروگرام ’خبر ناک‘ اور ’ حسب ِ حال‘ میں بیٹھی خواتین کا کام یا تو صرف ہنسنا ہے یا اپنے کپڑوں اور جسم کی نمائش ہے باقی تمام دانشورانہ گفتگو مرد اینکر کرتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے اس کارپوریٹ سماج میں عورت کو بطور شیئے اپنے جسم کی نمائش کے طور پر نہیں اسے بطور انسانی جسمانی اور ذہنی سطح پر تسلیم کیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments