عمران خان کے ایک نوجوان حامی کے نام خط


پیارے بھانجے، سدا خوش رہو!

مجھے تمہاری پیدائش کا دن اچھی طرح یاد ہے۔ یہ بھی یاد ہے کہ تمہاری چھٹی پر میرے بیمار والد نے تمہارا چھوٹا سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر” اقراء” لکھوایا تھا۔ میں تمہاری ذہانت سے ہمیشہ سے متاثر رہا ہوں۔ تم 2009ء میں بیرون ملک چلے گئے اور ہم اپنی زندگی میں کچھ ایسا الجھے کہ یہ نظر انداز کر گیا کہ تم کن کن ذہنی منازل سے گزر رہے ہو، کیا کیا سوچ رہے ہو ۔مگر اب تم ما شاء اللہ نوجوان ہو، یونیورسٹی کے طالب علم ہو اور سیاسی نظریات کے بھی حامل ہو۔ تم عمران خان کی کامیابی پر دل سے خوش ہو، مبارک ہو بیٹا۔ میرا اللہ جانتا ہے کہ میں سچے دل سے دعا کرتا ہوں کہ تمہاری یہ خوشی سچی ثابت ہو، مگر میری نسل سیاست سے ہی مایوس کیوں ہے، ہمارا دکھڑا بھی سن لو۔

خدا نہ کرے کہ اس ملک میں اور اس شہر کراچی میں کبھی وہ دن واپس آئیں مگر ہم نے اپنے بچپن میں صبح سے شام تک فائرنگ کی آوازیں بھی سنی ہیں اور جلتی ہوئی بسیں اور گاڑیاں بھی دیکھی ہیں۔ ہم نے اس ملک میں بدترین لسانی تفاوتیں دیکھیں ہیں، زہر میں ڈوبی تقریریں سنی ہیں اور ان کے مکروہ نتائج کو بھی برپا ہوتا دیکھا ہے۔

میں جب تمہاری عمر کا تھا تو ملک میں پرویز مشرف کی حکومت تھی، بڑی بڑی باتیں تھیں، بڑے بڑے دعوے تھے مگر جو کچھ تب ظاہری طور پر اچھا بھی نظر آتا تھا اس سے بھی بڑی بربادی پیدا ہوئی۔ تب میں بھی تمہاری طرح جذباتی تھا اور متحدہ مجلس عمل کو اس ملک کا نجات دہندہ سمجھتا تھا۔ گو کہ متحدہ مجلس عمل میں میرے مسلک کے تو صرف مولانا نورانی صاحب تھے مگر مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ اس اتحاد نے مجھے ذاتی طور پر فرقہ واریت سے بلند کر دیا ہے مگر اس متحدہ مجلس عمل نے اپنے ہر وعدے کے خلاف عمل کر کے دکھایا۔ میں اپنے دوستوں کی محفلوں میں اور رشتے داروں کے سامنے مجلس عمل کے ہر اقدام کا دفاع کر کر کے تنگ آ جاتا۔
بیٹا، سیاست ہر قسم کے سمجھوتوں کا نام ہے۔ ہمارے ملک میں کوئی نظریاتی لائن ہے ہی نہیں۔ اگر ہوتی تو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی 90 کی دہائی کے آپریشن کے بعد 2008ء میں یوں اتحادی نہ بن جاتے۔ تمہاری عمر کے میرے رومانس، متحدہ مجلس عمل نے مشرف مخالفت کے ووٹ لئے تھے مگر فضل الرحمن تب مشرف کے وزیر اعظم بننے کی فکر میں تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے کوئٹہ زیارت کے درمیان کہیں یہ نعرہ لکھا پڑھا تھا۔ ”دو ملک، دو طوفان۔ ملا عمر، فضل الرحمن”۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ملا عمر متقی تو امریکا سے آخری دم تک لڑتے رہے اور فضل الرحمن امریکا کے ادنیٰ ہرکاروں اور گماشتوں کے بروکر کا کردار نبھاتے رہے۔

پھر مجھے ایک اور ہیرو ملا، چوہدری افتخار۔ ایک بہادر آدمی جو ایک ڈکٹیٹر کے سامنے جم کر کھڑا ہو گیا۔ تم کو شاiد یہ جان کر حیرت ہو کہ جب افتخار چودھری 12 مئی 2007ء کو کراچی آ رہے تھے تو میں سنجیدگی سے انہیں ریسیو کرنے جانے والی ریلی میں شرکت کا سوچ رہا تھا۔ مگر میں11 مئی کے پیر پگارا کے بیان کو پڑھ کر ڈر گیا تھا کہ بڑا خون خرابہ ہو گا اور کراچی میں کم از کم 300 لوگ مریں گے۔ میں ریلی میں نہیں گیا اور اس دن 100 کے قریب لوگ مار دیے گئے۔ کراچی کی سڑکیں خون سے سرخ ہو گئیں مگربالآخر مشرف کو جانا پڑا۔ جمہوریت آئی اور بڑے احتجاج کے نتیجے میں افتخار چوہدری کو بحال کر دیا گیا۔ مگر بحال ہو کر اس شخص نے کیا کیا؟ وقت نے اس شخص کی قلعی کھول دی۔ یہ شخص بدعنوان ہے اور اس کی اخلاقی سطح کتنی پست ہے اس کا اندازہ حال ہی اِس کی جانب سے عمران خان پر کیے جانے والے رکیک حملہ سے کیا جاسکتا ہے۔ تو یہ وہ شخص ہے جسے میں نے ہیرو سمجھا تھا؟

تم کہہ سکتے ہو کہ میری ہیروز کی پرکھ غلط تھی، جماعت کی پسند بھی غلط تھی اور تم میری طرح نہیں سوچتے بلکہ تم نے ایک بڑی اعلیٰ جماعت کا انتخاب کیا ہے۔ واقعی محض عمر یا رشتے میں بڑے ہونے سے یہ لازم تو نہیں کہ کوئی سمجھدار بھی زیادہ ہو۔ میں خود عمران خان کو سیلوٹ کرنا چاہتا ہوں مگر میں کیا کروں کہ درمیان میں فردوس عاشق اعوان، میاں محمد سومرو، عامر لیاقت حسین، اعظم سواتی، بابر اعوان اور شیخ رشید وغیرہ آ جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کو میں مشرف کے آگے سجدہ ریز دیکھ چکا ہوں۔ کچھ الطاف بھائی کے پاؤں کا دھون پیتے تھے اور کچھ فضل الرحمن اور زرداری کی ناک کے بال تھے۔ ان سب کی ڈرائی کلیننگ مجھے ہضم نہیں ہوتی۔

لوگ کہتے ہیں کہ قائد اچھا ہو تو نیچے کے لیڈر اہمیت نہیں رکھتے۔ ہمارے قائد اعطم بھی یہی سمجھتے تھے، انہوں نے ہر قسم کے نااہل اور مفاد پرستوں کو بھی مسلم لیگ میں آنے سے نہ روکا۔ پنجاب کی پوری یونینسٹ پارٹی، آل انڈیا مسلم لیگ میں آ ملی۔ یہ جماعت انگریزوں کے خاص غلاموں، چمچوں، کف گیروں کی تھی۔ قائد محترم تو پاکستان بنا کر ایک سال میں ہی دنیا سے رخصت ہو گئے، پھر ان بے کار لوگوں نے اس ملک کو کیسے چلایا،یہ سب جانتے ہیں۔ قیادت واقعی بہت اہم ہوتی ہے مگر اسے پختہ یقین والے افراد کا گروہ ہی اپنی جماعت میں سب سے بالا مقام پر لانا ہوتا ہے جو اس کے بعد اس جماعت کو نظریاتی لائن پر چلا سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو جماعتیں چند سال میں مسلم لیگ بن جاتی ہیں۔یہ ہمارا تاریخی تجربہ ہے۔ مگر خدا کرے کہ میرے سارے خدشات غلط ثابت ہوں اور تمہاری امیدیں پوری ہو جائیں۔ خدا کرے کہ تمہیں عمران خان سے اپنی عقیدت پر کبھی پچھتاوا نہ ہو۔ آمین

تمہارا ماموں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں