ملازمت کے لئے انٹرویو کیسے دیا جائے (1)


azhar Khanجب بھی ہمارے ملکی مسائل کا ذکر آتا ہے تو ان میں سر فہرست دہشت گردی، کرپشن، تعلیم کی کمی، بجلی کا مسئلہ اور غربت وغیرہ کا ذکر کیا جاتاہے۔ لیکن کسی بھی میڈیا چینل پریہ ذکر نہیں کیا جاتا کہ ہماری نوجوان نسل کی بے روزگاری آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہر سال ملک بھر میں بے شمار گریجویٹس، ماسٹرز ڈگری ہولڈر، انجینئیرز، ڈپلومہ ہولڈرز، اور ہر مکتبہ فکر کے سٹوڈنٹس فارغ التحصیل ہوتے ہیں اور نوکری تلاش شروع کردیتے ہیں۔ یہ تو تعلیم یافتہ نوجوان ہیں اور اس کے علاوہ جو ہمارے مزدور طبقہ کے لوگ ہیں وہ تو آپ کو ہر صبح ملک کے تما م شہروں کے مختلف ©” کارنرز”کے اوپر ڈھیروں تعداد میں نظر آئیں گے، یہاں پر جو ان پڑھ ہیں وہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے اچھی ملازمت حاصل نہیں کر سکتے اور جو پڑھے لکھے ہیں ان کے لیے مواقع کم ہیں اور مقابلہ بہت زیادہ ہے۔ یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کہ کسی بھی ڈیپارٹمنٹ میں اگر ایک “ویکنسی اناﺅنس” ہو تو اس سے متعلقہ ہزاروں کی تعداد میں” سی ویز” موصول ہوتی ہیں۔اور پھر “شارٹ لسٹنگ” کے مرحلے کے بعد بہت کم تعداد میں امید واروں کو انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے، اور اس میں بھی کسی ایک کو فائنل کر لیا جاتا ہے۔

بیشتر نوجوانوں کا المیہ یہ ہے کہ یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کے بعد بھی اکثر کو اپنا “سی وی” تک بنانا نہیں آتا ، اور اس میں ان کا زیادہ قصور بھی نہیں ہے کیونکہ ہمارے تعلیمی اداروں میں ان کو صرف “سلیبس” ہی پڑھایا جاتا ہے، اور سٹوڈنٹس بھی یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ جیسے ہی وہ ماسٹرزڈگری لے کر یونیورسٹی سے باہر نکلیں گے تو ان کو اچھے سے اچھے ادارے میں ملازمت مل جائے گی، لیکن جب وہ واقعی ملازمت کی تلاش میں نکلتے ہیں تو کچھ عرصے بعد ہی ان کا حال بھی ویسا ہی ہو جاتا ہے جیسے میرے دوست کا ہوا ۔ اور ایسا صرف میرے دوست کے ساتھ ہی نہیں ہوا، ملک میں اس وقت ساڑھے چار کروڑ نوجوان ایسے ہیں جو اسی طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔کیا اس کے قصور وار تعلیمی ادارے ہیں؟ یا ہمارا تعلیمی نظام کا سسٹم؟؟ اگرچہ یہ بھی ایک امر حقیقت ہے کہ پاکستان بننے کے 69 سال بعد بھی ملک میں یکساں نظام تعلیم نافذ نہیں ہو سکا ، نیز مدارس،سرکاری اداروں اور پرائیویٹ اداروں کا سلیبس بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اور اس کو ابھی تک جدید دنیا کی ضروریات کے مطابق مکمل طرح سے ترتیب نہیں دیا جا سکا، ہم اپنے سٹوڈنٹس کو کچھ نیا سکھانے کی بجائے وہی ” رٹا” لگانے پر مجبور کر رہے ہیں، اور ان کو صرف ” مارکس ” حاصل کرنے کی ” گیم”ہی کھلائے جا رہے ہیں، نتیجہ پھر یہی نکلتا ہے کہ صرف سلیبس کی کتابیں پڑھنے کے بعد ہمارے سٹوڈنٹس فرسٹ ڈویژن یا فرسٹ پوزیشن تو لے لیتے ہیں لیکن کسی بھی انٹرویو کے لیے نالج نہ ہونے کی وجہ سے صحیح طرح پرفارم نہیں کر پاتے کیونکہ ان کو یہ چیزیں سکھائی ہی نہیں جاتیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان میں اعتمادکا بھی فقدان ہوتا ہے۔

ملک بھر میں کیرئیر کونسلنگ کے چند گنے چنے ادارے موجود ہیں اور ان میں سے کچھ بھاری فیس وصول کرکے”گائیڈ لائن” مہیا کرتے ہیں، اس صورتحال میں جس بندے کے پاس پہلے سے ہی نوکری نہ ہو وہ کیسے یہ اخراجات برداشت کرپائے گا، اگرچہ کچھ یونیورسٹیز اور کچھ ادارے کیرئیر کونسلنگ کے حوالے سے سیشن کرواتے ہیں لیکن وہ بھی گنی چنی تعداد میں ۔اور یہ بھی حیران کن بات ہے کہ ملک بھر میں طالب علم اگر صحیح طریقے سے کسی انٹرویو کی تیاری کرتے ہیں تو صرف سول سروسز کے امتحانات کے لیے ،باقی جتنے بھی ” جاب انٹرویوز” ہوتے ہیں ان کی تیاری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور اسی وجہ سے لوگ ناکام ہو جاتے ہیںاور ناکامی شروع کہاں سے ہوتی ہے جب آپ جاب انٹرویو کے لیے جا رہے ہوتے ہیں، آپ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ میں نے تو پہلے بھی کافی انٹرویوز دیے اور میں ان میں کامیاب نہیں ہوپایا، یہاں پر بھی وہی سچویشن ہو گی یا پھر میری قسمت ہی خراب ہے ، پتہ نہیں اس بار بھی ساتھ دیتی ہے یا نہیں، یا پھر میں جتنا بھی کوشش کر لوں ، نوکری اسی کو ملے گی جس کی تگڑی سفارش ہو گی، آپ انٹرویو پینل کے سامنے جاتے ہیں اور پھر جب آپ ” انٹرویو پینل” کے سامنے پیش ہوتے ہیں توٹانگوں میں ارتعاش اور جسم ” تھر تھراہٹ” کا شکار ہوا ہوتا ہے، ایک عجیب سی بے چینی اور وسوسے آپ کوگھیر لیتے ہیں، ایک طرف آپ کے ذہن ہی ذہن میں یہ ڈرآرہا ہوتا ہے کہ گھر کے حالات خراب سے خراب ہو تے جارہے ہیں، معاشرے کے لوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے اور مذاق اڑاتے ہیں کہ ایم۔ اے کرنے کے بعد بھی فارغ ہے، اس سے بہتر تھا کہ میٹرک کرنے کے بعد کوئی سبزی کی ریڑھی ہی لگا لیتے، یا پھر کسی فیکٹری میں کام کر لیتے، اور گھر والے بھی علیحدہ سے پریشان ہیں، چھوٹے بہن، بھائیوں کے تعلیم کے اخراجات پورے کرنے ہیں، اگر انٹرویو میں ناکام ہو گیا تو میرا کیا ہوگا، یہ سب کیسے کر پاﺅں گا۔اور اسی خوف کی وجہ سے آپ ذہنی اور جسمانی طور پر صحیح طور پر پرفارم نہیں کر پاتے اور ناکام ہو جاتے ہیں،

دوسری سچویشن کچھ یوں ہوتی ہے کہ کچھ لوگ غیر ضروری اعتماد کا شکار ہو کریہ سمجھ کر جاتے ہیں کہ مجھے تو یہ جاب ملنی ہی ملنی ہے اور میں ہی اس جاب کے لیے سب سے زیادہ اہل ہوں، باقی جو لوگ آئے ہیں ، چاہے انہوں نے بھی ایم۔اے ہی کیا ہوا ہو یا اس سے بھی زیادہ کوالیفائیڈ ہوں ، چاہے ان کا اس جاب سے متعلق اچھا خاصا تجربہ بھی ہو اور ان کو بھی بالکل آپ کی طرح جاب کی بہت ضرورت ہو، لیکن آپ یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس نوکری کے لیے سب سے زیادہ اہل آپ ہی ہیں، اگر یہ پوچھا جائے کہ صرف آپ ہی کیوں؟ تو کوئی جواب نہیں ہوتا ، بس آپ یہ “سمجھتے” ہیں کہ آپ ہی اس جاب کے لیے سب سے زیادہ اہل ہیں ، آپ انٹرویو کی تیاری صحیح طور پر نہیں کرتے، پھر انٹرویو ٹیبل تک پہنچنے تک خوابوں کے محل آپ کے دماغ میں بننا شروع ہو جاتے ہیں، توقعات دماغ ہی دماغ میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں کہ جاب مل گئی تو معاشرے میں آپ کا “سٹیٹس” بہت اچھا ہو جائے گا، آپ کو اچھے گھرانوں سے رشتے آئیں گے، شاید کمپنی آپ کو گاڑی اور گھر بھی دے، اور جب آپ انٹرویو کے لیے جاتے ہیں تو ذہنی طور پر سوالات کے جوابات کے لیے تیار نہیں ہوتے، پھر انہی لمحات میں ایک اور سوال بھی ضرور دماغ کی گہرائیوں میں گونجتا ہے کہ اگر جاب نہیں ملی تو کیا ہو گا؟ اور پھر یہ سوال بھی آپ کے دماغ میں مزید پریشانیوں کو جنم دیتا ہے، اور دونوں سچویشن میں انٹرویو میں ناکامی کے بعد کچھ اس طرح کے بیانات بھی ضرور آتے ہیں” دیکھیں جی، جس بندے کو ہائر کیا گیا ہے وہ تو “چئیرمین” کا جاننے والا ہے سفارشی تھا اس لیے اسے نوکری دے دی گئی ، یا پھر اس نے لازمی”رشوت” دی ہوگی ورنہ اس کی شکل ایسی تھی نہیں کہ اس کو نوکری دی جاتی بس پیسہ اسکے کام آگیا، یا پھر جب کوئی اور وجہ نہ ملے تو یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی تو”قسمت” اچھی تھی کہ وہ کامیاب ہو گیا اور ہماری قسمت شروع سے ہی خراب ہے، اب قسمت کو تو ہم تبدیل نہیں کر سکتے نا!

اور اس کے بعد آپ “فرسٹریشن” کا شکار ہوتے جاتے ہیں،آپ جس بھی انٹرویو میں جاتے ہیں کبھی بھی اس انٹرویو کی اس طرح سے تیاری کر کے نہیں جاتے جس طرح کرنی چاہیے، ااور پھر جب انٹرویو شروع ہوتا ہے تو ذرا سوچیے کہ آپ انٹرویو میں کیسے “پرفارم ” کر پائیں گے، وہی حال ہو گا جو ہماری ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کا ” حریف” ٹیم کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہوتا ہے، پریشر میں آکر اپنی اصل گیم سے بھی ہٹ جاتے ہیں کبھی حریف کے نفسیاتی خوف کی وجہ سے زیرو ہوتے ہیں اور کبھی حد سے زیادہ پر اعتماد ہو کر زیرو ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد نتائج آپ کے سامنے ہوتے ہیں، جب بھی کوئی کام آپ پریشر میں کریں گے تو اس کا نتیجہ ایسا ہی ہوگا۔۔ یاد رکھیے انٹرویو پینل کو آپ کے پرسنل حالات یا گھر کے حالات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ کبھی آپ پر ترس کھاتے ہوئے آپ کو نوکری دیں گے ، کمپنی کو ہمیشہ اپنا فائدہ چاہیے ہوتا ہے، ایسا امیدوار چاہیے ہوتا ہے جو ان کی توقعات پر پورا اتر سکے، کسی بھی کمپنی کو ایک انتہائی با اعتماد، تعلیم یافتہ، جوشیلا ، تجربہ کار اور محنتی نوجوان چاہیے ہوتا ہے، جو نہ صرف دیکھنے میں با اعتماد نظر آئے، بلکہ بات کرتے ہوئے بھی اپنی بھر پور صلاحیتوں کو صحیح طر یقے سے اجاگر کر سکے، انہیں بہت پرسکون، خاموش طبع، ٹھنڈے اور دھیمے مزاج والا یا مختلف مسائل میں گھرا ہوا نوجوان نہیں چاہیے ہوتا۔ اورپھر ایسے نو جو ان جب انٹرویوز میں ناکام ہو جاتے ہیں وہ ہمیشہ کی طرح ملبہ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ ایسے لوگ ناکام کیوں ہوتے ہیں اس کی بہت ساری وجوہات ہیں، کیونکہ ہم سی۔وی بنانے سے انٹرویو کے مراحل طے کرنے تک کبھی صحیح طرح سے تیاری نہیں کرتے اور اسی وجہ سے ہم اپنے بیشتر انٹرویوز میں بہتر طرح سے پرفارم نہیں کر پاتے ایک اچھے سی وی میں کیا کیا چیزیں بہت ضروری ہیں اور ایک جاب انٹرویو کو اچھے طریقے سے کیسے تیار کرنا ہے، اگلے کالم میں ان تمام سوالات کا جواب دیا جائے گا۔

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments