لیڈی ڈاکٹر، نائٹ ڈیوٹی اور ریپ


جنوبی پنجاب کا ایک بڑا سرکاری ہسپتال رحیم یار خان میں واقع ہے۔ نام اس کا شیخ زید ہسپتال ہے۔ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ رات تین بجے کے قریب باہر سڑک پر ایک سیکیورٹی گارڈ گشت کر رہا تھا کہ اس نے ایک کمرے سے کسی لڑکی کی چیخوں کی آواز سنی۔ اس نے فوراً ایمرجنسی وارڈ کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر مشتاق کو خبر کی۔

وہ کئی گارڈز کو لے کر پہنچے تو پتہ چلا کہ ایک خاکروب چلڈرن ایمرجنسی کے ڈاکٹر آفس میں ایک نوجوان ہاؤس آفیسر کو ریپ کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور محض اس گارڈ کے اتفاقاً یہ چیخیں سن لینے اور ایک فرض شناس ڈی ایم ایس کی مداخلت سے وہ لیڈی ڈاکٹر ریپ سے بچ پائی۔

نہایت افسوسناک واقعہ ہے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ افسوسناک وہ رویہ ہے جو اس ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے اختیار کیا۔ آئیے سرکاری کاغذات سے واقعے کی تفصیل جانتے ہیں۔

18 ستمبر 2018 کو ڈاکٹر مشتاق احمد نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان کو ایک ”ناخوشگوار واقعہ کی رپورٹنگ“ کی۔ اس میں انہوں نے لکھا کہ وہ رات بطور ڈی ایس ایم ایمرجنسی ڈیوٹی پر تھے تو رات کو تین بجے ایک سیکیورٹی گارڈ نے اطلاع دی کہ بچہ وارڈ کی ایمرجنسی کے ساتھ واقع ڈاکٹر آفس میں اندر سے کنڈی لگی ہے اور لڑکیوں کی چیخ پکار کی آوازیں آ رہی ہیں۔

وہ فوری طور پر چار پانچ سیکیورٹی گارڈ اور دیگر افراد لے کر پہنچے تو دیکھا کہ ڈاکٹر آفس کو اندر سے کنڈی لگی ہوئی ہے اور ایک لڑکی کی چیخوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ دروازہ نہ کھلا تو انہوں نے ایک گارڈ کو دیوار پھلانگ کر اندر جاکر کنڈی کھولنے کو کہا۔ دروازہ کھلنے پر دیکھا گیا کہ اندر ہسپتال کا ایک خاکروب برہنہ حالت میں وہاں موجود تھا اور چلڈرن وارڈ کی ایک نوجوان ڈاکٹر خوفزدہ حالت میں فرش پر بیٹھی رو رہی تھی۔

اس نے بتایا کہ وہ آفس میں کنڈی لگا کر سو رہی تھی کہ یہ شخص دیوار پھلانگ کر اندر آیا اور اسے نوچنا شروع کر دیا۔ وہ بہت دیر سے مدد کے لئے چیخیں مار رہی تھی مگر کوئی مدد کو نہ آیا۔ خاکروب نے اپنے کپڑے اتارے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر مشتاق نے اسے پکڑ کر گارڈوں کے حوالے کر دیا۔

پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر مبارک علی نے 19 تاریخ کے ایک آفس آرڈر کے ذریعے اس ڈاکٹر کی آبرو بچانے والے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نائٹ شفٹ ڈاکٹر مشتاق احمد اعظمی اور ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر مہتمم نذیر کو معطل کر دیا۔

اسی تاریخ کے ایک دوسرے آفس آرڈر کے ذریعے کہا گیا کہ 18 ستمبر کی رات کو ہسپتال میں ہونے ایک افسوسناک واقعہ ہوا ہے۔ یہ واقعہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اور اس کی انکوائری کی جانی چاہیے۔ اس کے بعد تین مرد پروفیسروں پر مشتمل ایک انکوائری کمیٹی بنانے کا حکم جاری کر دیا گیا۔

19 ستمبر کو ہی سیکرٹری گورنمنٹ آف پنجاب برائے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور کی تین خواتین پروفیسروں کی ایک کمیٹی بنا کر جنسی ہراسانی کے اس واقعے کی چوبیس گھنٹے کے اندر اندر مفصل رپورٹ تیار کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔

ینگ ڈاکٹرز کے مسلسل تیرہ گھنٹے کے احتجاج کے بعد اس واقعے کی ایف آئی آر 19 تاریخ کو اس وقت درج کی گئی جب انہوں نے ہسپتال کی ایمرجنسی میں بھی کام روکنے کی دھمکی دی۔ ایف آئی آر ڈاکٹر مشتاق کی طرف سے درج کروائی گئی ہے اور اس میں مندرجہ بالا رپورٹ کے واقعات ہی موجود ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کے مطابق لیڈی ڈاکٹر کی شرٹ پھٹی ہوئی تھی اور اس کے جسم پر خراشیں موجود تھیں اور خاکروب کے جسم پر بھی خراشوں کے نشانات تھے۔ ان ڈاکٹروں کے مطابق انہوں نے میڈیا کو دکھایا ہے کہ اس کمرے میں ایک صوفہ کم بیڈ کے سوا کوئی ساز و سامان موجود نہیں تھا۔

سوال یہ ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کروانے میں مزاحمت کیوں کی گئی تھی؟ نصف درجن گواہوں نے اس خاکروب کو رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ پھر انکوائری کس چیز کی تھی، ریپ کی کوشش کی یا کسی دوسری چیز کی؟ اس کا کچھ پتہ ہسپتال کے ینگ ڈاکٹرز کے ذریعے پتہ چلتا ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ شروع میں ہسپتال کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر معاملہ دبانے کی کوشش کی تھی کہ خاکروب ہسپتال کی ای سی جی مشین چرانے کی کوشش کر رہا تھا۔

سبحان اللہ۔ یعنی ہسپتال کی ای سی جی مشین چرانے کے لئے چور کو اپنے کپڑے اتارنے پڑتے ہیں اور دل کی حالت جاننے کی یہ مشین چلڈرن وارڈ کے اس کمرے میں رکھی جاتی ہے جس میں خواتین ڈیوٹی ڈاکٹر آرام کرتی ہیں۔ بچوں کی ایمرجنسی میں ای سی جی مشین۔ کمال ہے۔ اب پاکستان میں ننھے بچوں بچوں کو دل کے دورے اس کثرت سے پڑنے لگے ہیں کہ ان کی ایمرجنسی میں ای سی جی مشین رکھی جانی لازم ہوئی ہے۔

مزید کمال یہ کہ ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر ریپ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، موقعے کے گواہ موجود ہیں، لیکن انکوائری کے لئے مردوں پر مشتمل کمیٹی بنی ہے۔ کیا شیخ زید ہسپتال میں خواتین سینئیر ڈاکٹرز موجود نہیں ہیں؟

سیکرٹری ہیلتھ کا فوری اقدام اور غیر جانبدار خواتین پروفیسروں پر کمیٹی کی تشکیل بہترین اقدام ہے۔ کیا ہسپتال کے پرنسپل کو اتنی عقل نہیں تھی کہ یہ قدم وہ اٹھاتے؟ یا پھر وہ واقعی صدق دل سے یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ خاکروب ای سی جی مشین کا ریپ کرنا چاہتا تھا؟

اہم سوال یہ ہے کہ ہسپتالوں میں نائٹ ڈیوٹی کرنے والی لڑکیوں کی حفاظت کا کیا بندوبست کیا گیا ہے؟ کیا سرکاری ہسپتالوں میں سیکیورٹی مانیٹرنگ کا کوئی سسٹم موجود ہے؟ اس لڑکی کا کمرہ اتنا غیر محفوظ کیوں تھا کہ کوئی بھی محض دیوار پھلانگ کر اس تک پہنچ جائے؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ جنوبی پنجاب کے وزیراعلی پنجاب کے دور میں ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی وزیر صحت ہوں اور پھر بھی ینگ ڈاکٹرز کو ہڑتال کر کے ہی اس سنگین ترین واقعے کو نوٹس میں لانا پڑے۔

کیا یہ صرف ہسپتال کی انتظامیہ کی نااہلی ہے یا صوبائی وزارت صحت کی بھی؟ کیا اس پر ایکشن کے لئے بھی ہمیں چیف جسٹس کی طرف دیکھنا پڑے گا اور پھر ہم روئیں گے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے ہٹ کر حکومت کے انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور ہسپتالوں پر چھاپے مار رہے ہیں؟

اس معاملے میں قابلِ تعریف رول صرف سیکرٹری ہیلتھ کا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ انکوائری رپورٹ آنے پر وہ مزید کیا کرتے ہیں۔ دوسرا قابلِ تعریف ینگ ڈاکٹرز کا ہے جو اپنی اس ساتھی، اپنی اس بہن کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی ملازمتوں کو خطرے میں ڈال کر بھی اسے انصاف دلانا اور باقیوں کو اس طرح کے واقعات سے بچاناچاہتے ہیں۔

شیخ زید ہسپتال کی انتظامیہ کی اس بے حسی کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ یا تو سرکاری و نجی ہسپتالوں میں خواتین کی سیکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا جائے ورنہ حکومت اتنی ہی لاچار ہے تو پھر لیڈی ڈاکٹرز کے نائٹ شفٹ کرنے پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1039 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Comments are closed.