جب ڈگری گلے کا طوق ٹھہرتی ہے


wasim aliگزشتہ روز ایک خبر نظر سے گزری جس کے مطابق تقریباً دو ہزار کے قریب پوسٹ گریجویٹ خواتین و حضرات نے نائب قاصد، مالی ٹائپ درجہ چہارم کی ملازمتوں کے لیے درخواستیں دیں_ اخبار کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے گلہ کیا کہ جن کے پاس بڑی سفارشیں ہوتی ہیں اُن کو نوکریاں مل جاتی ہیں اور باقی اتنا پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی درجہ چہارم کی ملازمت بھی حاصل نہیں کرپاتے_

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خبر پڑھ کر دل میں وہی زبانِ زدِ عام تعزیتی اور مزاحمتی جملے اُبھرتے ہیں کہ کیا دور آگیا ہے، اس ملک میں ٹیلینٹ کی قدر نہیں، سارا نظام ہی کرپٹ ہوگیا ہے، حکمران کرپٹ ہیں، یہ سرمایہ دارانہ نظام کی نحوستیں ہیں، اسی وجہ سے برین ڈرین ہو رہا ہے، کیا بنے گا اس ملک کا وغیرہ وغیرہ

لیکن ایک منٹ ٹھہرئیے، اور سوچئیے کہ جو انسان پوسٹ گریجویشن کر کے بھی درجہ چہارم کی نوکری کے لیے درخواست دے رہا ہے، کیا واقعی میں اس نے اپنی قابلیت اور معیار دکھا نہیں دیا کہ وہ تو درجہ چہارم کی نوکری کے قابل بھی نہیں ہے_ اب کچھ لوگ کہیں گے کہ لکھنے والے کو زمینی حقائق کا کیا پتا، اسے کیا خبر کہ مجبوری کیا ہوتی ہے اور انسان سے کیا کیا کروا جاتی ہے_ تو دوستو، بات صرف اتنی سی ہے کہ جو بندہ سولہ جماعتیں پڑھ کر بھی یہ نہیں سیکھ سکا کہ وہ مشکل حالات میں محنت کرکے کیسے روزگار کما سکتا ہے وہ درجہ چہارم کے لیے ذلیل نہ ہوگا تو کیا اسے اقوام متحدہ یا مائیکرو سافٹ والے گھر آ کر نوکری کی پیشکش کریں گے؟

اصل میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ڈگری تو جیسے تیسے حاصل کر لیتے ہیں لیکن قابلیت جس ہُما کا نام ہے وہ کبھی ہمارے سر کے پاس سے بھی نہیں گزرا۔۔۔ یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبا و طالبات میں ڈگری حاصل کرنے کا عمومی طریقہ کار یہی رائج ہے کہ فل ٹائم رٹا مارو، انٹرنیٹ سے اسائنمنٹس کاپی پیسٹ کرو، پروفیسروں سے بنا کے رکھو اور اگر تھوڑے زیادہ اچھے نمبر چاہئیں تو جتنی چاپلوسی اور چمچہ گیری ہوسکتی ہے کرو اور اپنا دو چار سال کا وقت گزارو، ڈگری لو اور اس کے بعد فیس بک اور گلی میں تھڑوں پہ بیٹھ کے ملک میں اپنے ٹیلنٹ کی ناقدری کا زاروقطار رونا روؤ۔

اور جہاں تک پرائیوٹ امتحان دے کے ڈگری لینے کا تعلق ہے، تو یہاں امدادی کتب اور نوٹس لو اور رٹے مارو اور امتحان میں جو بھی سوال آتا ہے اسے گھما پھرا کے لکھ دو اور پھر پاس ہونے کے بعد حکومت کو درجہ چہارم کی ملازمت بھی نہ دینے پر کوسنا شروع کردو۔

00فرصت قلیل ہے اور کہانی طویل ہے۔۔۔ طالب علموں کی حالت زار اور ذہنی اپروچ کی بات ہو جائے، اساتذہ اور جامعات پہ تفصیلی بات اگلی نشست میں کریں گے۔۔۔ تو ٹیسٹ کیس کے طور پر ایم اے انگریزی اور اردو کو لے لیتے ہیں۔۔۔ ایک طالب علم ایم اے انگریزی کررہا ہے اُس سے مقصد پوچھا جائے تو یا تو اپنی کزن کو دیکھ کے کر رہا ہے یا امی اورابو کا شوق پورا کرنا ہے، کچھ خواتین سسرال والوں پہ دھاک بٹھانےکے لیے شیکسپئیر، ملٹن، بیکٹ اور رسل کو گھول گھول کے پینے کی کوشش کرتی ہیں اور کچھ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ کیسے بھی ایک دفعہ ایم اے ہوجائے، سی این این، بی بی سی یا گارڈئین والے نہیں بھی قدر پہچانتے پھر بھی ڈان کی ادارت تو مل ہی جائے گی۔۔۔ لیکن اگر علمی معیار اور قابلیت ملاحظہ کی جائے تو چارلس ڈکننز کے نصاب میں شامل ناول ‘ آ ٹیل آف ٹو سٹیز’ کے سارے سوال تو رٹا مار مار کے یاد کیے ہوں گے لیکن اس کے متن کو سو میں سے نوے لوگوں کو تو ھاتھ لگانے تک کی توفیق نہیں ہوتی، ناول نگار کے باقی ناولوں کا تو ذکر ہی چھوڑیں۔۔۔ جس کے نصاب میں کرسٹوفر مارلو کا ڈرامہ ‘ڈاکٹر فاسٹس’ ہے اس نے جیسے تیسے کرکے اسے ہی نبٹایا، اور ‘جیو آف مالٹا’ کس کھیت کا مالٹا ہے اس کی جانے بلا۔

پنجابی میں طاق والے خط کی مثال تو سب کو یاد ہی ہوگی جس میں چوہدری کا بیٹا نصاب کا رٹا ہوا خط ہر آتے جاتے کو سنا کے اپنی دھاک بٹھاتا رہتا ہے لیکن شومئی قسمت سے جب سچ مچ کسی کا خط پڑھ کے سنانا پڑ جاتا ہے تو وہ بھاگ بھاگ کے طاق میں پڑے رٹے رٹائے خط کی طرف لپکتا ہے کہ مجھے تو یہی آتا ہے

چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ ہمارے ہاں اکثر طلبا کو اس تعلیمی شعبے میں جانا پڑتا ہے جس میں ان کی دلچسپی نہیں ہوتی لیکن یہیں سے تو زندگی شروع ہوتی ہے جب آپ نے ایک کام کرنا ہی ہے تو تھوڑی محنت سے کرلیں ورنہ طاق والے خطوط جن کی کُل قابلیت ہو وہ درجہ چہارم کے لیے ذلیل نہ ہوں تو کیا انہیں گھر سے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ لینے آئے گا؟ مزید یہ بھی کمال کا تماشہ وطن عزیز میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ آپ ایم اے انگریزی ہیں لیکن دو تین منٹ بھی آپ روانی سے انگریزی میں گفتگو نہیں کرسکتے تو پھر یہ قابلیت دیکھ کہ انٹرویو کرنے والا پانی پلا کے گھر واپس نہ بھیجے تو کیا بیعت ہوجائے آپ کے ہاتھ پہ؟

0001nایسے ہی حالات ایم اے اردو والوں کے ہیں، جی میں نے ایم اے اردو کیا ہے، وہ کیا ہے نا، شعر(اشعار نہیں) یاد نہیں ہوتے مجھے ۔۔۔ دوسری زبانوں کا ادب اور ادیب گئے بھاڑ میں، میر، غالب، فیض اور ن م راشد پہ بات کریں گے تو سانس پھول جائے گی اور پھر پانی پی کے رخصت مانگیں گے

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تیس لاکھ سے زیادہ طلبا و طالبات گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ہر سال تقریباً پانچ لاکھ لوگ ڈگری لیتے ہیں۔۔۔ تو پتا لگائیے نا، کچھ تو گڑبڑ ہے۔۔۔ مان لیا کہ سرکاری ملازمت نہیں ملتی تو کیا یہ لوگ پرائیوٹ سیکٹر میں پڑھا کے پانچ سال میں تعلیمی انقلاب برپا نہیں کر سکتے؟ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اتنی رو دھو کے ڈگری لی ہے اور اب ہمیں افسر ہی لگنا ہے اور اتنے بچے ہم بھی نہیں کہ ہمیں پتا نہ ہو کہ درجہ چہارم کے سرکاری ملازم بھی افسر ہی ہوتے ہیں۔ ایک ایم اے پاس کچھ بھی نہ کرے گھر میں ہی بچوں کو پڑھانا شروع کردے تو سال دو سال میں نام بن جاتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ پورے گوجرانوالا شہر میں ایسے پانچ نام بھی نہیں ملتے جو انگریزی ادب کی کلاس مکمل اور ٹھیک انگریزی میں پڑھا سکیں۔ طلبا صحیح معنوں میں رُل رہے ہیں، پرائیوٹ اکیڈمیوں اور کالجوں کی فیسیں جمع کروا کے بلیک میل ہو رہے ہیں اور ہمارے سارے قابل لوگ سرکاری چپڑاسی لگنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک برین ڈرین کا تعلق ہے تو باہر کے ادارے بھی قابل لوگوں کو لیتے ہیں، رٹا باز طوطوں کو پاس بھی پھٹکنے نہیں دیتے_

پسِ نوشت: میں نہ تو اس نظام کا حامی ہوں اور نہ ہی اسے یا حکمرانوں کو مثالی سمجھتا ہوں لیکن میرا یہ ماننا ہےکہ رونے، چلانے اور محض شکایت کرنے سے مسائل حل ہوا کرتے تو کم ازکم پاکستانی پڑھے لکھے نوجوانوں کا کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا۔ ٹھیک ہے آپ سرخ، سبز انقلاب لانے کی کوشش کریں لیکن اگر سولہ سال کی تعلیم آپ کو یہ نہیں سکھا سکی کہ محنت سے روزی کیسے کمانی ہے تو ایسی ڈگریاں قابلِ شرم بن جایا کرتی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments