داستان گو…  سامع اور ثقافت


saeed bhuttaجب میری محقَق لوک کہانیاں شائع ہوئیں، تو دوستوں نے صلاح دی، کہ اپنے تحقیقی منہاج کو سامنے لائیں۔ کیوں کہ تنگ نظری کے سبب سے ہی تو قلب و ذہن پر قفل چڑھے ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنے تحریری مصادر کو ہمیشہ پر دے میں رکھا ہے،تاکہ اپنی دکان چلتی رہے۔ نام و نمود کا شوق دلوں میں بسیرا کئے ہوئے ہے۔ جب ایسی خواہشوں کو دھچکا لگتا ہے تو فضا مکدر ہوجاتی ہے۔ یورپی اقوام اپنے علم کی بدولت کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہیں۔ اُن کے بنائے ہوئے ادارے علم کی ترویج کا سبب بنے ہیں۔ ہماری تنگ نظر ی کے کئی انداز ہیں۔ جن پر پھر کبھی بات ہوگی۔

یورپ میں انیسویں صد ی سے ہی لوک ادب کی تحقیقی مجالس کی بنیاد پڑ گئی تھی۔ لوک ادب کو کئی زاویوں سے پڑھنے کا چلن ہوا۔ تب چھوٹے بڑے اداروں سمیت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لوک ادب سے واقفیت کے لئے نصاب تیار کئے گئے۔ ان نصابوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ نئی نسل کا رحجان لوک ادب کو محفوظ کرنے کی طرف ہو اور وہ اس ضمن میں مقدور بھر اپنا حصہ ڈالیں۔ انگریزی کتابوں میں ورکشاپوں کی کارروائیاں اور سوالنامے مل جاتے ہیں۔ مگر ہمیں یہ سوالنامے کبھی متاثر نہیں کر سکے ، کیونکہ یہ تجارتی مقاصد کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ جس کا نتیجہ داستان گو کو ایک جیتے جاگتے انسان کی بجائے بکاﺅ مال تصور کرنے پر منتج ہوتا ہے۔ ایک اجنبی سے اپنے مطلب کی بات کیسے اگلوانی ہے۔ یہ فہم دوسری ثقافتوں اور اجنبی بولیوں میں تحقیق کرنے والے بابوﺅں کے لئے چاہے کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو، ہمارے کسی کام کی نہیں۔ ہماری زیادہ تر تحقیق انگریزی راج سے قبل کی باروں کے بارے میں ہے۔ اس کا بنیاد ی ماخذ بار کے رہنے والے ہی ہوسکتے ہیں۔ موضوع بار کا ہے، داستان گو بار کا رہنے والا ہے، سامع اور محقق بھی بار کے باسی ہیں۔ دھرتی کے بیٹے سے دھرتی کی بات کرنے کے لئے ہاتھ میں سوالنامہ امریکی مجلس کا ہو، ہے نہ مضحک بات ۔ ہمارے خیال میں تو ہر ثقافت کا طرزِ اظہار منفر د ہوتا ہے۔ اسی طرز کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

لوک کہانی کی تحقیق میں اجنبی پن ہی بڑی رکاوٹ ہے۔ اگرداستان گو، سامع یا محقق ، کسی طرف سے کوئی کمی رہ گئی، تو سمجھو بات بگڑگئی۔ یہ اجنبیت دوسری زبان کا مسئلہ نہیں ۔ بعض اوقات اپنی زبان میں پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر محقق کا تعلق کسی اور وسیب سے ہے او ر اس کا لہجہ ، ملنا جلنا اور اٹھنا بیٹھنا بھی شاہد ہے کہ بھائی میں آپ کی کیسٹیں ریکارڈ کرنے آیا ہوں،تو اچھا خاصا ہنر مند آدمی بھی ، ناتراشیدہ دکھائی پڑنے لگتا ہے۔ جب آپ کسی ثقافت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، تو اس کا باسی بھی آپ کو باریک بینی سے دیکھتا ہے۔ کیا خبر آپ کی کھوٹ سے پہلی نظر میں ہی واقف ہو جائے ۔ یوں بنیادی حیثیت داستان گو کی ہے۔ وہ کیسے زندگی کی خوبیوں ، خامیوں ، اوصاف اور ضروریات کو اپنے شعور و لاشعور کا حصہ بنا کر محاکمہ کرتا ہے۔ اس کی بیتی اور فن کو ہی اولیت ہے۔ اگر اسے مرعوب کرنے کے ہتھکنڈے آزمانے لگیں، تو سمجھو کہانی کا گلا وہیں دب جائے گا۔

یوں تو لوک کہانی کی بہت سی انواع ہیں۔ مگر ہم نے ثقافتی اور تاریخی کہانی سے ہی علاقہ رکھا ہے۔ ثقافتی کہانی کے انتخاب کے وقت داستان گو بدل جاتاہے۔ وہ ایک مخصوص داستان گو ہوتا ہے،جو بیتی ہوئی کو یاد رکھتا ہے۔ وہ گنی چنی کہانیاں ہی بیان کرتا ہے۔ ہر جگہ انہی کہانیوں کو دہرانے کے سبب سے ہی ان کا پلاٹ بہت گندھا ہوا ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں ثقافت میں بیتی ہوئی کا نقشہ سامنے لاتی ہیں۔ اس لئے ان میں تبدیلی بہت کم جگہ پاتی ہے۔ بعض قبیلوں کے میراثیوں نے تو ان کی واریں اور سد بھی بنائے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی کہانی تو نثر میں سناتے ہیں مگر تاثیر میں اضافے کے لئے ، اس میں ڈھولے اور مصرعوں کو بھی شامل کر دیتے ہیں۔ یو ں کہانی اپنے اصل واقعے سے زیادہ دور نہیں جاتی۔ شاعری اپنی تمام خوبیوں کے باوصف ، فنی وسائل جیسے چھند ، چال ، قافیہ ، ردیف، آہنگ اور ماتروں وغیرہ کی پابند ہوتی ہے۔ تخیل کے لئے نثر میں ایسی تنگی نہیں ہوتی۔ اگرچہ ہر فرد داستان گو کی طرح کہانی بیان نہیں کرسکتا ، مگر واقعہ اس کے لئے اجنبی نہیں ہوتا۔ کہانی جس ثقافت کے متعلق ہوتی ہے، اس کا باسی ، اس کے انجام سے بہت حد تک واقف ہوتا ہے، پھر بھی پل پل اس میں جی رہا ہوتا ہے اور سننے کے دوران بالکل تازہ دم رہتا ہے۔

ان کہانیوں کا ایک مخصوص زمانہ بھی ہے اور مقام بھی ۔ یہ ساندل بار ، کڑانہ بار ، گوندل بار اور گنجی بار کے قبیلوں کے انداز ِحیات، خوبیوں اور خامیوں کو نمایاں کرتی ہیں۔ ان کہانیوں کا زمانہ سولھویں سے انیسویں صدی تک کا ہے۔ زیادہ تر قبیلے آج بھی عین انہی علاقوں میں سکونت پذیر ہیں۔ عام قارئین کے لئے یہ کہانیاں ہیں۔ مگر بارواسی اور خصوصاً وہ قبیلے جن کے آباﺅ اجداد ان کہانیوں کے کردار ہیں، وہ انہیں تاریخ کے طور پر مانتے ہیں۔ یہ بار واسیوں اور اجنبیوں کے مشاہدے کا فرق بھی ہے۔ اجنبی کاغذ کے عرش پر فارسی اور انگریزی اترتی نہ دیکھے، تو وہ اسے فکشن قرار دےگا۔ وہ فارسی اور انگریزی کو ریکارڈ قرار دے کر، ان کی اہمیت جتا تا ہے۔ یہ کہانیاں بار کے لینڈ سکیپ او ر اقداری نظام میں گندھی ہوئی ہیں۔ ان کے کرداروں کا طرز عمل اس بات کا بیّن ثبوت ہے، کہ یہ ثقافت صدیوں سے اپنے پاﺅں پر کھڑی ہے۔ مختلف علاقوں کی رہتل، ان کے مزاجوں کا امتیاز ، عداوت ، تعلق کی مروت، بدلے کا اختیار رکھتے ہوئے معاف کر دینا ، ہنر کی عظمت ، دشمن کی توقیر ، کہی ہوئی بات پر قائم رہنا ، مہمان نوازی ، ظالموں کے ستائے ہوﺅں کے لئے جان قربان کر دینا، مشکل وقت میں بدیسیوں کی بجائے اپنوں کے ساتھ کھڑے ہونا ، ایسی اقدار ہیں جو دنیا کی بڑی سے بڑی ثقافتوں سے بڑھ کر نہیں تو ان کی برابری ضرور کرتی ہیں۔

یہ ثقافت یک رخی ثقافتوں میں شمار نہیں ہوتی ۔ اس خطے پر بیرونی حملہ آوروں کا ایک طویل سلسلہ نظر آتا ہے۔ آریہ سے لے کر عربوں تک کئی اقوام آئیں اور انہوں نے اپنے اسلوب حیات کو یہاں رواج دیا۔ ان کہانیوں میں ترکوں ، مغلوں ، پٹھانوں اور انگریزی کی ثقافتی اقدار اور بارواسیوں کی سوجھ بوجھ میں ایک تصادم کی فضا نظر آتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ کابل ، پشاور ، دلی ، لاہور اور ملتان فارسی بولنے والے بادشاہوں کا مرکز بن چکے تھے۔ باروں کو بھی ترکی اور تازی پاما ل کر کے گزرتے رہے ۔ پھر آٹھ سو برس تک اجنبیوں کی حکومت رہی ۔ اس تاریخی جبر کے باوجود بار واسیوں نے اپنی ثقافت کا جو ہر ختم نہیں ہونے دیا۔ یہ ثقافتی جوہر ہی ہوتا ہے، جو مشکل وقت میں بھی انسان کو اپنے پاﺅں پر کھڑ ا ہونے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ حملہ آور اپنی زبان اور دیگر حربوں کے ذریعے غلاموں کو مطیع بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اثرات قبول کرنے والے سرے پر ُسچا وسیب اور پرکھنے والی آنکھ ہو تو غلاموں کو چھان پھٹک کے بعد منتخب اثرات ہی خوش آتے ہیں۔ کہانی کے مطابق سخی خان خواص ، لودھی نواب کا بیٹا ہے۔ اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کی ماں کو بے عزت کر کے دربار سے نکال دیا جاتا ہے۔ اس کا جرم ہے، بادشاہ کی بات کا جواب دینا۔ ایسے انسان کو چناب کا کنارہ اور بار ہی سہار سکتی ہے، جہاں منہ پر سچ بات کہنا، انسان کے ہونے کی دلیل ہے۔ خان خواص کی پرورش چناب کے کنارے چرواہوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اپنی بات پر قائم رہنے کے لئے موت بھی قبول کر لینے پر فقیر سنیاسی اسے ’ پارس ‘ دیتا ہے۔ فقر اور جوگ دوایسی سوغاتیں ہیں، جو دھرتی کے آدمی کو انسان بناتی ہیں۔ یہی پار س لوہے کو سونا بناتا ہے۔ فقیر کا پارس بھی یہ ہے۔

                                                سخی خان خواص سکھے کا

                                                دکھ بانٹتا ہے دکھے کا

                                                پیٹ بھرتا ہے بھوکے کا

جس کے ہاتھ یہ شے آگئی وہ دلی کی شاہی حکومت سے ٹکر لینے کے قابل ہو جاتاہے۔ سلیم غوریا دلی میں بیٹھا سروں پر راج کرتا ہے، مگر خان خواص دلوں پر۔ دلی کی شاہی حکومت تلوار کے ذریعے سروں کو جھکا لیتی ہے، مگر جب جیت طاقت کے ذریعے ممکن نہ ہوتو کھوٹ اور مکر کے نقاب اوڑھ کے کام نکال لیتی ہے۔ لوگ خان خواص کو ’ سخی‘ کہہ کر احترام دیتے ہیں اور سلیم غوریے کو ’ گیدی‘ پکارتے ہیں۔ سوریوں کا راج جدھر گئی بیڑیاں ادھر گئے ملاح ۔ ” سخی خواص خان “ کا قصہ میاں محمد بخش نے لکھا ہے۔ آر سی ٹیمپل نے حکایات پنجاب حصہ سوم میں ان کہانیوں کی فہرست دی ہے، جنہیں وہ چھپوا نہیں سکا،انہیں میں ” خواص خان کا گیت “ شامل ہے ۔ ایچ اے روز نے بھی ’خان خواص ‘ کی لوک کہانی کا تجزیہ کیا ہے۔ قلہ روہتاس میں خان خواص کا مزارآج بھی موجود ہے۔  اکیسویں صدی میں عوامی مقبولیت کا ثبوت یہ کہانی ہے۔

” غلام محمد چیما“ کی کہانی میں مغل بادشاہ اکبر کا ذکر موجود ہے۔ اکبر اس رمز سے بخوبی واقف ہے کہ شاہی انتظام کی بنیادیں دیسی ہنر اور بصیرت سے مضبوط ہوسکتی ہےں ۔اس وسیب کی مذمت کرنے کا انجام باپ جیسا ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ اس کے لئے ٹوڈر مل قابلِ قبول ہے۔ غلام رسول چٹھے کو بھی خلعت اور جاگیر کے ذریعے اس نظام کا حصہ بنا لیا جاتا ہے۔ چٹھے کو اس دوستی پر فخر ہے۔ مگر دیس کی ایک بیٹی اس بھرم کی قلعی کھول دیتی ہے۔ اسے بخوبی معلوم ہے کہ خلعت مغل کی ایک چال ہے ۔ سچا دوست تو وہ ہوتا ہے،جو دوست کے گھر کو اپنا گھر سمجھے اور اگر ایک تھالی میں نہ کھائے تو کھوٹا ہے ۔ چیمی اسی فہم کے ذریعے اکبر کی ’میں‘ اورغیریت کو سامنے لاتی ہے۔

”اسالت گلوتر“،” مکھے خان گوندل “ اور ” امیر بھروانا “ کی کہانیوں کا مرکزی خیال ایک ہی ہے۔ ان کا عہد بھی اٹھارویں صدی کا پنجاب ہے۔ اس بیتی کا اہم ماخذ بلھے شاہ ، علی حیدر ، وارث شاہ اور نجابت کے بین ہیں۔ یہ کہانیاں بھی ان بزرگوں کے بیانیوں کو سہارا دیتی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہ بار واسیوں کے لاشعور سے محو نہیں ہوئی۔ لوک کہانیوں کا پٹھان کردار دوسرے کی بہو بیٹی کا دشمن ہے۔ یہ مصیبت ساندل بار، کڑانا بار اور گوندل بار کے سورموں کے سر آئی ہے۔ یہاں ہر ایک کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جارہا ہے۔ مگر جب یہ داغ کسی سورمے کے ماتھے پر لگتاہے، تو اسے کسی کل چین نہیں پڑتا۔ تینوں سورمے بڑے چاﺅ سے بیاہ رچاتے ہیں۔ تینوں اپنے وسیب میں نمایاں مقام کے حامل ہیں ۔ تینوں کی عورتیں بے گناہ ہیں۔ جب وہ حملہ آور کی ملکیت بنتی ہیں، تواس امر سے بہ خوبی واقف ہوتی ہیں کہ اب واپسی پر کوئی انہیں احترام نہیں دے گا۔وہ نئی جگہ اپنا مقام بنانے کی کوشش کرتی ہیں، مگر پچھلی ڈور چاہتے ہوئے بھی نہیں چھوٹتی۔ مکھے خان گوندل اور نارنگ ساہی کے جدی دشمن ، محمد خان بلوچ اور اسالت گلوتر اپنی دشمنی بھلا کر دھرتی جائے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاتے ہیں۔ گھروں کی آپسی رنجشیں تو معمول ہیں۔ تاہم جب کوئی بیرونی حملہ آور زیادتی کرتا ہے، تو یہ وسیب یک مشت ہوجاتاہے۔ کیا خبر یہ سمجھ بیتی کو کہانی میں ڈھالتی ہے، یا کہانیاں یہ سبق دیتی ہیں۔

”صاحب میراثی “  اور ” مالی بھٹی “ دونوں کہانیاں انگریزی راج کی ہیں۔ یہ کڑانا بار کی بیتیاں ہیں۔ اس دور کی خاص بات زمین کو ذاتی ملکیت بنانے کا عمل ہے۔ اب قبائلی سوچ ،جاگیرداری میں تبدیل ہورہی ہے۔ ” صاحب میراثی “ کی کہانی میں شکوہ ان کا ہے، جو ذاتی جاگیر اکھٹی کر رہے ہیں۔ راٹھوں کی اس نسل کو ذاتی ملکیت سے پہلے کا دور بخوبی یاد ہے۔صاحب میراثی نئے دور کے مطابق ، نو قائم شدہ جاگیرداری کا کاجل، راٹھوں کی آنکھوں کی زینت بنانے کے جتن میں ہے۔ انسانیت کی اگر کوئی پرانی کھر چن باقی ہے، تو اسے صاف کر رکھو، اسی کو ” عقل مند“ بدلتے وقت کا ساتھ دیناکہتے ہیں۔ اس کہانی سے گورے کی زیادتیاں اور قبیلے کی نفسیات کے مطابق ان سے معاملہ کرنے کے حربے کی خبر بھی ملتی ہے۔

” مالی بھٹی “ کی کہانی بار کے وسیب اور تمدن کی عمدہ ترین مثال ہے۔ گورو قبیلہ کو کڑانا بار میں بسے ہوئے صدیاں بیت گئی ہیں۔ وہ اسی مٹی کے بیٹے ہیں؛ اس کی گود میں پل کر جوان ہوئے؛ ان کا وسیلہ حیات ڈھو ر ڈنگر ہی ہے۔ کڑانا بار کی پہاڑیوں کے آس پاس موجود نشیب و فراز میں پانی ٹھہر جاتا ہے۔ جہاں سے بھینسیں پانی پیتی ہیں اور اسی میںنہاتی ہیں۔ بارشوں کے سبب کڑانا میں رونق بڑھ جاتی ہے۔ گھاس پھونس کی چرائی بے حدو حساب ہے۔

کڑانا بار سے گزرتے ہوئے کوئی شخص ان کا راستہ روکے یا چرائی سے منع کرے، بار واسی یہ سوچ بھی نہیں سکتے ۔ پر یہ ہو گزرتی ہے۔ انگریزی راج کے عہد میں زمین کو ذاتی ملکیت بنا دیا جاتاہے۔ اب دوسرے علاقوں کے رہنے والے یہاں آن پہنچتے ہیں ۔ ملکیت کی مَیں، نئے بسنے والوں کے ہونے کی دلیل ہوتی ہے۔ دوسری ثقافتوں سے آئے ہوئے لوگوں کے لئے دھرتی ماں نہیں ہے۔ وہ پیداوار اور منڈی کے تعلقات سے بہ خوبی واقف ہیں۔ ضلع دار ، گرداور ، منشی ، پٹواری، تھانیدار اور دوسرے سرکاری ملازمین کی شہہ بھی ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے منڈیوں کا پیٹ جو بھرنا ہے۔ تبھی مال ریل کے ذریعے بندرگاہوں تک پہنچے گا۔ اور پھر ولایت کی مہر ثبت ہو کر کالونیوں میں بکے گا۔ اس طرح یہ سرمایہ داری کے ستون ہیں۔ حکمرانوں کو اچھے تو لگیں گے ہی۔ بار واسی، بار کو اپنا دیس مانتے ہیں۔ زیادہ تر قبیلوں کی تو سمجھ سے ہی بالا تر ہے کہ دودھ ، اناج اوراولادبھی بکاﺅ ہوسکتے ہیں۔ بار کی روایت اور زندگی کو سیدھے سبھاﺅ دیکھنے کی بجائے باﺅ اس تمدن کو الٹا کر دکھانے کے حربے ڈھونڈھ ہی لیتے ہیں۔ بھلا جس شخص کو زمین کی ملکیت کا شعور نہیں، اگر کوئی آکر اس کا سر پھاڑے تو اسے کس نظریے کی روشنی میں پرکھیں گے؟ یہ کہانی باروں کی آباد کاری کے بعد کی پہلی نسل کے دونوں طرف کے رویوں کو اپنے اندر سموئے بیٹھی ہے۔

یہ داستان گو انگریزی راج سے قبل کی کہانیاں ہی کیوں بیان کرتے ہیں؟ اگر یہ داستان گو کا ذاتی انتخاب ہے تو اسے ایسے سامع کیوں کر میسر آتے ہیںجو یہ کہانیاں سنتے ہیں۔ اگر سننے والا کوئی نہ ہو توکہانیاں کہاں سے آئیں۔ ان کہانیوں میں داستان گو اور سامع کے درمیان ایک مماثلت موجود ہے۔ انگریزی راج کی برکتوںمیں نہریں، ریل ، منڈی ، سکول، کالج ، تھانے اور کچہری مل جاتے ہیں۔ اب زندگی کا ڈھرا ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس بیلنے میں نچڑا ہوا فرد اب انسان نہیں، مالکوں کی مِلک میں تبدیل ہو جاتاہے۔ اس صورتحال کو قبول کرنے والے جلد ہی نان و نفقہ کے مالک بن جاتے ہیں اور اس کے باغیوں کو چور، ڈاکو اور جانگلی کے تمغوں سے نوازا جاتاہے۔ فائدہ اٹھانے والے لالچ اور طمع کے نشے میں چُور ہوتے ہیں۔ باغی انسانیت اور آزادی کواہمیت دے کر خود کو قائم رکھنے کا جتن کرتے ہیں۔ بالآخر ٹھگی کا کاروبارچمک اٹھتا ہے۔ گورے کے بنائے ہوئے اداروں میں انہی کوجگہ ملتی ہے جو اس طلسم کے زیر ِاثر آچکے ہوں۔ ایسے لچکدار لوگ ہی راج کے بنیادی آلہ کار ہوتے ہیں اور اس کے وارث بھی، بار واسی خالی ہاتھ اور برہنہ سر رہ جاتے ہیں۔ یہ نیا معاشرہ کسی انصاف کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتا اور اس کے نتیجے میں مشینی عمل زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ پہلے گورے کی ضرورت کے موافق فرد کو ڈھالا جاتا ہے، بعد میں یہ ڈھلے ہوئے گورے بن بیٹھتے ہیں۔ آزاد بندہ اور آزاد جیون بار واسیوں کا رومان نہیں بلکہ زندہ تاریخ ہے۔ آزاد بندے کا اسلوب ِحیات ان کی اگلی نسلوں میں بھی نظر آتا ہے، مگر ڈھلے ہوﺅں کے لیے یہ بھی قابل قبول نہیں۔ وہ غصے کے عالم میں آستین چڑھا کے جڑیں کھودنے کے منصوبے باندھتے ہیں کہ کہیں ایسا آدمی ون، جنڈ اور کریر ہی نہ ثابت ہو۔ آگ لگا، جلی لکڑی کے ٹکڑے ایسا کر دیتے ہیں۔

ماقبل راج معاشرہ شعور والا شعور سے نکل کے ان کہانیوں کے ذریعے تصویر کی صورت میں جھلک دکھلا رہا ہے۔ان کہانیوں کا طرزِ عمل دیسی ہے۔ ان میں کوئی ایسا مذہبی ادارہ نظر نہیں آتا جو زندگی کے دھارے کو اپنے بس میں کیے بیٹھا ہو۔ یہ رب اور فقیر کے ماننے والے ضرور ہیں، مگر مسجد و ملا کے مغلوب نہیں۔ یہ کہانیاں اساطیر کے سائے میں پروان چڑھی ہیں، نہ ان دیکھی قوتیں ان کا رخ تبدیل کیے دیتی ہیں۔ ان میں تقدیر پرستی اور انسانی بے بسی کا سراغ بھی نہیں ملتا۔ یہ لوگ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ مگر قاضی کی عدالتوں میں انصاف لینے نہیں جاتے۔ یہ اکٹھے ہو کے ایک دوسرے کو منا بھی لیتے ہیں۔ اور برسوں کی دشمنی دوستی میں بھی بدل لیتے ہیں۔ قبائل کی آپسی لڑائیوں میں کسی کی بہو بیٹی کا برا نہیں چاہا جاتا۔ جب کوئی ترک، مغل یا پٹھان اس وسیب سے ایسا کرتا ہے، تو جدی دشمنی بھلا کر وسیب کی آن سب سے پہلی ترجیح بن جاتی ہے۔ دشمن کو دھتکارنا یا کمینہ پن دکھانا انہیں چھو کر بھی نہیں گزرا۔ دشمن کے گُنوں کو تسلیم کرنا، دراصل بندے کے اپنے بڑے پن کا ثبوت ہے۔ یہ وسیب ہزاروں برس سے اپنے پاﺅں پر کھڑا ہے اور مل جل کر رہنے کے ’ان لکھے‘ معاہدے کی توقیر بڑھا رہا ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ یہ کہانیاں ایک مخصوص عہد اور مقام میں پیدا ہوئی ہیں اور ایک خاص وسیب کی بیتیاں ہیں۔ وسیب بھی ایسا جو اجنبی سوجھ بوجھ کو پرکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ان کہانیوں کا اپنازاویہ نظر ہے۔ یہ کہانیاں اب کون سی ضرورت پوری کر رہی ہیں۔ اصل میں یہ لوک کہانی کی تنقید کی روایت کا مسئلہ ہے۔ لوک کہانی کو اب تک کئی علوم کی عینک سے دیکھا گیا ہے۔ یہ پہلے سے سوچی ہوئی بات کو لوک کہانی کے سر منڈھنے جیسا ہے۔ جیسے آرٹ کی دوسری قسموں کے محاکمے کے دوران ہوتا ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ کہانی سننا، ثقافت کا ایک پہلو ہے۔ اگرچہ بنیادی حیثیت داستان گو کو ہی حاصل ہے،تاہم داستان گو کہانی تبھی سنا سکتا ہے، جب اس کا کم از کم ایک سامع موجود ہو۔ یہ نانی دوہتا بھی ہو سکتے ہیں۔ اس طرح ثقافت کے دو فرد الگ الگ حیثیتیں اختیار کر جاتے ہیں۔ ایک سنانے والا دوسرا سننے والا۔ طبقاتی معاشرے میں خاص طبقے سے تعلق رکھنے والے بھی ہوتے ہیں۔ مگر کہانی سننے کے دوران دو حیثیتیں ہی رہ جاتی ہیں۔ داستان گو اور سامع ، دوسری شناختیں ضمنی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ داستان گو ثقافتی فہم کا پیغام دوسروں تک پہنچاتا ہے، اور وہ یہ پیغام وصول کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ یہ پیغام تو زیادہ تر لفطوں کی محتاجی سے بھی آزاد ہو جاتا ہے۔ دستان گو چہرے کے اتار چڑھاﺅاور اشاروں سے بھی بہت کچھ بتا رہا ہوتا ہے۔ اس طرح سامع بھی ہنکاری اور اشاروں سے اس پیغام کی حقانیت کو درست مان رہا ہوتا ہے۔ ایسے خاص لمحے میں یہ واقعہ لاثانی ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ داستان گو کا والد یا کوئی اور جس سے اس نے کہانی سنی ہے اس عروج کو نہ چھو سکے۔ اس طرح کہانی سننے کے دوران طرفین الگ ہوتے ہوئے بھی ایک ہو جاتے ہیں۔ اس طرح لوک کہانی نت نیا وجود بنائے رکھتی ہے۔ ثقافتی کہانی تو قدیم سے چلی آتی ہے۔ اس کا مرکزی واقعہ بھی وہی ہے، جسے ثقافتی سامع پہلے سے جانتا ہے۔ مگر اس کا نیا وجود اس ثقافت اور ثقافتی سامع کے ملن سے ہی بنتا ہے۔ یہاں ایک قریب کی مثال دیکھتے چلیے۔ ان کہانیوں میں کئی انگریزی الفاظ آتے ہیں جیسے سکول، پُلس، منیجر، ٹائم ، آڈر، ہوٹل، رجسٹر، گورمنٹ، لسٹ، ڈیوٹی، ٹریننگ، سپیڈ پوزیشن وغیرہ۔ظاہر ہے کہ پچھلی نسل کے داستان گو کے پاس، جس سے آج کے عہد کے داستان گو نے کہانی سنی ہے، یہ لغت نہیں ہو سکتی۔ اصل میں یہ سامع کو تسلیم کر لینے سے ہی ہوا ہے۔ اس طرح چاہے کہانی کا مرکزی ڈھانچا تاریخی واقعے کی مناسبت سے جتنا بھی سخت کسا ہوا ہو، اس کے دیگر پہلوﺅں کو بدلنا داستان گو اور سامع کی مرہون منت ہے۔ کہانی کہنے سے ایک معنی پیدا ہوتے ہیں۔ انہی معانی کو محقق لے کر آگے بڑھتا ہے۔ یہ کہنا کہ داستان گو کی ذاتی زندگی، داستان گو اور سامع کے ثقافتی وجود، فن کاروں کے عہد سے ہوآنے اور زیرِ تحقیق علاقوں اور ثقافتوں سے واقفیت کا جوکھم اٹھانے سے کوئی فرق نہیںپڑتا،جچتا نہیں۔ ایسی سوچ نئے پہلوﺅں پر پردہ گرا دیتی ہے۔ رابرٹ اے جارج نے بڑی محاکمانہ بات کی ہے۔

Furthermore, it is important to make an academic distinction between social functions and social uses, for while the former are always representative of the viewpoints of the investigations, the latter always reveal the viewpoints of the participants in the storytelling events. For this reason, the social uses are, in many ways, more important than the social functions, for they provide native or in-group insights into the meaning and significance of storytelling events that the nonnative or out-group investigator might have no way of observing because of his own social conditioning and cultural biases.

دراصل ایسے تصورات تبھی قائم ہوتے ہیں جب کہانی سننے کو زندگی کا قابل ذکر واقعہ نہ مانا جائے۔ ثقافت کی بصیرت سے آنکھیں اور دماغ بند کر لیے جاتے ہیں اور پہلے سے طے شدہ تصورات کے ذریعے اس بصیرت کی الٹی کھال اتاری جاتی ہے۔ گملوں کو پھلواری قرار دینے سے باو ¿ لوگوں کو تو مستی چڑھ سکتی ہے،مگر اسے سچ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر داستان گو، سامع اور ثقافت دائمی لمحے کی پیدائش کو ممکن نہ بنائیں تو لوک کہانی کا فن ہی ختم ہو جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “داستان گو…  سامع اور ثقافت

  • 29-05-2016 at 8:56 pm
    Permalink

    واہ بھٹا صاحب! کمال کی تحریر اور مبنی بر واقفیت تجزیہ ہے۔ تعریف کے لیے الفاظ کم پڑ رہے ہیں۔ سلامت رہیے۔

Comments are closed.