ریڈیو پاکستان کے نیلامی کے پیچھے آخر کہانی کیا ہے؟


پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے ریڈیو پاکستان اسلام آباد ہیڈ کواٹرز کی عمارت کو طویل عرصے کے لیے لیز پر نیلام کرنے کی خبر نے ریڈیو پاکستان کے ملازمین سمیت پوری قوم کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ آخر پاکستان تحریک انصاف ایک قومی اثاثے کو لنڈے کے مال کی طرح کیوں نیلام کرنے پر مجبور نظر آ رہی ہے آخر اس کے پیچھے کہانی کیا ہے؟ ریڈیو پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے پاکستان کی آزادی کی خبر نشر کر کے قوم کو مبارک باد پیش کی اور بابائے قوم قائد اعظم سے لے کر دیگر رہنماؤں کے خطابات پوری قوم تک پہنچائے۔

بھارت کے ساتھ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں ریڈیو پاکستان کے گیت بنے ہتھیار اور جذبہ حب الوطنی اور شہادت کے ایسے ترانے ہوا کے دوش پر سنائے کہ جن کو سن کر قوم کے بیٹوں نے وطن پر اپنی جانوں کے نذرانے دینے سے بھی گریز نہ کیا۔ ریڈیو پاکستان نے بھارت کے خلاف ایسے ایسے گیت بنائے جس نے بھارتی افواج کا پول کھول کر رکھ دیا اور بھارت نے مجبور ہوکر معاہدہ تاشقند سے پہلے یہ شرط عائد کر دی کہ سب سے پہلے ریڈیو پاکستان سے وہ گیت بند کروائے جائیں۔

وطن عزیز میں سیلاب ہو یا زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت، خدمت کے میدان میں ریڈیو پاکستان کا کوئی ثانی ہی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح ریڈیو پاکستان کے ملازمین آرٹسٹوں، شاعروں اور ادیبوں نے اپنے سکھ اور چین کی پرواہکیے بغیر ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ 6o اور 70 کی دہائیوں میں سیلاب کے دنوں میں کھلے آسمان کے نیچے، دریائی بندوں پر قوم کو با خبر رکھنے کے لیے اپنی نشریات جاری رکھیں۔

اٖفغان جنگ میں ریڈیو پاکستان کی دری سروس نے عارف جلالی کی آواز میں آغا جی اور برخوردار کی ٹاک نے میڈیا وار میں تو کمال ہی برپا کر دیا تھا جس کی تعریف کرتے ہوئے امریکی اور افغانی بھی نہیں تھکتے۔

2005 کا زلزلہ ہو یا پھر 2010 کا سیلاب یا دہشتگردوں کے خلاف کوئی جنگ، آپریشن ضرب عضب ہو یا راہ راست یا پھر راہ نجات یہ سب ریڈیو پاکستان کے کردار کے بغیر ادھورے ہیں۔ آج کل جب میڈیا اپنی ریٹنگ اور اپنے اپنے مفادات کی جنگ میں مصروف ہے تو ریڈیو پاکستان تعلیم، آگاہی اور تفریح کے رہنما اصولوں پر ہی قائم و دائم ہے اور علاقائی زبانوں سمیت غیر ملکی زبانوں میں ملکی دشمنوں کے پروپیگنڈوں کا بھرپور جواب دے رہا ہے۔ ہم شاید بھول بیٹھے ہیں کہ ملا فضل اللہ کے جہادی ریڈیو نے ملک کے قبائلی اور سورش زدہ علاقوں میں کیا قیامت ڈھائی اور یہ وہی ریڈیو پاکستان تھا جس نے ملا فضل اللہ کے فونی ریڈیو کے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دے کر جہاد اور شہادت کے رتبے کو واضع کیا تھا۔

شاید ہمیں اپنے قومی ادارے کی قدر ہی نہیں مگر جرمن، امریکن اور جاپانی یہ باخوبی جانتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان کی اہمیت اور افادیت کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے بڑے بڑے نامی گرامی شخصیات نے کام کیا اور اپنے نام کا لوہا منوایا مگر دور حاضر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی 2008 حکومت میں ہمیں ایک ہی نام ملتا ہے ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان مرتضیٰ سولنگی جنہوں نے ریڈیو پاکستان کا اصلی تشخص بحال کرنے کی بھرپور کوششیں کیں اور پاکستانی زبانوں کی اہمیت اور افادیت کو سمجھتے ہوئے ان کا نشریاتی وقت بڑھایا اور نیشنل براڈ کاسٹنگ سروس کے نام سے حالت حاضرہ اور پاکستانی زبانوں پر مبنی پروگرامز شروع کیے تاکہ اکائیوں کو مضبوط بنایا جائے۔

انہوں نے ریڈیو پاکستان کی آواز خزانے کو یو ایس ایڈ کی مدد سے ڈیجیٹلائیز کروایا اور خطیر فنڈز دلوائے جس کی وجہ سے ریڈیو پاکستان خوشحالی کا سفر طے کرنے لگا۔ پاکستان اور جاپان کی حکومتوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا اور کچھ سال پہلے حکومت جاپان نے 3 بلین کے لاگت سے ریڈیو پاکستان کے مین کنٹرول روم (ایم سی آر) اور اسٹوڈیوز کو ڈیجیٹلائیز کر کے میڈیم ویوز ٹانسمیٹرز دیے تاکہ پاکستانی زبانوں کی ترویج کے ساتھ شدت اور جنونیت پسندی کی سوچ کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اور جیسے ہی ریڈیو پاکستان میں بابو تعینات ہونے شروع ہوئے کسی افسر نے اپنی پروموشن حاصل کرنے کے لیے ریڈیو کے فنڈز حکومت کو واپس کیے تو کسی نے اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے ریڈیو کی ملکیت کی قربانی دی اور یہ خوشحال ریڈیو پاکستان بدحالی کا شکار ہونے لگا۔

اب جو ریڈیو پاکستان کی یہ بلڈنگ جو شاہراہ جہموریت اور شاہراہ دستور پر واقع ہے جس کی بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 27 اپریل 1972 نے رکھی جس کی نشریاتی سروسز اور اسٹوڈیوز کے ملک کے کئی وزراء اعظم، وزراء اور سابق ڈائریکٹر جنرلز نے افتتاح کیے ہوئے ہیں جہاں پر مہدی حسن ہال سے زیڈ اے بخاری آڈیٹوریم موجود ہے جس کے برآمدے میں ملک کے فنکاروں اور صداکاروں کے تصاویر آویزاں ہیں جو گزرے ہوئے ماضی کی عکاسی کرتی ہیں آج کیوں اس قومی اثاثے کو برباد کر کے ایک ٹاپ کلاس میڈیا یونیورسٹی کی بیناد رکھی جا رہی ہے اور کیوں اس قومی اثاثے کی بلڈنگ جو ایک قومی ورثے کی حیثیت رکھتی ہے اسے اکھاڑنے کی کوششیں کی جارہی ہیں؟

بھارت سمیت پوری دنیا ریڈیو کو خاص اہمیت دے رہی ہے اور آج بھی بھارت پنجابی، بلوچی، براہوی، سندھی اور دیگر زبانوں میں اپنی نئی نئی سروسز قائم کر کے پاکستان کے خلاف میڈیا وار میں مصروف ہے اور ہم اپنے قومی ریڈیو کو کچھ دینے کے بجائے الٹا اسے ہی فروخت کرنے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔

کیا یہ سب اس لیے کیا جا رہا ہے کہ وہاں سے ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، یوسف رضا گیلانی، زیڈ اے بخاری، سلیم گیلانی اور مرتضیٰ سولنگی، میاں ںواز شریف، احسن اقبال اور مریم اورنگزیب کی تختیاں اور یادیں ہٹائی جائیں ہا پھر ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ میں ٹاپ کلاس کی یونیورسٹی قائم کر کے کسی اپنے کو ہی نوازنے کا کوئی چکر ہے۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب کے بھی شاہراہ دستور کے بالکل سامنے ٹوئن ٹاور میں کروڑوں روپے کی مالیت کے دو فلیٹس ہیں جس ٹاور کو عدالت غیر قانوںی قرار دے چکی ہے وہاں کیوں ٹاپ کلاس یونیورسٹی نہیں بنائی جا رہی کیونکہ نہ ہی وہاں پر کوئی قومی ورثہ ہے نہ ہی قوم کی کوئی یادیں۔

اس ملک میں پہلے ہی سرمایہ دارانہ نظام کے تحت سینکڑوں یونیورسٹیاں قائم ہیں جہاں پر لاکھوں روپوں کے عوض تعلیم فروخت کی جاتی ہے اور اگر آپ کو یونیورسٹیاں بنانے کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر پہلے ملک میں موجود ان پبلک یونیوریسٹیوں کی تقدیر بدلیں جہاں عام عوام کے بچے پڑھتے ہیں۔

اس وقت ریڈیو پاکستان کو دور حاضر کے مطابق قائم کرنے کی ضرورت ہے ناکہ اس کی بلڈنگ کو نیلام اور اس کے زمینوں پر قبضے کر کے اس کو بند کیا جائے۔
یاد رہے کہ ریڈیو پاکستان ملک کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہے اور یہ قوم کی آواز ہے اور یہ بلڈنگ قومی اثاثہ ہے جس کو ریڈیو پاکستان کے ملازمین اور یہ قوم بہت آسانی سے کسی بھی یونیوریسٹی یا ہوٹل مافیا کہ ہتھے چڑھنے نہیں دے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں