امن آئے گا دبے پاﺅں ….


 

zafar kakarبیس جنوری کا دن باچا خان کی برسی کا دن ہے۔ باچا خان انسانیت کی تاریخ کے ان چند روشن میناروں میں شامل ہیں جن پر امن کی شمعیں جلتی ہیں۔ بیس جنوری کے دن امن کے پیامبر کی برسی کے موقع پر باچا خان یونیورسٹی میں امن مشاعرہ ہونا تھا مگر بیس جنوری کی تاریخ چارسدہ کے باسی کبھی بھلا نہ پائیں گے۔ بھلا بھی کیوں پائیں کہ یہی دن ہے جس کی کرچیاں مدتوں آنکھوں میں چبھتی رہیں گی۔ اس دن کی دردناک چیخیں مدتوں سماعتوں پر قہر بن کر ٹوٹتی رہیں گی۔ یہی دن ہے جس نے امن کی کتاب کے صفحات پر خون کے قطرے گرا دیئے۔ اس قوم کا دشمن صرف آج کا دشمن نہیں ہے۔ یہ ایک روشن مستقبل کا دشمن ہے۔ اس کی دشمنی علم سے ہے۔ اس کی دشمنی دانش سے ہے۔ گزشتہ برسوں سے اس نے قوم کے مستقبل کو نشانے پر رکھا ہے۔ سٹیفن ہاکنگ نے کہا تھا۔ ’ علم کا سب سے بڑا دشمن جہالت نہیں ہے بلکہ علم کا سراب ہے‘۔ اس قوم کا دشمن علم کے سراب میں مبتلا ہے جس نے اسے علم کا دشمن بنا
رکھا ہے۔

 دیکھیے تصویر کے کیا عجب رخ ہیں۔ تاریخ کے اوراق میں خونچکاں شہروں کا جب بھی ذکر ہو گا، بیروت کے نام پر انسانی خون کے چھینٹے نظر آئیں گے۔ ہیروشیما کی تباہی کے بعد اگر تاریخ میں کوئی شہر کھنڈر بنا ہے تو وہ بیروت ہی ہے۔ اس قیامت خیزی میں بیروت کی شاید ہی کوئی عمارت گولی سے محفوظ رہی ہو سوائے بیروت عرب یونیورسٹی کے۔ دوہزار پندرہ میں اوسلو میں سینتیس ممالک نے ایک اعلامیہ پر دستخط کیے Global Coalition to  Protect Education from  Attack جس کا مقصد تعلیمی اداروں کو جنگ میں محفوظ رکھنا تھا۔ بدقسمتی دیکھیے کہ ان ممالک میں پاکستان شامل نہیں تھا جب کہ پاکستان ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں تعلیمی ادارے سب سے زیادہ شدت پسندی
کا شکار رہے ہیں۔ (GCPEA)  کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں نہ صرف شدت پسندوں نے تعلیمی اداروں کو شدت پسندی کا نشانہ بنایا ہے بلکہ دفاعی اداروں نے بھی تعلیمی اداروں کو کیمپوں کے طور پر استعمال کیا ہے۔   (GCPEA)  کا کہنا ہے کہ جب دفاعی ادارے تعلیمی اداروں کو فوجی اڈوں، بیرکوں، اسلحے کی ذخیرہ گاہوں، تربیتی مراکز اور حراستی مراکز کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو یہ نہ صرف طالب علموں کے لئے مشکل کا سبب بنتے ہیں بلکہ ان اداروں کے ہدف بننے کا بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اس لئے (GCPEA) کے مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ تعلیمی اداروں کو دفاعی اداروں کے استعمال سے دور رکھا جائے تاکہ وہ ہر طرح کی شدت پسندی سے محفوظ ہو سکیں۔ اد ھر 2010ءمیں بھارتی سپریم کورٹ نے ایک حکم جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بھارت میں موجود تمام تعلیمی اداروں سے فوج کو نکال دیا جائے کیونکہ ان کی موجودگی سے تعلیم پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ دنیا سے علم 12622103_1797276307166541_3565412551632289904_o-1024x640کا رشتہ ہے۔ یہ علم کی محبت ہے مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔

 تصویر کا دوسرا رخ بہت بھیانک ہے۔ پندرہ جنوری 2013ء کو شام کے شہر حلب میں شدت پسند حلب یونیورسٹی پر حملہ کرتے ہیں جس میں بیاسی افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔ دو اپریل 2015ء کو کینیا کے شمال مشرقی صوبے کے صدر مقام گریسا میں شدت پسندوں نے گریسا یونیورسٹی پر حملہ کر کے 148 افراد مار دیئے۔ آرمی پبلک سکول پشاور کی ایک سو پچاس لاشوں کا ماتم جاری ہے۔ ابھی کل ہی تو پشاور دھماکے میں شہید ہونے والے اس بچے کی تصویر روح کو جلا رہی تھی جس نے ہاتھ میں دس روپے کا ایک نوٹ تھام رکھا تھا کہ ایک اور قہر ٹوٹ پڑا۔ چار سدہ کے لاشوں کی گنتی ابھی جاری ہے۔ اچھی خبر ہے کہ فوج کے سپہ سالار خود چارسدہ پہنچ گئے ہیں۔ اس سے ان کے اس عزم کا اظہار ہورہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فوج کے عزائم مضبوط ہیں۔ ورنہ باقی کہانی وہی ہے۔ بریکنگ نیوز کا عذاب چل رہا ہے۔ پہلے سے لکھے بیانات جاری ہو رہے ہیں۔ دیکھ لیجیے کہ جنوری 2010ء میں لکی مروت کے خودکش دھماکے کے بعد جاری ہونے والے بیانات اور آج کے بیانات میں کتنا فرق ہے۔ شاید تاریخ کے فرق کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو۔ خبروں کے انبار میں آنکھیں ترس گئیں مگر وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کا بیان نظر نہ آ سکا۔ نیشنل ایکشن پلان کی حالت یہ ہے کہ دونوں وزراء نہ صرف منظر سے غائب تھے بلکہ آپس میں بات چیت بھی منقطع ہے۔ سیاسی کارکن نواز، نواز اور عمران، عمران کھیل رہے ہیں۔ پی ٹی وی کو شہباز شریف کی تقریر سے فرصت نہ مل سکی اور علم دشمن ایک اور حملہ کر گئے۔

جانے کیوں یہ علم دشمنی ہمارے خمیر میں گھر کر چکی ہے۔ قندھار کے پروفیسر رفیق رشتیا کا گلہ اب بھی یاد ہے۔ عرصہ ہوا جب اس نے رسان سے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن ہمارا مہمان ہے۔ اس کی حفاظت سر آنکھوں پر مگر سوال یہ ہے کہ ملا عمر کا گھر بنانے کی بجائے اور تورابورا میںملٹری کیمپ بنانے کی بجائے اس مہمان نے افغانستان میں ایک سکول یا یونیورسٹی بنانی کیوں پسند نہیں کی؟ کیا جواب دیتا؟ یہی عرض کر سکا کہ تاریخ پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ سنہ 1088ءمیں بولوگنا یونیورسٹی کا قیام عمل میں آتا ہے۔ سنہ 1209ءمیں کیمبرج یونیورسٹی بنتی ہے۔ سنہ 1248ء میں آکسفوورڈ یونیورسٹی کو شاہی چارٹر ملتا ہے۔ ادھر 1556ء میں شاہی قلعہ بننے کا آغاز ہوتا ہے۔ 1632 ء میں تاج محل بننا شروع ہوتا ہے۔ 1648ء میں لال قلعہ بنتا ہے۔ دیوان خاص، بلند دروازہ، بی بی کا مقبرہ، قلعہ لال باغ، مقبرہ ہمایوں، مقبرہ جہانگیر اور اکبری سرائے اس کے علاوہ ہیں۔ ادھر ابوالمظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر غازی اقتدار کے سنگھاسن پر جلوہ افروز ہوتے ہیں ادھر رائل ایگریکلچرل کالج کی پہلی اینٹ رکھی جاتی ہے۔ فخر و غرور البتہ سلامت ہے کہ ہم نے صدیوں برصغیر پر حکمرانی کی ہے۔ تاریخ بدلی نہیں ہے۔ 1992ءمیں ہم نے موٹروے کی نوید سنی تھی۔ اسی سال برطانیہ میں مگر دس نئی جامعات کا چارٹر منظور ہوا تھا۔

چلیں نئی جامعات نہ سہی، اورینج ٹرین اور میٹرو سہی مگر قائم اداروں کی حفاظت کی ذمہ داری تو حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ کل پشاور اے پی ایس تھا۔ آج باچا خان یونیورسٹی کی قیامت ہے۔ کل خدا نہ کرے کہ کسی اور ادارے کو نشانہ بنایا جائے۔ ہم ایک بزدل دشمن سے لڑ رہے ہیں جو بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ہم اپنا مستقبل کسی دشمن کے حوالے نہیں کر سکتے۔ درد کے نوحے اور دکھ کے آنسو سنبھال رکھیے۔ ہمیں ان نوحوں سے نغمے بنانے ہیں جو بہار کی آمد کا پتہ دیں۔ ہمیں ان آنسوﺅں کو روشنائی میں بدلنا ہے جو ہمارے بچوں کا ایک بہتر مستقبل لکھ سکے۔ جارجیا کی ڈیانا گرٹسکاوا ایک نابینا گلوکارہ ہے۔ اس نے اپنی اندھی آنکھوں سے ایک خواب پرویا تھا۔ آئیے ، ڈیانا گرٹسکاوا کا خواب گاتے ہیں۔

12615318_1797277880499717_8304024929716487731_o-1024x746امن آئے گا

دیکھو! آسمان رو رہا ہے۔ ٹھنڈے اور تلخ آنسوﺅں سے

وہ رو رہا ہے ان لوگوں کے لئے جو خوف میں کھو چکے ہیں

اپنے آنسو پونچھ لو۔ ہمیں لڑنا ہے

اندھے نہ بنو۔ یہ نہ پوچھو کہ کیوں

بس زور سے چلاﺅ کہ امن آئے گا

سب مل کے چلاﺅ کہ امن آئے گا

جب تم رکو گے اور اپنے طیش کو سدھاﺅ گے

کچھ تو بدلے گا

ضرور بدلے گا

امن آئے گا….


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah

9 thoughts on “امن آئے گا دبے پاﺅں ….

  • 21-01-2016 at 7:18 am
    Permalink

    InshaAllah amn zaroor aye ga

  • 21-01-2016 at 8:53 am
    Permalink

    peace will come with silently? at lest i took my hands up as i m could not be any more goof hopeful

  • 21-01-2016 at 9:15 am
    Permalink

    معذرت کے ساتھ کہ جیسا نصاب ہماری سوچوں میں گھسا دیا گیا ہے اب تو اگر یہاں امن آئے گا بہی تو ہم اس کو واپس بھیج دیں گے۔ہم امن نامی کسی بہی “چیز”سے اپنائیت اور واقفیت نہیں رکھتے۔امن ہمارے لئے مثل غیر اور پرایا ہے۔

  • 21-01-2016 at 4:29 pm
    Permalink

    بہترین کالم ظفر اللہ خان اللہ کریں زور قلم اور زیادہ امین

  • 21-01-2016 at 6:44 pm
    Permalink

    بہت خونصورت تحریر ہے. سنا ہے آپ کا انٹرویو ہونے والا ہے؟ تیار رہیں بہت سوال جمع ہیں اس بیانیے کے موضوع پر

  • 21-01-2016 at 7:07 pm
    Permalink

    you r a fabulous writer…

  • 22-01-2016 at 10:02 pm
    Permalink

    دل نکال کر رکه دیا. بہت ہی اعلی ید بیضا صاحب. فرینڈ ریکوسٹ بهیجی ہے قبول کیجیے.

  • 22-01-2016 at 10:03 pm
    Permalink

    انباکس بهی کیا تها لیکن جواب نہیں آیا

  • 23-01-2016 at 3:20 am
    Permalink

    کافی ہے اگر کوئی سمجھنا چاہے

Comments are closed.