ایٹمی پھیلاؤ اور امریکی جانبداری


editامریکہ نے جوہری مواد کی تجارت کرنے والے عالمی گروپ میں شمولیت کے لئے پاکستان کی حمایت کا اعلان کرنے سے گریز کیا ہے ۔ اس گروپ میں شمولیت کے لئے پاکستان کی درخواست پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح جواب دینے کی بجائے یہ کہا ہے کہ اس بارے میں 48 رکنی گروپ جسے NSG کا نام دیا جاتا ہے، اتفاق رائے سے فیصلہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ بھارت کی اس گروپ میں شمولیت کے لئے کوششیں کررہا ہے۔ گزشتہ برس بھارت کے دورہ کے دوران امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ بھارت اس گروپ میں شمولیت کی شرائط پوری کرتا ہے۔

تاہم چین نے بھارت کی شمولیت کا راستہ روکا ہؤا ہے۔ چین کا مؤقف اصولی اور واضح ہے کہ بھارت کو جوہری مواد کی تجارت کرنے والے اڑتالیس رکنی گروپ کا حصہ بننے کے لئے پہلے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے عالمی معاہدےNPT  پر دستخط کرنا ہوں گے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی اس معاہدے پر دستخط کرنے سے گریز کر رہے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ دوسرے کو پہلے اس معاہدے کو ماننا ہوگا۔ اسی لئے بر صغیر کی ان دونوں طاقتوں کو ایٹمی ہتھیاروں کے تجربے کرنے کے باوجود ابھی تک جوہری طاقتوں کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ تاہم امریکہ اور بھارت کو امید ہے کہ اگر بھارت جوہری مواد کی تجارت کرنے والے گروپ NSG کا رکن بن جائے تو اسے دنیا کی مسلمہ ایٹمی طاقت مان لیا جائے گا ۔ اس طرح پاکستان واحد غیر تسلیم شدہ جوہری صلاحیت والے ملک کے طور پر سفارتی لحاظ سے کمزور ہو جائے گا ۔ اس کے بعد پاکستان کو اپنا جوہری پروگرام محدود کر نے پر مجبور کیا جا سکے گا۔

اس امریکی پالیسی کا آغاز 2006 میں بھارت اور امریکہ کے درمیان جوہری تعاون کا معاہدہ ہونے کے بعد ہؤا تھا۔ پاکستان نے اس یک طرفہ معاہدہ پر احتجاج کرتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا تھا کہ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی معاہدہ کیا جائے۔ تاہم امریکی حکومت نے مسلسل اس مطالبے کو مسترد کیا ہے۔ اور یک طرفہ طور سے پاکستان پر دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام محدود کرے۔ خاص طور سے بھارت کی طرف سے کولڈ سٹارٹ COLD START اسٹریٹیجی کے بعد سے یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ پاکستان اس جنگی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لئے چھوٹے موبائل جوہری ہتھیار تیار کررہا ہے۔ امریکہ اس پروگرام کی مخالفت کرتا ہے لیکن بھارت کو پاکستان دشمن جنگی تیاریوں سے منع کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان متنازعہ امور طے کرنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

امریکی سینیٹر ایڈ مارکے ED MARKEY نے بھی اس امریکی حکمت عملی کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو این ایس جی NSG کا رکن بنوانے کا واحد مقصد یہ ہوگا کہ بر صغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والی ایٹمی دوڑ کا آغاز کروا دیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ امریکی پالیسی جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے خطرناک طویل المدت حکمت عملی ہے۔ تاہم امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر، ایڈ مارکے کے مؤقف کو یہ کہہ کر مسترد کرتے ہیں کہ این ایس جی کا جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ گروپ تو سول مقاصد کے لئے جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کی تجارت کو کنٹرول کرتا ہے۔

اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ این ایس جی نامی گروپ 1974 میں بھارت کی طرف سے ایٹمی دھماکہ کرنے کے بعد قائم کیا گیا تھا تاکہ جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرکے مزید ملکوں کو اس دوڑ میں شامل ہونے سے روکا جا سکے۔ اس کے باوجود بھارت کے جنگی عزائم سے محفوظ رہنے کے لئے پاکستان نے 1998 میں ایٹمی دھماکے کر کے خود کو بھارت کے برابر کھڑا کر لیا تھا۔ اب دونوں ملک اس گروپ کی رکنیت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکہ بھارت کی کھلم کھلا تائید اور پاکستان کی درپردہ مخالفت کررہا ہے۔

اس بارے میں چین کی پالیسی واضح ہے۔ چین ہی این ایس جی میں بھارت کی شمولیت کی مخالفت کررہا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ اس گروپ میں شمولیت کے لئے بھارت کو جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدے NPT پر دستخط کرنا ہوں گے ۔ ان دونوں کو الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ LU KANG نے کہا ہے کہ پاکستان کی این ایس جی میں شمولیت کے حوالے سے بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ پہلے این پی ٹی پر دستخط کا معاملہ طے کرنا ضروری ہے۔

این ایس جی کا آئندہ اجلاس اگلے ماہ جنوبی کوریا میں ہوگا۔ اس موقع پر پاکستان اور بھارت کی رکنیت کی درخواستوں پر غور کیا جائے گا۔ تاہم امریکہ پاکستان کی درخواست کی حمایت کے بارے میں مسلسل کوئی واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ چین کے دوٹوک مؤقف کی روشنی میں بھارت کو یا تو این پی ٹی پر یک طرفہ دستخط کرنے سے یہ رکنیت مل سکتی ہے یا دونوں ملکوں کے ساتھ ایک سا سلوک کیا جائے گا۔ بھارتی صدر پرناب مکھر جی نے اس ہفتے کے شروع میں چین کے دورے کے دوران چینی قیادت سے کہا تھا کہ وہ بھارت کی درخواست کو پاکستان کے معاملہ کے ساتھ ملا کر نہ دیکھے۔ لیکن برصغیر میں دونوں ملکوں کی دشمنی اور مقابلے بازی کی روشنی میں چین یا کسی بھی غیر جانبدار ملک کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

 


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali