میرا کتا مجھ سے خفا ہے


محترمہ بانو قدسیہ صاحبہ کی شہرہ آفاق کتاب راجہ گدھ میں جانوروں کی مجلسِ شوریٰ دکھائی گئی ہے۔ اس ناول میں دو کہانیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ ایک کہانی شہر کی ہے دوسری جنگل کی۔ جنگل میں ایک مقدمہ چل رہا ہے جو گدھ کے خلاف ہے۔ سارے جانور ایک طرف اور غریب گدھ برادری ایک طرف۔ آج کے فیصلے کو سنے کے بعد سے مسلسل راجہ گدھ دوبارہ پڑھنے کو دل چاہ رہا ہے۔ سارے جانور مل کر گدھ جیسے صابر پرندے کی جان کے دشمن، کہ وہ جنگل سے جائے اور آخر میں گدھ کو جنگل چھوڑنا ہی پڑتا ہے۔ یقیناً آپ میں سے کئی افراد نے راجہ گدھ کا مطالعہ کیا ہو گا۔

لیکن میں آپ کو راجہ گدھ نہیں، اپنے کتے کی ناراضگی کا قصہ بیان کررہی تھی، دراصل مجھے جانور بہت پسند ہیں، میں ان کے خاندانی اور غیر خاندانی ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ مجھے وہ بلا تفریق اچھے لگتے ہیں۔

میرا کتا بالکل ہی غیر خاندانی ہے۔ میرا کتا نسلاً ”لینڈی“ ہے۔ ہماری سوسائٹی میں انسان چونکہ ابھی کم ہیں اس لیے جنگلی حیات سکون سے گزر بسر کر رہے ہیں۔ زیادہ ڈیمانڈ بھی نہیں کرتے، بچا کھچا کھاتے ہیں۔ تازہ کھانے یا ڈاگ فوڈ تو غریبوں کو معلوم ہی نہیں۔ مجھے بچپن سے ہی جانورں کی باتیں سمجھ آتی ہیں۔ لیکن یہ ایک قسم کی خوش فہمی ہی ہے۔

ایک مرتبہ میں کراچی ایکسپو سینٹر میں ایک نمائش میں تھی تو ایک کیڑے مار ادویات کے اسٹال پہ جانا ہوا میں نے سیلز مین سے کہا کہ لان کی گھاس اڑ رہی ہے، مجھے لگتا ہے اس کی وجہ پڑوسی کی جاہل مرغیاں ہیں۔ سیلز مین نے میری طرف دیکھا اور سوال کیا کہ یہ بتائیں جب آپ پودوں میں پانی ڈالتی ہیں تو کیا پرندے اترتے ہیں؟ میں نے جواب ہاں میں دیا ( میں اس عمل کو روحانی اور مبارک مانتی تھی، کہ شاید پرندے مجھ سے ملنے آتے ہیں)، پھر سیلز مین نے کہا بیٹا آپ کے لان کی زمین دیمک کا آشیانہ ہے، آپ اپنے لان میں ہل چلائیں۔ پڑوسی کی مرغی آپ کی گھاس نہیں کیڑے کھاتی ہے۔

پھر میں نے مرغیوں سے بھی بات چیت کا آغاز کیا اور دوستی کا ہاتھ بڑھایا، اس کے بعد سے گھر کے دروازے پر کتے مرغی اور پرندے ایک ہی برتن سے پانی پیتے ہیں، ان میں کوئی چھوت چھات نہیں ہوتی، برادری سسٹم ہے ایک دوسرے کا خیال کرتے ہیں۔ جب ایک پانی پی رہا ہو تو دوسرا اس کے سیر ہونے کا انتظار کرتا ہے، کتا پہلے اپنی مونث کو کھانا کھلاتا ہے اس کے بعد ہی کھانے کو منہ لگاتا ہے۔

یاد رہے یہ تمام جانور بالکل بھی خاندانی یا بڑا نسب رکھنے والے نہیں۔ بس دل کے اچھے خوش اخلاق اور روادار ہیں۔ یہ صرف اتنا ہی کھاتے ہیں جتنی ان کو بھوک ہوتی ہے، اس کے بعد دوسرے کو موقع دیتے ہیں۔ اگر کبھی بجلی کے تار پے کرنٹ لگنے سے کوئی ”کوا“ مرجاتا ہے تو باقی سارے کوے مل کر اس کے جانے کا سوگ مناتے ہیں۔

لیکن گزشتہ شب کچھ عجیب ہی ہوا میں اپنے کتے کو رات کے کھانے کی باقیات کھلانے گئی تو اسے دیکھ کہ ایک سیاستدان کی شکل ذہن میں ابھری میں نے پیار سے کتے کو کھانا دیتے ہوئے کہا لو — کھانا کھاؤ، کتے نے نفرت سے میری طرف دیکھا کھانے کو منہ نہ لگایا اور کہا!

”کچھ بھی کہہ دو لیکن کسی پاکستانی سیاستدان کے نام سے آئندہ پکارا تو ہمیشہ کے لیے تمہارے علاقے کیا پاکستان سے ہی چلا جاؤں گا، اور ہاں جاتے وقت کتے کی طرح کاٹ بھی دوں گا“
عزیز قارئین!
اب میں کل رات سے پریشان ہوں کیسے اپنے لاڈلے کو مناؤں آپ ہی کوئی مشورہ دیجئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں