کیا عوام ٹیکس نہیں دیتے؟


دریا کنارے بیٹھے آدمی کو اس شخص کی تکلیف کا اندازہ کیسے ہو سکتا ہے جسے ہر پہر پیاس بجھانے کے لیے کنواں کھودنا پڑے ۔ عام آدمی کے لہو سے جن کے محلات کے دیپ روشن ہیں ، وہ کس فکری رعونت سے کندھے اچکا کر فرما دیتے ہیں : معیشت کیسے بہتر ہو سکتی ہے جب لوگ ٹیکس ہی نہیں دیتے۔ایسے ہی ایک نابغے کی فکری آلودگی سے آج واسطہ پڑا اور ابھی تک یہی سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ عوام واقعی ٹیکس نہیں دیتے؟

ایک عام آدمی کو تنخواہ ملتی ہے۔ دینے والا پہلے ہی اس میں سے ٹیکس کاٹ لیتا ہے۔ٹیکس کی اس کٹوتی کے بعد وہ آدمی باقی بچنے والی رقم میں سے کچھ پیسے خرچ نہیں کرتا۔ انہیں کسی ضرورت کے لیے بچا کر رکھتا ہے۔ پھر ایک روز اسے کوئی ضرورت آ لیتی ہے۔ وہ بنک پہنچتا ہے۔ وہ ایک لاکھ کا چیک کیش کراتاہے تو اس پر 600 روپے کاٹ لیے جاتے ہیں۔ اسے معلوم نہیں یہ کٹوتی کیوں ہوتی ہے؟ وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا، وہ اس بات پر بھی مجبور ہے کہ تنخواہ بنک ہی کے ذریعے لیا کرے گا۔

کبھی آپ نے اس واردات پر غور فرمایا؟ ایک آدمی کے اپنے پیسے ہیں۔ ان پر ٹیکس پہلے ہی کاٹا جا چکا ہے۔اب وہ باقی بچ جانے والے اپنے ہی پیسے نکلوا رہا ہے تو اس سے 600 روپے مزید کاٹ لیے جاتے ہیں۔ ایک طرف ایک آدمی کے اپنے پیسے ہیں اور وہ انہیں لینے آتا ہے تو صرف اس جرم میں اس کے 600 روپے کاٹ لیے جاتے ہیں اور دوسری جانب انہی عوام کے پیسوں سے بنک طاقتور لوگوں کو اربوں روپے کا قرض دیتے ہیں اور پھر اس قرض کو معاف کر دیتے ہیں۔

جولائی 2016 میں سینیٹر اعظم سواتی نے سینیٹ میں پوچھ لیا کہ اب تک کس کس کا کتنا قرضہ بنکوں نے معاف کیا ہے تو معلوم ہوا کہ باقی کی خیر تو چھوڑیے صرف نواز شریف کی حکومت کے ایک سال یعنی 2015 میں 270 ارب کے قرضے معاف کیے گئے۔ وضاحت فرمائی گئی تو صرف اتنی کہ اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ کس کس نے کیسے کیسے قرضے معاف کرائے یہ الگ کہانی ہے ، کسی دن شاید لکھ ہی دوں۔فی الوقت صرف اس واردات پر بات کرنا مقصود ہے کہ ایک جانب آپ اپنی رقم لینے جائیں تو چھہ سو کا جگا ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے دوسری جانب آپ ہی کے پیسوں کو یہ بنک قرض کی شکل میں دے کر پھر اس قرض کو معاف کر دیتے ہیں۔

گالی پھر بھی عام آدمی کو دی جاتی ہے کہ وہ ٹیکس نہیں دیتا۔ چلیں آپ نے چھہ سو کا نقصان کروا کر بنک سے اپنے پیسے نکلوا لیے۔ اب آپ کہیں جانا چاہتے ہیں۔ گاڑی میں پٹرول ڈلوائیے۔ ایک لٹر پر قریبا پچاس روپیا ٹیکس کی شکل میں آپ سے لے لیا جاتا ہے۔ بیس ہزار روپے کمانے والے نے بھی ایک لٹر پر اتنا ہی ٹیکس دینا ہے اور کروڑوں کمانے والے اور بنک سے اربوں کے قرضے لے کر ہضم کر جانے والے سے بھی اتنا ہی ٹیکس لیا جانا ہے۔

کھیل یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ وزیر خزانہ یہ خوش خبری سنا چکے ہیں کہ پٹرول مزید 20 روپے مہنگا ہو سکتا ہے۔ اب ذرا اپنا بجلی کا بل سامنے رکھ لیجیے۔کیا کبھی آپ نے دیکھا اس بل پر آپ کتنے ٹیکس دے رہے ہیں؟ہر ماہ 35 روپے تو آپ پی ٹی وی ٹیکس کے نام پر دے رہے ہیں تا کہ وہاں حکومتیں اپنے کاسہ لیسوں کو نواز سکیں ۔

ہم نے آج تک نہیں دیکھا کہ پی ٹی وی پر اسامی کا کوئی اشتہار کبھی آیا ہو۔ معلوم نہیں ایک ریاستی ادارے میں لوگوں کو کیسے رکھا جاتا ہے۔ایک لنگر کھلا ہے اور اہل دربار کے ریوڑ پالنے کے کام آ رہا ہے۔اس لنگر کے اخراجات عام آدمی ادا کر رہا ہے۔ ہر ماہ قریب قریب ہر بل پر 35 روپے۔ کسی روز بیٹھ کر حساب لگائیے کہ ملک میں بجلی کے کل کتنے بل جاری ہوتے ہیں۔ پھر ان کو 35 سے ضرب دے کر دیکھیے کہ پی ٹی وی نام کے اس لنگر خانے کو چلانے کے لیے عوام کے ساتھ کیا واردات کی جا رہی ہے؟

پی ٹی وی ٹیکس کے ساتھ ساتھ ہر بل پر نیلم جہلم سرچارج کے نام پر کبھی 50 تو کبھی اس سے بھی زیادہ کا ٹیکس عائد کر دیا جاتا ہے۔ عام آدمی کو کچھ پتا نہیں یہ کیا فارمولا ہے لیکن وہ یہ ٹیکس دینے پر پابند ہے۔ پھر ایک ایف سی سر چارج ہے جو ہر بل میں شامل ہے۔یہ سیکڑوں میں آتا ہے اور بل میں شامل ہو جاتا ہے۔کسی کو معلوم نہیں یہ بجلی کے بل میں ایف سی کا کیا کام لیکن ٹیکس لیا جا رہا ہے اور غریب آدمی دیے جا رہا ہے۔

کوئی بیوہ ہے اور مرے ہوئے شوہر کی پنشن سے بل دے رہی ہے تو اس سے بھی یہ ٹیکس لیا جا رہا ہے اور کوئی سیٹھ ہے تو وہ بھی اتنا ہی دے رہا ہے۔پھر ایک ٹی آر سرچارج ہے۔ اللہ جانے یہ کیا بلا ہے لیکن عوام کی جیب سے قریبا سو روپیہ فی بل کے حساب سے یہ بھی لیا جا رہا ہے۔پھر ایک جنرل سیلز ٹیکس ہے جو بجلی کے بل میں موجود ہوتا ہے۔ اس کے بعدفیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ نام کی ایک ایسی بلا ہے جس کا کسی صارف کو کچھ معلوم نہیں یہ کیا بلا ہے۔

لیکن اس کی مد میں بھی چپکے سے کچھ پیسے ساتھ ڈال دیے جاتے ہیں اور صارف سر جھکا کر یہ بھی ادا کر دیتا ہے۔یہی نہیں بلکہ اس فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ پر پھر ایک اور سیلز ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔اتنے ٹیکسز کے بعد جو واردات مکمل ہوتی ہے اسے بجلی کا بل کہتے ہیں۔ آگے چلیے، ایک عام آدمی کے گھر میں کوئی بیمار پڑا ہے۔ وہ کسی سے ادھار پکڑ کر دوائی لینے جاتا ہے ۔اس سے ادویات پر بھی بھاری ٹیکس وصول کر لیا جاتا ہے۔

آپ مری کی طرف جائیں جاتے ہوئے بھی ٹیکس اور آتے ہوئے بھی ٹیکس۔ آپ موٹر وے پر جائیں تو ہر نئے سفر پر معلوم ہوتا ہے ٹیکس بڑھ چکا ہے۔ساتھ ہی ایک بورڈ عام آدمی کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے جس پر ایک لمبی فہرست درج ہے کہ فلاں فلاں اور فلاں کو اس ٹیکس سے استثناء حاصل ہے۔یہ وہی فلاں ، فلاں اور فلاں ہیں جو اس ملک کے آسودہ ترین طبقات ہیں۔طعنہ مگر عام آدمی کے لیے ہے کہ وہ ٹیکس نہیں دیتا۔

ان ڈائرکٹ ٹیکسز کے بوجھ نے لوگوں کی کمر دہری کر دی ہے اور ان ڈائرکٹ ٹیکس کا سارا بوجھ عام آدمی پر پڑتا ہے۔قدم قدم پر عام آدمی ٹیکس دیتا ہے۔سوال یہ کہ اس کے بدلے میں اسے کیا مل رہا ہے؟ صحت؟ تعلیم؟ انصاف؟ تحفظ؟ دیگر بنیادی حقوق؟ ایسا کیجیے اب ایک قانون بنا دیجیے کہ عام آدمی کو پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے۔افتخار عارف یاد آ رہے ہیں: جیسی لگی تھی دل میں آگ ویسی غزل بنی نہیں۔

(بشکریہ روزنامہ 92)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں