لذت سنگ – کالی شلوار اور دھواں میں فحاشی


لاہور کے ایک رسوائے عالم رسالے میں جو فحاشی و بے ہودگی کی اشاعت کو اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے، ایک افسانہ شائع ہوا ہے جس کا عنوان ہے ”بو‘‘ اور اس کے مصنف ہیں مسٹر سعادت حسن منٹو۔ اس افسانے میں فوجی عیسائی لڑکیوں کا کیریکٹر اس درجہ گندا بتایا گیا ہے کہ کوئی شریف آدمی برداشت نہیں کر سکتا۔ افسانہ نگار نے اظہار مطلب کے لئے جو اسلوب اختیار کیا ہے اور جو الفاظ منتخب کیئے ہیں، ان کے لئے تہذیب، شرافت کے دامن میں کوئی جگہ نہیں ہو سکتی، لیکن حکومت اب تک خاموش ہے حالانکہ یہی حکومت ہے جو ”لذت النساء‘‘ اور ”کوک شاستر‘‘ ایسی فنی (یہ استفہامیہ میرا ہے) کتابوں کو بھی قابل مواخذہ سمجھتی ہے، لیکن ایسے افسانوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتی جو ادب جدید کے نام سے سفلی جذبات میں ہلچل ڈالنے کا موجب ہیں اور فحاشت نگار ادیبوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ وہ قانون کی گرفت سے بے نیاز ہو کر گندگی بکھیرتے رہتے ہیں۔ ہفتہ وار ”خیام‘‘ لاہور۔

پریس برانچ کے انچارج چودھری محمد حسین بہت نیک خیال کے بزرگ ہیں۔ اس قسم کے افسانے پڑھ کر ان کی روح یقیناً کانپ اٹھتی ہے۔ ان کے ہاتھ میں قانون ہے اور وہ اسے نہایت سختی سے استعمال کر سکتے ہیں۔ کیا ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ جس طرح قابل اعتراض مذہبی مضامین لکھنے والوں کے خلاف گورنمنٹ کی مشینری حرکت میں آئی، اسی طرح ان گندے افسانوں کو لکھنے والے سعادت حسن منٹو وغیرہ بیچنے والے پبلشر جو رسالے کی فروخت سے ہزاروں روپیہ کماتے ہیں اور چھاپنے والے پریس کے مالک کو فوراً گرفتار کر لیتے اور ان میں سے ہر ایک کو تین تین سال کے لیے جیلوں میں بند کرا دیتے۔ ہمیں یقین ہے کہ کوئی بھی عدالت ان افسانوں کو قانون کی زد سے نہیں بچنے دے گی۔ یہ صاف طور سے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں بداخلاقی پھیلاتے ہیں اور عوام کا مذاق بگاڑتے ہیں۔
(روزنامہ پربھات۔ لاہور)

ادب لطیف اس نام کا ایک رسالہ لاہور سے شائع ہوتا ہے یہ کہنے کو تو ایک ادبی ماہنامہ ہے لیکن اگر اسے ادب کثیف کہیے تو بجا ہے۔ اس کا سالانہ نمبر اس وقت ہمارے پیش نظر ہے جس میں ایک لچر اور فحش افسانہ از قلم فحش نگار سعادت حسن منٹو شائع ہوا ہے جس کے خلاف ہم نہایت پرزور احتجاج کرتے ہیں، فقط اس کے کوک شاسترانہ خیالات کی وجہ سے بلکہ اس لئے بھی کہ یہ گورنمنٹ عالیہ کی ویمنز آگزالری کور (Wac) کی مساعی رباب جنگ کی راہ میں روڑا اٹکانے والا اور اس کی بدنامی کا موجب ہے حتیٰ کہ اس محکمہ کو بیہودہ شخص قحبہ خانہ کا نام دیتا ہے۔ ہم حیران ہیں کہ اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر گورنمنٹ کی مشینری فوراً حرکت میں آ جاتی ہے، لیکن اس خلاف تہذیب مضمون پر اس کی اب تک نظر نہیں پڑی۔ کیا سپرنٹنڈنٹ پریس برانچ اس بداخلاق اور بے ادب ”ادیب‘‘ اور رسالہ مذکور کے خلاف جلد کوئی کارروائی نہ کریں گے، د یکھنا چاہیے!
(اخوت، لاہور)

ایک مقامی ماہنامہ نے سعادت حسن منٹو کا ایک فحش افسانہ ”بو‘‘ شائع کیا تھا۔ خیام میں اس اخلاق سوز حرکت کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی جو حکومت پنجاب کے کانوں تک پہنچے بغیر نہ رہ سکی، چنانچہ معلوم ہوا کہ جس پرچے میں ”بو‘‘ شائع ہوا تھا، وہ ضبط کر لیا گیا ہے۔ یہ ضبطی 38/292 دفعہ کے ماتحت عمل میں آئی۔ ہم اس فیصلے پر حکومت پنجاب کو مستحق تبریک سمجھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کی فحاشی کو مستقل طور پر روکنے کے لئے کوئی موثر قدم اٹھائے گی۔
(ہفتہ وار خیام 8 اپریل 1944ء)

31 ملک بلڈنگ، میو روڈ، لاہور

بھائی جان، سلام شوق!

برادرم آغا خلش صاحب کا گرامی نامہ پرسوں ملا تھا۔ آپ کی علالت کا علم ہوا، اللہ کرے آپ اب تک اچھے ہوں جب آپ کو اپنی صحت کا اندازہ ہے تو اتنا زیادہ کام کیوں کرتے ہیں کہ دنوں صاحب فراش رہتے ہیں۔ مجھے لوٹتی ڈاک میں اپنی صحت کی حالت سے مطلع کیجئے اور للہ اتنی محنت نہ کیجئے کہ آپ انجکشن کے کانٹوں میں گھرے رہ جائیں۔ ابھی برسوں تک آپ کی ضرورت ہے۔

لیجیے، خیام، عالمگیر، آئینہ (بمبئی) اور دیگر مہربانوں کے دم سے ادب لطیف کا سالنامہ زیر دفعہ 292 تعزیرات ہند اور 38 ڈیفنس آف انڈیا رولز 29/ مارچ کی شام کو ضبط ہو گیا۔ پولیس نے چھاپہ مارا۔ سالنامے کے باقی ماندہ نمبر لے گئی، ابھی پروپرائٹر اور ایڈیٹروں کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، لیکن افواہ ہے کہ ہم بہت جلد گرفتار کر لئے جائیں گے۔ یہ ضبطی آپ کے مضمون اور افسانے کی وجہ سے عمل میں آئی ہے۔
(احمد ندیم قاسمی، ایڈیٹر ادب لطیف)

مضمون جس کا ذکر محولہ صدر خط میں ہے، ایک تقریر ہے جو میں نے جو گیشوری کالج بمبئی میں طالب علموں کو پڑھ کے سنائی تھی۔ اس سے پہلے چند اصحاب ادب جدید کے خلاف اس کالج میں تقریریں کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے کالج کی مجلس ادب کی دعوت قبول کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ تقریر بعد میں ادب جدید کے عنوان سے ادب لطیف کے زیرعتاب سالنامہ 1944ء میں میرے افسانے ”بو‘‘ کے ساتھ شائع ہوئی۔

میں اسے ذیل میں نقل کرتا ہوں : ”میرے مضمون کا عنوان ادب جدید ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ میں اس کا مطلب ہی نہیں سمجھتا۔ لیکن یہ زمانہ ہی کچھ ایسا ہے کہ لوگ اسی چیز کے متعلق باتیں کرتے ہیں، جن کا مطلب ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ پچھلے دنوں گاندھی جی نے آغا خان کے محل میں مرن برت رکھا۔ جب لوگوں کی سمجھ میں نہ آیا وہ کس طرح زندہ رہ سکتے ہیں تو ایک نارنگی پیدا کر دی گئی۔ یہ نارنگی بھی کچھ دنوں کے بعد ناقابل فہم ہو گئی۔ بعض آدمیوں نے کہا کہ نارنگی نہیں تھی، موسمبی تھی۔ بعض نے کہا نہیں موسمبی، نارنگی ہرگز نہیں تھی، مالٹا تھا۔

بات بڑھتی گئی، چنانچہ اس پھل کی ساری ذاتیں گنوا دی گئیں۔ نارنگی، سنترہ، موسمبی، مالٹا، چکوترہ، سویٹ لائم، کھٹا لیموں، میٹھا لیموں وغیرہ وغیرہ۔ پھر ڈاکٹروں نے ان میں سے ہر ایک کی وٹامنز گنوائیں۔ غذائیت کو کیلوریز میں تقسیم کیا گیا۔ ایک برس میں پچھتر برس کے بڈھے کو کتنی کلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر بحث کی گئی اور صاحب! گاندھی جی کی یہ نارنگی یا موسمبی جو کچھ بھی تھی، سعادت حسن منٹو بن گئی۔ یہ میرا نام ہے لیکن بعض لوگ ادب جدید المعروف نئے ادب، یعنی ترقی پسند ادب کو سعادت حسن منٹو بھی کہتے ہیں اور جنہیں صنف کرخت پسند نہیں، وہ اسے عصمت چغتائی بھی کہہ لیتے ہیں۔

جس طرح میں، یعنی سعادت حسن منٹو اپنے آپ کو نہیں سمجھتا، اسی طرح ادب جدید المعروف نیا ادب یعنی ترقی پسند لٹریچر بھی میری فہم سے بالاتر ہے اور جیساکہ میں عرض کر چکا ہوں۔ ان لوگوں کی سمجھ سے بھی اونچا ہے جو اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند مضمونوں میں اس ادب کو جس کے کئی نام ہیں اور زیادہ نام دینے کے لئے فحش نگاری اور مزدور پرستی سے، منسوب کیا گیا ہے۔ میں چیزوں کے نام رکھنے کو برا نہیں سمجھتا۔ میرا اپنا نام اگر نہ ہوتا تو وہ گالیاں کیسے دی جاتیں جو اب تک میں ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں اپنے نقادوں سے وصول کر چکا ہوں۔ نام ہو تو گالیاں اور شاباشیاں دینے اور لینے میں بہت سہولت پیدا ہو جاتی ہے، لیکن اگر ایک ہی چیز کے بہت سے نام ہوں تو الجھاؤ پیدا ہونا ضروری ہے۔

سب سے بڑا الجھاؤ اس ترقی پسند ادب کے بارے میں پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ پیدا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ادب یا تو ادب ہے ورنہ ادب نہیں ہے۔ آدمی یا تو آدمی ہے ورنہ آدمی نہیں ہے، گدھا ہے۔ مکان ہے، میز ہے، یا اور کوئی چیز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سعادت حسن منٹو ترقی پسند انسان ہے۔ یہ کیا بے ہودگی ہے! سعادت حسن منٹو انسان ہے اور ہر انسان کو ترقی پسند ہونا چاہیے۔ ترقی پسند کہہ کر لوگ میری صفت بیان نہیں کرتے بلکہ اپنی برائی کا ثبوت دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود ترقی پسند نہیں، یعنی وہ ترقی نہیں چاہتے۔ میں زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کا خواہش مند رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ سب ترقی کریں۔ آج آپ طالب علم ہیں، ترقی کرتے کرتے آپ بھی اپنے آئیڈیل تک پہنچ جائیں۔

ہر آدمی ترقی پسند ہے۔ وہ لوگ جنہیں تخریبی یارجعت پسند کہا جاتا ہے، خود کو ترقی پسند ہی سمجھتے ہیں اور پھر زمانے میں قریب قریب ہر آدمی گزری ہوئی نسل کے مقابلے میں اپنے کو زیادہ ذہین، طبع اور ترقی یافتہ انسان ہی سمجھتا ہے۔ یہی حال ادب کا ہے۔ شرر کے ناول اور راشد الخیری کے قصے آج کل کے اکثر مصنفین کو بالکل بے جان معلوم ہوتے ہیں۔ پڑھنے والوں کی بھی یہی کیفیت ہے۔ مارکیٹ میں چلے جائیے۔ آج سے دس بیس برس پہلے کے لکھنے والوں کی کتابیں اسٹالوں پر بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کی کتابیں، ایم اسلم، تیرتھ رام فیروز پوری، سید امتیاز علی تاج اور عابد علی عابد کے مقابلے میں زیادہ پڑھی جاتی ہیں، اس لئے کہ کرشن چندر اور اس کے ہم عصر نوجوانوں نے زندگی کے نئے تجربے بیان کیئے۔

آج سے بیس پچیس برس پہلے ملک کی سیاسی اور مجلسی حالت بالکل مختلف تھی۔ اسی طرح آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پچاس ساٹھ برس اور پہلے کیسی ہوگی، اور اگر مغلئی حکومت کا دور دورہ ہوتا تو بہت ممکن ہے میرے گھر میں ایک حرم سرائے ہوتی۔ حرم سرائے نہ ہوتی تو کم از کم ایک بیوی گھر میں ہوتی اور دو تین طوائفیں میری ملازمت میں ہوتیں، مجھے بٹیریں لڑانے کا شوق ہوتا۔ یہ مضمون پڑھنے کے بجائے میں پرنسپل صاحب بالا قبلہ کی شان میں ایک قصیدہ سناتا جو خوش ہو کر یا تو میرا منہ موتیوں سے بھر دیتے یا جوگیشوری کالج مجھے بخش دیتے تاکہ میں اپنا طویلہ بنا سکوں، مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں، حالت بہت مختلف ہے۔

مجھے یہاں سے پیدل سٹیشن جانا پڑے گا اور فلمستان میں اپنے آقاؤں کو جواب دیناپڑے گا کہ میں اتنی دیر ڈاکٹر کے پاس کیا کرتا رہا۔ ان سے جھوٹ بول کر آیا ہوں کہ ڈاکٹر سے ٹیکہ لگوانے جا رہا ہوں۔ ہاں، تو میں عرض کر رہا ہوں کہ حالات بہت مختلف ہیں اور یہ اختلاف ہی ادب میں مختلف رنگ پیدا کرتا ہے۔ پہلے فارغ البالی تھی، لوگ آرام پسند اور عیش پرست تھے۔ اس زمانے کے ادب میں آپ کو بہت سی دماغی عیاشیاں نظر آ سکتی ہیں۔ وہ غنودگی بھی آپ محسوس کریں آج کا شاعر اپنی جوان مرگی پر زور دار نوحہ لکھتا ہے۔ اس عہد کا قصہ نویس جنوں اور پریوں کی داستانیں لکھ کر نام پیدا کرتا تھا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں