چیف جسٹس کے لئے سیاسی رائے دینا مناسب نہیں


editاس بات پر اگرچہ پاکستانی قوم کا عمومی طور سے اتفاق ہے کہ ملک اپنی صلاحیتوں اور وسائل کے مطابق ترقی نہیں کر سکا۔ اس کی وجوہات ہر شخص اور گروہ اپنی صوابدید اور حالات و واقعات کی تفہیم کے مطابق بیان کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی نوٹ کی جا سکتی ہے کہ ایک عام ریڑھی بان سے لے کر ائر کنڈیشنڈ دفتر میں بیٹھنے والے سرمایہ دار تک کے پاس ان مسائل کو چٹکی بجاتے حل کرنے کے طریقے بھی موجود ہیں۔ ان طریقوں کا ذکر تو یہاں مناسب نہیں لیکن بلا خوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے انفرادی تجزیوں اور ان کی بنیاد پر تجویز کئے گئے حل پر عمل کرنے سے اہل پاکستان کو اس سے زیادہ خرابی اور درماندگی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا وہ اس وقت مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کا ایک ہی مناسب حل ہو سکتا ہے کہ ہر شخص اپنے طور پر دوسروں کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے اور پوری قوم کو ” تیر کی طرح سیدھا“ کرنے کا تہیہ کرنے کی بجائے ، خود اپنا کام ایمانداری ، دیانتداری اور خلوص نیت سے سرانجام دے۔ الزامات کی بوچھاڑ میں عام طور سے اسی چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

ملک کی سپریم کورٹ انصاف کا اعلیٰ ادارہ ہے۔ عام آدمی سے لے کر اعلیٰ ترین پوزیشن پر فائز شخص اس ادارے سے انصاف کی توقع کرتا ہے۔ اس کے لئے  ضروری ہے کہ یہ ادارہ اور اس کے سربراہ سیاسی معاملات میں ملوث ہونے یا سماجی برائیوں کا علاج تجویز کرنے کی بجائے، اپنے سامنے پیش ہونے والے مقدمات میں اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق انصاف فراہم کرنے کی کوشش کریں۔ اس کی بجائے اگر اعلیٰ عدالتوں کے جج حضرات ملک کے سیاسی بحران ، ماضی کی غلطیوں اور سماجی برائیوں کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار شروع کر دیں گے تو کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس رائے کی قدر و قیمت سے قطع نظر ان منصفین کی غیر جانبداری شبہات کا شکار ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے جب ملک کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اپنے رتبے ، اختیار اور حیثیت سے قطع نظر ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی نااہلی کا ذکر کرتے ہیں تو یہ باتیں نہ تو انہیں زیب دیتی ہیں اور نہ ہی اس طرح معاملات درست ہو سکتے ہیں۔ بلکہ اس سے ان مسائل میں مزید الجھن اور پیچیدگی پیدا ہو گی جن کا سامنا اہل وطن زندگی کے ہر شعبے میں کر رہے ہیں۔ یوں بھی جج کو اپنے فیصلوں کے ذریعے رہنمائی کا حق ادا کرنا چاہئے، تقریروں یا عدالتی کارروائی کے دوران متنازعہ تبصروں کے ذریعے یہ فرض بخوبی سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔

ماضی قریب میں اہل پاکستان اس سلسلہ میں ایک تجربے سے گزر چکے ہیں۔ سابق چیف جسٹس نے جب سابق آمر اور صدر پرویز مشرف کی طرف سے استعفیٰ کا مطالبہ ماننے سے انکار کیا اور پھر انہیں زبردستی اس عہدہ سے برطرف کرنے کی کوشش کی گئی تو پوری قوم بیک آواز ان کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ 2007 میں ملک میں چلنے والی عدلیہ تحریک کے دوران یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اس ملک کے باشندے زور زبردستی ، ظلم ، آمریت اور ناانصافی و بدعنوانی کے یکساں طور سے خلاف ہیں۔ انہوں نے انہی سنہری اصولوں کے لئے  جسٹس افتخار چوہدری کا ساتھ دیا اور یہ تحریک کسی حد تک ملک میں جمہوریت کی بحالی کا سبب بھی بنی۔ 2008 میں ملک میں جمہوری حکومت بحال ہونے کے بعد بھی جب چیف جسٹس افتخار چوہدری اور ان کے ساتھیوں کو بحال نہیں کیا گیا تو ایک بار پھر عوام نے پرجوش لانگ مارچ کا حصہ بننے میں تامل نہیں کیا۔

تاہم جب اسی مقبول چیف جسٹس چوہدری کی قیادت میں عدالت نے تندہی سے سیاسی اور سماجی معالات پر ازخود نوٹس لینے کا سلسلہ شروع کیا، آبزرویشن کے ذریعے رہنما سیاسی و سماجی اصول متعین کرنے کی کوشش کی اور یہ تاثر قائم کیا جانے لگا کہ ملک میں صرف سپریم کورٹ اور اس کے سربراہ افتخار چوہدری ہی دیانتداری کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور باقی سب لوگ غلطی پر ہیں اور ان کی درستی ہونی چاہئے تو حالات تو تبدیل نہیں ہوئے، سپریم کورٹ کے بارے میں شبہات نے ضرور جنم لینا شروع کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس کے طور پر افتخار چوہدری نے اگرچہ بعض اہم فیصلے بھی دئے، لاپتہ افراد کے حوالے سے کارروائی کرنے کی کوشش کی، آئین کی بالادستی قائم کرنے کا اعلان کیا، لیکن ملک کے لوگ آہستہ آہستہ ان کے بارے میں شبہات کا شکار ہونے لگے۔ ان کے فیصلے سیاسی دستاویز بننے لگے۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ چیف جسٹس چوہدری کی قیادت میں سپریم کورٹ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ سے بھی بالاتر کوئی ادارہ ہے۔ جو بھی شخص یا ادارہ یہ پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، نہ صرف اس کی نیت کے بارے میں شبہات پیدا ہوں گے بلکہ عوام اس رویہ کو مسترد بھی کر دیں گے۔ کیونکہ پاکستان کے عوام جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کا احترام اگر فوج پر لازم ہے تو سپریم کورٹ بھی اسی ایوان کے بنائے ہوئے قوانین کو ماننے اور ان کے مطابق فیصلے کرنے کی پابند ہے۔

اس تناظر میں اگر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے ارشادات پر غور کیا جائے تو یہ اندیشہ پیدا ہونے لگتا ہے کہ ایک ایسے سربراہ کی سرکردگی میں عدالت عظمیٰ ایک بار پھر اصلاح احوال کے جوش میں ایسے اقدامات کا آغاز کر دے گی جو ماضی قریب میں خرابیوں اور معاشرے میں تصادم کا سبب بنتے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کل لاڑکانہ بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے قیمتی گھوڑے اور بکرے کا تحفہ قبول نہ کر کے تو ایک خوش آئند مثال قائم کی ہے، لیکن اس موقع پر انہوں نے جو تقریر فرمائی ہے، اس میں کئی ایسی متنازعہ باتیں بھی موجود ہیں جو مزید الجھن اور پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ اول تو ملک میں سیاسی اصلاح کسی بھی جج کے فرائض منصبی کا حصہ نہیں ہے۔ بلاشبہ عام لوگوں کی طرح جج بھی اس ملک کے شہری ہیں اور مختلف امور پر ان کی رائے بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن عدالت کے وقار اور انصاف کے اصولوں کا تقاضہ ہے کہ وہ اس رائے کو خود تک محدود رکھیں۔ کیونکہ ملک کے اہم سیاسی اختلافات ہوں، سیاسی الجھنیں ہوں یا سماجی کج روی کا کوئی معاملہ ہو، حتمی فیصلے اور رہنمائی کے لئے  حکومت ، اپوزیشن ، ادارے ، تنظیمیں اور افراد بالآخر عدالت عظمیٰ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اگر اس فورم کے جج صاحبان کی رائے پہلے سے پتہ ہوگی تو کسی بھی اہم معاملہ پر فیصلہ آنے کی صورت میں آسانی سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ذاتی خیالات کی وجہ سے ”متعصبانہ“ فیصلہ ہے اور اس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔ اس لئے چیف جسٹس اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کا خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔

لاڑکانہ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے فرمایا ہے کہ یہ ملک غیر مخلص اور بے ایمان سیاستدانوں کی وجہ سے اپنے بانیوں کے خواب کی تعبیر نہیں بن سکا۔ اول تو اس بات پر ہی قضیہ اور اختلاف رائے موجود ہے کہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح پاکستانی معاشرے کے بارے میں کون سے اصولوں کو بنیاد سمجھتے تھے۔ پھر اس مقصد میں ناکامی کا الزام، درشتگی سے سیاستدانوں پر عائد کرتے ہوئے انہیں بے ایمان ، خلوص سے عاری قرار دینا کسی طور بھی متوازن اور قابل قبول بیان نہیں ہے۔ اگرچہ چیف جسٹس نے طویل المدت فوجی حکمرانی کا ذکر بھی کیا ہے لیکن انہوں نے کردار کشی کے لئے  سیاستدانوں کو چننا ہی مناسب خیال کیا۔ ملک کے سیاستدانوں کی کمزوریوں سے قطع نظر کچھ عرصہ سے یہ بات بھی واضح ہوتی جا رہی ہے کہ جو قوتیں اس ملک میں جمہوریت کی منزل کھوٹی کرنے کے لئے  سرگرم ہیں، وہ سیاسی لیڈروں پر سے عوام کے اعتماد کو ختم کرنے کے لئے  سیاستدانوں کی کردار کشی کو لازمی سمجھتی ہیں۔ اب چیف جسٹس نے سیاستدانوں کو پاکستان کی سب برائیوں کی جڑ قرار دے کر اپنا وزن ایسی ہی جمہوریت کش قوتوں کے پلڑے میں ڈالنے کی نادانستہ کوشش کی ہے جو جمہوری عمل پر لوگوں کے یقین کو کمزور اور اس کے نتائج کے حوالے سے ان کے شبہات کو تقویت دینے کا سبب بنے گی۔

سیاستدانوں کی غلطیوں سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر ان کی برائیوں کا پردہ فاش کرنے کے لئے  ملک کے کئی سو کالم نگار اور درجنوں اینکرز دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ لیکن چیف جسٹس کے عہدہ جلیلہ پر فائز ایک شخص کو یہ تو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان اس وقت جن خرابیوں اور پستی کا سامنا کر رہا ہے ، اس کا آغاز سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت اور عدالتوں کے ناجائز اقدامات کی سرپرستی کرنے سے ہوا تھا۔ پھر ملک میں سیاستدان بے توقیر اور فوجی جرنیل اقتدار پر قابض ہوتے رہے۔ اس سارے عمل میں عدالتوں نے ہمیشہ طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ جمانے والوں اور آئین کو کاغذ کا بیکار پرزہ قرار دینے والوں کا ہی ساتھ دیا۔ حتیٰ کہ یہ بھی ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے کہ ایک آمر کی نگرانی میں، اس کی خوشنودی کے لئے  ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک منتخب اور مقبول لیڈر کو پھانسی کی سزا بھی دی۔

ماضی میں کسی سپریم کورٹ نے اصولی بنیاد پر فوجی زور زبردستی کو مسترد نہیں کیا بلکہ ہر فوجی آمر کی وفاداری کے اظہار کے لئے  اکثر جج حضرات پی سی او کے تحت حلف بھی اٹھاتے رہے۔ اعلیٰ کردار کے حامل ان ججوں کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جنہوں نے عہدے اور روزگار سے محروم ہونا پسند کیا لیکن کسی غیر آئینی حکمران کی نگرانی اور تابعداری میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالتوں نے ہی فوجی حکمرانوں کو جائز اور ضروری قرار دینے کے لئے  نظریہ ضرورت ایجاد کیا جو ایک آمر کی خواہش اور ایک جج کی ضرورت کی وجہ سے ملک کے آئین کو مسترد کرنے کے لئے  ضروری سمجھا گیا تھا۔ اس لئے بانی پاکستان کے خواب کا شیرازہ بکھرنے کی بات ہو گی تو کٹہرے میں صرف سیاستدانوں کو کھڑا کر کے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔

سیاستدانوں کے علاوہ چیف جسٹس نے میڈیا کو بھی مسائل کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ کل کی تقریر میں بھی انہوں نے کہا کہ میڈیا میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔ یہ لوگ خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے یہ بھی فرمایا ہے کہ بعض اینکرز پیسے لے کر پروگرام کرتے ہیں۔ یہ باتیں خواہ کتنی ہی درست ہوں، کسی جج کے منہ سے الزام کی صورت میں ان کا ذکر کسی طور مناسب نہیں ہے۔ جج الزام عائد ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق جرم کا تعین کرتے ہیں۔ اگر سنی سنائی باتوں یا مشاہدہ کی بنا پر جج مقدمات کی سماعت کے دوران میڈیا ، اینکرز یا کسی بھی ادارے یا فرد کے خلاف بدگمانی کا مظاہرہ کریں گے تو وہ منصف اعلیٰ کے منصب سے گر جائیں گے۔ ہماری عدالتوں کو ملک میں ایک نظام کے استحکام کے لئے  کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے  ضروری ہے کہ عدالتوں سمیت سب ادارے اپنی حدود اور دائرہ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں۔

مسائل کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے یہ بھی ارشاد کیا ہے کہ فرشتے ہماری مدد کو نہیں آئیں گے بلکہ ہم میں سے ہی کسی کو آگے بڑھ کر انہیں حل کرنا ہو گا۔ ماضی میں فوجی جرنیل یہی قیاس کرتے ہوئے آئین کی دھجیاں اڑاتے رہے ہیں کہ قدرت نے انہیں بدحال قوم کی تقدیر سنوارنے کے لئے  بھیجا ہے۔ اب اگر یہ عارضہ ملک کے ججوں کو بھی لاحق ہو جائے تو اس میں بھی خیر کی کوئی امید کرنا عبث ہو گا۔ چیف جسٹس اپنے منصب کے مطابق اہم معاملات پر فیصلے صادر کریں، چور لٹیروں کو سزا دیں ، عدالتی نظام کے کسٹوڈین کے طور پر ملک میں ہر سطح پر عدالتوں سے بدعنوانی کا خاتمہ کریں۔ کرنے کو یہ کام ہی اتنے زیادہ ہیں کہ ان پر توجہ دینے کی صورت میں کسی بھی چیف جسٹس کو کسی دوسری مشکل کے لئے  پریشان ہونے کا وقت ہی نہیں مل سکتا۔

 


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali