لیڈی ڈاکٹر پر مجرمانہ حملہ اور ہماری کریہہ معاشرتی سوچ


یہ شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان کا ایک وارڈ ہے جہاں نصف سے زیادہ رات بیت چکی ہے اور ایک تازہ تازہ فارغ التحصیل لیڈی ڈاکٹر ہاؤس ڈیوٹی پر ہے۔ وہ بری طرح تھکی ہوئی ہے اور اس کے اعصاب جواب دینے کے قریب ہیں کیونکہ وہ پچھلے چھتیس گھنٹے سے مسلسل ڈیوٹی پر ہے۔ اتنی ڈیوٹی یہاں عام روٹین ہے۔ پچھلی رات بھی وہ سو نہیں پائی تھی اور اب تھکن سے برا حال ہے۔ لہذا اس کو لگتا کہ اسے کچھ دیر آرام کر لینا چاہیے۔ یہی سوچ کر ملحقہ کمرے میں وہ تھوڑی دیر اندر سے کنڈی لگا کر لیٹ جاتی ہے اور اس پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اسے نوچ رہا ہے اور گھسیٹ رہا ہے۔ اس سے پہلے کے وہ معاملہ سمجھ پاتی وہ وہ برہنہ شیطان اسے واش روم میں گھسیٹ کر دروازہ بند کر چکا۔

وہ اسے اپنی حیوانیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ اسے نوچتا اور بھنبھوڑ رہا۔ اس کی گرفت سے چھوٹ چھوڑ کر چیخنے چلانے اور مزاحمت کے درمیان اس نے پہچان لیا کہ وہ درندہ کوئی اور نہیں اسی کے وارڈ کا خاکروب علی حسن ہے۔ وہ ایک کمزور سے لڑکی ہے مگر اس وقت اپنے دفاع کے لئے اس میں پتا نہیں کہاں سے اتنی طاقت آ گئی کہ وہ اس جنسی ہوس کہ مارے ننگ انسانیت سے لڑتی رہی اور کوئی اس کو بچانے والا نا تھا۔ کوئی سیکورٹی کوئی مرد ڈاکٹر۔ اب یہاں دو مختلف موقف بتائے جا رہے ہیں۔ سچائی تو غالباً انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

پہلا یہ کہ وہ کم و بیش ایک گھنٹے مزاحمت کرتی رہی اور اسے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ پھر اس کی چیخ پکار سے نرسیں اور دیگر لوگ اکٹھے ہو گئے جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اسے اندر سے نکالا۔ ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے کوئی سیکورٹی، کوئی آفیسر وقت پر نہیں پہنچا۔ اس حوالے سے انتظامیہ کی طرف سےاس معاملے کو دبانے کے لئے جو جو رنگ دینے کی کوشش کی گئی، اور جو جو حربے استعمال کیے گئے، کس طرح سوشل میڈیا اور ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج و ہڑتال پر طوعاً و کرہاً ردو بدل کے ساتھ ایک لولی لنگڑی درخواست پولیس کو جمع کروائی گئی۔ انتظامیہ کی نا اہلی اور سیکیورٹی کے نا ہونے اور دیگر مسائل کو لے کر عدنان کاکڑ صاحب تفصیلی کالم لکھ چکے ہیں اس لئے تفصیل میں نہیں جاتی۔

دوسرا موقف یہ دیا جا رہا ہے کہ نرسیں ملحقہ کمرے میں تھیں مگر انہوں نے لیڈی ڈاکٹر کی چیخوں کی آواز نہیں سنی۔ ڈاکٹر کی خوش قسمتی تھی کہ واش روم میں ایگزاسٹ فین کے سوراخ سے بیرونی سڑک پر اس کی چیخوں کی آوازیں گئیں جہاں موجود گارڈز نے آوازیں سن لیں۔ پہلے پہل تو انہوں نے یہ سمجھا کہ چلڈرن ایمرجنسی وارڈ میں کسی بچے کی موت کے بعد اس کی ماں بین کر رہی ہے۔ اس ایمرجنسی وارڈ میں ایسا ہونا غیر معمولی نہیں ہے۔ لیکن جب انہوں نے چیخوں کے بیچ میں بچاؤ بچاؤ کی آوازیں بھی سنیں تو وہ ہسپتال کے اندر لپکے اور ایمرجنسی کے انچارج ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مشتاق کو خبر کی جو وہ ان سب کو لے کر وارڈ کے اندر پہنچا اور لڑکی کو بچایا۔ اس موقف میں یہ بھِی بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ گھنٹوں نہیں بلکہ چند منٹوں پر محیط تھا۔

ابھی جو میں پہلا توجہ طلب نکتہ اٹھانا چاہتی ہوں وہ یہ ہے مذکورہ واقع کے بعد ہسپتال میں ایک گول مول آرڈر کے ذریعے تین لوگوں پر مشتمل واقع کی انکوائری کمیٹی قائم کی گئی۔ اور مجھے یہ بتاتے ہوئے شرم آ رہی ہے کہ اس میں ہسپتال ہی کے تین مرد ڈاکٹر شامل ہیں۔ گویا وہ تین مرد ایک جواں سال اور غیر شادی شدہ لیڈی ڈاکٹر سے یہ انکوائری کریں گے کہ اس کا ریپ کس طرح کرنے کی کوشش کی گئی اور اس سے جنسی بدتمیزی کس طرح ہوئی اور کہاں کہاں ہوئی۔ کوئی شرم ہوتی ہے۔ کوئی حیا ہوتی ہے۔ ہم سب بہنوں بیٹیوں والے ہیں۔

مگر رکیے۔ شاید ہمیں مطلب صرف اپنی بہن بیٹی سے رہ گیا ہے۔ وہ وقت گئے جب بہن بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی تھیں۔ اب قدروں کے ساتھ ہم نے بہن بیٹیاں بھی بانٹ لیں۔ اسی لئے تو ان حضرات کو پورے ہسپتال میں کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں ملی انکوائری کے لئے۔ اور انکوائری کسی بات کی؟ درجنوں گواہ موجود ہیں جنہوں نے اس درندے کو اندر سے نکالا اور حوالہ پولیس کیا۔ یہ زیادتی کی کوشش کا مقدمہ ہے سیدھا سیدھا۔ ہراساں کرنے سے بہت آگے کی بات۔ ایک اٹیمپٹڈ کرائم ہے۔ کاہے کی انکوائری اور کاہے کی کمیٹی؟ یہ اوقات ہے ہمارے مینٹل لیول کی؟

اس سب سے ہٹ کر ایک بات کہنا چاہتی ہو کہ یہ آج ہم کس طرف جا رہے ہیں؟

یہاں ڈیوٹی پر تو کیا ہماری بہن بیٹیاں اپنے گھروں میں محفوظ نہیں ہیں۔ بسوں میں، رکشوں میں، بس سٹاپس پر، ریلوے سٹیشن پر موبائلوں پر سر عام فحش مواد دیکھتے بیمار ذہن لوگ اور پھر اپنی بھوک مٹانے کے لئے شکار کی تلاش میں ہر آتی جاتی بنت حوا کو گھورتی، چبھتی اور جسم کے آر پار ہوتی گندی اور گھٹیا نظریں۔

کبھی لباس تو کبھی چال ڈھال، بول چال پر طنز کے تیر۔ اس معاشرے میں عورت نہیں محض گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔ جسے خونخوار کتے رال ٹپکاتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں اور موقع پا کر بھنبھوڑ ڈالتے ہیں۔

ہم مان کیوں نہیں لیتے کہ عورت کو لے کر ہمارے دماغ کی بتی ایک ہی جگہ سے جلتی ہے۔ اور یہ جو لباس، عریانی، بے پردگی اور با پردگی، رنگ، عمر، نسل، مذہب، ذات، وقت اور جگہ کی باتیں ہیں ناں۔ ان سے ایسے وحشی درندوں کو نہ تو کوئی فرق پڑتا اور نہ انہیں اس سے مطلب ہوتا ہے۔ ایسے جنسی درندوں کو کو بس شکار چاہیے ہوتا ہے۔ بھوک مٹانے کا ذریعہ۔ کسی بھی نوع کا، کسی بھی عمر کا اور کسی بھی حالت کا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

Comments are closed.