تیسری جنس کا مسئلہ کیا ہے؟


\"Tayyabتیسری جینڈر کے حقوق اور مسائل، ٹرانس جینڈر، کراس جینڈر اور اس طرح کے دوسرے موضوعات پر بہت سی ریسرچز، آرٹیکلز اور کیسز پڑھ چُکا ہوں، اور جیسا کہ ابھی پاکستان میں بھی ایسا ایک واقعہ ہوا ہے۔

ان مسائل کی نوعیت اور حقیقت کے بارے میں ہمارے لوگوں میں آگہی نہیں ہے، ہمارے ہاں کیا پوری دُنیا میں ایسے لوگوں کو کبھی قبول نہیں کیا جاتا، انہیں عام بنیادی انسانی اور معاشرتی حقوق نہیں دئیے جاتے۔ میں تو ہر جگہ یہی بات کہتا ہوتا ہوں کہ ہم ایسے لوگوں (ہیجڑوں) کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔

کم پڑھے لِکھے یا عام اور جاہل عوام تو اِن کا مذاق اُڑاتے ہی ہیں لیکن ہمارا نام نہاد پڑھا لِکھا طبقہ بھی اِنہیں حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے کہ جیسے یہ اُنکا اپنا قصور ہو، جیسے وہ اپنی مرضی سے ایسے بنے ہوں۔

میں نے بہت سے معزز لوگوں کو بھی نوٹ کیا ہے کہ جیسے ہی اُن کی نظر کسی ایسے انسان پر پڑتی ہے تو اُنکی آنکھوں میں شرارت آ جاتی ہے، کچھ کا بے اختیار قہقہہ نکل جاتا ہے اور کچھ حاجی صاحب قسم کے لوگوں کی نظروں میں اُن کے لئے حقارت صاف نظر آجاتی ہے۔

ایسا کیوں ہے،

اگر دل کی گہرائی اور اندر کی روشنی سے دیکھا جائے تو ہم لوگ سب سے پہلے انسان ہیں، خواہ کوئی مزکر ۔ مؤنث ہو، پاگل ہو، جنونی ہو، گناہگار ہو، نیک ہو، بڑا ہو، چھوٹا ہو یا جو کچھ بھی ہو۔

سب سے پہلے ہمارا آپس میں اِنسانیت کا رشتہ ہے۔

اُس کے بعد آتا ہے جینڈر یعنی جِنس کہ آپ کس کیٹگری میں آتے ہیں تین اِقسام سمجھ لیں؛ مزکر، مؤنث اور تیسری جنہیں ہم ہیجڑے کہہ لیتے ہیں۔

اس کے بعد ہماری ثقافتی اور علاقائی پہچان ہے ہمارا رہن سہن ہے ہماری زبان ہے۔

اور اسکے بعد کہیں جا کر ہمارا مذہب آتا ہے کہ ہم مذہبی بنیاد پر مختلف گروپس ہیں۔

پھر اسی طرح سیاسی پارٹیز سے وابستگی کو شامل کرنا چاہیں تو ایک اور گروپ بھی بن سکتا ہے۔

اور اسی طرح ان سب گروپس میں بہت سے سَب گُروپس بھی ہیں۔

اب بات ایسے ہے کہ ہمیں یہ بات سمجھانے والوں نے غلط سمجھائی ہے یا ہم نے خُود ہی غلط سمجھی ہے کہ جینڈر پر، جِنس پر کسی انسان کا کوئی اختیار ہے۔

یہ اللہ تعالٰی کی مرضی ہے۔ (سائنٹیفیکیلی تفصیل میں نہیں جاتے) وہ جسے چاہے جیسا بنا دے۔

ہیں تو سب انسان ہی۔

اب جِنس کے حوالے سے دیکھیں تو وہ ذاتی نوعیت کا مسلئہ ہے۔ یعنی تینوں جینڈز کا انفرادی طور پر ذاتی (اور Collaborated))۔ وہ اسے اپنے طور پر حل کریں اور اپنی اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی جینڈر اور دوسری جینڈرز اور ان کی حدود کا اور ان کا احترام اور احساس کریں ۔

لیکن ہمیں عام روائتی طور پر جو سمجھایا اور پڑھایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ہی جینڈر سب سے افضل و برتر ہے،

اور ہم سب سے پہلے مذہبی بنیاد پر گروپ ہیں یہی ہمارا آپس میں پہلا اور آخری رِشتہ ہے۔

اس کے بعد پھر ہمیں علاقائی اور لَسانی بنیادں پر تقسیم کیا جاتا ہے کہ ہم پنجابی ہیں، سندھی ہیں، بلوچی ہیں، پھر پاکستانی ہیں، ہندستانی ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اور سمجھایا جاتا ہے کہ ہم برابر نہیں ہیں، بلوچ انسان اور طرح کے ہیں، پنجابی انسان اور طرح کے، اور ہندستان میں کسی اور طرح کے انسان بستے ہیں۔

اِنسانیت کے رِشتے کو بہت پیچھے چھوڑتے ہوئے سَب کیٹگریز کو فوقیت دی جاتی ہے۔

ہمیں سیکھایا جاتا رہا ہے کہ عورتیں ہم سے کم تر ہیں، اِن کی حیثیت صرف مرد کی خدمت اور غلامی کرنا ہے، اِنسان ہونے کے باوجود نہ ہی تو اُن کی کوئی خواہشات ہیں اور نہ ہی اُن کی کچھ عِزت اور حقوق ہیں۔

اور تیسری جینڈر تو اِنسان ہی نہیں ہیں بلکہ وہ ایک اضافی مخلوق ہیں جو باعثِ تفریح اور ہمارے مذاق اُڑانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔

لیکن اگر ایسے دیکھا جائے تو اس تیسری مخلوق کے ساتھ یہ مذاق اللہ تعالٰی نے خُود ہی کیا ہے،

اور اب اُن کے اپنے مسائل ہیں اُن کی اپنی بیماریاں ہیں جِن کو ہمارے عام لوگ بالکل بھی نہیں سمجھتے۔

ٹرانس جینڈر بھی ایک ایسی ہی حالت ہے کہ پہلے وہ کسی ایک جینڈر گروپ میں زندگی گُزار رہے ہوتے ہیں اور پھر اِس بیماری کی وجہ سے اُن کی جینز اور جسمانی ساخت میں تبدیلیاں واقع ہو جاتی ہیں اور وہ دوسری جینڈر کے ممبر بن جاتے ہیں یا انہیں سرجری کروانے کی ضرورت پڑتی ہے۔

اس مسلئے اور اِس بیماری کی حقیقت کو سمجھنے کی بجائے ہم لوگ اسے حرام اور واجب القتل قرار دے دیتے ہیں۔

اصل خامی ہمارے پڑھانے والوں اور سمجھانے والوں کی ہے، بنیادی حقیقتوں کے شعور کے فقدان کی ہے۔

ہمیں کسی بھی چیز کی حقیقت غلط سمجھائی گئی ہوتی ہے اور ہم لوگ ویسا ہی سوچتے ہیں۔

ہمیں ضرورت ہے تو شعور کو عام کرنے کی، اور اس طرح کے مسائل کی حقیقتوں کو عوامی سطح پر اُجاگر کرنے کی ہے تا کہ آئندہ ہمیں خیبر پختونخواہ جیسے واقعات نہ دیکھنے پڑیں۔ اور دوبارہ کبھی ہمارے ملک میں انسانیت کا ایسا مذاق نہ بنے۔

یہاں تک مجھے بتایا گیا ہے گھر سے سمجھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ساری دُنیا اِن سے نفرت کرتی ہے اِن کا مذاق اُڑاتی ہے اس لئے یہ اندر سے دل سے بہت دُکھی ہوتے ہیں، اور اس لئے یہ اللہ کے بہت پیارے ہوتے ہیں، اللہ کے بہت قریب ہوتے ہیں، ان کا کبھی مذاق مت اُڑانا نہ ہی کبھی تنگ کرنا یہ بہت معصوم لوگ ہوتے ہیں۔

تو اسی لئے اگر کہیں بازار میں کوئی مل جائے یا سائل کی صورت دروازے پر آئیں تو میں ان کے ساتھ تمیز کے ساتھ احترام کے ساتھ آپ یا ویرا کہہ کر بات کرتا ہوں، چائے پانی کا پوچھ لیتا ہوں اور ایسے کہ انہیں کسی قسم کی کم تری محسوس نہ ہو۔

اس سے میرا کچھ نہیں بگڑتا اور میری عِزت میں کوئی کمی بھی نہیں آتی، لیکن اللہ کے یہ بندے تھوڑی دیر کے لئے دِلی طور پر خُوشی محسوس کر لیتے ہیں۔

اور شائد اللہ اپنے ان پیارے لوگوں کی خُوشی کے صدقے میرے جیسے سے بھی خُوش ہو جائے۔

تو ہم سب کو چاہیئے کہ ایسے لوگوں کا خیال کیا کریں، ان کی تذلیل نہ کیا کریں، حقارت سے نہ دیکھا کریں۔ وہ بھی انسان ہیں۔ اُن کو تو ویسے ہی ہم لوگوں نے عام انسانوں سے آبادیوں سے علیحدہ کر رکھا ہے۔ ہم اُن کی غمیوں اور خوشیوں سے بہت دور رہتے ہیں۔ تو ہمیں کم از کم اتنا چاہئیے کہ اُن کے کچھ اچھا نہیں کر سکتے تو بُرا بھی نہ کریں۔

اللہ سب کو ہدایت نصیب فرمائے، اور سب کو اپنے جیسے انسان سمجھنے کی توفیق اور عقل عطا فرمائے۔ آمین۔


Comments

FB Login Required - comments