مشتاق شاد اور کچھ یادیں جو زندہ رہ جائیں گی


naseer nasir زندگی میں تو ہم دوستوں سے ملتے رہتے ہیں لیکن ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ہمیں یاران رفتہ سے ملاقات کا اہتمام یعنی باقاعدہ ان کو یاد کرتے رہنا چاہیئے۔ اس سے زندگی میں گدازی برقرار رہتی ہے۔ مشتاق شاد بھی زندگی اور شاعری کا ایک فراموش کردار ہیں لیکن ہر سال جب مئی کا مہینہ آتا ہے تو ان کی یاد گدگدانے لگتی ہے۔

مشتاق شاد سے میری پہلی ملاقات 1990ء میں ہوئی تھی جو فوراً ہی بےتکلف دوستی میں بدل گئی۔ اس ملاقات کا احوال بڑا دلچسپ ہے۔ میں “مشاعرہ جاتی” قسم کی ادبی محفلوں میں جانے سے ہمیشہ گریزاں رہا۔ ایک بار شبنم مناروی کسی سیاست کے تحت بتائے بغیر مجھے مقامی شاعروں کی ایک محفل میں لے گئے۔ دیکھا تو وہاں مشاعرے کا اہتمام تھا۔ مشاعرہ شروع ہوا تو کسی نو آموز کی طرح سب سے پہلے مجھے بلایا گیا۔ خیر میں نے کلام پڑھا اور واپس اپنی جگہ پہ بیٹھ گیا۔ لیکن کلام اپنا تعارف خود ہوتا ہے کے مصداق میرے پڑھنے کے دوران ہی حاضرین بول اٹھے کہ تعارف کے بغیر مجھے سب سے پہلے پڑھوا کر بڑی زیادتی اور سازش کی گئی ہے۔ جب مشاعرہ ختم ہوا تو مشتاق شاد، جو مشاعرے کی صدارت کر رہے تھے، میرے پاس آئے اور بے تکلف دوستوں کی طرح جپھی لگا لی اور باآواز بلند اعلان کیا کہ آئندہ ہر مشاعرے میں نصیر احمد ناصر کو سب سے آخر میں پڑھوایا جائے گا، اگر کسی نے ایسا نہ کیا تو اس کی ایسی کی تیسی، پھر ساتھ ہی مسکرا کر کہا، لیکن مجھ سے پہلے۔ اس دوران شبنم مناروی صاحب جو مجھے اپنی کار پر ساتھ لائے تھے چپکے سے کھسک گئے۔ مشتاق شاد خود کو استاد شاعر سمجھتے تھے اور مشاعروں میں تقدیم و تاحیر اور اپنے مقام و مرتبے کا بڑا خیال رکھتے تھے اور اس ضمن 13245343_1088769164517879_1038131285477581461_n (1)میں “زورِ بادشاہ داؤں وزیر” کی مثال تھے۔ اور وہ واقعی استاد اور ماہر شاعر تھے بالخصوص غزل اور گیت کے۔ وہ کسی بھی واقعہ، چیز اور شخصیت پر فی البدییہ لکھ سکتے تھے۔ شخصیات پر اور توصیفی نظمیں لکھنے میں انہیں ملکہ حاصل تھا۔ انہوں نے میرے لیے بھی ایک نظم لکھی تھی جو ان کے نوٹ اور دستخط کے ساتھ یادگار کے طور پر میرے پاس محفوظ ہے۔ مطایبات پر بھی انہیں عبور تھا۔ مشتاق شاد کو شاگرد بلکہ “شاگردنیں” رکھنے کا بہت شوق تھا۔ الریاض میں ان کی کئی ایک شاگردنیں تھیں، جن کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ انہیں کھانا خود نہیں پکانا پڑتا تھا۔ ان کی کوئی نہ کوئی شاگردہ وافر کھانا پکا کر لے آتی تھی۔ ان کا فرج پکے پکائے کھانوں سے بھرا رہتا تھا، لیکن وہ کسی کو اپنے گھر کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ اس معاملے میں کنجوس مشہور تھے۔ ایک بار جب بیگم شاد بھی آئی ہوئی تھیں تو ہم دوستوں نے مل کر شرارتاً زبردستی ان کے گھر کھانے کا پروگرام بنایا۔ ہم حیران ہوئے کہ ان کی بیگم اور وہ آسانی سے مان گئے۔ جب کھانا ختم ہوا تو انہوں نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ انکشاف کیا کہ یہ سارا کھانا ان کی ایک شاگردہ نے بھجوایا ہے۔ یوں کھانے پر ان کا خرچہ کروانے کی ہماری سازش ناکام ہو گئی۔

ملازمت کے اوقاتِ کار کے بعد مشتاق شاد کا بیشتر وقت ہمارے کچھ مشترکہ دوستوں کے ساتھ یا میرے اپارٹمنٹ میں گزرتا تھا۔ ان کی محبت کا انداز بھی بڑا جارحانہ قسم کا تھا۔ میں سگرٹ نہیں پیتا اور وہ دمہ اور مستقل سانس کی تکلیف کے باوجود بے تحاشا سگرٹ پیتے تھے۔ جب بھی میرے ہاں آتے تو لاؤنج میں بیٹھنے کے بجائے جان بوجھ کر سیدھا بیڈ روم میں جا کر میرے بستر پر نیم دراز ہو جاتے اور سگرٹ سلگا لیتے۔ جب تک رہتے مسلسل سگرٹ سلگائے رکھتے اور میری طرف دیکھ دیکھ 13228093_10153948022045865_689091687_nکر دھیما دھیما مسکراتے رہتے کیونکہ انھیں پتا تھا کہ میں سگرٹ کے دھویں اور بُو سے الرجک ہوں۔ ان کے جانے کے بعد میں کمرے کی کھڑکی کھول دیتا اور گھنٹوں پنکھا اور ایگزاسٹ فین چلائے رکھتا اور فریشنر کا اسپرے کرتا۔ لیکن سچی بات ہے کہ دل سے ان کی یہ دوستانہ ادا کبھی بری نہ لگی، کبھی اس پر احتجاج کیا نہ منع کیا۔ ایک بار وہ آئے اور خلافِ معمول لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ گئے اور سگرٹ بھی نہ سلگایا تو مجھے بڑا عجیب لگا۔ بڑی دیر انتظار کرتا رہا کہ وہ بستر پہ براجمان ہوں۔ آخر نہ رہا گیا اور پوچھ ہی لیا کہ جناب آج بستر کو شرفِ استراحت کیوں نہیں بخشا؟ مسکرا کر کہنے لگے آج آپ کی طبعی شرافت اور محبت کا امتحان ہے۔ میں نے ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور بستر پر بٹھا بلکہ لٹا دیا۔ وہ بظاہر اداس نہیں ہوتے تھے اور خود ان کے بقول بڑے “کبے” آدمی تھے اور سنگِ فساں قسم کا دل رکھتے تھے لیکن اندر کچھ ایسا نرم تھا جسے وہ سختاتے رہتے تھے۔

الریاض میں قیام کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب ڈاکٹر امجد پرویز، ڈاکٹر انور نسیم، شبنم مناروی، صلاح الدین پرویز، ڈاکٹر ستیہ پال آنند، عذرا نقوی، یاسمین حمید، مشتاق شاد، ایم اے تنویر، مجاہد ملک اور میں تقریباً ہر ہفتہ ملتے تھے۔ ان ملاقاتوں میں ستیہ پال آنند اور مشتاق شاد کی کسی نہ کسی بات پر کھینچا تانی ہوتی رہتی تھی۔ مشتاق شاد عمدہ سخن دان تو تھے لیکن ان کا مطالعے والا خانہ خالی تھا۔ جبکہ ستیہ پال آنند پروفیسر اور وہ بھی تقابلی ادب کے اور ملکوں ملکوں ادبی ڈپلومیسی کے ماہر۔ اس لیے ان کے سامنے مشتاق شاد کی استادی نہیں چلتی تھی۔ اسی طرح ستیہ پال آنند کی پروفیسری صلاح الدین پرویز کی تخلیقیت کے آگے ماند پڑ جاتی تھی۔ عذرا نقوی ایسے موقعوں پر ماڈریٹر کا کردار ادا کرتی تھیں۔

13246010_10153948022730865_75210828_n 1995ء میں جب ستیہ پال آنند پہلی بار پاکستان آئے تو میں اُس وقت میرپور آزاد کشمیر میں مقیم تھا۔ میرپور مشتاق شاد کا آبائی شہر تھا، وہ بھی سعودی عرب سے واپس آ چکے تھے۔ میرپور آ کر ممتاز ناول نگار محمد الیاس سے ان کی گہری دوستی ہو گئی اور ان کو بیٹھنے کے لیے ایک ٹھکانہ اور دل لگانے کا ایک بہانہ مل گیا۔ الیاس صاحب کی دکان پر دیگر ادیب/شاعر بھی آتے رہتے تھے۔ مجھ سے بھی بدستور تعلقِ خاطر آخر دم تک قائم رہا۔ لاہور سے ڈاکٹر آنند میرے ساتھ میرپور آئے جہاں دو روزہ قیام کے بعد مَیں انہیں راولپنڈی علی محمد فرشی کے ہاں لے گیا، وہاں سے ان کے آبائی گاؤں کوٹ سارنگ، سرگودھا دوبارہ وزیر آغا صاحب کے پاس، اور براستہ منڈی بہاوالدین اقتدار جاوید سے ملواتا ہوا واپس علی محمد فرشی کے پاس راولپنڈی چھوڑ آیا۔ ڈاکٹر آنند نے اپنی یادداشتوں میں میرپور قیام کے دوران جس ناخوشگوار واقعہ کو الیاس صاحب کے عشائیے کا حوالہ دیتے ہوئے مشتاق شاد سے منسوب کیا ہے وہ یقیناً کسی غلط فہمی کی بنیاد پر ہے۔ مشتاق شاد کا اُس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ کسی کا ڈاکتر آنند کو لوٹنے یا مارنے کا ارادہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سوائے چند ادبی دوستوں کے کسی کو ان کے بارے میں علم تھا نہ دلچسپی۔ پھر وہ میرے مہمان تھے، اسی سرزمین میں پیدا ہوئے تھے، شکل سے حلیے سے کسی بھی طرح غیر ملکی نہیں لگتے تھے۔ ڈاکٹر آنند کو شاید علم نہیں کہ میرپور آسودہ حال اور پُر امن لوگوں کا شہر ہے جس کے ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد برطانیہ اور یورپ میں ہے۔ ان کے لیے پونڈوں اور ڈالروں کی کوئی اہمیت نہیں۔ دراصل وہ ایک خفیہ ایجنسی کی کارروائی تھی، جس کا میں نے آنند صاحب سے آج تک ذکر نہیں کیا۔ البتہ ایک اور شاعر جو ایجنسیوں کے لیے کام کرتے تھے ان کا مجھے معلوم تھا اور وہ ڈاکٹر آنند کے میرپور پہنچتے ہی ان سے ملنے میرے گھر آ گئے تھے۔ اب وہ صاحب دنیا سے اٹھ گئے ہیں اس لیے ان کا نام لکھنا مناسب نہیں۔ ڈاکٹر آنند کے جانے کے بعد ایجنسی کے ایک افسر میرے پاس آئے تھے۔ وہ ڈاکٹر آنند کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے اور انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایک بھارتی نژاد امریکی پاسپورٹ پر میرپور آزاد کشمیر مجھ سے ملنے کیوں آیا ہے؟ میں نے جب اس واقعہ کی شکایت کی تو انہوں نے اسے نچلی سطح پر ایجنسیوں کے طریق کار کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے بہت معذرت کی۔ خیر جب میں نے ڈاکٹر آنند کے بارے میں انہیں تفصیل سے بتایا تو وہ مطمئن ہو گئے۔ اس واقعہ کی اطلاع میں نے شہر کے ایس ایس پی کو بھی دی تھی جنہوں نے خود اس وقوعے کی چھان بین کی، میرے گھر آئے، تعاون اور حفاظت کا یقین دلایا۔ جلد ہی انہیں ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا پتا چل گیا جس کا انہوں نے اشاروں کنایوں میں مجھے بتا بھی دیا، لیکن میری تسلی کے لیے دو تین دن ذاتی طور پر خیر خیریت معلوم کرنے کے لیے میرے گھر آتے رہے۔ ایس ایس پی اچھے انسان تھے، مجھے ان کا نام بھول گیا ہے۔ افسوس کہ کچھ عرصہ بعد پراسرار حالات میں ان کی موت واقع ہو گئی یا شاید انہوں نے خود کشی کر لی۔

مشتاق شاد کی وفات سے چند ہفتے قبل میں ان سے ملنے گیا۔ وہ گھر کے ایک گوشے میں تنہا پڑے ہوئے تھے۔ اتنے بڑے گھر اور بیوی بچوں کی موجودگی میں ان کو اس حالت میں دیکھ کر میرا دل بجھ سا گیا۔ جتنی دیر میں بیٹھا رہا ان کے ایک ننھے نواسے کے سوا کوئی اُس طرف نہ آیا۔ نواسا ان سے بہت مانوس تھا اور انہوں نے سائیڈ ٹیبل کی دراز اس کی من پسند کھانے پینے کی چیزوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں جب واپسی کے لیے اٹھا تو میں نے پہلی بار ان کی آنکھوں میں چمک کی بجائے تنہائی اور بے بسی دیکھی۔ میں نے اپنی شریکِ حیات رفعیہ سے اس کا ذکر کیا اور الیاس صاحب سے بھی ان کی زندگی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ جس آشیانے کو بنانے میں انہوں نے ساری زندگی معاشی جلاوطنی میں گزار دی اسی میں چراغ کی لَو تنہا پھڑپھڑا رہی تھی، جو بالآخر 29 مئی 1999ء ساڑھے نو بجے شب اپنی ہی روشنی کی تاب نہ لاتے ہوئے گل ہو گئی۔ قبروں کے ہجوم میں الیاس صاحب اور میں خاموشی سے کھڑے اسے مٹی میں اترتے ہوئے دیکھتے رہے۔

مشتاق شاد پختہ کار اور فطری طور پر موزوں طبع شاعر تھے۔ لوک اصنافِ سخن کی بازیافت ان کا خاص وصف تھا۔ انہوں نے محبت کی شادی کی تھی اور شادی کے بعد شاعری سے تائب ہو گئے تھے۔ لیکن 1986ء میں جب دوبارہ شاعری شروع کی تو چند ہی برسوں میں اپنی ایک مخصوص شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کے دو شعری مجموعے “ریگ رنگ” اور “نمبل” ان کی زندگی میں شائع ہوئے۔ گیتوں کا ایک مجموعہ “لوک پرلوک” زیرِ ترتیب تھا جس کی اشاعت کا مجھے علم نہیں۔ خود ان کے بقول، ان کے پاس لوک ادب کا کثیر اثاثہ تھا۔ اس حوالے سے ان کا اپنا کام بھی بہت تھا۔ ضروری ہے کہ ان کے اس علمی و ادبی سرمائے کو دریافت اور محفوظ کیا جائے اور ان کا تخلیقی و تحقیقی کام سامنے لایا جائے۔ معلوم نہیں ان کی بیگم اور بچے میرپور اسی گھر میں رہتے ہیں یا اس سے بڑے آشیانوں کی چاہ میں سات سمندر پار جا چکے ہیں۔-


Comments

FB Login Required - comments