احفاظ الرحمان اورعقیدت کی ایک لہر


جس سے آپ کچھ سیکھتے ہیں، وہ آپ کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے اور آدمی اپنی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔ وہ سات سو انٹرویوز، جو میں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر میں کیے، وہ کالمز اور صحافتی کہانیاں جو میں لکھتا رہا، وہ فکشن نگاری، جسے میں اپنا اصل حوالہ سمجھتا ہوں، اُن سب کے پس پردہ ایک قوت کار فرما رہی۔ ایک شخصیت، جس سے اتنی یادیں جڑی ہیں کہ ایک کتاب بن جائے اور پھر دوسری اور پھر مزیدکتابیں۔
یہ تحریر تو فقط ایک لہر ہے، عقیدت کی لہر۔

احفاظ الرحمان کو ممتاز صحافی، سینئرشاعر، سنجیدہ ادیب اور دانشورکہہ کر متعارف کروانا آسان ہے یا پھر منہاج برنا اور معراج محمد خاں جیسی قد آور شخصیات کا حوالہ دینا، جو احفاظ صاحب سے محبت رکھتے تھے، مگر میں سیدھے سبھاؤ سے کہوں، تو وہ، وہ شخص ہیں، جن سے راقم نے صحافت سے متعلق وہ سب سیکھا، جو اب مجھے کوئی اور نہیں سکھا سکتا، اب یہ دشوار ہے۔

وہ گوتم بدھ اور گرو رجنیش پر تحریرکردہ مضامین تھے، جن کے وسیلے پہلی بار میرا نام اُن کے روبرو آیا۔ یہ بات برسوں بعد انھوں نے مجھے بتائی تھی۔

دونوں مضامین میرے جیون کے اُس کٹھن زمانے میں ایکسپریس میں شایع ہوئے، جب میں بے روزگار تھا۔ ماسٹرز کے بعد مجھے اِس بوجھ کو ڈھوتے ڈھوتے ایک برس ہوگیا تھا۔ میں روز صبح اٹھ کر ایک سستے اخبار میں اپنے بلامعاوضہ، مگر باتصویر کالم کی اشاعت پر دل کو تسلیاں دیتا اور دوپہر اردو بازار کے نزدیک ایک خستہ حال، سیلن زدہ عمارت کے گرم کمرے میں بیٹھا، جہاں نچلی منزل سے آتی میکینکوں کی آوازیںایک پل کو پیچھا نہیں چھوڑتی تھیں، ایک جاسوسی ڈائجسٹ ایڈٹ کیا کرتا۔ بلکہ کہہ لیجیے کہ ایڈٹ کرنے کی ناکام کوشش کرتا۔

وہ، وہ وقت تھا، جب میں ’عوام‘ کو ’مونث‘ خیال کرتا تھا، اور’دھماکا‘ کو ”دھماکہ‘‘ اور ”ازدحام ‘‘ کو ” اژدھام ‘‘ لکھا کرتا تھا۔ مگر یہ سب بہت دیر نہیں رہنے والا تھا۔ ایکسپریس میں گوتم بدھ پر، اُس صوفی پر جس کی محبت سے میرا آس پاس معطر ہے، مضمون چھپ چکا تھا، اور اب گرو رجنیش پر، بد نام زمانہ سیکس گرو، پر مضمون چھپنے والا تھا، اور میں اُدھر بیٹھے کچھ افراد سے رابطے میں آگیا تھا، جن سے فون پر میں ڈیل کارنیگی کیا کرتا تھا۔

قصہ طویل ہے، تو سیدھا اس جاب انٹرویو کا رخ کرتا ہوں، جہاں میں احفاظ الرحمان کو یہ بتا کر متاثر کرنے میں جٹا تھا کہ میں آگ کا دریا اور اداس نسلیں پڑھ چکا ہوں، کمیونزم کے بارے میں جانتا ہوں، معتزلہ کی تاریخ اور بائبل کی مجھے خبر، نیازفتح پوری سے بھی متاثر رہا ہوں۔

میں اپنے چند کالم بھی لے کرگیا۔ وہ کالم بھی، جس میں میں نے ’عوام‘ کو’ مونث‘ لکھا تھا: عوام ہنسنے لگی۔ عوام مسکرائی۔ عوام اٹھ کھڑی ہوئی۔

”تنخواہ کتنی لیں گے؟ ‘‘ انھوں نے سوال کیا۔ میں بے روزگاری کے ہاتھوں اِس قدر کچلا جا چکا تھا کہ معمولی تنخواہ کا مطالبہ، وہ بھی جھینپتے ہوئے ہی کرسکا، وہ خاموش ہوگئے۔ پھر کہا کہ جتنی تنخواہ آپ نے کہی ہے، اُس سے چند ہزار زیادہ ہوجائے گی۔

خوشی کتنی پر اثر شے ہے، اس کا اندازہ مجھے انٹرویو سے لوٹتے ہوئے ہوا۔ میرا یقین کریں، موٹر سائیکل ہوا میں اڑ رہی تھی۔ البتہ چند ہی روز بعد یہ خوشی ایک صدمے میں بدلنے والی تھی۔ جس روز میرے ابتدائی انٹرویوزکا اسکرپٹ، اشاعت سے قبل، طریق کے مطابق میگزین ایڈیٹرکے سامنے گیا، اچھا یہ صحافت کے جگت گرو ذکریا ساجد اور معروف براڈکاسٹر پرویز بشیر خان کے انٹرویوز تھے، تب انھوں نے اسکرپٹ پڑھ کرکہا۔ ”خوف ناک!‘‘

اور میں نے جانا کہ ”خوف ناک‘‘ کو لکھنے کا اصل ڈھب کیا ہے۔
”صرف املا کی نہیں، اس میں تو زبان کی بھی بے شمار غلطیاں ہے۔ افسوس ناک۔ ‘‘انھوں نے سہولت سے کہا، یہ جانتے ہوئے کہ میں نے خود میں اپنی قابلیت کا جو بت بنا رکھا ہے (بھائی میں بچپن سے چوکھٹے میں تصویرکے شایع ہو رہا تھا ) وہ بت صدمے سے ڈھ رہا ہے۔

تو انٹرویوکا اسکرپٹ جب ہم تک لوٹا، وہ سرخ ہوچکا تھا۔ اتنی غلطیاں تھیں کہ گننا مشکل اور پھر ان کی ڈانٹ۔ اور یہ سلسلہ آنے والے چند برس جاری رہنے والا تھا۔ (نوٹ: صرف ہمارے صفحے سرخ نہیں ہوتے رہے عزیز۔ ان کے روبرو کسی کی دال نہیں گلتی تھی۔ کیا چھوٹا کیا بڑا، کیا دانا یا نادان، پروف سامنے رکھا ہے، تو ممکن نہیں ان کی عقابی نگاہ وہ غلطی نہ پکڑ لے، جس نے سب ایڈیٹرکی غفلت کی وجہ سے خود کو قلم زد ہونے سے بچا لیا )

اچھا، وہ ڈانٹ ڈپٹ کے بعد شکست خوردہ شخص کا حوصلہ بڑھانا بھی جانتے تھے، بلکہ واجب خیال کرتے تھے۔ خود ہی ہنس کر اس سے بات شروع کر دیتے۔ اکثرکسی کتاب کا ذکر یا پھرکسی خبر کا، یا فلم کا۔ کوئی پریشان ہے، تو خود ہی مالی مدد کی پیش کش کردیتے۔

دھیرے دھیرے جب میں ماحول سے ہم آہنگ ہوگیا، اور ان سے ذرا سہولت سے بات کرنے لگا، یعنی سانس روکے بغیر، تب ایک بار جب انھوں نے ہماری ایک غلطی کی نشان دہی کی، تو لڑکوں بالوں کی طرح ضد کرنے لگا کہ جن صاحب کا میں نے انٹرویو کیا تھا، انھوں نے میرے سوال کے جواب میں یہی کچھ فرمایا تھا۔

انھوں نے ایک استاد کی طرح، جو وہ ہیں، سقم کی دوبارہ نشان دہی کی۔ ہم نے پھر لڑکے بالوں کی طرح ضد کی۔ تب انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روکا، اور ایک ایسا جملہ کہا، جو ان کے اور میرے رشتے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

فرمایا:” بحث مت کریں۔ سنیں اور سمجھیں۔ میں ابھی آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ یہ غلطی کر رہے ہیں، آگے آپ کو کوئی نہیں بتائے گا۔ ‘‘

بے شک وہ درست تھے۔ آج جب میں اُس لمحے سے بہت آگے نکل آیا ہوں، اورچینلز، اخبارات، نیوز ویب سائٹس پر زبان کے ساتھ زیادتی اوراینکرز کو اردو سے سوتیلوں والا سلوک کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، تو احساس ہوتا ہے کہ بے شک، یہ وہی تھے، جنھوں نے ہماری غلطیوں کی، زبان کی بابت غلط اندازوں کی، لکھے ہوئے لفظ سے متعلق غیرسنجیدہ رویوں کی نہ صرف نشان دہی کی، بلکہ ایک اچھے طبیب کی طرح، اُن کی درستی بھی کرتے رہے۔ لغت دیکھنا سکھاتے رہے۔ اب ایسے لوگ عنقا ہوئے۔

لگ بھگ دس برس میں نے ان کے زیرسایہ کام کیا، جو شفقت اور محبت انھوں نے مجھ سے برتی، جس طرح رہنمائی کی، اسے الفاظ میں بیان کرنا دشوار۔

میں نے انھیں خوش، ناراض، غمزدہ، پرعزم دیکھا۔ انھیں بیماریوں سے جوجھتا دیکھا، جنھیں وہ ایک ایک کرکے، ایک جنگ جو کی طرح، جو وہ ہیں، شکست دیتے رہے اور ان ہی بیماریوں کے درمیان ایک بے مثال کتاب لکھنے میں اُن کی معاونت کی۔

وہ اب عملی صحافت سے کنارہ کش ہوچکے ہیں۔ ایک بڑا مدیر رخصت ہوا۔ وہ مدیر، جس نے کبھی ایک ضدی نوجوان کی غلطی کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا تھا ” میں ابھی آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ یہ غلطی کر رہے ہیں، آگے آپ کو کوئی نہیں بتائے گا۔ ‘‘
کتنے ہی واقعات ہیں، کتنے ہی قصے ہیں، جو بیان ہوں، تو پھیل کر ایک کتاب بنیں اور پھر دوسری اور پھر تیسری۔ یہ تحریر تو بس ایک لہر ہے، عقیدت کی لہر۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں