اگلے جنم موہے بٹیا ہی کیجو !


میری ماں 4 جنوری 2018 کو اس جہاں سے کوچ کر گئیں۔ ان کی عمر پچھتر برس تھی اور شاید میں نے اپنی پوری زندگی میں انہیں ایک دن بھی بیمار نہیں دیکھا۔ وہ ایک خاموش طبع اور درد مند دل رکھنے والی خاتون تھیں ۔ آخری دن تک وہ اپنے باپ کو یاد کرتی رہیں جو اڑتیس برس پہلے انتقال کر گئے تھے۔ بعض اوقات اچھی خاصی محفلوں میں ان کے آ نسو چھلک جاتے اور ہم سمجھ جاتے کہ انہیں اپنے والد یاد آ رہے ہیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم خانیوال سے رحیم یار خان اپنے نانا کو ملنے جایا کرتے تھے اور خانیوال ریلوے اسٹیشن سے ہی پارٹی شروع ہو جایا کرتی ۔

ایک بار ہم نے اپنے نانا کو سرپرائز دینے کا سوچا اور ٹیلیفون کیے بغیر عازم سفر ہوئے۔ شام کو سات بجے اباسین ایکسپریس رحیم یار خان پہنچی اور ہم بھاگم بھاگ سامان اتارنے لگے کہ نانا کو ڈبہ سے ذرا دور کھڑے دیکھا ۔ حیرت اور خوشی کے مارے چیخے اور نانا بھی ایک خوشگوار حیرت سے ہماری جانب بڑھے ۔ سلام دعا ہوئی اور ہم ان کے ساتھ گیٹ کی طرف چل پڑے ۔

عمومآ جب ہم اپنے آ نے کا بتاتے تو بوگی نمبر بھی بتایا کرتے تھے کیونکہ اباسین کا رحیم یار خان اسٹیشن پر سٹاپ بہت تھوڑا ہوتا تھا اور نانا بوگی نمبر کی وجہ سے ڈبہ کے قریب آ جایا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ برس ہا برس چلتا رہا۔ خیر! اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے نانا سیدھے بوگی کے پاس نہیں آئے اور ہمارے شور مچانے پر ٹھٹھکے۔ ہم نے گیٹ کی طرف جاتے ہوئے پوچھا ، “ابا جی! آپ کو کیسے علم ہوا کہ ہم آ رہے ہیں؟”  انہوں نے کہا، “جس دن سے آ پ کو چھٹیاں ہوئی ہیں میں شام کو گھر جاتے ہوئے اسٹیشن سے ہو کر جاتا ہوں”.

گرمیوں کی چھٹیاں بیٹی سے ملنے کی آس بڑھاتی تھیں اور ریلوے اسٹیشن امید کی تجسیم تھی۔ یقیناً ہر باپ بیٹی کی راہ ایسے ہی تکتا ہے۔ کسی باپ نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ اسے باپ سے زیادہ محبت ہے یا شوہر سے تو بیٹی بولی ،” پتہ نہیں بابا لیکن میں آپ سے ملتے ہوئے شوہر کو یکسر بھول جاتی ہوں اور اس کے ساتھ ہوتے مجھے آپ ہی کا خیال رہتا ہے”. کچھ دن پہلے علی میر کو یہ کہتے پایا کہ مریم تو نواز شریف کو کبھی نہیں چھوڑے گی کیونکہ بیٹیاں ہی تو باپ کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔ علی میر کے والد جب کینسر کے خلاف نبرد آ زما تھے تو ان کی بیٹی امریکہ میں بچے چھوڑ کر باپ کی خدمت کرنے پہنچ گئیں تھیں۔

ہم نے بے نظیر بھٹو کو سامراج کے گماشتوں کے خلاف لڑتے دیکھا ہے اس لیے ہمارے لیے نہ تو یہ جنگ نئی ہے اور نہ باپ سے محبت کا بے پایاں اظہار۔

لاکھ اختلاف سہی لیکن حسینہ واجد اور آ نگ سان سوکی بھی اسی جذبہ سے سرشار تھیں گو کہ آ ج دونوں پر مختلف نوعیت کے مظالم ڈھانے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ میں ( گو کہ میرا کہنا ایک فرد کی ناقص رائے سے زیادہ کچھ نہیں) سمجھتا ہوں کہ الزامات درست بھی ہیں لیکن اس وقت ہمارا زاویہ نظر مختلف ہے۔ آج بھی حبیب جالب، فیض احمد فیض اور ن م راشد کی بیٹیاں اپنے والد کے کام کو ساری دنیا میں متعارف کروا رہی ہیں۔

جناح صاحب اور ان کی بیٹی دینا واڈیا کے بارے اختلاف کی افواہیں بہت پھیلیں لیکن ان میں حقیقت بہت کم تھی بلکہ دینا کا خود کو شعوری طور پر پاکستان اور اس کے معاملات سے دور رکھنے کا مقصد ہی اپنے باپ کی عزت و تکریم کا خیال تھا۔ سعادت حسن منٹو کی بیٹیاں ماشاللہ حیات ہیں اور لاہور میں رہائش پزیر ہیں گو کہ منٹو کے ادبی اثاثہ کی ترویج کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کر رہیں لیکن منٹو صاحب کا نواسہ، عثمان، ملتا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی ماں جس منٹو کو جانتی ہے وہ افسانہ نگار نہیں، باپ تھا۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ منٹو کا باپ منٹو کے لیے کسی سخت گیر حاکم سے کم نہ تھا بلکہ منٹو کے لہجے کی تلخی میں اس کے باپ کی بے اعتنائی کا بہت عمل دخل تھا لیکن منٹو کی ذات میں تلخی شاید خاکوں تک تو پہنچی ہو لیکن تین بیٹیوں کی پیدائش نے اس تلخی کو حلاوت میں بدل دیا تھا ۔ بیٹی تو بہشت کے دروازے کھول دیتی ہے اور ہم ایسے بدبخت معاشرے میں زندہ ہیں جہاں بیٹی بہشتی دروازہ کھول دے تو غیرت کے سانپ پھن پھیلا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ یہ سب پڑھتے ہوئے بہت سے لوگ بیٹی اور باپ کی تلخیوں کو بھی یاد کر رہے ہوں گے۔ کچھ بہت پڑھے لکھے الیکٹرا کمپلیکس کی کہانیاں دہرا رہے ہوں گے۔ کچھ Sylvia Plath کی نظم “ڈیڈی” کے زیر اثر باپ کی سخت گیری اور اس سے پیدا ہونے والی محرومی کا احاطہ کر رہے ہوں گے۔

کوئی غیرت کے نام پر باپ کے ہاتھوں قتل ہونے کی روداد سنا رہا ہو گا۔ کوئی بدگمان کاروکاری، ونی اور قرآن سے شادی کا طعنہ دے رہا ہوگا ۔ کوئی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور ایدھی کے جھولے میں ڈالنے پر رنجیدہ خاطر ہوگا۔ مجھے یقین ہے آپ میں سے بہت سے سوچیں گے کہ باپ بیٹے کو جو نوالہ کھلاتا ہے بیٹی کو اس کا عشر عشیر بھی نہیں دیتا اور محبت کی کہانیاں شوق سے سننا چاہتا ہے ۔

بیٹی بوجھ لگتی ہے اور اسے پوری اولاد بھی سمجھا نہیں جاتا۔ میں خود تین بیٹیوں کا باپ ہوں اور جب کوئی مجھے بیٹے کی دعا دیتا ہے تو لگتا ہے کوئی گالی بک رہا ہے یا بیٹی سے میری محبت پر آ وازے کس رہا ہے۔ جب بھی باپ اور بیٹی کے رشتہ پر میں کوئی بدگمانی سنتا ہوں تو اپنی ماں کو یاد کر لیتا ہوں جو پچھتر برس کی عمر میں بھی اپنے باپ کو ایسے یاد کرتی جیسے آ بلہ پا بارش کی دعا مانگتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں