سمند طور کے سفرنامے


میں نے سوچا نہیں تھا کہ کینگرو کا تعلق فیس بک سے بھی جڑ سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ مجھے لڑکپن سے، جی ہاں لڑکپن سے ہی کینگرو پر سواری کرنے کا بہت شوق رہا۔ یہ لمبی لمبی جست لیتا کینگرو اور اس پر سوار میں، پھر ایسی سواری جو کسی کے بھی پاس نہ ہو۔ سدھائے ہوئے کینگرو کو ایڑ ماری جو سڑک پر گاڑیوں بیچ جست لگاتا ہوا مجھے کالج یا دفتر پہنچا دے۔

کینگرو آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے۔ پھر وہاں سے لائے کون اور لا کے مجھے دے کون؟ یقین جانیے بڑھاپے میں ہوں مگر کینگرو پر اب بھی سواری کرنا چاہتا ہوں، باوجود یہ کہ جانتا ہوں، کینگرو پر کوئی سواری نہیں کرتا ماسوائے اس کے بچے کے جو اس نے اپنے پیٹ پر بنی تھیلی میں رکھا ہوتا ہے۔

فیس بک کی میسنجر سروس سے آنے والے فون میں بمشکل ہی اٹھاتا ہوں۔ بعض نام اٹھانے پر مائل کر دیتے ہیں اور بعض پیغام کے ساتھ منسلک شکلیں۔ ایسی ہی ایک شکل دیکھ کر میں نے ایک فون اٹینڈ کر لیا تھا۔ نام تو عام تھا علی ایچ مگر انگریزی میں ایچ کے آگے جو لکھا تھا وہ مجھ سے ”سیمین ٹار” ہی پڑھا گیا تھا۔ خیر اس جانب کوئی نستعلیق شخص تھے۔ لگتا تھا کہ انہیں کسر نفسی کا عارضہ لاحق ہے جو چھوٹتے ہی خود کو برا لکھنے والا بتایا، اپنی عادتوں کی خامیاں بتائیں جیسے کہ آوارہ گرد ہیں، کچھ نہیں کرتے، زندگی کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے وغیرہ البتہ خواہش کا اظہار کیا کہ وہ روس آنا چاہتے ہیں۔ ویزا کی درخواست دی ہوئی ہے۔ یہ بھی بتایا کہ وہ امریکہ میں کیلیفورنیا میں مقیم ہیں۔

بعد میں ہوئی چیٹ میں ان سے اس عجیب فیملی نیم سے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایاکہ وہ ان کے نام کا حصہ ”سمند طور” ہے۔ پلے نہیں پڑا مگر وضعداری میں اس بارے میں مزید استفسار بھی نہیں کیا تھا۔

ایک روز انہوں نے مطلع کیا کہ خلاف توقع روس کے سفارت خانے نے ان کے پاسپورٹ پر تین برس کا کثیر الدخول ویزا لگا دیا ہے۔ دو روز پہلے ماسکو وارد ہونے بارے مطلع کیا۔ میں اپنے فیس بک کے توسط سے ہی بنے ایک مہربان شیدائی عاطف اسلم کے ساتھ ان سے ملا۔ اس سے پہلے میں سمند طور کو تریتیاکوو گیلری دیکھنے جانے کا مشورہ دے چکا تھا۔

لیجیے صاحب وہ فیس بک پر دی اپنی تصویر سے بالکل مشابہ نہیں تھے بلکہ زیادہ اچھے اور میچیور تھے۔ خالص سیاح پچاس پچپن کی عمر میں چالیس کے دکھنے والے، پیٹ پیٹھ سے لگا ہوا۔ جینز اور سفید سویٹ شرٹ میں ملبوس بیک پیک اور کیمرے کے ساتھ ہنستے ہوئے علی حسن سمند طور صاحب۔ ایسے لگا جیسے ہم پہلی بار نہیں ملے۔ میں نے کہا بھئی سمند تو گھوڑے کو کہتے ہیں اور طور اطوار کی واحد ہے تو ہنس کے بولے جی ہاں گھوڑے ایسا یعنی چلنے کو ہمہ وقت تیار۔

ابھی میں خود نہیں انہیں جان پایا تو ان سے متعلق آپ کو بھلا کیا بتاوں البتہ انہوں نے اپنی تین کتابیں مجھے دیں جن میں سے ایک کتاب ” الٹ دنیا کا سفر“ رات سے شروع کرکے اب تک تمام کر چکا ہوں کیونکہ یہ ان کا سہا اور لکھا، کینگرووں کی آماجگاہ آسٹریلیا اور ہمسایہ ملک نیوزی لینڈ کا سفر نامہ ہے۔

ایک تو وہاں کینگرو ہوتے ہیں، دوسرے ایب اورجنی یعنی مغربی لوگوں کے ہاتھوں قتل عام کے بعد بچ رہے وہاں کے مقامی لوگوں کی نسل اور تیسرے وہاں موسم ہمارے ہاں سے الٹ مہینوں میں ہوتے ہیں یعنی جب ہمارے ہاں سردیاں ہوں تو وہاں گرمیاں اور برعکس۔

سمند طور نے دس سے کچھ کم کتابیں لکھی ہیں۔ انہیں لکھنا تو آتا ہے مگر کتاب بنانی نہیں آتی۔ آپ کہیں گے کہ کتاب بنانا چہ معنی۔ تو یہ معروف ادیب احمد سلیم سے پوچھیے کہ انہی کا کہنا ہے، وہ کتابیں لکھتے نہیں بلکہ کتابیں بناتے ہیں۔

میں نے چونکہ سمند طور کی پہلی کتاب پڑھی ہے اس لیے کہہ سکتا ہوں کہ یہ واقعی سفر نامہ ہے۔ بڑے نام والے سیاح نما ادیبوں کی مزین و مرتب کردہ سفری داستان کی طرح کی کتاب نہیں ہے۔ سیدھا سادا بیان ہے جسے عرف عام میں رپورتاژ کہا جاتا ہے۔ کچھ دیکھا، جو دیکھا وہ لکھ دیا۔ کچھ دیکھا تو کچھ سوچنے پر مائل ہوئے جو سوچا وہ بتا دیا۔ ابواب کے عنوان ایسے جیسے عدنان کاکڑ اور ان کے استاد وجاہت مسعود نے وضع کیے ہیں کہ عنوان دیکھ کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کا پڑھنے کو دل کرے یعنی مقبول عام ہو۔ مجھے ذاتی طور پر ایسے عنوان نہیں بھاتے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کھینچیں۔ اس لیے میں عنوان سے بے نیاز رہ کے کتاب کے تسلسل میں سمند طور کے ساتھ چلتا رہا۔

سمند طور نے سستی سیاحت کرنے کے راستے دکھائے ہیں۔ جو غلطیاں کیں ان کا بھی اعتراف کیا ہے اور پہنچے نقصان سے متعلق سمجھایا ہے مگر مستنصر تارڑ، وقار خان اور سمند طور تو بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں، آٹے میں نمک کے محاورے سے بھی کہیں کم۔ شوقین پیسے والے ہوں تو کاروبار کے لیے کہیں جاتے ہیں اگر درمیانے طبقے سے ہوں تو ٹور گروپس کے ساتھ بندھے ہوئے۔ بہر طور اگر کوئی سمند طور، طور کا ہوا تو اسے ضرور استفادہ ہوگا۔

میں نے تو بیٹھے بٹھائے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور فجی دیکھ لیا۔ کیونکہ اب میں چاہوں بھی تو جا نہیں سکتا، نہ وسائل ہیں نہ ہی مشقت کی ہمت بلکہ اب تو اس نہج کی سوچ تک آ گیا ہوں کہ کیا ہوا اگر میں نے آبشار نیاگرا دیکھ لی یا برطانیہ کا سٹون ہینج دیکھ لیا۔ نہ دیکھتا تو کیا ہو جاتا۔ یہ میری پنشن پانے کے بعد کی سوچ ہے اس لیے کہ ایک تو پاکستان سے ہوں دوسرے روس میں رہتا ہوں جہاں کی پنشن سے روٹی اور دودھ خرید کے جو بچتا ہے وہ بجلی پانی کے بل ادا کرنے کو کافی ہوتا ہے۔ مگر آپ جن کی نگاہ سے یہ تذکرہ گزرے گا تو جوان ہیں۔ سمند طور سے سیکھیے کہ جینا ہے تو دنیا دیکھیں، بیوی بچے بھی دیکھیں، ان کے بارے میں بھی سوچیں مگر میری عمر کو پہنچنے سے پہلے دنیا کا کچھ حصے بھی دیکھ لیں اور اگر سمند طور کی سی اپچ اور ہمت ہے تو اپنے تاثرات بھی لکھ کر بیان کریں تاکہ اوروں میں بھی زندگی جینے کا شوق پیدا ہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں